خدایان دین کو بلاؤ

اس کا نام حاجرہ تھا۔ ہاں ; یہی اصلی نام تھا اس کا۔ جب سماج کو لاج نہیں آتی اس پر ظلم کرتے ہوئے تو میں کیوں فرضی نام کے پیچھے اس ظلم کی پردہ داری کروں۔ وہ صرف بارہ یا شاید تیرہ برس کی تھی جب اسے اپنے چچا کی جان بچانے کے لئے رب نواز کے حوالے کیا گیا تھا۔ مارئی کا خون اس کے چچا نے نہیں کیا تھا یہ خون تو مارئی کے اپنوں نے کیا تھا بلکہ مارئی نے تو خود موت کو دعوت دی تھی۔ اسے پتہ تھا کہ اس کے گرد تنے سماج کے غیر مرئی قید خانے سے کوئی فرار نہیں ہو سکتا چاہے بظاہر کچی پکی دیواروں اور کمزور کھڑکی دروازوں والے مکان کی دہلیز پھلانگنا کتنا ہی آسان لگتا ہو۔
اس سماج میں، جہاں قانون کے ہاتھ لمبے ہوں نہ ہوں، جبر و اکراہ کے ہاتھوں سے گردن بچانا ممکن نہیں، وہاں عارب جتوئی کی محبت کی چکا چوند میں وہ کیسے روایتوں کی اندھیر نگری کو فراموش کر بیٹھی۔ اور عارب جتوئی کے ساتھ محبت کی منزل پانے کو مسافر ہوئی۔ آخر پکڑی گئی، جکڑی گئی اور کاری کر کے مار دی گئی۔ رواج کے مطابق کاری کے ساتھ کارو کو بھی موت کے گھاٹ اتارا جانا تھا لیکن حاجرہ کے باپ نے جرگے میں اپنے بھائی کی جان بخشنے کے عوض اپنی بیٹی پیش کی۔
دیوتاؤں کو راضی رکھنے کے لئے گائے، بکری، بھیڑ کی بھینٹ دینا کوئی نئی بات تو نہیں تھی پھر حاجرہ کے باپ نے بھلا کیا غلط کیا تھا۔ اس کا بھائی اگر جوانی کے نشے میں مارئی کو بھگا کر لے گیا تھا تو کیا ہوا۔ ایک مرد ہی ایسا کام کرتا ہے۔ اس لغزش کے بدلے کیا اس کے کڑیل جوان، گھبرو بھائی کی قیمتی جان مٹی میں ملا دی جاتی اور جبکہ اس کے گھر میں چار بیٹیاں زرمبادلہ کی صورت موجود ہوں۔ سو حاجرہ کو چار بول کی لگام ڈال کر سترہ سال بڑے رب نواز کے حوالے کر دیا گیا۔
حاجرہ کی حیثیت اس گھر میں طویلے میں بندھی گائے بھینس سے بڑھ کر نہ تھی۔ مکان کے پچھواڑے ایک چھوٹی سی کوٹھری نما تھان پر اسے بھی باندھ دیا گیا۔ مرکزی مکان میں رب نواز کی عزت دار بیوی کی رہائش تھی جو اپنے بھائی کے وٹے سٹے میں بیاہ کر آئی تھی۔ جنگل کے اس قانون کی ایک کریہہ شق یہ بھی تھی کہ حاجرہ اپنے گھر والوں سے نہیں مل سکتی تھی۔ ان کے گھر نہیں جا سکتی تھی۔ ایک ہی گاؤں میں رہنے کے باعث سامنا ہو جائے تو بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔
صبح چولھا چکی کرنے کے بعد وہ امرود کے باغات میں مزدوری کرنے جاتی جہاں امرود اتار کر ٹوکرے بھرتی یا پھر پالک میتھی اور دھنیے کی پوتھیاں بنا کر نہر کے پانی میں دھوتی۔ چاول کی فصل کا زمانہ تو بہت ہی سخت ہوتا تھا۔ بیج کے بطن سے کونپلیں پھوٹتیں اور پنیری سر اٹھاتی ہی تھی کہ اسے رومبا کرنے جانا پڑتا جو چاول کی پنیری کو زمین میں منتقل کرنے کا عمل ہوتا ہے۔ جون کی چلچلاتی گرمی میں ٹخنوں تک کھڑے جلتے پانی میں رکوع کی حالت میں جھکے جھکے نو انچ کے فاصلے سے سینکڑوں پنیریاں ٹومنا ہوتیں۔
اس بار تو وہ حاملہ بھی تھی۔ ذرا سی دیر میں کمر ٹوٹنے لگتی اور آنکھوں کے آگے اندھیرا آ جاتا۔ اس روز وہ وڈیرے کے کھیتوں میں رومبا کر رہی تھی۔ جونہی کمر سیدھی کرنے کو کھڑی ہوئی کھیت کی منڈیر کی پرلی طرف اسے اپنی ماں دکھائی دی۔ وہ دوسرے کھیت میں چاول کی پنیریاں لگا رہی تھی۔ چاول کی پنیریاں کب اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گریں اسے نہیں معلوم، وہ تو بے تابانہ اپنی ماں کو پکارتے ہوئے دوڑی۔ مہینوں ہو گئے تھے اس نے اپنی ماں کو دیکھا تک نہیں تھا۔ اس کا دل سینہ توڑ کر باہر آیا چاہتا تھا۔ وہ اونچی نیچی کگر پھلانگتی، سانسوں کے زیرو بم کو سنبھالتی، ماں کے نزدیک پہنچی مگر اس کی ماں نے گلے لگانے کے بجائے پیٹھ پھیر لی اور آنسوؤں سے رندھی ہوئی آواز میں بولی۔
”مٹھڑی ( پیاری) تجھے مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں ہے“
حاجرہ سسک کر بولی ”ماں کیا تونے مجھے نہیں جنا، کیا میں نے تیرا دودھ نہیں پیا، کیا تجھے مجھ سے اپنے دودھ کی خوشبو نہیں آتی۔ تو کس طرح مجھ سے منہ پھیر سکتی ہے“
ماں نے پیٹھ پھیرے ہوئے کہا ”یہ مالکوں کا فیصلہ ہے۔ تیری ساس نے دیکھ لیا تو تجھ پہ قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ میں اور تو اپنے دل پہ پتھر رکھ لیں اسی میں عافیت ہے۔ یہی قسمت ہے“
”پر اماں میرا گناہ کیا ہے“
تیرا گناہ یہ ہے کہ تو دھی ہے، چھوکری ہے۔ ”
”اگر چھوکری ہونا گناہ ہے تو تونے مجھے پیدا ہوتے ہی کیوں نہ مار دیا“
”مالک جب چاہتے ہیں زندہ رکھتے ہیں، جب چاہتے ہیں مار دیتے ہیں۔ جو مالکوں کی مرضی ہوتی ہے وہی ہوتا ہے۔ تو اب جا“ یہ کہہ کر ماں جھک کر چاول کی پنیریاں زمین کو تھمانے لگی جیسے اس نے اپنی کوکھ سے نکلی پنیری کو رب نواز کو تھمایا تھا۔
اس دن کے بعد سے حاجرہ کو کھیتوں کے بجائے بھینسوں کے باڑے میں کام پر لگا دیا گیا۔ کئی سال وہ باڑے کی چاردیواری میں کام کرتی رہی۔ وہ بھینسوں کو چارہ ڈالتی، دودھ دوہتی، گوبر سمیٹ کر چھینے (اپلے ) تھاپتی۔ کوئی بھینس بیاہتی تو مدد کرتی بالکل ویسے ہی جیسے دائی امیراں سال کے سال بچہ جنتے وقت اس کی مدد کیا کرتی تھی۔ بچے تھے تو رب نواز کے مگر ان کی پرورش کی ساری ذمہ داری صرف حاجرہ کی تھی رب نواز اسے ٹکا نہ دیتا۔ وہ محنت مزدوری کی کمائی سے اپنے بچوں کو پالتی۔ تلے اوپر حمل اور ولادتوں نے حاجرہ کا خون نچوڑ لیا تھا کام کرتے ہوئے اسے چکر آنے لگے تھے۔
اس دن میں گھر پہنچی تو وہ امی کے پاس بیٹھی اپنے دکھڑے سنا رہی تھی۔ وہ امی سے کہنے لگی ”ایک بھینس کا بچھڑا ادھیاری پر دلا دیں۔“
”یہ ادھیاری کیا ہوتی ہے“ کمرے میں جاتے جاتے میں نے رک کر پوچھا
”آپ مجھے مادہ بچھڑا خرید کے دیں۔ میں اس کی دیکھ بھال کروں گی۔ دودھ دینے کے قابل ہوگی تو آمدنی آدھی آپ کی آدھی میری۔ اگر بھینس بیچی گئی تو قیمت بھی آدھی ادھی۔“
”یعنی سلیپنگ پارٹنر“ چھوٹی نے کہانی کی کتاب سے نظر اٹھا کر لقمہ دیا
امی نے اسے ایک بچھڑا دلا دیا۔ ادھیاری پر نہیں پورا پورا۔ وہ خوش تھی۔ اللہ ودھائے (اللہ برکت دے ) کہتی ہوئی چلی گئی۔
کچھ سال بعد آئی اور کہنے لگی ”آپ مجھے ایک گدھا گاڑی دلا دیں۔ میں سبزیاں اگاتی ہوں۔ بابو بڑا ہو گیا ہے وہ سائیکل پر شہر لے جاکر بیچتا ہے۔ سائیکل پر ایک وقت میں ساری سبزی نہیں لے جاسکتا اس لئے کئی چکر لگانے پڑتے ہیں۔ گاڑی ہوگی تو صبح صبح ساری سبزی شہر لے جا سکے گا۔“
”تمہارے گاؤں سے شہر کتنے فاصلے پر ہے“ میں نے پوچھا
”گدھا گاڑی پر میرے گاؤں سے بیس منٹ میں شہر پہنچ سکتے ہیں“ اس نے کہا
”یعنی تمہارا گاؤں بیس منٹ کی گدھا گاڑی ڈرائیو پر ہے“ چھوٹی جو بظاہر بے نیاز ٹی وی دیکھ رہی تھی اچانک گفتگو میں کودی اور خود ہی اپنے جملے پر ہنستی چلی گئی۔
امی نے کہا ”بابو ابھی چھوٹا ہے وہ اکیلا کیسے یہ سب کرے گا“
”تیرہ برس کا ہے چھوٹا نہیں۔ گاؤں کے چھوکرا چھوکری جلدی بالغ ہو جاتے ہیں۔ شہر کے بچے ابھی کارٹون دیکھ رہے ہوتے ہیں اور ہمارے بچے زندگی کے حقیقی ڈرامے کو جان چکے ہوتے ہیں۔“
امی نے اسے مطلوبہ رقم مہیا کی اور وہ دعائیں دیتی چلی گئی۔
چند ماہ گزرے تھے۔ میں ڈیوٹی پر تھی کہ ایمرجنسی میں ایک حاملہ مریضہ کو لایا گیا۔ اسے خون جاری ہو گیا تھا۔ صورتحال ماں اور بچے دونوں کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔ میں نے اٹینڈنٹ کو آگاہ کرنے کے لئے بلوایا تو حاجرہ کو دکھ کر حیران ہو گئی۔
”مریضہ تمہاری کون ہے“ میں نے پوچھا
”یہ میری ساہیڑی (سہیلی) ہے۔ اس کو خون چھٹا تو گھر میں کوئی نہیں تھا اس لئے میں بابو کے ساتھ گدھے گاڑی پہ ڈال کے لے آئی۔“
”تم نے بہت اچھا کیا مریضہ کو وقت پر لے آئیں لیکن اگر خون نہ تھما تو ماں اور بچے کی جان بچانے کے لئے آپریشن کی ضرورت پڑ سکتی ہے اس لئے دستخط کے لئے اس کے شوہر کا ہونا ضروری ہے۔“
”میں بابو کو بھیجتی ہوں رب نواز کو ڈھونڈ کر لائے“
”تمہارے شوہر کو کیوں۔ اس کے شوہر کے دستخط کی ضرورت ہو گیا“ میں نے جھنجھلا کر کہا
”رب نواز ہی تو اس کا شوہر ہے جی“
”لیکن تم نے تو کہا تھا یہ تمہاری سہیلی ہے“
ہمارے ہاں شوہر کی دوسری بیوی کو سوتن نہیں ساہیڑی کہتے ہیں۔ ”
اس نے جواب دیا مگر یہ وقت اس لفظی چیستان میں الجھنے کا نہیں تھا میں جلدی سے مریضہ کی طرف مڑ گئی۔
بروقت ہسپتال پہنچ جانے کی وجہ سے ماں اور بچہ بخیر رہے۔ حاجرہ کے اس فعل نے اس کی ساہیڑی کے دل کی دنیا ہلا کر رکھ دی۔ حاجرہ کے ساتھ ہونے والی نا انصافی برسوں سے اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی اوجھل تھی اچانک اظہر من الشمس ہو گئی۔ حاجرہ کے گرد کھڑی روایتوں کی سنگلاخ چٹان کو یکسر مسمار کر دینا تو اس کے بس میں نہیں تھا لیکن ایک روزن بنا دینے کی سعی ضرور کر سکتی تھی۔ وہ حاجرہ کو اس کے گھر والوں سے ملنے کی اجازت دلانے کی راہ نکال سکتی تھی۔ یوں بھی اس کے ساس سسر مر چکے تھے اب صرف رب نواز اور اس کے بھائیوں کو راضی کرنا تھا۔ دھیرے دھیرے تیشہ لئے وہ اس چٹان پر چوٹ مارے گئی اور بالآخر پتھر سرک گیا روزن سے چمکدار سنہری روشنی در آئی۔ تازہ ہوا کا جھونکا حاجرہ کے رگ و پے میں سرشاری بن کر اتر گیا۔ اسے اجازت مل گئی۔
وہ کوئی عام دن نہیں تھا۔ اسے شب برات یا عید کے دن سے تعبیر کرنا بھی غلط تھا کیونکہ شب برات اور عید تو سال کے سال آتی ہے یہ تو وہ نوری دن تھا جو چودہ سال کے بعد طلوع ہوا تھا۔ حاجرہ اپنے ماں باپ بہن بھائیوں سے ملنے جا رہی تھی۔ اس نے اپنے ہاتھ سے بنا ہوا مکھن چونری میں ڈالا۔ رنگین کترنوں سے جوڑی ہوئی رلی، شیشوں سے گندھا بلوچی گج اور سرخ اجرک کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ٹوکری میں رکھے۔ اس کا بس نہیں چلتا تھا آسمان اور زمین کے درمیان کی ساری خوبصورت چیزیں اپنوں کو تحفہ دینے کے لئے اس ٹوکری میں بھر دے۔ اس کی ساہیڑی نے اپنا بلوچی کڑھائی والا جوڑا اسے پہننے کو دیا اور وہ سج سنور کر گدھا گاڑی پر بیٹھ کر پہلی بار اپنے میکے چلی جہاں اس کی ماں اس سے بھی زیادہ اشتیاق سے نگہ و دل بچھائے اس کی منتظر تھی۔
بلاؤ خدایان دین کو بلاؤ
یہ کوچے یہ گلیاں یہ منظر دکھاؤ
ثناخوان تقدیس مشرق کو لاؤ
ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں

