بوگس معلومات۔ اہم انتخابی ہتھیار


آج کے دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے کسی طور پر بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے اور یہ ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جس نے ہر اس آدمی کو با اختیار یا سٹیزن جرنلسٹ بنا دیا ہے جس کے پاس اینڈرائیڈ موبائل فون ہے۔ صحافت کی تعلیم ہونا بھی اب بے معنی سا ہو کر رہ گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بہت سے اہم واقعات کو اجاگر کرنے والے صحافت کی باقاعدہ تعلیم نہیں رکھتے تھے لیکن وہ صرف واقعہ کی اہمیت سے واقف تھے۔ اگر صرف جنوبی پنجاب کے تناظر میں دیکھا جائے تو ملتان میں زیادتی کے بدلے زیادتی کی پنچایت، لودھراں میں کمسن بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل، راجن پور اور ڈی جی خان کے قبائلی علاقوں میں کالا کالی، ونی، بھاہ پانی، آگ پر چلنے کی قبیح رسموں کے روح تک کو گھائل کردینے والے اور بربریت کی داستانیں صرف سوشل میڈیا کی اہمیت کی بدولت سامنے آئیں اور سوشل میڈیا کے بعد باقی پرنٹ اور براڈکاسٹ میڈیا نے ان واقعات کو پرزور طریقے سے اجاگر کیا جس کے باعث ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ممکن ہوا اور انصاف تک رسائی ہو سکی۔

سوشل میڈیا کی اسی اہمیت کی بدولت دنیا بھر کی طرح جنوبی پنجاب میں بھی سیاسی جماعتیں اور سیاسی نمائندے اپنی انتخابی مہم اور سیاسی مقاصد کے حصول اور اپنے موقف کو فوری طور پر عوام تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کو ہی استعمال کر رہے ہیں۔ ملک بھر کی بڑے سیاستدانوں کی دیکھا دیکھی جنوبی پنجاب کے بیشتر سیاستدانوں نے بھی باضابطہ طور پر اپنی سوشل میڈیا ٹیمیں بنا لی ہیں جن میں شامل افراد کو مراعات اور مستقبل میں کامیابی کی صورت میں سہانے خواب دکھانے کے بدلے سوشل میڈیا پر اپنے حق اور مخالفین کے خلاف مہم چلوانے کے ساتھ جھوٹی خبریں اور منفی پراپیگنڈے کے پھیلاؤ کا کام بھی کراتے ہیں۔

یہ رجحان پاکستان بھر کی طرح جنوبی پنجاب میں بھی بہت تیزی سے فروغ پا چکا ہے۔ تاہم دنیا کے مقابلے میں فرق صرف یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کا سو شل میڈیا کا شعبہ تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرتا ہے لیکن یہاں یہ سوشل میڈیا ٹیمیں سیاسی مخالفین پر ذاتی نوعیت کے گھٹیا اور رکیک الزامات لگانے کے علاوہ ان کے خاندان کے افراد بالخصوص خواتین کو آسان ہدف ہونے کی وجہ سے نشانہ بنانے سے ذرا بھی نہیں کتراتے ہیں یا اگر سیاست میں مخالف کوئی خاتون ہو تو سوشل میڈیا ٹیموں کا کام بے حد ہی آسان ہو جاتا ہے۔

اس لئے سیاسی میدان میں عموماً سوشل میڈیا جیسے مفید اور موثر پلیٹ فارم کو مثبت انداز میں استعمال کرنے کے بجائے رکیک الزامات اور جھوٹے پروپیگنڈے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ماضی میں اس معاملے کے لئے سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے باقاعدہ پراپیگنڈہ سیکرٹری تعینات کیے جاتے تھے اور ان کا کام مختلف افواہیں پھیلانا ہوتا تھا لیکن وقت کے ساتھ یہ کام سوشل میڈیا ٹیموں نے سنبھال لیا ہے اور اب سوشل میڈیا ٹیم انچارج یا سوشل میڈیا آرگنائزر کا نام دیا جا رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ سیاستدان اب سوشل میڈیا کو اپنے اپنے نظریات کے فروغ کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ سوشل میڈیا کا سیاست میں کردار بڑھتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر انتخابات اور انتخابی سیاست میں سماجی ویب سائٹس کا اثر بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے اور سوشل میڈیا اب سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کے فیصلوں اور حکمت عملیوں پر بھی اثرانداز ہونے لگا ہے۔ اس کے ساتھ سماجی میڈیا الیکٹرانک میڈیا کے پہلو بہ پہلو رائے عامہ پر بھی محدود پیمانے پر اثرات مرتب کر رہا ہے۔

معاشرتی مسائل، رائے عامہ اور ریاست ہائے متحدہ امریکا اور دنیا کی تشکیل دینے والے آبادی کے رجحانات کے متعلق معلومات فراہم کرنے والے امریکی تحقیقی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی طرف سے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق دنیا بھر میں سوشل نیٹ ورکس کے استعمال میں غیرمعمولی رفتار سے اضافہ ہوا ہے۔ اس میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک دونوں ہی شامل ہیں۔ یہ امر طے شدہ ہے کہ سوشل نیٹ ورکس کو استعمال کرنے والے افراد کی بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے اور اس میں اسمارٹ فونز بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

سروے کے مطابق عالمی سطح پر سب سے زیادہ سمارٹ فون صارفین سوشل ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح کی ٹیکنالوجی نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقے میں بہت مقبول ہے۔ زیادہ تر ممالک میں سوشل ویب سائٹس استعمال کرنے والے صارفین یا تو طلبہ ہیں یا پھر ان کی عمریں تیس برس سے کم ہیں اور یہی لوگ زیادہ تر سمارٹ فون کا استعمال کرتے ہیں۔ سروے میں شامل دیگر ممالک کے ایک تہائی افراد سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں جبکہ بھارت کے 6 اور پاکستان کے 3 فیصد صارفین ایسی ویب سائٹس استعمال کرتے ہیں۔ میکسیکو، برازیل، تیونس، اردن، مصر، ترکی، روس، بھارت اور پاکستان کے زیادہ تر انٹرنیٹ صارفین کی تعداد سوشل میڈیا کا استعمال کرتی ہے جبکہ جرمنی اور جاپان میں انٹرنیٹ صارفین کی نصف سے بھی کم تعداد سوشل ویب سائٹس استعمال کرتی ہے۔

جنوبی پنجاب میں گزشتہ قومی انتخابات میں شہری کم پہاڑی علاقے سے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر سابق صدر فاروق لغاری کے بیٹے اور سابق وفاقی وزیر سردار اویس لغاری کے مقابلے میں انتخاب میں حصہ لینے والی وفاقی وزیر زرتاج گل کے بارے مذہبی اور سماجی حوالوں کو بنیاد بناتے ہوئے ان کے خلاف انتخابی مہم چلائی گئی اور کردار کشی کرنے کے ساتھ ان کی نجی و ذاتی زندگی کے حوالے سے مختلف چیزیں پھیلائی گئیں۔ اس طرح سابق ایم این اے جمشید دستی کے بھائی کے خلاف انتخابی مہم میں ان کے ماضی کے حوالوں سے ویڈیوز اور باتیں پھیلا کر انتخابی مہم میں نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی جبکہ جہانیاں سے ایم این اے افتخار نذیر کے بھائی ایم پی اے عطاء الرحمان کے خلاف بھی انتخابی مہم میں ان کی نجی یونیورسٹی کے حوالے سے سکینڈلز کو مخالف انتخابی مہم کا حصہ بنایا گیا۔

اس مہم میں ان سیاستدانوں کی کردار کشی کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی اور عوام میں ان کے کردار کو انتخاب کرنے کا بنیادی جزو بنانے کی کوشش کی گئی جس کا مذکورہ سیاستدانوں کے حامیوں نے بھی بھرپور جواب دیا لیکن مجموعی طور پر یہ صورتحال اخلاقیات کے تقاضوں کے انتہائی منافی تھی اور ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش میں اخلاقی تقاضوں کی کوئی جگہ ہی نہیں تھی۔ اہم امر یہ بھی ہے کہ اس غیر اخلاقی مہم کے بارے میں جب بھی کسی سیاستدان سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ آسانی سے اس عمل کو اپنے حامیوں کی جانب سے محبت میں آگے نکل جانے یا مخالفین کی جانب سے پراپیگنڈہ قرار دے کر پیچھا چھڑا لیتے ہیں اور سوشل میڈیا ٹیموں کے اپنے زیر اثر ہونے کو قبول ہی نہیں کرتے ہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “بوگس معلومات۔ اہم انتخابی ہتھیار

  • 18/03/2022 at 4:56 شام
    Permalink

    Touch a new topic in journalism

Comments are closed.