آمن و آشتی کی شمع: خدائی خدمتگار


میں نے اپنے زمانہ طالبعلمی سے ہمیشہ عدم تشدد اور رواداری کو اپنانے کی کوشش کی ہے اور ان شخصیات کی زندگیوں کو بھرپور طریقے سے پڑھنے، سمجھنے اور اپنانے کی کوشش کی جن کی ساری زندگیاں عدم تشدد، رواداری اور انسانیت کی فلاح و بہبود میں صرف ہو گئیں۔ بچپن سے تایا ابو جو کے جامعتہ الازہر اور مدینہ یونیورسٹی کے فاضل تھے کی ذاتی لائبریری میں موجود کتب کو پڑھنے سے ان موضوعات پر میری دلچسپی اور بڑھی۔ قدرت کے اس موقع کو میں اپنی خوش قسمتی سمجھوں یا اس کی عنایت کہ میرے بزرگوں کا تعلق صوفیاء کرام کے مسلک سے تھا اس لئے متعدد صوفیائے کرام کی زندگی ان کی انسانیت دوستی اور انسانی اقدار کے فروغ پر زور دینے کے موضوعات کو پڑھنے پر کچھ اوقات صرف ہوئے۔

کیونکہ میرے خاندان کا تعلق بریلوی طبقہ فکر سے تھا تو رسول کائنات محمد مصطفیٰ‎‎ﷺ کی زندگی، آپ کی سیرت و صورت اور فلسفے کو پڑھنے سننے کا ہر روز ہر جمعہ پر موقع ملا۔ ان تمام عوامل کی وجہ سے ہر اس شخص کی زندگی میرے لٹریچر میں گیپ کی صورت آویزاں و عیاں رہی جس کی زندگی عدم تشدد، مساوات، امن اور رواداری سے بھرپور تھی۔ اور اس کی زندگی کو پڑھنا اور اس پر کچھ لکھنا میرے لیے نئے مقالے کے صورت دلکش تھا۔

ایسے ہی جامعہ پنجاب میں ایک دوست نے مکولیکا بینر جی کی کتاب غیر مسلح پٹھان اور خان عبدالغفار خان کی آپ بیتی تحفے کے طور پر پیش کی تو ان دونوں کتابوں کو پڑھ کر خدائی خدمتگار سے ذاتی دلچسپی ہو گئی۔ پھر آجکل کے واقعات کو دیکھ کر مکولیکا بینر جی کی کتاب غیر مسلح پٹھان دوبارہ پڑھی تو پشتون بھائیوں کی موجودہ زندگی کو دیکھ کر بہت دکھ اور افسوس ہوا کہ جہاں سے چلے تھے وہیں آ کے رکے ہیں۔ بینر جی لکھتے ہیں کہ بیسیوں صدی سے پہلے پشتون معاشرہ نہایت جنگجو، عدم مساوات کا شکار، بنیاد پرست اور سماجی بگاڑ، جہالت اور غیر تعلیم یافتہ بنیادوں پر استوار تھا۔

تعلیم کے مواقع نہایت محدود تھے۔ یہاں آباد تمام پشتون قبائل مسلمان تھے اور معاشرے پر مذہب کی چھاپ واضح تھی، معاشرے پر مساجد کے امام جو مولوی کہلاتے تھے ان کی گرفت نہایت مضبوط تھی۔ تعلیم حاصل کرنا اور خاص طور پر انگریزی طرز پر قائم سرکاری مدرسوں میں بچوں کا تعلیم حاصل کرنا جہنم واصل ہونے سے منسوب کر دیا گیا تھا۔ جب ان پیراگراف کو میں نے اب دوبارہ پڑھا تو میرا ذہن مجھے بیسویں صدی میں لے گیا اور آج کے پشتون معاشرے کو ماننے سے انکاری ہو گیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ صدی کا عرصہ بیت جانے کے بعد بھی وہی تشدد وہی انتہاء پسندی۔ آخر کیوں؟ اس موضع پر بات کرنے سے پہلے اس کالم میں میں صرف خدائی خدمتگار کا تعارف کرواؤں گا جس کی بدولت لاکھوں ایسے لوگ پیدا کیے ہوئے جو عدم تشدد، ترقی، روشن خیالی اور بھائی چارے کی ایک مثال بن گئے تھے۔

بقول خان عبد الغفار خان کے جو انہوں نے اپنی کتاب میری زندگی اور جدوجہد میں لکھا ہے کہ تعلیم کے متعلق پروپیگنڈا کا مقصد پشتونوں کو غیر تعلیم یافتہ اور جہالت میں غرق رکھنا تھا، اسی وجہ سے یہاں کی آبادی ہندوستان میں سب سے زیادہ پسماندہ تصور کی جاتی تھی، افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ مولوی انگریز سرکار کی منشا پر یہ کام کر رہے تھے وہ اپنی اسی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ”چونکہ یہاں اسلام کو آئے کافی عرصہ بیت چکا ہے، اسلامی تعلیمات اپنی اصل شکل سے مسخ ہو چکی ہیں۔ اس لئے مذہبی لوگ اسے اپنے ذاتی مفادات کے لئے اپنی مرضی سے لاگو کرتے پھرتے تھے۔ اگر کہا جائے کرتے پھرتے ہیں تو بے جا نہ ہو گا۔

پشتونوں نے ان حالات و واقعات کو مدنظر رکھ کر بادشاہ خان نے خدائی خدمتگار تحریک کا آغاز کیا۔ اس تحریک کے فلسفۂ عدم تشدد کی بنیادیں چار تھیں : پہلے اسلام، خاص طور سے پیغمبر اسلام کی مکی زندگی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبر اسلام سے عدم تشدد سیکھا۔ پھر تصوف جس کا جنوبی ایشیا میر بڑا اثر تھا، تیسرے بدھ مت جو اسلام سے پہلے اس علاقے میں بہت بڑا مذہب تھا۔ اور چوتھے انہوں نے پختون ولی یا پختون ضابطۂ حیات میں ’ننہ واتئے‘ یا معافی کے اصول کو اپنایا۔

باچا خان نے اپنے لوگوں سے کہا کہ دشمن کا مقابلہ پرامن طریقے سے کرنا بھی پختون ولی ہے۔ وہ اپنی کتاب میں اس تحریک کے آغاز کا سبب اپنے مشنری سکول کے اساتذہ کو قرار دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ استاد کا اثر اپنے شاگرد پر لازمی ہوتا ہے مجھ پر بھی اپنے استاد کا بہت اثر پڑتا تھا۔ اس سے میرے اندر خلق خدا کی خدمت کرنے کا خیال پیدا ہو گیا میرا استاد ایک انگریز پادری ایم۔ ای۔ وگرم تھا اس کا ایک بھائی ڈاکٹر تھا کہتے ہیں یہ دونوں بھائی ایک بڑے ممتاز خاندان کے چشم و چراغ تھے۔

ان دونوں بھائیوں کو باپ نے مشن کے تحت بھیجا تھا اور انھیں تنخواہ بھی باپ اپنی جیب سے دیا کرتا تھا۔ وہ دونوں بھائی بے لوث خدمت کرتے تھے۔ جس خلوص اور محبت سے لوگوں کی خدمت کرتے اسے میں دیکھا کرتا تھا کیونکہ میں بورڈنگ ہاؤس میں رہتا تھا۔ اس بات نے مجھے بے حد متاثر کیا میں اپنے دل میں کہا کرتا تھا کہ ایک طرف ہمارے ان مسلمان پٹھان بھائیوں کو دیکھیے ان میں اتنی بھی ہمدردی نہیں کہ آپ نے کسی غریب بھائی کی کوئی امداد اور خدمت کریں۔ دوسری طرف ان کو دیکھیے کہ یہ غیر ملکی اور غیر قوم اور جدا مذہب رکھتے ہیں مگر کس طرح یہ لوگوں کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں۔ اس بات نے مجھے مجبور کیا کہ میں بھی خلق خدا کی بغیر کسی مذہب، لسانیت، اور نسل کی تفریق کے خدمت کر سکوں۔

بینر جی مکولیکا جو ”غیر مسلح پٹھان“ کے مصنف ہیں، ان کے مطابق، ”خدائی خدمتگار تحریک مقامی طور پر چلائی جانے والی نہایت اثر انگیز تحریک تھی، اس تحریک کے دو بنیادی اجزاء تھے، اسلام اور پشتون ولی۔ عدم تشدد کا فلسفہ دراصل اسلام اور پشتون ولی کی اصل روح سے ملاپ کھاتا تھا اور یہی اس تحریک کی برطانوی راج کے دوران کامیابی کی ضمانت بھی بن گیا۔ اس تحریک کے مینوفسٹو میں عدم تشدد اور بے لوث خدمت کا حلف لیا جاتا تھا کہ میں خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں خدائی خدمتگار ہوں۔ میں بغیر کسی ذاتی فائدے کے اپنی قوم کی خدمت کروں گا۔ میں اپنے ساتھ ہونے والی کسی بھی نا انصافی کا ذاتی طور پر بدلہ نہیں لوں گا اور اس بات کا پابند رہوں گا کہ میرے فعل کسی کے لیے بھی بوجھ یا تکلیف نہ بن پائیں۔ میں عدم تشدد کا داعی ہوں۔

باچاخان نے گاؤں گاؤں جاکر آزاد سکول کے نام سے بنیادی تعلیمی ادارے قائم کیے اور انگریز استعمار کے خلاف پختون عوام میں شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو گاؤں کی صفائی جیسے رفاہ عامہ کے کام پر لگایا۔ اپنے علاقے کا خان ہونے کے باوجود انہوں نے ہاتھ میں جھاڑو پکڑی اور دوسروں کو بھی صفائی کی ترغیب دی۔ بینرجی کا کہنا تھا کہ اپنی جنگجویانہ فطرت کے لیے مشہور پختون عوام کو انہوں نے جس طرح عدم تشدد اور پرامن طریقے سے اپنے مقصد کے حصول کے لیے متحرک کیا اس کی مثال کم ملتی ہے۔ کئی تنقید نگاروں کے خیال میں خدائی خدمت گار تحریک کا عدم تشدد کا دعویٰ چہ جائے موثر ثابت نہ ہوا ہو مگر آج کا پڑھا لکھا اور ترقی کرتا پٹھان صرف اور صرف خدائی خدمتگار کا ثمر ہے۔

Facebook Comments HS