مزار قائد میں اطاعت سکھاتا ایک پٹھان
اس احاطے میں موجود مجھ سمیت بیشتر لوگوں کی آمد کا سبب عقیدت اور سیاحت تھی لیکن ”اس“ کی آواز کی سرشاری میں عقیدت اور سیاحت سے زیادہ اطاعت نمایاں تھی۔
کندھے پہ صافہ، کھلی قمیض، سفید داڑھی، بھاری ڈیل ڈول اور پاؤں میں پشاوری چپل، میرے لئے اتنے پرکشش نہیں تھے لیکن پھر بھی میری نظریں اس کا طواف کر رہی تھیں اور اس طواف میں عقیدت کی سی لذت تھی۔
میں زندگی میں دوسری دفعہ مزار قائد دیکھنے کی سعادت حاصل کر رہا تھا۔ ان دونوں سعادتوں کے درمیان بارہ سال کا فاصلہ تھا لیکن بعض فاصلے ”سال“ طے نہیں کرتے ”حال“ طے کرتے ہیں۔ بارہ سال پہلے اور بارہ سال کے فاصلے کے درمیان اب وہ رکاوٹیں حائل تھیں جو میری قائد سے عقیدت کا منہ چڑا رہی تھیں۔ میں اک خاص حد سے آگے نہیں جا سکتا تھا۔ قائد اعظم کی قبر کی زیارت اور اس کے سرہانے کھڑے ہو کر فاتحہ پڑھنے کی اجازت اب عام پاکستانی سے چھن چکی ہے۔ لمحوں کی خطائیں، صدیوں کی سزائیں کیسے بنتی ہیں، رسیوں سے بنی حد فاصل سمجھا رہی تھی۔
گیارہ بجنے کو تھے لیکن لوگوں کی تعداد برائے نام تھی۔ لیکن بیشتر آنے والوں کا انداز ان کے پہلی بار آنے کی چغلی کھا رہا تھا۔ طارق اور حمید کچھ فاصلے پر تصویریں کھینچ رہے تھے۔ میں نے انھیں آواز دی اور اسی دوران میری نظر اس پہ پڑی اور نظر نے ہٹنے سے انکار کر دیا۔
کپڑوں، صافے، چپل اور پشتو لہجے سے وہ خیبر پختونخوا کے کسی دیہات کا لگ رہا تھا لیکن میرے ارتکاز کی وجہ اس کے ساتھ مخصوص برقعے میں ملبوس چہرے کو کسی درجے ظاہر کیے ہوئے ہلکے ہلکے قدم اٹھاتی ستر پچھتر سالہ بوڑھی خاتون تھی۔
مرد اس بوڑھی خاتون کا بیٹا تھا جو اس وقت بیٹے کے ساتھ ساتھ ایک متحرک گائیڈ بھی بنا ہوا تھا۔
وہیں کھڑے کھڑے دعا کی اور واپسی کا ارادہ باندھ ہی رہے تھے کہ کسی نے پوچھا کہ ”قائد اعظم سے وابستہ چیزیں کہاں پہ رکھی ہیں؟“ ۔
تب پتہ چلا کہ ایسی گیلری بھی ہے۔
گیلری میں ہم سے پہلے وہ دونوں موجود تھے۔ اب میں اس کی آواز قریب سے سن سکتا تھا۔ ایک ایک چیز اپنی والدہ کو یوں سمجھا رہا تھا جیسے ابتدائی کلاس کا استاد چھوٹے بچوں کو سمجھاتا ہے۔
قائد اعظم کے گھر کا فرنیچر، ان کی تصاویر دکھاتا وہ بڑے اے سی چلر کے سامنے کھڑا ہوا۔
”ماں! اس مشین سے ٹھنڈی ہوا آتی ہے۔“ وہ ماں کو اے سی کے بارے میں بتانے لگا۔ بوڑھی ماں کے چہرے پہ حیرت نمایاں تھی۔
اے سی کے ساتھ ہی بندوقوں والا شیلف تھا۔ ایک پرانی طرز کی بندوق کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا:
”یہ سیاہ پوخ بندوق ہے۔ تمھیں یاد ہے کہ زبیر خان کے باپ کے پاس ہوتی تھی۔“ وہ مزید کچھ بتاتے ہوئے ہنس رہا تھا۔ اس ہنسی میں اس بوڑھی ماں کی بھی ہلکی سی ہنسی شامل ہو گئی۔ مجھے لگا کہ ماں کی ہنسی رشتوں کی سب سے خوبصورت تصویر ہوتی ہے۔
میں نے ڈرتے ڈرتے ان کی تصویر کھینچ ہی لی۔
ہم بھی گیلری میں گھومتے رہے۔ میں وقتاً فوقتاً ان کی طرف دیکھتا رہا۔ اچانک ایک اسکول کے ٹین ایجرز کا گروپ طوفان کی طرح گیلری میں داخل ہوا اور خاموش سی گیلری میں شور کی حکومت قائم ہو گئی۔
ٹکٹ کاؤنٹر پہ بیٹھے بزرگ جلال میں آ گئے گیلری میں ڈانٹ کا پیریڈ چلنے لگا۔ میں نے اماں کی طرف دیکھا تو چہرے پہ پریشانی کی جھلک تھی۔ ”مجھے اپنی ماں یاد آ گئی جو ڈانٹ پہ یونہی پریشان ہوجاتی تھی۔ ماؤں کے چہرے ایک سے کیوں لگتے ہیں“ میرے دل نے مجھ سے پوچھا۔ میں چپ رہا۔ بعض سوالوں کے جواب دیے نہیں جاتے، ان کے جواب ہوتے ہی نہیں۔
بچے جلد ہی چلے گئے۔ وہ دونوں ماں بیٹے اب قائد اعظم کے لباس والے حصے سے گزر کر دوسرے اے سی کے پاس پہنچ چکے تھے۔
وہ یہاں پھر رکا، اماں کو بھی رکنا پڑا۔
”لگتا ہے اماں تجھے یہ مشین بہت اچھی لگی۔ تجھے بھی گاؤں میں لگوا کے دوں گا۔“ میں مسکرا دیا مجھے بھی اپنا کیا ایسا اعلان یاد آ گیا۔ ماؤں کے سامنے وعدوں کے اعلان کا بھی الگ مزہ ہوتا ہے لیکن یہ لطف ماؤں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کی تکمیل کے لطف کے سامنے بے معنی ہوتا ہے۔
زندگی کا چہرہ کچھ اتنا خوبصورت رہا نہیں۔ چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔ بڑے شہروں میں خوش ہو لینے، خاندان کے ساتھ زندگی جی لینے کے لئے پارک، تاریخی مقامات کی صورت میں کچھ مقامات تو ہیں۔ لیکن چھوٹے شہروں یا ملک کے بیشتر شہروں میں یہ سہولت کہاں اور اگر ہو بھی تو بعض خود ساختہ روایات کا پہرہ کہاں جینے دیے ہے۔ ان تمام باتوں کے ہوتے ہوئے اپنی بوڑھی ماں کو یوں فخر سے سیر کرانا، سچ پوچھیں مجھے تو بہت اچھا لگا۔
ہم اس گیلری میں زیادہ سے زیادہ بیس منٹ رہے ہوں گے۔ باہر نکلے تو لوگوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا تھا۔ پورے کے پورے خاندان، جوڑے، مدرسے اور اسکولوں کے طلبا، دوستوں کا گروہ غرض عام آدمی کے سارے طبقات کی نمائندگی موجود تھی۔ کوئی عقیدت کی ڈور سے کھینچا چلا آیا تھا۔ کسی کو سیاحت کا شوق بلا لایا تھا لیکن اس دن مزار قائد میں اس بیٹے کی ہر ادا میں اطاعت نمایاں تھی۔
خود محسوس نہیں ہوتا لیکن کبھی کبھی آپ کا کوئی ایک عمل بھی بڑی خوبصورتی سے دوسروں کو بہت سے سبق پڑھا دیتا ہے۔ مزار قائد کا وہ پٹھان مجھے تو اطاعت کا سبق پڑھا گیا۔


