خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم میں اضافہ


خواتین کے خلاف غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم میں چند سالوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ بادی النظر میں حکومتی سطح پر جو اقدامات کیے جا رہے ہیں ان کے نتیجے میں ان جرائم میں کمی ہونا چاہیے تھی۔ مگر صورتحال اس کے برعکس ہے۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی مختلف تنظیموں کے مطابق پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل و غارت، جنسی جرائم اور تشدد ایک خاموش وبا کی طرح پھیلتا جا رہا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق ”ہاٹ لائن“ کے ذریعے جمع کیے گئے ڈیٹا کے مطابق خواتین پر تشدد کے واقعات میں دو سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اس حوالے سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار بھی انتہائی تشویش ناک ہیں۔ سال 2021 کے دوران صرف صوبہ پنجاب میں ہی خواتین پر جنسی اور جسمانی حملوں کے 20 ہزار 500 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، خواتین کے خلاف جرائم کے حوالے سے جو مقدمات درج ہوئے ان میں نامزد ملزمان کی تعداد 39 ہزار سے زائد ہے۔ ان میں 15 ہزار 5 سو ایسے ملازمین ہیں جنہوں نے خواتین کو ان کی مرضی کے خلاف شادی کرنے اور ناجائز جنسی تعلقات کے لئے اغوا کیا تھا۔

گزشتہ سال درج مقدمات میں سے 8450 مقدمات کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد پولیس کی جانب سے عدالتوں میں چالان جمع کروائے جا چکے ہیں۔ 6 ہزار سے زائد مقدمات تاحال زیر التواء ہیں۔ اس حوالے سے سرکاری سطح پر جو اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ساڑھے پانچ ہزار سے زائد مقدمات مختلف وجوہات کی بنا پر خارج کیے گئے ہیں۔ ، خواتین کے خلاف جرائم کے حوالے سے درج مقدمات میں نامزد زیادہ تر ملزمان یا تو ناقص تفتیش اور پولیس کی ملی بھگت سے رہا ہو جاتے ہیں جس پھر ملزمان اور برادری کے اثر و رسوخ کی وجہ سے متاثرین صلح کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور ملزمان کو سزا ہی نہیں مل پاتی۔

پنجاب پولیس سے حاصل کیے ڈیٹا کے مطابق گزشتہ سال 800 کے لگ بھگ خواتین کو قتل کیا گیا قتل کی ان وارداتوں میں نامزد ملزمان کی تعداد 3 ہزار سے زائد تھی جن میں سے 2 ہزار ملزمان گرفتار ہوئے مگر ایک سال بھر کے دوران کسی ایک بھی ملزم کو سزا نہیں مل سکی اسے پولیس کی ملی بھگت کہیں یا عدالتی نظام یہ تمام مقدمات تاحال عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

خواتین کے خلاف جرائم اور تشدد کو روکنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جو کارروائیاں کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق خواتین کے خلاف جرائم میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس خواتین پر تشدد اور ظلم ستم روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ خواتین پر ہونے والے مظالم کی چشم پوشی کے بجائے پولیس اس کی رپورٹ درج کرتی ہے اور کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

تاہم انسانی حقوق اور خواتین کے لئے کام کرنے والے تنظیموں کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم میں اضافے کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے مناسب تحفظ اور موثر احتسابی نظام کے قیام میں نا کامی ہے۔ غیرت کے نام پر قتل و غارت اور خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کو روکنے کے لئے حکومت کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کیونکہ اس سے نا صرف خواتین کو خطرات لاحق ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کا امیج بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کے گلوبل جینڈر انڈیکس میں پاکستان بدترین ممالک میں شامل ہے۔ 156 ممالک میں پاکستان کا 153 واں نمبر ہے جو کہ عراق اور یمن سے بھی آگے ہے۔

Facebook Comments HS