عمران خان کوشش کر رہے ہیں کہ ادارے نیوٹرل نہ رہیں؛ بلاول کا الزام
’عمران خان یہ نہ سمجھیں کہ وہ بھٹو بن سکتے ہیں‘
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عمران خان کوشش کر رہے ہیں کہ ادارے نیوٹرل نہ رہیں۔
اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ اگران کو کھیلنے نہ دیا جائے تو یہ کسی کو بھی کھیلنے نہ دیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر ادارے کو اپنے آئینی اور قانونی دائرے میں رہ کر کام کرنا ہے۔ جب کہ اس حکومت کی کوشش ہے کہ آئینی بحران پیدا کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان یہ نہ سمجھیں کہ وہ بھٹو بن سکتے ہیں۔ نقل کرنے کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو جوہری ملک بنایا اور اس کو آزاد خارجہ پالیسی دی تو اس کے نتائج بھی بھگتنے کے لیے تیار تھے۔ عمران خان نے ملک کی خارجہ پالیسی کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان پہنچایا۔
انہوں نے وزیرِ اعظم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بزدل کپتان تحریکِ عدم اعتماد کے ووٹ سے بھاگ رہے ہیں۔
قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو بلائے جانے پر ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم نے اسپیکر سے آئین شکنی کرائی ہے۔ ان کو اپنی شکست نظر آ رہی ہے۔
“بزدل کپتان تحریک عدم اعتماد سے اس حد تک گھبرا چکا ہے کہ اس نے اسپیکر قومی اسمبلی سے آئین کی خلاف ورزی کروا دی ہے۔”
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری @BBhuttoZardari
1/5#KaptaanBhaagRahaHai pic.twitter.com/TCy33UELxb— PPP (@MediaCellPPP) March 20, 2022
انہوں نے کہا کہ ریکوزیشن جمع کرانے کے 14 دن میں اسمبلی کا سیشن بلانا آئینی ذمہ داری ہے۔
عمران خان پہلے دن سے کوشش کر رہے ہیں کہ تحریکِ عدم اعتماد کے عمل کو نہ ہونے دیں۔
عمران خان اور تحریکِ انصاف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آپ کو اپنی کرپشن کا حساب دینا ہوگا۔ ساڑھے تین سال میں تمام ادارے آپ کے ماتحت تھے تو آپ نے کسی کے خلاف کرپشن کے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ان کو استعمال کیوں نہیں کیا۔
وزیرِ اعظم کے آخری دن آ گئے ہیں: مسلم لیگ (ن)

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ جب کوئی وزیرِ اعظم جلسے جلسوں پر آ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے آخری دن آگئے ہیں۔
اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں احسن اقبال اور مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ الزام لگانے والے ان لوگوں پر الزام لگا رہے ہیں جنہوں نے ان کو منتخب کیا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جو آئین کی خلاف ورزی کرے گا کل اس کو آئین کی شق چھ کا سامنا کرنا ہوگا۔
انہوں نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کے حوالے سے کہا کہ وہ جانب دار ہیں۔
اس موقع پر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی ناکامی کو دیکھ کر مذہب کارڈ استعمال کر رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امر بالمعروف کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عوام پر غربت کا سونامی نافذ کر دیا جائے اور ان کے منہ سے روٹی چھین لی جائے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی تحریکِ عدم اعتماد وزیر اعظم کی نااہلی کے بارے میں ہے جنہوں نے قوم سے جھوٹے وعدے کیے۔
’اسپیکر اسد قیصر آئین شکنی کے مرتکب ہوئے ہیں‘
اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے 25 مارچ کو ایوان کا اجلاس بلانے پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما شازیہ مری کا کہنا ہے کہ اسد قیصر نے آئین شکنی کی ہے۔ وہ آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔
اسلام آباد میں دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شازیہ مری کا کہنا تھا کہ یہ اسپیکر کی ذمہ داری تھی کہ وہ اسمبلی کا اجلاس مقررہ مدت میں بلاتے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسپیکر یہ آرڈرز واپس لیں کیوں کہ وہ یہ اجلاس 21 مارچ کو بلا سکتے تھے جس کے بعد او آئی سی کا اجلاس منعقد ہو سکتا تھا۔
اسپیکر قومی اسمبلی اجلاس کو بلانے کے عمل میں تاخیری حربے استعمال کرنے سے گریز کریں، شازیہ مری
اگر اسپیکر 21 مارچ کو اجلاس طلب کرلیں تو وہ آئین کی بھی خلاف ورزی سے بچ جائیں گے اور اگلے دن تنظیم تعاون اسلامی کا اجلاس بھی بغیر کسی آئینی بحران کے ممکن ہوسکے گا، شازیہ مری
— Pakistan Peoples Party – PPP (@PPP_Org) March 20, 2022
پیپلز پارٹی کے رہنما نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ کیا وجوہات تھیں جن کی وجہ سے اسپیکر نے 12 دن بعد اجلاس بلانے کا اعلان کیا۔
نیئر بخاری کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن پر الزام لگانے کے بجائے ان 14 لوگوں سے پوچھیں کہ انہوں نے عمران خان کو کیوں چھوڑ دیا۔
پریس کانفرنس میں موجود فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ انہوں نے تحریکِ انصاف کے دوستوں سے کہا ہے کہ وہ اب اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔ جیسی زبان استعمال کرو گے، ویسی ہی زبان ہم بھی استعمال کریں گے۔
’اراکین جو غلطی کر بیٹھے ہیں، واپس آ جائیں معاف کر دیا جائے گا‘
وزیرِ اعظم عمران خان نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف ہونے والے ارکان کو کہا ہے کہ وہ اراکین جو غلطی کر بیٹھے ہیں وہ واپس آ جائیں ان کو معاف کر دیا جائے گا۔
مالاکنڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ غلطیاں سب سے ہو جاتی ہیں۔ سیاسی جماعت کا سربراہ تو باپ کی طرح ہوتا ہے جس طرح باپ بچوں کی غلطیاں معاف کر دیتا ہے ایسے ہی پارٹی لیڈر بھی معاف کر دیتا ہے۔
https://twitter.com/faizanMFY/status/1505510804300259328
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں فیصلہ کن وقت آ گیا ہے۔
انہوں نے اپوزیشن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریکِ انصاف کے ارکان اسمبلی کی قیمت لگا رہے ہیں اور ان کو خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جلسے میں شرکا نے جب لوٹا لوٹا کے نعرے لگائے تو ان کا کہنا تھا کہ ایک ہوتا ہے لوٹے اور ایک ہوتا ہے ضمیر فروش، لوٹا اقتدار کی طرف جاتا ہے جب کہ ضمیر فروش اپنا اور اپنے ضمیر کا سودا کرتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ معاشرہ کبھی بھی جنگ سے تباہ نہیں ہوتے بلکہ ان کے اخلاقیات ختم کرنے سے تباہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کے پیسے چوری کرکے ارکان اسمبلی کے ضمیر کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ ایسا کوئی دشمن بھی نہیں کر سکتے۔ کیوں کہ معاشرے کی اخلاقیات کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ ایک رکن اسمبلی چوری کرتا ہے تو قوم دیکھتی ہے کہ رہنما چوری کر رہے ہیں تو وہ کیوں نہ کریں۔
کسی بھی ایم این اے نے ضمیر بیچ کر ووٹ دیا تو یاد رکھے یہ سوشل میڈیا کا دور ہے ہمیشہ کے لیے زلت اسکا مقدر بن جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان
#MalakandWelcomesPMIK pic.twitter.com/TcjqQ4EwnK— PTI (@PTIofficial) March 20, 2022
عمران خان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان میں لوگوں کو شعور آ چکا ہے۔ کوئی بھی حکومتی رکنِ قومی اسمبلی حزبِ اختلاف کی قرار داد کو ووٹ ڈالے گا تو پورا پاکستان سمجھے گا کہ یہ ضمیر فروش ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ عوام کا پیسہ چوری کرکے اگر میں نے حکومت بچانی ہے تو اس سے بہتر ہے کہ میری حکومت ختم ہو جائے۔


