کپتان سیاسی کھیل ہار رہا ہے، پارٹی از اوور


پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما و سابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے معنی خیز بات کہی ہے کہ نیوٹرل ادارے کے سربراہ یا کسی عہدیدار کے خلاف حکومت نے قدم اٹھایا تو اپوزیشن تسلیم نہیں کرے گی۔ یہ غیر آئینی حکومت ہے اور اس کا ہر قدم غیر آئینی ہو گا۔ سید خورشید شاہ کا بیان اپنے ساتھ کئی معنی لے کر آیا ہے اور اس بیان میں انہوں نے حکومت کے عزائم کو بے نقاب کر دیا ہے۔

سندھ ہاؤس اسلام آباد اور چیف جسٹس آف پاکستان کی رہائش گاہ کے درمیان چند قدموں کا فاصلہ ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نے سندھ ہاؤس میں پناہ لینے والے پی ٹی آئی کے باغی ارکان پر حملہ کا نوٹس لیا ہے۔ سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے جلسوں کے اعلانات کے خلاف سپریم کورٹ بار کی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران سندھ ہاؤس کو پہنچنے والے نقصان اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے 6 پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

چیف جسٹس، عمر عطا بندیال نے آبزرویشن دی ہے کہ عدم اعتماد میں دلچسپی نہیں، آئین کے مطابق برتاؤ کریں، سپریم کورٹ کسی صورت بھی سیاسی عمل میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔ تحریک عدم اعتماد کا تعلق سیاست ہے اور عدالت کا سیاسی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ارکان اسمبلی کو تحفظ فراہم کیا جائے آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت تحریک عدم اعتماد کا عمل جاری رکھا جائے درخواست گزار کی استدعا سیاسی تناظر میں ہے۔ تاہم عدالت نے ملک کے سیاسی تناظر کو نہیں بلکہ آئین کو دیکھنا ہے۔

اٹارنی جنرل نے وفاقی حکومت کی جانب سے عدالت کو یقین دھانی کروائی ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے پراسس کو قانون اور آئین کے آرٹیکل 95 کی روح کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔ فاضل عدالت نے پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جمعیت علما اسلام ( ف) بلوچستان نیشنل پارٹی اور اے این پی کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے اپنے اپنے وکلاء کے ذریعے عدالت کی معاونت کی ہدایت کی، اور قرار دیا کہ سپریم کورٹ کسی صورت بھی سیاسی عمل میں مداخلت نہیں کرے گی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے واضح نظر آ رہا ہے اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہے، پہلے خزاں کو رخصت کریں گے پھر بہار آئے نہ آئے، اب تقریباً ہمارے پاس اتحادیوں نے اپوزیشن کے حق میں ووٹ ڈالنے کلیئر کر دی ہے۔ ہمیں 10 ووٹوں کی ضرورت تھی۔ اس وقت 30 سے زائد ہیں۔ 182 سے لے کر 190 تک ووٹ تحریک عدم اعتماد کے حق میں آئیں گی۔ مولانا فضل الرحمنٰ کے بیان کا نوٹس لیتے ہوئے دوستانہ انداز میں اپنے جلسہ علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھا۔

؂ یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند۔
بہار ہو کہ خزاں، لا الہ الا اللہ۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آئین میں واضح لکھا ہے کہ پارٹی پالیسی کے خلاف جانے پر قانونی کارروائی کے تحت ڈی نوٹیفائی کیا جاسکتا ہے۔ اراکین کے لئے نوٹوں کی بوریاں کھول دی گئی ہیں۔ سندھ کا پیسہ اس کام پر لگایا جا رہا ہے۔ تین خواتین ارکان مخصوص نشست پر آئیں، وہ ایسے کیسے کر سکتی ہیں۔ اچھا ہوا یہ ضمیر فروش بے نقاب ہو گئے۔ آپ تمام لوگ ریلیکس رہیں ان کے ساتھ جو کرنا ہو گا۔ میں خود کروں گا۔ 28 مارچ 2022 ء کو سب معلوم ہو جائے گا۔ عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوگی۔

شنید ہے سول انٹیلی جنس ادارے کی جانب سے حکومت کو 28 اراکین کے ممکنہ منحرف ہونے کی فہرست دی گئی ہے جن میں سے مبینہ طور پر 24 سندھ ہاؤس میں مقیم ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کا ہاری جنگ کو فتح میں تبدیل کرنے کا انحصار سپریم کورٹ کی رائے پر ہے۔ اگر سپریم کورٹ نے بھی باغی ارکان کو اپنی مرضی کے مطابق ووٹ ڈالنے کی اجازت دے دی تو پھر عمران خان کے اقتدار کا خاتمہ یقینی ہو جائے گا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2