ملتان آرٹس فورم (کچھ پرانی اور نئی یادیں)۔


یہ کوئی سن 2005 ء کی بات ہوگی کہ جب پہلی مرتبہ میں نے اور میرے دوست یاسر نے ادیب بننے کے بارے میں سوچا تھا۔ ہم دونوں لمبی لمبی چھوڑا کرتے تھے اور خواب دیکھا کرتے تھے۔ منٹو، ندیم، انتظار حسین، بانو قدسیہ، پطرس اور یوسفی پر ہماری طویل مباحث ہوتیں اور بحث کے دوران ہم سوچتے بلکہ محسوس کرتے کہ ہم بھی ادیب بن گئے ہیں۔ ان دنوں ہمیں معلوم ہوا کہ ملتان میں ایک ادبی فورم ہے جس کو ”ملتان آرٹس فورم“ کہتے ہیں جس میں نئے لکھنے والوں کی آبیاری کی جاتی ہے اور اس کا اجلاس ہر ہفتے منعقد ہوتا ہے جس میں نثر اور شاعری پر نقد و نقد تنقید کا کام کیا جاتا ہے۔

ایک جمعہ ہم ”ملتان آرٹس فورم“ کی تنقیدی نشست میں پہنچ گئے۔ ان دنوں فورم کا اجلاس سنٹرل کالج میں ہوا کرتا تھا۔ جب ہم پہنچے تو وہاں کچھ ”اجڑے“ ہوئے لوگ برامدے میں کھڑے پائے۔ پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ کالج کی انتظامیہ کمرہ کھولنا بھول گئی ہے اس لیے تالا لگا ہوا ہے۔ بڑی مشکل سے چابی ملی اور خدا خدا کر کے کمرہ کھلا اور میں اور یاسر آخری نشست پر جا بیٹھے۔ میں نے دیکھا کہ کمرہ آہستہ آہستہ لوگوں سے بھرنے لگا ہے۔

ایک طرف چند بابے بیٹھے تھے، دوسری طرف نوجوان جو ادیب بننے کو بے تاب تھے، جن کے اندر خیالات کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا اور جس کو وہ فوراً لوگوں کے سامنے انڈیل دینا چاہتے تھے۔ میں نے جب غور کیا تو ایک بابے کو میں پہچان گیا جن کا نام خالد سعید تھا اور وہ میرے استاد تھے اور یونیورسٹی میں میری کلاس کو منطق پڑھاتے تھے۔ کمرہ جماعت میں ہم نے ان کو کبھی بھی اونچی آواز میں بولتے نہیں دیکھا۔ دھیمی طبیعت کے انسان جو ہمیشہ پینٹ کوٹ اور ٹائی کا استعمال کرتے تھے۔

پورے لیکچر کے دوران وہ اردو بولنے سے اجتناب کرتے اور منطق کے دقیق پہلو رواں انگریزی میں سمجھاتے تھے۔ لیکن ملتان آرٹس فورم پر وہ قدرے مختلف سے انسان لگے۔ تمام بابے، سمیت خالد سعید صاحب کے، دھواں چھوڑ رہے تھے اور لگتا تھا کسی گہری سوچ میں غرق ہیں۔ ملتان آرٹس فورم کی بنیاد بھی خالد سعید صاحب نے 1995 ء میں رکھی تاکہ جنوبی پنجاب میں ادب کی روایات کو زندہ رکھا جا سکے۔ پہلی تنقید نیئر مصطفیٰ کے افسانے پر ہونی تھی۔

جب نیئر نے اپنا افسانہ پیش کیا تو وہ استعارات، علامات اور مافوق الفطرت عناصر سے پر تھا۔ سچ جانیے کہ پورا افسانہ میرے سر کے اوپر سے گزر گیا۔ جب میں نے یاسر پر نظر دوڑائی تو اس کا چہرہ بھی یہی تاثر لیے ہوئے تھا۔ نیئر نے افسانہ پڑھا نہیں بلکہ پرفارم کر کے دکھایا۔ کچھ دیر تک کمرے میں سناٹا رہا اور پھر خالد سعید صاحب اپنے دھیمے انداز میں بولنا شروع ہوئے اور مصنف کی تعریف کے پل باندھ دیے۔ میں اور یاسر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے، یہ کیا بات کر رہے ہیں۔

بہر حال یاسر نے یہ نکتہ اٹھایا کہ کسی بھی ادبی پارے کا پہلا عنصر خیال کی ترسیل ہے، اگر کوئی ادب پارہ اس عنصر سے عاری ہو اس کو ادب پارہ نہیں کہنا چاہیے۔ اس رائے پر کمرے میں نئی بحث کا آغاز ہو گیا کہ کیا ادب سب کے لیے ہے یا پھر صرف چنیدہ لوگ ہی ادب کو سمجھ سکتے ہیں۔ اس طرح نیئر کے افسانے پر تنقید کم اور یاسر کی رائے پر تنقید زیادہ ہوئی۔ اس کے بعد عدنان بھٹہ صاحب نے اپنی غزل تنقید کے لیے پیش کی۔ غزل کے سنتے ہی سب نے اس کے پرزے پرزے کر دیے۔

کسی نے کہا کہ شاعر کی زبان پر پنجابی کا اثر ہے اور شاید شاعر کی مادری زبان پنجابی ہے جس وجہ سے وہ اردو استعمال کرتے ہوئے پنجابی کا لہجہ استعمال کر جاتا ہے۔ اس طرح ایک ایک شعر کو تنقید نگاروں یا بابوں نے تولا، کھینچا اور ٹھوک بجا کر چیک کیا۔ اس سارے غل غپاڑے میں ایک شخص بڑی مستعدی سے ایک موٹے رجسٹر پر فورم کی کارروائی درج کرتا رہا۔ مجھے اس کا نام معلوم نہیں لیکن وہ ضرور فورم کا جنرل سیکریٹری رہا ہو گا جس کا کام فورم کی کارروائی درج کرنا تھا۔ میں اور یاسر پانچ چھ مرتبہ فورم کے اجلاس میں شامل ہوئے اور اس کی صورتحال دیکھ کر ہم نے ادیب بننے سے توبہ کر لی اور سوچا کہ ہم کوئی اچھا کام کریں گے۔

قدرت کی کرنی ایسی ہوئی کہ 2010 ء میں نیئر مصطفیٰ میرا پیٹی بھائی بن گیا۔ ہم نے اکٹھے تربیت لی لیکن اس نے تربیت کم اور افسانے زیادہ لکھے۔ 2010 ء میں اس کا دوسرا افسانوں کا مجموعہ ”ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری“ چھپا تو چھ سال کے بعد پھر مجھے ملتان آرٹس فورم جانے کا اتفاق ہوا۔ اب آرٹس فورم انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج میں شفٹ ہو چکا تھا۔ ماحول وہی تھا۔ بابے تھے، چند نوجوان تھے جن کو بابے خراب کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے تھے لیکن میں نے غور کیا تو یہی بابے چند نوجوانوں کی تربیت کر کے شاعر، نثر نگار بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے جس کی ایک واضح مثال نیئر مصطفیٰ خود ہے۔

اب آتا ہے 2021 ء کا سال، اس میں ملتان آرٹس فورم میں ایک نئی روح پھونکی جاتی ہے۔ نیئر مصطفیٰ ملتان آرٹس فورم کا صدر بن جاتا ہے۔ اس سال مجھے تین، چار مرتبہ اجلاس میں شرکت کرنے کا موقع ملا ہے۔ نیئر نے تین باتوں میں بہت زیادہ ترقی کی ہے یعنی وزن، بال اور افسانہ نگاری میں۔ مجھے قوی یقین ہے کہ وہ ان میں مزید ترقی بھی جاری رکھے گا۔ نیئر کی بات لالے سے شروع ہو کر بھائی پر ختم ہوتی ہے۔ جس سے اس کا یارانہ ہو اس کو وہ لالہ کہہ کر پکارتا ہے، جس کو عزت دینا مقصود ہو اس کے نام کے ساتھ بھائی لگانا نہیں بھولتا۔

نیئر نے نہ صرف ملتان کی ادبی فضا میں چاند کا روپ اختیار کر لیا ہے بلکہ اس نے ملتان آرٹس فورم کو بھی چار چاند لگا دیے ہیں۔ 19 مارچ 2022 ء کو پہلی مرتبہ ملتان آرٹس فورم نے لٹریری فیسٹیول منعقد کیا اور خالد سعید ایوارڈ کا انعقاد کیا جس میں نئے لکھنے والوں کو ایوارڈ دیے گئے۔ مجھے اس فیسٹیول میں شرکت کا موقع ملا۔ میں جب نوجوانوں میں ٹیلنٹ دیکھتا ہوں تو اپنا قلم پھینکنے کو دل کرتا ہے کیا خوب کام ہو رہا ہے۔

اس موقع پر کولاج، سطور اور موذیک جو کہ ملتان آرٹس فورم کے تحت چھاپی جاتی ہیں کو بھی لوگوں تک پہنچایا گیا اور پہلی مرتبہ ملتان آرٹس فورم نے اپنے ممبران سے باہر نکل کر لوگوں سے بھی رابطہ قائم کیا۔ ملتان آرٹس فورم ایک ایسا فورم ہے جو کہ جنوبی پنجاب کے نوجوان میں ادب کی اہمیت اجاگر کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس بات پر میں خالد سعید صاحب اور نیئر مصطفیٰ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ امید کرتا ہوں کہ یہ قافلہ بہت آگے تک جائے گا۔

Facebook Comments HS