ڈپٹی کمشنر


پاکستان میں اکثر سنجیدہ مباحث کی شہ ضرب عمدہ گورننس کا فقدان ہوتی ہے۔ عمدہ گورننس کے لیے اہم ترین لازمہ تو اس معاشرے ہی کے افراد ہوتے ہیں لیکن ان افراد کو سینت سنبھال کر ایک سسٹم رکھتا ہے۔ یہ سسٹم اداروں کی مدد سے پروان چڑھتا ہے۔ مسلم معاشروں میں بہت طویل عرصے سے زوال کا باعث افراد کا اداروں پر غلبہ ہے۔ یورپ نے یہ راز بہت پہلے جان لیا کہ افراد کو اداروں پر قربان کرنے سے ہی معاشرے آگے بڑھتے ہیں۔

پاکستان میں آزادی کے بعد تک انگریز کے بنائے ہوئے ادارے بہت عرصے تک کام کرتے رہے تقریباً 1972 تک۔ انہیں اداروں میں ایک موثر ادارہ ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر اور اس کے ماتحت تین چار اسسٹنٹ کمشنر ہوتے تھے۔

انگریز، ڈپٹی کمشنر کو دو ٹانگوں پر ایک مکمل حکومت گردانتا تھا۔ جب تک یہ ادارہ قائم رہا پاکستان میں دہشت گردی اور لاقانونیت پر قدرے کنٹرول رہا۔ ایسا نہیں تھا کہ ان کی موجودگی میں کوئی بڑے فساد ات واقع نہیں ہوئے۔ دور کیوں جاتے ہیں۔

کراچی، میں بشریٰ زیدی (اپریل 1985 ) سہراب گوٹھ، قصبہ۔ اورنگی کے پختون مہاجر ہنگامے اور حیدرآباد میں پکا قلعہ اور اس کے بعد کاروں سے کی گئی فائرنگ کے ذریعے دو سو افراد کی ہلاکت میں ڈپٹی کمشنر کا ادارہ موجود تو تھا، مگر ایسا لگتا تھا کہ فسادات میں جو عوامل کار فرما تھے وہ ڈپٹی کمشنر کی سطح سے بہت بلند تھے۔ ان میں افغانستان کی خاد اور ”را“ دونوں کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ یہ خفیہ ایجنسیاں ہنگاموں کو فروغ دینے میں push and pull factors پر کام کرتی تھیں۔ پختونوں میں خاد نے اور مہاجرین میں را نے پنجے گاڑے ہوئے تھے۔ افغانستان اور روس ہم سے جہاد کی وجہ سے اور ہندوستان ان دنوں ہم سے خالصتان تحریک کی حمایت کی وجہ سے ناراض تھا۔ K for K یعنی خالصتان کا بدلہ کراچی میں لیا جا رہا تھا۔

ان تین ہولناک ہنگاموں (قصبہ اورنگی فسادات اور پکا قلعہ فسادات) میں سے دو مواقع پر تو کراچی ویسٹ اور حیدرآباد کے ڈپٹی کمشنر ایک ہی تھے، موصوف اپنے کیریر میں بظاہر ایک بے حد کامیاب افسر ہوا کرتے تھے۔ گھن گرج والی آواز، گفتار کے غازی، پی آر کے شناور جب 13۔ 14 دسمبر 1987 ءکو سہراب گوٹھ ہٹانے کے حوالے سے ہنگامے پھوٹ پڑے اور بے دخل ہونے والی مافیا کے کارندوں نے قصبہ علی گڑھ کالونی اور اورنگی کے سیکٹر ون۔ ڈی میں سو سے زائد افراد کو کھلی فائرنگ کر کے ہلاک کیا تب موصوف ہی ڈپٹی کمشنر ویسٹ تھے اور بعد میں جب 27 مئی 1990 میں پکا قلعہ کا سانحہ ہوا۔ کرفیو لگا اور ہلاکتیں ہوئیں تو یہی حضرت ڈپٹی کمشنر حیدرآباد بھی تھے۔ ان کے ساتھی ان بے شمار ہلاکتوں کی وجہ سے انہیں پیار سے ”لاشوں کا جاوید میاں داد“ پکارتے تھے۔

ان ہنگاموں کو روکنے میں بری طرح ناکام ایک ہی افسر کو آپ فرد واحد کی بزدلی اور ناکامی تو کہہ سکتے ہیں لیکن اس سانحے کو اس دفتر اور اس وابستہ اختیارات سے اسے تعبیر کرنا زیادتی ہو گا۔ اس کے بالکل برعکس جب دو برس پہلے خالد سعید یہاں ڈپٹی کمشنر تھے تو انہوں نے نیو کراچی میں فرقہ وارانہ فسادات کو موقع پر ہی روک دیا تھا۔

اسی طرح ڈپٹی کمشنر ہمایوں فرشوری صاحب نے بشریٰ زیدی کی موت کے بعد پھیلنے والے پختون مہاجر فسادات کو روکنے میں ایک موثر کردار ادا کیا۔ کراچی کے عوام ان دنوں بھی ٹرانسپورٹ والوں کی بدمعاشی سے تنگ تھے۔ اس پیشے سے وابستہ افراد کی اکثریت کا تعلق چونکہ پٹھانوں سے تھا لہذا بشریٰ زیدی کی ہلاکت کے فوراً بعد یہ افواہ آگ کی طرح پھیل گئی کہ حادثے میں ملوث ڈرائیور پٹھان تھا۔ جو موقعہ سے ہی فرار ہو گیا تھا۔

معاملے کی تہہ تک جلد پہنچ جانے والے ڈی سی صاحب بہت جلد یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے کہ روٹ این۔ ون کی جو دو منی بسیں ریس لگاتی ہوئی آ رہی تھیں ان میں سے ایک کا ڈرائیور ارشد حسین بہاری تھا، نہ کہ کوئی پختون۔ اسی کی بس بریک فیل ہونے کی وجہ سے بشریٰ اور اس کی بہن نجمہ کچلی گئیں۔

عمائدین علاقہ سے فوری میٹنگ میں جیسے ہی ڈرائیور کا نام، پرانی تصویر اور اس بس کے مالک کا نام بتایا گیا۔ بس کے مالکان بھی بہاری تھے۔ اس خبر کے عام ہوتے ہی ہنگاموں میں یک گونہ ٹھہراؤ آ گیا۔ جس وقت یہ حادثہ ہوا اس پر موقع پر پہنچنے والے افسروں میں ایس۔ ڈی۔ ایم اعجاز چودہری (بعد میں سکیرٹری پیٹرولیم اور چیف سیکرٹری سندھ) سب سے پہلے تھے وہ حالات کو سنبھال ہی رہے تھے۔ اپنی اس کوشش میں وہ احتجاج کے لیے چوک پر جمع ہونے والی لڑکیوں میں ایک لیڈر نما لڑکی کے ذریعے طالبات کے ہجوم کو پر امن طریقے سے منتشر کرنے پر آمادہ کرچکے تھے۔ (ملاحظہ ہو تصویر یہ ہنگامے سے پانچ منٹ پہلے کی تصویر ہے)۔ جوش خطابت سے لبریز یہ لڑکی جب مذاکرات کے بعد ڈی ایس پی ملک شیر باز کی موبائل کے بونٹ پر بغرض خطاب چڑھ گئی تو حالات سے بے خبر ڈرائیور نے گھبرا کر گاڑی چلا دی سے وہ نیچے گر گئی۔ ہجوم کو ایسا لگا کہ یہ تو وہی بشریٰ زیدی والا سین پھر سے دہرایا جا رہا ہے، اسی دوران جماعت اسلامی کے ایک اہم رہنما نعمت اللہ خان بھی وہاں چیف منسٹر غوث علی شاہ کو سبق سکھانے پہنچ گئے تھے اور کراچی یونی ورسٹی سے طالب علموں کی پوائنٹ کی بسیں بھی اپنا رخ موڑ کر آ گئی تھیں۔ کراچی پھر ویسا نہیں رہا۔

اچھے کاموں کا سرکار کے ہاں کوئی انعام نہیں۔ ایک بے مثال جرات کا مظاہرہ ضلع ویسٹ کے ڈپٹی کمشنر کامران لاشاری نے سرجانی ٹاؤن میں اس وقت کیا جب مختلف کمپنیوں کے بنائے ہوئے چھوٹے گھروں میں پٹھان قابض ہو گئے تھے۔ ایک رات ایک بڑے جتھے نے سامنے مہاجرین کی بستی پر حملہ کیا بعید نہ تھا کہ رات کی اس تاریکی میں ہونے والے قتل و غارت گری کے اس منصوبے پر ڈپٹی کمشنر لاشاری غفلت برتتے تو عوام قصبہ علی گڑھ کے ہنگاموں کو بھول جاتے۔ اس دلیر افسر نے دبکی ہوئی پولیس فورس کی کمانڈ خود سنبھالی وہ اور ایس پی محمد اکبر آرائیں ایک کلاشنکوف لے کر ڈٹ گئے۔ فورس کو بھی حوصلہ ملا اور سب نے بڑی دلیری سے موقعے پر ہی دس بارہ شر پسندوں کو ڈھیر کر دیا اور وہ پسپا ہو گئے۔ تب ایک تھانے میں بمشکل ایک یا دو کلاشنکوف ہوتی تھیں۔

ہنگامے کو روکنا کا جو پہلا مرحلہ ہوتا ہے یعنی اس کے احتجاجی عوامل کا سانحے میں تبدیل ہونے سے پہلے ہی سدباب کرنا۔ اس کی مثال اس وقت کی مارشل لا اتھارٹی کے سامنے بے حد قابل شاہد حامد ( جنہیں بطور ایم۔ ڈی کے ای ایس سی قتل کر دیا گیا) نے بطور ڈپٹی کمشنر ساؤتھ پیش کی۔ اہالیان بساط اقتدار پریشان تھے۔

کھارادر میں ایک ایسے گھر کو سپریم کورٹ کے آرڈر پر خالی کرانا تھا جس میں ایک فرقے کے کرائے داروں نے اپنی عبادت گاہ بنالی تھی۔ مالک مکان کسی طور اس بات پر راضی نہ تھا کہ وہ اپنی ملکیت سے منھ مانگی قیمت پر دست بردار ہو۔ مقدمہ کا فیصلہ سپریم کورٹ نے اس کے حق میں کیا۔ شاہد حامد صاحب نے اس کا حل یہ نکالا کہ کسی طور کوئی ہنگامہ نہ ہوا۔ کھارادر تھانے کی حدود میں چھ گھنٹے کا کرفیو لگا کر دن کے اجالے میں ہی اس گھر کو خالی کرا کے، قبضہ سپرد کر کے اگلے دن بذریعہ فیکس رجسٹرار سپریم کورٹ کو حکم کی تعمیل کی رپورٹ بھجوا دی۔

پاکستان بھی افریقہ اور ایشیا کے ان کثیرالتعداد ممالک میں سے ایک ہے جہاں زندگی بہ یک وقت کئی ادوار میں گزاری جاتی ہے۔ دیگر مثالیں تو شاید دور پرے کی لگیں مگر کراچی ائر پورٹ سے ٹھٹھہ کی جانب روانہ ہوں تو ملیر سے لانڈھی تک اور پھر گھگھر پھاٹک سے ٹھٹھہ تک ایک ہی شاہراہ پر زندگی ساٹھ میل کے سفر میں اکیسویں صدی سے پندرہویں صدی کے ادوار میں ڈھل جاتی ہے۔

ایسے ممالک میں بہتر ہوتا ہے کہ مظاہرین اور متاثرین کا سامنا براہ راست سب سے بڑی اتھارٹی سے ایک دم نہ ہو۔ چیف منسٹر اور وزیر اعظم، چیف سیکرٹری اور آئی جی تک جب کوئی مسئلہ یا مطالبہ پہنچے تو اس کی شدت اور تاخیر میں بتدریج صلاح و مشورے کے عمل کی وجہ سے ایک واضح اور قابل عمل حل کی جانب پیش قدمی آسان ہو چکی ہو۔

اس کی بہترین ضمانت ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ضلع افسر کے انتظامی اختیارات اور عدالتی اختیارات کے دفاتر) اول الذکر میں وہ کمشنر اور موخر الذکر میں وہ سیشن جج کو جواب دہ ہوتا تھا) کا دفتر فراہم کرتا ہے۔ یوں بھی ایک عمدہ جمہوریت اور ڈکٹیٹر شپ میں ایک صحت مند سول سوسائٹی اور ایک قابل انتظامیہ ہی ترقی کی ضمانت ہیں۔ ان دو تضادات کی مثالیں آپ کو سیکنڈے نیویا کے ممالک اور سنگاپور میں دکھائی دیتی ہے۔ ان دو ممالک میں ڈپٹی کمشنر نہیں مگر لی کوان یو جیسا بے لوث مملکت سربراہ اور بادشاہت موجود رہے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کا دفتر متحدہ ہندوستان میں گوروں نے اسے مقابلے کے امتحانات کے ذریعے تشکیل دی جانے والی انڈین سول سروس ( 1853 ) کے نتیجے میں تشکیل دیا۔ تب تک سندھ بنگال اور پنجاب مکمل طور پر ان کے زیر تسلط آچکے تھے۔ اک کے سامنے سرکار کی تسلط بر بنائے انصاف، اور ترقی تھا۔ یہ انتہائی طاقتور دفتر ہوتا تھا جہاں ضابطہ فوجداری کے تحت جرائم کی روک تھا جیسے دفعہ 144 کا نفاذ، لاؤڈ اسپیکر کی اجازت، اجتماعات کی اجازت، ڈومیسائل، اسلحہ کے لائسنس، ٹریفک کے چالان، تجاوزات کا خاتمہ، کاروباری مراکز کے معاملات، الیکشن ( پاکستان کے سب سے منصفانہ اور 1970 والے آزادانہ اور بعد کے بلدیاتی انتخابات انہیں کی زیر نگرانی ہوئے تھے ) ۔ ایس پی اور اس کے ماتحت تھانے اپنی کارکردگی اور جرائم کی روک تھام کے حوالے سے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہی کو جواب دہ ہوتے تھے۔ عوام کے لیے ایک قابل بھروسا ون ونڈو دفتر تھا۔

انگریزوں نے جب میجر جان جیکب کو جیکب آباد کا ڈپٹی کمشنر مقرر کیا تو حالات بہت دگر گوں تھے مگر اس نے چھ سال کے عرصے میں اس ایک ضلع میں 2589 میل روڈ 88 نہریں اور 786 پتھر کے پل بنائے۔ لا اینڈ آرڈر کی صورت حال یہ تھی کہ فلپ میسن نے اپنی کتاب The Men Who Ruled India میں لفٹینٹ ویلم میری ویدر کا وہ فقرہ لکھا ہے جس میں کمشنر فرئیر بارٹل (جن کے نام پر فرئیر ہال اور فرئیر مارکیٹ اور روڈ تھے) کے سندھ کے دور دراز پہاڑی سلسلوں میں جہاں پنجاب کی سرحدیں سندھ سے ملتی ہیں وہاں کوئی چوہا بھی میری مرضی کے بغیر نہیں ہل سکتا۔

ڈپٹی کمشنر کا ادارہ آئین کی شق نمبر 175 ( 3 ) کی رو سے عدلیہ کی انتظامیہ سے جدا کیے جانے کے حوالے سے سن 1993 میں ختم ہوا۔ اس ادارے کا مگر مکمل خاتمہ مگر جنرل پرویز مشرف کے دور میں اگست 2001 ء میں ہوا جب ایک نیا بلدیاتی نظام متعارف کرایا گیا۔

اس کے پس پردہ ڈی ایم جی والوں میں پایا جانے والا ایک جہاں ایک تاثر یہ بھی بہت عام تھا کہ نیشنل ری کنسٹرکشن بیورو کے چئیر من جنرل تنویر نقوی، ہارون آباد (پنجاب ) کے کسی ڈپٹی کمشنر سے بہت ناراض تھے۔ وہ انہیں سستے داموں فروخت کی ہوئی زمین نئے مالکان سے واپس دلانے میں ناکام رہے تھے۔ سو وہ اس اس دفتر کو برباد کرنے پر اترے ہوئے تھے۔

دوسری جانب اس دور میں پولیس کے افسران کی ایک موثر تعداد وزارت داخلہ میں بھی تعینات تھی۔ وہ پولیس کو ایک با اختیار اور جواب دہی سے بالاتر ادارہ دیکھنا چاہتی تھی۔ یوں ایک کمزور سے پبلک سیفٹی کمیشن اور آئی جی کو بہ یک وقت پبلک سروس کمیشن، کمانڈر آف دی فورس اور بجٹ کے معاملے میں ہوم ڈیپارٹمنٹ کی نگرانی سے آزاد ادارہ دیکھنا چاہتی تھی۔ یوں افضل شگری، آفتاب راٹھور اور شعیب سڈل نے مل کر نئے پولیس آرڈر کی تشکیل دی۔ پولیس میں موجودہ بگاڑ کا ایک سبب یہ پولیس آرڈر بھی ہے جس میں اختیارات کو ایک ہی ادارے اور پوسٹ یعنی آئی جی کے دفتر میں جمع کر دیا گیا ہے۔ پولیس انگریزی اصطلاح کے حساب سے Top Heavy ہو گئی ہے۔ جب کے پولیس کا کام ایس پی لیول پر ختم ہوجاتا ہے اس کے بعد تمام کام ہوم ڈیپارٹمنٹ کا ہے جو پالیسی ساز دفتر ہے۔

ڈی ایم جی اور پولیس گروپ کی اس دیرینہ باہمی چپقلش سے ہٹ کر دوسری طرف جنرل پرویز مشرف کو یہ باور کرایا گیا تھا ضلعی سطح پر ایک کرپٹ اور مقامی سیاسی ہیوی ویٹس کی مرضی کا تابع نظام ملک میں ایک عرصے سے سیاست کے میدان میں غالب دو بڑی سیاسی پارٹیوں کو ضلع ناظم کا ادارہ صوبائی سیاست میں قدم نہیں جمانے دے گا۔

ڈپٹی کمشنر / ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے خاتمے سے نقصان یہ ہوا کہ حکومت عوام سے کٹ گئی۔ عوام کے غصے اور احتجاج، علاقے میں مختلف گروپوں کی کارروائی ہر بات کا علم اسسٹنٹ کمشنر کے ذریعے ڈپٹی کمشنر، کمشنر اور ہوم سیکرٹری کو ہوتا تھا۔ وہ چیف سیکرٹری کے ساتھ مشاورت سے چیف منسٹر کو حقیقت پر مبنی رپورٹ پیش کیا کرتا تھا۔

اب معاملہ یہ ہے کہ اگر کہیں احتجاج ہو تو اس کا براہ راست سامنے ادھر ادھر سے جمع کی ہوئی پولیس فورس سے ہوتا ہے جو نہ تو احتجاج کرنے والوں کی نفسیات سے نہ ان کے لیڈر صاحبان سے واقف ہوتی ہے۔ نتیجہ آپ کے پاس چار تھانوں اور پانچ سو ایکڑ کے چھوٹے سے علاقے میں لیاری گینگ وار اور بے نظیر کے قتل پر تین دن تک اربوں روپے کی جائیداد کی بربادی کی صورت میں نکلتا ہے۔ جس میں کئی ایس پی صاحبان کا اپنے علاقے کے تھانے والوں کو یہ حکم تھا کہ دروازے بند کر کے بیٹھے رہیں عوام سے نہیں الجھنا، نفری کم ہے۔

سر دست ضرورت اس امر کی ہے جب تک آئین میں ہر پچاس لاکھ کی آبادی پر ایک صوبہ، براہ راست سے منتخب سینیٹ اور حکومت کے پچاس بڑے عہدوں پر امریکہ کی سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی کے ذریعے تقرری۔ صدارتی نظام جس میں صدر کا ہر علاقے سے اپنی پارٹی سے منتخب ہو کر متفقہ طور پر نامزد ہونا بالکل وہی انداز اور مرحلہ جس سے چند برس قبل ہلری، ٹرمپ، روبیرو اور برنی گزر رہے تھے۔ دو سے زیادہ دفعہ ایک عہدے پر فائز ہونے کی پابندی، ہرجانے کا قانون، مقدمے کے فیصلے کی زیادہ سے زیادہ طوالت کی میعاد جیسے بڑے Structural Changes نہیں آتے، ہم نچلی سطح پر ڈپٹی کمشنر کے ذریعے ہی عوامی شکایت کا ازالہ ایک مرتبہ پھر سے Executive Magistracy کو بحال کر کے کر لیں۔

Latest posts by اقبال دیوان (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 89 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments