آرمی چیف کی برطرفیاں تاریخ کے آئینے میں


جنرل گل حسن افواج پاکستان کے آخری ”کمانڈر ان چیف“ تھے جن سے ان کی تعیناتی کے تقریباً تین ماہ بعد ہی سربراہ فضائیہ ایئر مارشل عبدالرحیم خان کے ہمراہ سویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو نے جبری استعفیٰ لے لیا تھا۔

یہ سال 1972 کے مارچ کی 3 تاریخ بوقت شام اور اتوار کا روز تھا سبکدوش ہونے والے دونوں فوجی سربراہان کو ایوان صدر ایک رسمی ملاقات کے لئے بلایا گیا تھا، جہاں ”بری و فضائی افواج“ کے سپہ سالاروں سے پنجاب پولیس کے ہڑتال پر گئے ملازمین کی جگہ فوج کی عدم تعیناتی، اور لائل پور میں نقلی پروازیں کرنے کی حکم عدولی پر اظہار برہمی کیا گیا تھا۔ دوران نشست دونوں فوجی سربراہان سے پہلے سے ٹائپ شدہ استعفوں پر دستخط لے لئے گئے یہ استعفے وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن نے ٹائپ کیے تھے، رازداری برقرار رکھنے کے لئے اسٹینو گرافر کو بھی ناقابل اعتبار سمجھا گیا تھا۔ اس موقع پر موجود مشیر قومی سلامتی جنرل ریٹائرڈ اکبر، گورنر سندھ ممتاز بھٹو، گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر، وزیر اعلیٰ سندھ غلام مصطفی جتوئی اور وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن موجود تھے موخر الذکر تین کی پتلونوں سے پستول ٹنگے تھے۔

غلام مصطفی جتوئی اور کھر جنرل گل اور ائر مارشل عبدالرحیم کو سرکاری مرسڈیز بینز کی عقبی نشست پر بٹھا کر پستول کے زور پر لاہور گورنر ہاؤس لے گئے اس دوران ڈاکٹر مبشر حسن ہوائی سفر اور پھر بذریعہ شاہراہ جنرل ٹکا خان کو لینے اوکاڑہ چھاؤنی پہنچے جہاں سے انہیں پنڈی پہنچا کر فوج کا سربراہ بنا دیا گیا۔

جنرل یحییٰ خان سے اقتدار بھٹو مرحوم کو منتقل کرنے میں جنرل گل حسن اور ائر چیف کا اہم کردار تھا البتہ زیڈ اے بھٹو ان دونوں پر حکومت کا تختہ پلٹنے کی سازش کرنے کا شبہ رکھتے تھے۔ صدر بھٹو نے یہ عمل گہری منصوبہ بندی اور رازداری کے ساتھ کیا تھا جس کی بھنک بھی خفیہ ایجنسیوں کو نہ پڑ سکی۔ بطور احتیاط برطرفی کے روز سے پہلے ہی پیپلز پارٹی کی جانب سے راولپنڈی میں جلسہ عام کا انتظام کیا گیا تھا۔

اس واقعہ کے تقریباً دو دہائیوں بعد پاک فوج کے بارہویں چیف جنرل جہانگیر کرامت اکتوبر سات 1998 کو اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے سے قبل ہی وزیراعظم نواز شریف کے حکم پر رضاکارانہ طور پر مستعفی ہو چکے ہیں، جس کے بعد ایک جونیئر جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف مقرر کیا گیا تھا۔

پرویز مشرف کے ساتھ نواز شریف کے تعلقات کشیدہ ہوئے تو وزیراعظم نے انہیں برخواست کرنے کا فیصلہ کیا یہ اکتوبر 1999 کی 12 تاریخ تھی، جنرل مشرف دورہ سری لنکا پر تھے، شام کے وقت سرکاری ٹی وی پر مشرف برخاستگی اور جنرل ضیا الدین بٹ کے آرمی چیف تقرر کی خبریں نشر ہوئیں، جس کے کچھ دیر بعد ہی فوجی کمانڈروں نے وزیراعظم ہاؤس سمیت اہم سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر کے وزیراعظم اور ان کے لگائے آرمی چیف کو قیدی بنا کر عنان اقتدار پر قبضہ کر لیا، مشرف فوجی بغاوت کا منصوبہ پہلے سے بنائے ہوئے تھے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ برطرف ہونے والی تینوں شخصیات کو بعد ازاں عہدوں سے ضرور نوازا گیا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل گل حسن اور ائر مارشل عبدالرحیم کا تقرر بطور سفیر آسٹریا و یونان اور سپین کیا تھا، ان نوازشات کے باوجود بھٹو حکومت کے خلاف حزب اختلاف کے لئے فوج میں لابنگ کرنے کے لئے ان دونو‍ں نے کردار ادا کیا، جس کا ثبوت 1977 کے الیکشن میں دھاندلی کو بنیاد بنا کر دونوں کا سفارت سے استعفیٰ دینا کہا جاتا ہے۔ بعینہ فوجی بغاوت کے بعد صدر مشرف نے جہانگیر کرامت کو امریکہ میں سفیر مقرر کیا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی سکیورٹی ”ٹین کور“ جبکہ وزیراعظم کی حفاظت ”ٹرپل ون برگیڈ“ کے سپرد ہوتی ہے۔ کور کمانڈر راولپنڈی ان پر احکامات نافذ کرواتے ہیں۔ فوجی انقلاب میں راولپنڈی کور کا سب سے اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر وہ وزیراعظم کے ساتھ ہوں تو مارشل لا لگانا ممکن نہیں رہتا۔

Facebook Comments HS