پوجا کو انصاف سے محروم کرنے کی خاطر کردار کشی شروع


انسانی جان کو تحفظ و انصاف میسر کرنے کی غرض سے دستیاب قوانین کی فہرست طویل تر ہوتی جا رہی ہے، صحت جرم اور مجرم کو پابند سلاسل کرنے کے لئے درکار تمام شواہد اکٹھے کرنے کا فرض پولیس کو تفویض ہے۔ تفتیش کو مگر، پولیس چاہے کسی بھی صوبے کی ہو، جرم اور مجرم کی بیخ کنی کرنے کی بجائے ایسا اونٹ بنا دیتی ہے جس کو جس کروٹ چاہا بٹھا دیا جائے۔ نہار منہ سپاٹ چہرے لئے عدالتوں کی راہداریوں میں پیشی بھگتنے والے کئی لوگ سپاٹ چہروں اور روہانسی آنکھوں پولیس تفتیش کے خموں و پیچوں کا رونا روتے ملیں گے۔ دریائے سندھ کے کنائے پر روہڑی صوبہ سندھ کا ایسا شہر ہے جس کی شہرت اس کا جڑواں سکھر اپنی چمک دمک کے بل پر چھین لیتا ہے۔ معصوم سے اس شہر کی کہانی بھی افسانوی ہو سکتی ہے لیکن اس شہر کے قرب میں بسنے والی پوجا اوڈ کے قتل پر شہر روہانسا ہے اور اپنے فسانے سننا نہیں چاہتا۔

پوجا، جس کے آبا و اجداد سوندھی مٹی میں زندگیاں بسر کرتے رہے، سرمایہ دارانہ صنعتی چال چلن کا شکار ہو کر اپنے پرکھوں کی ریت و روایت سے دستبردار ہونے والی نسل سے تعلق رکھتی تھی۔ اقلیتیں یوں تو اس ملک میں جیسے اجنبی ٹھہرا دی گئی ہیں، اقلیتوں میں بھی لیکن ہندوؤں کی نچلی ذاتیں حقوق اور تحفظ سے عاری ایسی زندگی گزار رہی ہیں جس کی قدر بہت ارزاں ہے۔ ہندوؤں کی نچلی ذات اوڈ قبیلے کے افراد صدیوں سے مٹی کے گھر بنانے کے ہنر سے جڑے رہے۔

مٹی کو مضبوطی کا مظہر بنانے میں محنت اور وقت کی طلبی نے اس قبیلے کے لئے یہ گانٹھ بھی لگا دی کہ کسی ایک شہر میں پختہ مسکن رکھنے کی بجائے پاؤں خانہ بدوشی کی راہ پر ہر دم تیار ہوں۔ اپنے سر کو جھونپڑیوں میں چھپا کر دوسروں کے لئے مٹی کے دلکش نقش نگار والے مٹی کے گھر بنانے کا ہنر اب تیزی سے ناپید اور اوڈ تجارتی دنیا میں قدم جما کر خانہ بدوشی کی گانٹھ کھولنے کی جدوجہد میں ہیں۔ پوجا کی والدہ سکھر کی کھجور منڈی میں چھوارے چننے کا کام کرتی ہے جبکہ والد اوقات مزدوری میں پسینے بہاتے ہیں۔

21 مارچ 2022 کا دن چمکتے سورج والا دن تھا، اسی دن لیکن 18 سال کی پوجا کو گھر میں گھس آنے والوں قاتلوں نے گولیاں مارکر قتل کر دیا گویا اس کے والدین کی زندگی میں تاریکی انڈیل دی۔ ایس ایس پر سکھر نے واقعہ کے چند گھنٹوں بعد اعلامیہ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ”مبینہ قاتل واحد بخش لاشاری کو وقوع جرم کے ایک گھنٹے بعد ہی گرفتار کر لیا گیا“ ۔ پولیس ترجمان یوں بھی گویا ہوا کہ ”گرفتار ملزم ابتدائی تفتیش کے دوران اقبال جرم بھی کرچکا ہے“ ۔

پولیس کی ایسی کارکردگی ابتدائی لمحات میں قابل تحسین گردانی گئی۔ لیکن واقعہ کے دو روز بعد جب ملزم واحد بخش کو جوڈیشل مجسٹریٹ روہڑی کی عدالت میں پیش کیا گیا یہی وہ وقت تھا جب میڈیا کو پہلی مرتبہ ملزم سے بات کرنے کی گنجائش میسر ہوئی اسی لمحے واحد بخش نے وہ بیان داغ دیا جس کی اس سے توقع نہیں تھی۔ واحد بخش میڈیا سے بات کرتے ہوئے گویا ہوئے کہ ”پوجا میرے لئے بہنوں جیسی تھی اسے میں نے قتل نہیں کیا، مجھے اس قتل میں پوجا کے ورثا پھنسا رہے ہیں“ ۔

واحد بخش کا یہ بیان بھی کئی مقامات پر موضوع بحث رہا تاہم وہ چہ میگوئیاں جو کہ ابھی نہ تو کسی خبر کی صورت سر نکال سکی ہیں نہ ہی کسی عدالت میں بطور بیان پیش کی جا سکی ہیں وہ چہ میگوئیاں مقتولہ کی کردار کشی کا سبب تو ضرور بنیں گی لیکن مبینہ قاتلوں کے لئے ہمدردی سمیٹنے کا کام بہرصورت انجام دے جائیں گی۔ روہڑی کتنا بھی افسانوی شہر کیوں نہ ہو، اس کے قرب و جوار میں مگر کثرت ان حضرات و خواتین کی بستی ہے جو کہ پدرانہ نظام کے داعی ہیں۔

مردوں کی رال مردانگی کی حمایت میں دلائل دیتے دیتے ٹپک پڑتی ہے غیرت سے متعلق ان کے تقاضے بہت پرانے ہیں جنہیں نئے الفاظ کا ریگ مال لگا کر لگ بھگ اتنا تیز کر دیا جاتا ہے کہ آلۂ قتل بن کر میسر ہوں۔ 99 فیصد مردانگی اور غیرت کے تقاضے جس مخلوق کے لئے گھڑے جاتے ہیں، وہ یعنی خواتین 98 فیصد واقعات میں مردوں کی داعی اور ہمنوا رہتی ہیں جب تک کہ خود کسی کلہاڑی یا گولی کا شکار نہ بنیں۔

پوجا کے قتل کے بعد بھی، جیسے عام طور پر ہوتا ہے، جتنے منہ اتنی باتیں ہیں۔ قومی شاہراہ پر واقع روہڑی کے ایک چھپر ہوٹل میں چائے لانے والے سے بغیر منصوبہ بندی کے پوجا کے قتل کے اسباب پر بات کی تو اس کا جواب وہی عامیانہ لاعلمی سے شروع ہوا اور اس بات پر ختم ہوا کہ ”سائیں کہتے ہیں کہ لڑکی کے تعلقات تھے، پیسے وغیرہ لیتی تھی جب اگلوں نے کہا کہ اب 18 سال کی ہو گئی ہو اور شادی ہو سکتی ہے تو چلو شادی کریں تو لڑکی نے منع کر دیا قتل اس بنا پر ہوا ہے“ ۔

ابتدا میں میڈیا کو بھی لگ بھگ ایسی ہی کہانی دی گئی۔ کہانی میں لیکن اب موڑ آنا شروع ہوئے ہیں۔ پہلا موڑ یہی ہے کہ پوجا کے مرد سے تعلقات تھے۔ جمعرات کی صبح جب روہڑی کے صحافیوں سے بات ہوئی تو یہ خبر بھی ہوئی کہ ایف آئی آر میں نامزد باقی دو ملزم بھی پولیس نے گرفتار کیے ہیں مگر گرفتاری راز میں رکھی جا رہی ہے۔ دوسری بات ازراہ اضافی معلومات دی گئی کہ ”پوجا کے تعلقات ایک نہیں دو مردوں سے تھے“ ۔ اس بنا پر یہ گمان گھمایا جانے لگا ہے کہ ہو سکتا ہے پوجا کو واحد بخش نے نہیں ”دوسرے“ نے قتل کیا ہو۔

”دوسرے“ نے قتل کیوں کیا؟ کا جواب عموماً یہی آتا ہے کہ ”مردوں کی یہ ریت ہوتی ہے اور غیرت کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ جسے انگریزی میں گرل فرینڈ کہتے ہیں وہ اگر دوسرے سے ملنے جلنے لگے تو اس کا انجام موت ہے“ ۔ یہی وہ چہ میگوئیاں ہیں، سرگوشیاں ہیں جو عورتوں کے خون کو ارزاں کر دیتی ہیں۔ ایسی باتوں کو ایسی چہ مگوئیوں کو عام کر دیا جاتا ہے جس کا فائدہ قاتلوں کو عدالتوں میں حتیٰ کی عدالتوں سے باہر جرگوں میں بھی ہوتا ہے۔ ایسی چہ مگوئیوں کے کوئی ثبوت دینے نہیں ہوتے، ایسی سرگوشیاں کرنے پر کوئی قانون سزا نہیں دیتا اور ایسی باتیں خاص طور پر نچلی ذات کی ایک لڑکی سے متعلق کرنے پر کوئی قبیلہ ہرجانہ بھی نہیں مانگتا کہ نچلی ذات والے ہندو تو وہ رعایا ہیں کہ جن پر راہ چلتے ہوئے چابک بھی برسا دو تو یہ گناہ نہیں مانا جاتا۔

وقت بدل چکا اور تکنیکی مہارتیں زور پکڑ رہی ہیں، پولیس چاہے تو موبائل فوں کال ٹریسنگ سسٹم کی مدد سے پوجا کے گھر کی جیو فینسنگ کر کے قاتلوں سے متعلق شواہد کو ٹھوس بنا سکتی ہے، پوجا کو ماری گئی گولیوں اور برآمد ہونے والے اسلحے کی فارنزک ٹیسٹ کروا کر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ پولیس اگر تفتیش کے اونٹ کو اس کروٹ بٹھا دے تو یہ شاید بہتر نہیں انتہائی موزوں بھی قرار پائے گا۔ لیکن اگر تفتیش کا اونٹ چہ مگوئیوں اور سرگوشیوں پر کان دھرنے لگا، ان پر رقص کرنے لگا تو پوجا کو انصاف نہیں مل سکے گا۔ پوجا کے بعد بھی قتل ہونے والیوں کے خون کردار کشی کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔ عجب ملک ہے جہاں قاتلوں کا کردار غیرت کی پناہ میں اور مقتولوں کا کردار محض سرگوشیوں کی بنا پر داغدار ہو جاتا ہے۔

Facebook Comments HS