والدین کی ججھک اور قانون کی سست رفتاری: بچوں کے مجرم سزا سے کیوں بچ جاتے ہیں؟

وقت جیسے جیسے کروٹیں بدل کر جدتوں کی نئی انگڑائیاں لے رہا ہے اسی رفتار سے جرائم کی نئی اشکال بھی دلوں کو رنجیدہ کرنے کے لئے پر تول لیتی ہیں۔ بچوں کا استحصال ویسے تو آج کل کی نہیں، صدیوں پرانی بپتا ہے۔ اس استحصال کی اقسام اور شرح مگر انسانی آبادی کے تناسب سے ہی زور پکڑ رہی ہیں۔ ضرب کاری جیسی بلیک میلنگ کی خاطر بچوں کا اغوا برائے تاوان، اغوا کے بعد جنسی استحصال و قتل،

Read more

پوجا کو انصاف سے محروم کرنے کی خاطر کردار کشی شروع

انسانی جان کو تحفظ و انصاف میسر کرنے کی غرض سے دستیاب قوانین کی فہرست طویل تر ہوتی جا رہی ہے، صحت جرم اور مجرم کو پابند سلاسل کرنے کے لئے درکار تمام شواہد اکٹھے کرنے کا فرض پولیس کو تفویض ہے۔ تفتیش کو مگر، پولیس چاہے کسی بھی صوبے کی ہو، جرم اور مجرم کی بیخ کنی کرنے کی بجائے ایسا اونٹ بنا دیتی ہے جس کو جس کروٹ چاہا بٹھا دیا جائے۔ نہار منہ سپاٹ چہرے لئے عدالتوں

Read more

خواجہ سراؤں کی معاشی خود انحصاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں

چہرے پر میک اپ اور پاؤں پر دھول کی موٹی تہہ دو مختلف زاویے ضرور ہیں لیکن یہ ایک ہی فرد کی کہانی کا ابتدائیہ ہیں۔ فائزہ فقیر کی عمر 38 سال ہو چکی لیکن باقی لوگوں کی طرح نہ کوئی ملازمت حاصل کر سکے، نہ ہی کوئی کاروبار جما سکے ہیں۔ سہرا کسی نوبیاہتا کے سر سجایا جائے یا کسی درویش کے مزار پر فائزہ فقیر ساتھیوں سمیت رقص کناں ہو کر روپیوں میں ملنے والی بخشش سمیٹ لیتے

Read more