تنگ نظر معاشرہ


معاشرے کا ایک ملک کو آگے لے جانے میں بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ معاشرے آپس میں مل کر کلچرز بناتے ہیں۔ اور پھر یہ کلچرز ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ معاشرے اور کلچرز کے اندر لوگوں کے عادات و اطوار آتے ہیں۔ ان عادات و اطوار کا ملک کے لئے یا تو فائدہ ہوتا یا نقصان،

پاکستان کی اگر بات کی جائے، ان میں انتہا درجے کی تنگ نظری پائی جاتی ہے۔ تنگ نظری کا مظاہرہ بہت ساری چیزوں میں کیا جا سکتا ہے۔

عورتوں کے معاملے میں خیبر پختون خواہ اور بلوچستان سب سے آگے ہیں۔ سندھ اور پنجاب میں عورتوں کو جاب کرنے، تعلیم حاصل کرنے اور گھومنے پھرنے کی آزادی تقریباً مردوں جتنی حاصل ہے۔

خیر اب بلوچستان اور خیبر پختون خواہ بھی بدلتے رستوں پر ہے۔ جو کہ میری نگاہ میں ایک اچھی بات ہے۔ خیبر پختون خواہ کے بعض شہر پنجاب کے شہروں کی عورتوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اگر ہمارے صوبے ”کے پی کے“ کی بات کی جائے تو اس میں بہت سے ایسے شہر ہیں، جو بدلتے دنیا کے ساتھ خود کو بدلنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

پانچ دن پہلے کی بات ہے۔ ہمارے ضلع کرک میں کتابوں کا ایک میلہ ہونے جا رہا تھا۔ اور اسی ہی دن ہم لاہور جا رہے تھے۔ اس میلے کا انعقاد کرک اور پھر پوست گریجویٹ کالج کرک کے لیے فخر کی بات تھی۔ کیونکہ اب تک میں نے اپنے ضلعے میں اس طرح کا کوئی میلہ نہیں دیکھا تھا۔ بس ہم لاہور جانے کی وجہ پر اس میلے کو مس کر گئے، لیکن اس میلے کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ ہمارے دوست فیس بک پر لگاتے رہیں، یہ دو دن کا میلہ جب اختتام کو پہنچ گیا، تو اس کے اگلے دن کلچرز نمائشی تقریب رکھی گئی تھی۔

جو اکثر و بیشتر پاکستان کے مختلف کالج اور یونیورسٹیاں کرتے رہتے ہیں، جو اس وجہ سے اچھی بات ہے کہ دنیا جو کہ ماڈرن ہوتی جا رہی ہے۔ ان کو اپنے ثقافت اور روایات بھی یاد رہیں۔

ان روایات کو یاد کروانے کے لیے ایسے تقریبات منعقد کیے جاتے ہیں، ورنہ آنے والے وقت میں لوگ اپنی ثقافت بالکل بھول جائیں گے۔

کلچر نمائشی دن کے اگلے دن ہماری واپسی تھی۔ ہماری جب واپسی ہو رہی تھی تو ہمارے ایک صحافی بھائی نے اس نمائشی تقریب کی ایک تصویر محفوظ کر کے فیس بک پر لگائی تھی، جس میں ارطغرل ڈرامے کا لباس مرد اور عورت سٹوڈنٹس نے زیب تن کیا تھا۔

جس میں کیپشن کے ساتھ لکھا ہوا تھا کہ ارطغرل اور حلیمہ سلطان، ساتھ دوسرے فقرے میں لکھا تھا ”سپورٹ دیم Support them“ یہ انگریزی کے لفظوں کا مجھے سمجھ نہیں آیا، بعد میں مجھے اندازہ ہوا کہ ان دو الفاظ کیوں لکھے گئے تھے۔

جب میں نے ان کے پوسٹ کے کمنٹس باکس میں جھانک کر دیکھا کہ ہمارے لوگ جو تقریباً سارے کرک کے ہی تھے، ان نوجوانوں اور کالج انتظامیہ پر تنقید کر رہے تھے۔ ان میں سے ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے بھی طلباء دیکھے جا سکتے تھے، جو کہ ہم کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کو تعلیم یافتہ کہتے ہیں۔

خیر میں نے ان کے پوسٹ پر ایک حوصلہ افزا کمنٹس ڈال دیا، اس میں کچھ لوگ تھے جو تصویر میں دکھائے گئے اور باقی اس نمائشی تقریب کے طلباء کے حق میں بات کرتے دیکھے جا سکتے تھے۔ لیکن زیادہ تر لوگ تنقید کر رہے تھے جس کا مجھے بہت افسوس ہوا کہ ہم کیسے دوسروں کے حوصلوں کو پست کر دینے میں ماہر ہیں۔ تنقید کرنے والے یہ جواز پیش کر رہے تھے کہ اگر عورتیں باہر آ گئیں یا میڈیا پر آ گئیں تو اس سے بیہودگی پھیلے گی۔ لیکن اسی پوسٹ میں کچھ لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ اس حلیمہ سلطان سے تو ملوا دیں۔

میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ حلیمہ سلطان کے ساتھ ملنا ان کو بالکل بے ہودہ نہیں لگتا ہو گا۔ ہمارے معاشرے کے لوگ ڈر رہے ہیں کہ عورتیں اگر ہمارے مقابلے میں آ گئیں تو ہماری مردانگی کا کیا بنے گا۔ اسی وجہ سے ہم عورت کو تعلیم نہیں دیتے، کہ کہیں ہم سے کل اپنا حق نہ مانگیں، کہیں ہم سے ہمارے بیہودگی جو ہم کرتے ہیں پر سوالات نہ اٹھائیں، کہیں ہم سے یہ نہ پوچھیں کہ آپ رات بھر کہاں تھے؟

ہم ساری عمر اگر حکمرانی چاہتے ہیں تو وہ صرف عورتوں پر چاہتے ہیں۔ ان کو ان کا حق جو اسلام، حکومت، آئین اور قانون کی طرف سے ہے نہیں دیتے۔

اس کے بعد وہ پوسٹ میں نے اپنے ایک استاد کو دکھا دی جو ہمارے ساتھ ٹور کا حصہ تھا۔ پوسٹ دیکھ کر اس نے مجھے کہا کہ تنقید کرنے والوں کے سوچ پر اب کیا کہا جا سکتا ہے۔ سفر اختتام کو پہنچا کر رات نو بجے ہم جب کرک پہنچے، تو ہماری ملاقات اپنے اسی کالج کے دوست سے ہوئی۔ اس کو ہم نے بتایا کہ ہم تو تھے نہیں، آپ بتائیں یہ کیا چیز تھی؟ کس مقصد کے لیے تھی؟ ساتھ تنقید کا بھی تھوڑا بہت ذکر کیا۔

اس تقریب کے حوالے سے پوری معلومات ہمیں بتائی، تنقید کرنے والوں کے حوالے اس نے محض اتنا کہا کہ اس سے ان کی تعلیم اور قابلیت نظر آتی ہے کہ یہ لوگ کتنے قابل ہیں۔ اور ان میں کتنی وسیع سوچنے کی سکت موجود ہیں۔

ہم لوگ تنگ نظر رہیں یا نہ رہیں، یہ دنیا اب تبدیلی کا لوہا منوائے گی اور ہم جدید پھر جدید تر ہوتے جائیں گے۔ معاشرے یا ممالک ایک دن میں تو تبدیل نہیں ہوتے اس میں وقت لگتا ہے۔

جب ایک کام غلط ہوتا ہی نہیں ہم اس پر بے جا تنقید کیوں کرتے ہیں؟ ہمیں چاہیے کہ ان لوگوں کو سراہے، ان کاموں کو سراہے جس سے انسانوں کے درمیان علم کا اضافہ ہوتا ہوں، انسانوں کے درمیان محبت قائم ہوتا ہوں،

اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو یقیناً ہم زوال کی طرف جائیں گے۔ اور باقی دنیا کو ہم تکتے رہ جائیں گے!

Facebook Comments HS