کپتان کا عظیم الشان سرپرائز جلسہ


کپتان نے آج شام وہ جلسہ کر لیا جس کا سب کو بے چینی سے انتظار تھا۔ تحریک انصاف کے لیڈروں کا کہنا تھا کہ وہ پریڈ گراؤنڈ میں دس لاکھ افراد جمع کریں گے۔ بعض ناقدین کہنے لگے کہ پریڈ گراؤنڈ میں تو گنجائش ہی تیس ہزار افراد کی ہے، تو وہاں دس لاکھ کیسے جمع ہوں گے؟ ان ناقدین کو نہ تو کپتان کے چاہنے والوں کے جذبے کی شدت کا اندازہ ہے اور نہ ہی یہ خیال کہ جس پر روحانی ہستیوں کا سایہ ہو، اس کے لیے زمان و مکان کی وہ حدود ختم ہو جاتی ہیں جو عامیوں پر لگتی ہیں۔

بہرحال تعداد کا درست اندازہ اب تک نہیں ہو پایا۔ چار بجے تک مختلف ذرائع تعداد کو ایک ہزار سے ایک کروڑ تک بتا رہے تھے۔ کچھ نے تیس ہزار بتایا۔ اینکر طلعت حسین نے بتایا کہ جلسہ گاہ اور سڑک پر ملا کر چالیس ہزار سے کچھ اوپر ہیں۔ صحافی رضوان رضی نے دعویٰ کیا کہ آئی بی کے مطابق جلسہ گاہ میں پندرہ ہزار، سپیشل برانچ کے مطابق بیس ہزار، عالمی میڈیا کے مطابق بارہ ہزار جبکہ اے آر وائی کے مطابق لاکھوں لوگ جلسہ گاہ میں موجود ہیں۔

بے یقینی کی یہ کیفیت ممتاز اور نہایت غیر جانبدار تجزیہ کار صحافی جناب عامر ہاشم خاکوانی کی بہم کردہ اطلاع سے دور ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ”اسلام آباد میں عمران خان کا تاریخی جلسہ۔ ایک حیران کن شو آف پاور۔ اتنے زیادہ لوگ، اتنا چارجڈ کراؤڈ طویل عرصے بعد کسی جلسہ میں دیکھے ہیں۔ لاکھوں افراد کا اجتماع ہے، ہزاروں لوگ ابھی تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ماننا چاہیے کہ یہ جلسہ نہیں عوام کا سمندر ہے۔ مجھے تو یہ تیس اکتوبر 2011 مینار پاکستان کے جلسے کا ری پلے لگ رہا ہے۔ وہی جوش و خروش، وہی عوامی شمولیت۔ کیا یہ تحریک انصاف کا نیا جنم ہے؟“

پھر جب سٹیج سے سینیٹر فیصل جاوید خان نے حتمی تعداد کا بتایا کہ پریڈ گراؤنڈ میں بیس لاکھ سے اوپر افراد ہیں تو یہ الجھن دور ہوئی۔

جلسے کے بارے میں شکست خوردہ اور جلاپے کے مارے ناقدین نے ہمیشہ بے معنی اور فضول سے اعتراضات اٹھائے۔ مثلاً بعض نے یہ اعتراض کیا کہ کپتان کے جلسے میں مغرب کے وقت فجر کی اذان سنائی گئی۔ کیا وہ واقعی یہ بات نہیں جانتے کہ کپتان نے یہ جلسہ کیا ہی سوئی ہوئی قوم کو جگانے کے لیے ہے اس لیے مغرب کی اذان میں الصلوٰۃ خیر من النوم کا اضافہ کیا گیا؟ یعنی اے قوم اب تو جاگ جا، اب وقت شہادت ہے آیا۔

ایک صاحب کو کپتان کی زبان کی لغزش پر اعتراض ہوا۔ کپتان نے بلوچستان میں سونے اور تانبے کے انباروں کا ذکر کرتے ہوئے کہہ دیا کہ ”پاکستان میں جو سونے اور کانیں کی مائنز ہوں گی۔“ اب اس میں بھلا ہنسنے کی کیا بات ہے؟ ایک واجبی ذہانت رکھنے والا فرد سمجھ سکتا ہے کہ تانبے کو کانیں کہنا اتنا غلط نہیں۔

ایک صاحب کو اعتراض ہوا کہ کپتان نے کہا کہ رمزی یوسف کے وکیل نے پاکستانیوں کو پیسے کے لیے ماں بیچنے کا طعنہ دیا تھا جو اسے بھلائے نہیں بھولتا۔ جبکہ یہ قول امریکہ کی فیئر فیکس کاؤنٹی کے سرکاری وکیل رابرٹ ہوران کا ہے جو اس نے میر ایمل کانسی کے مقدمے کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا۔ میر ایمل کانسی نے 1993 میں سی آئی اے کے ہیڈکوارٹر کے سامنے اس کے دو اہلکاروں کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا اور تین کو زخمی۔ اسے 1997 کو ڈیرہ غازی خان میں مخبری پر پکڑا گیا تھا اور امریکہ منتقل کر دیا گیا۔

اب یہ ظاہر ہے کہ کپتان کی غلطی نہیں۔ یہ ساری تفصیل یاد رکھنا ویسے ہی اس کی ذمہ داری نہیں جیسے آلو اور ٹماٹر کا ریٹ پتہ کرنا اس کا کام نہیں۔ ہم جیسے نہایت فارغ شخص کو علم نہیں کہ آج کل آلو اور ٹماٹر کا کیا بھاؤ ہے تو کپتان جیسے مصروف وزیراعظم کو اس کا کیسے پتہ چل سکتا ہے۔ وہ ملک کا وزیراعظم ہے، خود تو بازار نہیں جاتا دودھ دہی اور سبزی لینے۔ یہ اس کے سپیچ رائٹر کی غلطی ہے۔ الزام دینا ہے تو اسے دیں۔ تعجب ہے کہ اتنے نا اہل افراد کو کون وزیراعظم کی تقریر لکھنے کی ذمہ داری دے دیتا ہے۔

اب بات کرتے ہیں اس سرپرائز کی جس کا کپتان نے وعدہ کیا تھا۔ کپتان کو باہر سے کسی نہایت ظالم، جابر، متکبر اور احمق ملک نے اپنا حکم ماننے ورنہ نتیجہ بھگت کر اقتدار سے ہٹانے دھمکی دی ہے اور وہ بھی تحریری صورت میں۔ دلچسپی رکھنے والوں کو کپتان آف دی ریکارڈ وہ تحریر دکھا بھی دے گا۔ ہماری رائے میں تو یہ اس ملک کی حماقت تھی کہ ایسی بات ریکارڈ پر لے آیا، اور یہ کپتان کا ظرف اور بہادری ہے کہ اپنی جان اور اقتدار بچانے کی خاطر اس خط کو پبلک نہیں کر رہا۔ اپنی ذات کی قربانی دے کر ملکی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔ ویسے بھی پچھلے دنوں وفاقی وزرا کی جانب سے پبلک کیے جانے والے غیر ملکی خطوط کے فیک ثابت ہونے کے بعد ایسے خطوط پر پردہ ڈالے رکھنا ہی بہتر ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ کپتان نے ایک بڑا جلسہ کر لیا۔ بھیجنے والوں نے کپتان کو ڈی چوک سے پریڈ گراؤنڈ یہ سوچ کر بھیجا تھا کہ ادھر کون جائے گا، اور اتنے بڑے پریڈ گراؤنڈ کو کون بھرے گا جس میں محض تیس ہزار افراد کی گنجائش ہے۔ کپتان نے اسے بیس لاکھ پلس افراد سے بھر دیا۔ ایک طرح سے بھیجنے والوں نے کپتان کی ناکامی کا مذاق اڑانے کا منصوبہ باندھا تھا۔ مگر وہ بھول گئے کہ کپتان ایک فائٹر ہے جو آخری بال تک لڑتا ہے۔ وہ سرخرو ٹھہرا۔

یہ تاثر غلط ہے کہ کپتان کو ڈی چوک سے پریڈ گراؤنڈ میں بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ اسے ایک مزید موقع دیا گیا ہے کہ وہ ثابت کرے کہ وہ بطور رنگروٹ پاسنگ آؤٹ کا اہل ہے۔ اسے خود کو لیڈری کا اہل ہونا ثابت کرنا تھا، وہ اس نے کر دیا۔

اب چند اہم سوالات قوم کے سامنے ہیں جن کے جواب زیادہ سے زیادہ ہفتے بھر میں مل جائیں گے۔

کیا پاکستانی تاریخ کے اس سب سے بڑے جلسے سے کپتان کے گمراہ اتحادی واپس پلٹ گئے ہیں، معافی کے خواست گار باغی کانپ اٹھے ہیں، اور غنیم دہل گئے ہیں یا نہیں؟ اپوزیشن کے 172 کے نمبر پر منفی اثر پڑا ہے؟ یا پھر سب پرانی تنخواہ پر ہی کام کریں گے؟ کیا کپتان کی حکومت بچ گئی یا ابھی آئی سی یو میں پڑی ہے؟

ہماری رائے میں تو پریڈ گراؤنڈ میں یہ عظیم الشان جلسہ کرنے کے بعد کپتان کو 172 سے کہیں زیادہ ووٹ مل جائیں گے کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ ان بیس لاکھ پلس افراد میں سے کم از کم دو سو تو کپتان کی اپنی جماعت کے اراکین اسمبلی اور اتحادی ہوں گے اور پچاس کے قریب اپوزیشن کے جو اب کپتان کی غیر معمولی مقبولیت دیکھنے کے بعد اس کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو بے قرار ہوں گے تاکہ اگلے الیکشن میں کپتان انہیں تحریک انصاف کا ٹکٹ بخش دے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar