1993 ءتحریک عدم اعتماد: جب سیکرٹری پنجاب اسمبلی حبیب گورائیہ کا اغواء آئی جی پنجاب کو بھی لے ڈوبا
میں نے ان سے عرض کیا کہ ایسے حالات میں وقت لگتا ہے اور انہیں صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ وہ میرے جواب سے مطمئن نہیں ہوئے، کیونکہ وہ فوری اور بلا امتیاز کارروائی کے خواہاں تھے۔ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ لاہور پولیس کے پورے سیٹ اب کو تبدیل کر دیا جائے، تا کہ حقیقی اثرات مرتب ہو سکیں۔ میرے نزدیک وہ نا اہل حکمرانوں کا دہشت پھیلانے کا مخصوص حربہ تھا۔
میں ان کی رائے سے متفق نہیں تھا، ڈی آئی جی احمد نسیم کا چند دن پہلے تبادلہ کر دیا گیا تھا۔ طارق کھوسہ ایس ایس پی میرے بہترین افسروں میں سے ایک تھے۔ ایس پی کینٹ بھی ایسے ہی تھے۔ اس کے باوجود وہ ان سب کا ایک ہی وار میں میں تبادلہ کر نے پر تلے ہوئے تھے۔ میں نے انہیں سمجھانے کوشش کی کہ یہ اقدام انتظامی لحاظ سے درست نہ ہو گا، مگر بے سود۔ اس کے بعد انہوں نے میرے خلاف بھی کارروائی کی ٹھان لی۔
چنانچہ 31 مئی کو شام کے اجلاس میں مجھے آئی جی کے منصب سے ہٹا کر واپس او ایس ڈی بنانے کا فیصلہ سنا دیا۔ جس کا انہیں کوئی اختیار نہیں تھا۔ کیونکہ آئی جی کی پوسٹنگ وفاقی حکومت کرتی ہے، صوبائی نہیں۔ میں نے ایسے مشکل حاکم کے ساتھ کام کرنے کی قانونی حکمت اور ناراضی کی پروا نہ کرتے ہوئے معاملہ ختم کرنے کا ارادہ کر لیا۔ جہاں اطاعت و فرمانبرداری کرنے سے عزت حاصل ہونے کا امکان نہیں تھا۔ میں نے وہاں بے عزتی کرانے کی ٹھان لی۔ میں نے رسی طور پر ان کا شکر یہ ادا کیا کہ مجھے ایک بھاری اور تھکا دینے والی ذمہ داری سے سبکدوش کر دیا گیا ہے اور اجلاس سے چلا آیا۔ ایس ایس پی اور ایس پی کینٹ بھی ان کا شکریہ ادا کر کے میرے پیچھے اٹھ آئے ”۔
میاں منظور احمد وٹو اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد سے بچنے کے لیے گورنر پنجاب چوہدری الطاف حسین کی آشیرباد سے اسمبلی توڑ دیتے تھے۔ معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں جاتا، جہاں پر سماعت کے بعد فیصلہ مسلم لیگ کے حق میں آتا۔ منظور وٹو پھر اسمبلی توڑنے کی سفارش کر دیتے۔ یہ آنکھ مچولی کافی عرصہ چلتی رہی۔ دونوں فریق اپنے اپنے اراکین کو مختلف جگہوں پر چھپا کر رکھتے۔ انہیں وابستگی بدلنے کے لیے مختلف ترغیبات اور لالچ دیے جاتے۔
تیسری بار کوشش میں حبیب اللہ گورائیہ کے اغواء والا معاملہ ہو گیا۔ لاہور ہائی کورٹ انہیں پیش کرنے کا کہتی مگر وہ پیش نہ ہوتے۔ کئی ماہ وہ پراسرار طور پر روپوش رہے۔ تاہم کچھ عرصے بعد حبیب اللہ گورائیہ نے اپنے اغواء یا روپوشی والے ڈرامے کو ختم کرتے ہوئے اسلام آباد میں اسسٹنٹ کمشنر کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروایا کہ انہیں کسی نے اغواء نہیں کیا تھا۔ وہ جہاں بھی تھے، اپنی مرضی سے رہ رہے تھے۔
ظاہر ہے کہ ان کے اس عمل سے ایک فریق کو فائدہ پہنچنا تھا۔ مگر منظور وٹو اور گورنر چوہدری الطاف حسین (جو موجودہ وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین کے انکل تھے ) نے اپنے اقدامات کے ذریعے دوسرے فریق کو خوب زچ کیے رکھا۔ اور انہیں من مانی نہیں کرنے دی۔ اور ان کے خلاف بغاوت اور دیگر مقدمات سمیت ہر حربہ استعمال کیا گیا۔

میاں منظور احمد وٹو اپنی وزارت اعلیٰ سے ہٹنے کے کافی عرصے بعد امریکہ کے دورے پرائے، تو مجھے اور ایک دوسرے صحافی دوست ندیم منظور سلہری کو اپنے ایک مشترکہ صحافی دوست محسن ظہیر کی وساطت سے گفتگو کا موقع میسر آیا۔ میرے اس سوال کہ بار بار اسمبلی توڑنے کی پاداش میں کیا تاریخ آپ کو بھی جمہوریت پر شب خون مارنے والوں کے طور پر یاد نہیں رکھے گی؟ پر زوردار قہقہہ مار کر منظور وٹو کافی دیر ہنستے رہے۔
اور محسن ظہیر (جو وٹو صاحب کے شہر اوکاڑہ سے تعلق رکھتے ہیں ) سے ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ ”ویکھ یار محسن!“ اے سلہری صاحب کس طراں دے سوال کر رہ نے ”وٹو صاحب نے سوال کا جواب تو نہ دیا، اور ہنسی ہنسی میں بات کو گول کر گئے۔ تاہم سوال سے محظوظ بہت ہوئے۔
بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ بڑوں کی لڑائی میں چوہدری حبیب اللہ گورائیہ اپنے آپ کو نیوٹرل یا میرٹ پر فیصلہ کرنے کی بجائے ایک فریق کے ساتھ پارٹی بن گئے۔ ویسے بھی ان کے پاس کسی ایک فریق کے پاس جانے کے علاوہ اور چارہ بھی کیا تھا؟ ہمارے نظام میں عدم تحفظ کا خوف اور قانون و انصاف کے حصول کی راہ میں حائل مشکلات سرکاری افسران کو ایسے مضبوط اور بروقت فیصلے کرنے سے باز رکھتے ہے۔
سرکاری ملازمین کی بھی اپنی مجبوریاں ہیں۔ وہ ہمہ وقت اپنی ملازمت بچانے کی خاطر ”کچھ لو کچھ دو“ کے فارمولے پر عمل کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ ہمارے مروجہ سیاسی و افسر شاہی نظام میں حکومتیں دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد اپنے حمایت یافتہ افسروں کو جائز و ناجائز طریقے نوازتی ہیں۔
مختلف اوقات میں پنجاب اسمبلی سیکرٹیریٹ میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات رہنے والی ایک شخصیت نے اس حوالے سے مجھے بتایا کہ ”سیکرٹری اسمبلی خالصتاً ایک سیاسی پوسٹ ہوتی ہے۔ جیسے کہ سپیکر اسمبلی۔ مگر پریکٹس اس کے بالکل مختلف ہے۔ جس کی حکومت ہوتی ہے۔ وہ سیکرٹری اسمبلی سمیت دیگر اہم پوسٹوں پر اپنے“ بندے ”دیکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے ہر حکومت اپنے دور میں اسمبلی سیکرٹیریٹ میں اپنے من پسند افراد کی سیاسی بھرتیاں کرتی ہے۔ یا پھر نیچے سے ان کو اوپر لے آتی ہے۔ “ ہمارے بندے، ان کے بندے ”اور وفاداریوں کا یہ سلسلہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایسے ہی چلتا آ رہا ہے“ ۔
ان کا کہنا تھا کہ ”پنجاب اسمبلی کے کئی سو ملازمین پر مشتمل وسیع سیکرٹیریٹ میں کئی ایک اعلیٰ پوسٹوں پر مخصوص اضلاع سے تعلق رکھنے والوں کی زیادہ اجارہ داری قائم ہے۔ جو بھی سپیکر لگتا ہے وہ اپنے من پسند افراد کو ملازمت میں لے آتا ہے۔
پنجاب اسمبلی سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی گزشتہ کئی سال سے بعض لوگ کنٹریکٹ پر اعلیٰ پوزیشنوں پر کام کرتے چلے آ رہے ہیں۔ بعض تو اسمبلی قواعد و ضوابط کے ایکسپرٹ اور سینئر ترین ہونے کی وجہ سے وہ ہر دور میں اسمبلی کی ضرورت سمجھے جاتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ”چوہدری حبیب اللہ گورائیہ ہمارے سینئر تھے۔ انہوں نے مسلم لیگ اور میاں منظور احمد وٹو کی حکومتوں کے دوران بھی کام کیا ہے۔ وہ سپرنٹنڈنٹ سکیل سے گریڈ۔ 22 کی پوسٹ پر سیکرٹری اسمبلی بنے تھے۔ کافی عرصہ وہ اسمبلی سیکریٹریٹ میں اہم پوسٹوں پر فائز رہے۔
ہر شخص نے کسی بھی اہم پوسٹ پر رہتے ہوئے اپنے ضمیر کے مطابق اس موجود لمحے میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ انسانوں کے کیے ہوئے فیصلے ہی انہیں بلندیوں اور پستیوں میں لے جاتے ہیں۔
ہماری تاریخ کے کتنے ہی ایسے بھولے بسرے کردار ہیں، جو سرکاری حیثیت میں اپنا اچھا یا برا کردار نبھا کر وقت کی دھول میں گم ہو گئے۔ ہماری بنتی بگڑتی سیاسی تاریخ کے اہم کردار، سابق سیکرٹری پنجاب اسمبلی چوہدری حبیب اللہ گورائیہ کا اپنی سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد 2013 ء میں انتقال ہو گیا تھا۔
انصاف کا تقاضا تھا کہ چوہدری حبیب اللہ گورائیہ کی سائیڈ کا موقف لیا جائے۔ چوہدری حبیب اللہ گورائیہ کے صاحبزادے عامر حبیب آج کل پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ میں گریڈ۔ 20 کی پوسٹ پر سپیشل سیکرٹری تعینات ہیں۔ ان کے والد کے متعلق موقف جاننے کے لیے متعدد بار عامر حبیب کے واٹس ایپ نمبر پر کالز کی گئیں اور رسپانس کے لیے پیغامات بھی چھوڑے گئے، مگر انہوں نے پیغامات پڑھنے کے باوجود اپنا موقف دینے سے گریز کیا۔
1993۔ 1994 کے دوران پیش آنے والے ان واقعات سے جڑے کئی مرکزی کردار جیسے، سابق صدر مملکت غلام اسحاق خان، سابق وزیر اعظم محمد خاں جونیجو، وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں، گورنر پنجاب چوہدری الطاف حسین، چوہدری حبیب اللہ گورائیہ، آئی جی پنجاب سردار محمد چوہدری سمیت کئی دیگر کردار اب اس دینا میں نہیں ہیں۔ سابق چیف آف آرمی سٹاف، 85 سالہ جنرل عبدالوحید کاکڑ حیات ہیں۔
سال 1993 ء اور چوہدری حبیب اللہ گورائیہ کے اغواء والے واقعہ کو انتیس سال گزر چکے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود، انفرادی طور پر معدودے چند کو چھوڑ کر، آج بھی ہمارے سیاسی، افسر شاہی، عدالتی و دیگر اداروں کے سسٹم کا وہی حال ہے، جو اتنے سال پہلے تھا۔ کہیں کسی بہتری کے آثار خال خال ہی نظر آتے ہیں۔


