چوہدری نثار علی خان سے ملاقات اور ان کی حالیہ سرگرمیاں


چوہدری نثار علی خان سے غیررسمی ملاقات سے کچھ دیر قبل وزیر اعظم عمران خان نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ”ان کی چوہدری نثار علی خان سے ملاقات ہوئی ہے۔ چوہدری نثار علی خان میرے کلاس فیلو ہیں۔ میرا اور ان کا پچاس سالہ تعلق ہے“ ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ میری چوہدری نثار علی خان سے کچھ دن قبل ملاقات ہوئی ہے۔ چوہدری نثار علی خان کا فیصلہ ان کے اختیار میں ہے۔

میں ممتاز مذہبی و دینی شخصیت بابو شفقت قریشی کی 9 ویں برسی کی تقریب میں دعا کر کے چکری پہنچا تو چوہدری نثار علی خان، بریگیڈیئر فتح علی خان کی پہلی منزل کے برآمدے میں این اے 59 کے ووٹرز کے جھرمٹ میں بیٹھے قہقہے بکھیر رہے تھے۔

میری آمد کی اطلاع ملتے ہی چوہدری نثار علی خان میری طرف متوجہ ہوئے ممتاز مسلم لیگی رہنما دوست محمد اور چوہدری نثار علی خان کے پولیٹیکل سیکریٹری شیخ ساجد الرحمنٰ کو اپنا منتظر پایا دوست محمد کا شمار چوہدری نثار علی خان کے وفادار ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ میرے ساتھ میرا بیٹا محمد وقاص رضا گاڑی ڈرائیو کر لایا تھا اگرچہ میں چکری میں بارہا آیا ہوں اس علاقے سے میری جذباتی وابستگی بھی ہے۔ اس حلقہ سے جس گلی کوچے سے گزر ہو چوہدری نثار علی خان کی خدمت کے نشانات نظر آتے ہیں چونکہ میرے آبا و اجداد کا تعلق بھی چونترہ سے ہے۔

ایک صدی سے زائد عرصہ ہو گیا ہے۔ میرے بزرگ وادی سواں سے نقل مکانی کر کے مصریال میں آباد ہو گئے تھے۔ مجھے معلوم ہے۔ چوہدری نثار علی خان جب 1985 میں پہلی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تو انہوں نے وادی سواں کی حالت بدلنے کا عہد کیا انہیں اس خطے کی حالت بدلنے میں 35 سال لگ گئے لیکن آج دریائے سواں اور گرد و نواح پر 15 سے زائد پلوں کی تعمیر نے اس خطے کا نقشہ بدل دیا ہے۔ سینکڑوں افراد کو دریائے سواں کی بے رحم لہریں اپنے ساتھ بہا کر لے گئیں آج پلوں کا جال بچھ جانے سے وادی سواں کے لہلہاتے کھیتوں کی سبزیاں اور پھل روزانہ مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔

مواصلات کا بہتر نظام بنانے سے ہزاروں افراد روزانہ وفاقی دار الحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں ذریعہ معاش کے لئے جاتے ہیں اور سورج غروب ہونے سے قبل اپنے گھروں میں واپس آتے ہیں۔ میں ایک بار پی پی 6 جو اب پی پی 10 میں تبدیل ہو چکا ہے، کے ضمنی انتخاب میں بریگیڈئیر فتح خان حویلی کے چوبارے پر چوہدری نثار علی خان کے ساتھ گپ شپ لگا رہے تھے تو میں نے دیکھا کہ چوہدری نثار علی خان مجمع میں موجود لوگوں کے نام لے کر جس طرح گفتگو کر رہے تھے تو میں نے اس وقت پیشگوئی کر دی تھی کہ انہیں کوئی شخص شکست نہیں دے سکتا آج کئی سال بعد جب میں نے انہیں اپنے حلقہ کے ووٹرز کے جھرمٹ میں دیکھا اور جس طرح وہ ان کے ساتھ ان کے آبا و اجداد کے نام لے کر اپنے تعلق کا اعادہ کر رہے تھے۔

اس اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان کی اپنے حلقہ پر کس حد تک گرفت ہے۔ انہوں نے اپنے حلقہ کے عوام سے براہ راست رابطہ کے لئے بریگیڈیئر فتح علی خان حویلی جو ان کی جائے پیدائش ہے، کو دوبارہ اپنا مسکن بنا لیا ہے اور وہاں ہفتہ میں تین چار روز قیام کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ پروپیگنڈا کیا جاتا تھا کہ ان تک عام لوگوں کی رسائی نہیں انہوں نے اپنی حویلی کے دروازے عام لوگوں کے لئے کھول دیے ہیں۔ ہر روز سینکڑوں لوگ ان سے بلا روک ٹوک ملاقات کرتے ہیں۔

چوہدری نثار علی خان سے میں نے پوچھا وزیر اعظم عمران خان نے آپ سے ملاقات بارے میں انکشاف کیا ہے تو وہ مسکرا دیے اور کہا کہ میں پچھلے تین چار روز سے چکری میں ہوں اور پچھلے ہفتے مہینے اور اس سے قبل میری ان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی اگر کوئی ملاقات ہوئی ہوتی تو میں اس کی تصدیق کر دیتا عمران خان میرے دوست ہیں۔ اگر ان سے کوئی ملاقات ہوتی تو اس کی تصدیق کرنے میں مجھے کوئی عار نہیں ہوتا کبھی کوئی ٹی وی چینل یہ خبر لگا دیتا ہے کہ میں دو درجن ایم این اے اور پانچ سات ایم پی ایز کے ساتھ پی ٹی آئی جائن کرنے جا رہا ہوں ان خبروں میں کوئی حقیقت نہیں جب نواز شریف کی حکومت ختم ہو رہی تھی تو اس وقت تیس چالیس مسلم لیگی ایم این اے الگ گروپ بنانا چاہتے تھے تو میں نے انہیں مسلم لیگ نون کے ساتھ ہی رہنے کا مشورہ دیا تھا اب جب کہ پلوں کے نیچے سے بڑا پانی بہہ چکا ہے۔ اس قسم کی قیاس آرائیوں میں کوئی صداقت نہیں۔

میں نے ان سے کہا کہ آپ کو تو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کی کئی بار پیشکش کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ایک بار نہیں چار وزیر اعلی پنجاب بنانے کی پیش کش ہوئی لیکن میں نے ساری زندگی اصولوں پر مبنی سیاست کی عہدوں کی میرے لئے کوئی اہمیت نہیں انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کے قریب اپنے آئندہ سیاسی لائحہ عمل کا فیصلہ کروں گا۔ مشاورت اپنے حلقہ کے عوام سے کروں گا۔ ان کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کروں گا۔ اگر انہوں نے کسی پارٹی کو جائن کرنے کی رائے دی تو سوچوں گا۔ حلقہ کے عوام نے کہا کہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑوں تو آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کروں گا۔ فی الحال مجھے کوئی پارٹی جائن کرنے کی جلدی نہیں میں بہت جلد کھل کر سیاست کروں گا۔ بہت جلد میرے سیاسی مخالفین کو معلوم ہو جائے گا کہ میں نے 4 سال کا چپ کا روزہ توڑ دیا ہے۔ این اے 59 اور 62 سے میں خود انتخاب لڑوں گا۔ ان شا اللہ انتخاب میں کامیابی حاصل کروں گا۔

چکری گاؤں میں آف وائٹ رنگ کا بلند بالا چوبارہ ہر راہگزر کی توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔ اس چوبارہ سے دریائے سواں اور لہلہاتے کھیتوں کا دلفریب نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ بریگیڈیئر فتح علی خان کی رہائش گاہ ہے جو کم و بیش سو سال قبل تعمیر ہوئی جو آج بھی اپنی پوری شان و شوکت سے قائم ہے۔ 68 سال قبل اس گھر میں پاکستان کے نامور سیاست دان چوہدری نثار علی خان نے آنکھ کھولی بریگیڈیئر فتح علی خان کے دھمیال روڈ پر منتقل ہونے تک یہ حویلی آباد رہی بریگیڈیئر فتح علی خان دھمیال روڈ منتقل ہونے کے ساتھ ہی اس حویلی کی تمام رونقیں بھی اپنے ساتھ لے گئے خوشی غمی یا عام انتخابات کے موقع پر حویلی آباد ہوتی چوہدری نثار علی خان ڈیرے ڈال لیتے یہ حویلی ان کی سیاسی سرگرمیوں کا ہیڈ کوارٹر بن جاتا لیکن چوہدری نثار علی خان نے کم و بیش چھ سال قبل اس اجڑی ہوئی حویلی کی از سر نو تزئین و آرائش کروا کر اس کو پر کشش بنا دیا چونکہ یہ حویلی خاصی بلندی پر واقع ہے، اس کا ”چوبارہ“ جہاں میلوں دور نظر آتا ہے۔ وہاں موٹر وے پر رواں دواں زندگی بھی لوگوں کو اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ چوہدری نثار علی خان نہ ہوتے تو یہ موٹر وے ہی یہاں سے نہ گزرتی۔

سہ پہر کا وقت تھا درختوں کے سائے ڈھل رہے تھے۔ آہستہ آہستہ سورج کی تمازت کم ہو رہی تھی۔ میری ملاقات سورج کے وادی سواں کے اس پار غروب ہونے تک ملاقات جاری رہی ممکن ہے۔ یہ ملاقات رات گئے بھی جاری رہ سکتی تھی۔ مجھے اپنے سوالات کا بڑی حد جواب جواب مل گیا اور اندھیرے پھلتے ہی راولپنڈی کے لئے روانہ ہو گیا۔

این اے 59۔ کے ووٹرز کے جھرمٹ میں بیٹھے چوہدری نثار علی خان کو ہشاش بشاش پایا ان کے چہرے پر تفکرات کی معمولی لکیر نظر نہیں آئی انہوں نے کہا کہ ”میری سیاست ہی وادی سواں کے عوام سے ہے۔ میں اس حویلی میں آ کر بہت خوش ہوتا ہوں بچپن کی یادیں تازہ کرتا ہوں میرے گھر کے سامنے سے دریائے سواں گزرتا ہے۔ اس کا نظارہ ہی کچھ اور ہے۔ انہوں نے بتایا شام کی سیر میرا معمول ہے۔ شام کو حویلی کی چھت پر سیر کرتا ہوں“ میں نے گرہ لگائی کہ ”چوہدری صاحب چوہدری تیمور علی خان کو کب سیاست میں لا رہے ہیں۔“ تو انہوں نے کہا کہ ”تیمور نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا امریکہ سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کر لی ہے۔ سیاست میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ اس نے کرنا ہے۔ بیرون ملک پیسہ کما لینا کوئی کمال نہیں اصل کمال علاقے کے عوام کی خدمت ہے۔ عوام کی خدمت میں جو لطف ہے۔ وہ کسی اور کام نہیں“ میں نے کہا کہ ”دونوں حلقہ ہائے انتخاب کے گلی کوچوں میں تعمیراتی کام میری خدمت کی گواہی دیتے ہیں۔ میرے بزرگوں نے اس علاقے کی خدمت کی ہے۔ میری خواہش ہے کہ میری اولاد بھی اس مشن کو جاری و ساری رکھے“ ۔

”چوہدری صاحب! کیا آپ صرف این 59۔ سے ہی انتخاب لڑیں گے۔“ چوہدری صاحب نے کہا ”حاجی صاحب کس نے آپ کو کہا ہے۔ میں صرف اسی حلقہ سے انتخاب لڑوں گا۔ میرا حلقہ واہ ٹیکسلا سے وادی سواں تک پھیلا ہوا تھا جنرل پرویز مشرف کے دور مجھے ہروانے کے لئے میرے حلقہ کی تقسیم اس طرح کی گئی وادی سواں کے ووٹوں کو دو حصوں منقسم کر دیا گیا لیکن اس کے باوجود میرے حلقہ کے عوام دونوں حلقوں سے مجھے بھاری ووٹوں سے کامیاب کروا کر پارلیمنٹ بھیجا۔

میں نے پوچھا کہ سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ ڈس انفارمیشن آپ کے نام پر کھولے گئے اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلائی جاتی ہے تو انہوں نے کہا کہ ”سوشل میڈیا پر میرا کوئی اکاؤنٹ نہیں کچھ میرے مداحوں نے میرے نام سے اکاؤنٹ کھول رکھے ہیں جن کے لاکھوں فالورز ہیں۔ ان سے کبھی شکایت پیدا نہیں ہوئی البتہ سیاسی مخالفین نے میرے نام سے جعلی اکاؤنٹس بنا رکھے ہیں۔ ان کے ذریعے ڈس انفارمیشن پھیلائی جاتی ہے۔ میرے لئے ہر ڈس انفارمیشن کا جواب دینا ممکن نہیں میں نے ان جعلی اکاؤنٹس کا سراغ لگانے کے لئے ایف آئی اے سے رجوع کیا ہے۔ ان شا اللہ میں اپنا آفیشل اکاؤنٹ کھول رہا ہوں جس سے ڈس انفارمیشن کی حوصلہ شکنی ہو گی۔“

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2