الہامی شاعر: اقتدار جاوید


اقتدار جاوید کسبی نہیں بلکہ الہامی شاعر ہیں۔ ان پر دیومالائیں اترتی ہیں۔ ان کی شاعری ایک نقطے سے شروع ہوتی ہے اور پھر اس نقطے کے گرد کئی چھوٹے چھوٹے تخلیقی دائرے بناتی ہوئی کائناتی وسعتوں کو سمیٹتی چلی جاتی ہے۔ ان کی شاعری کے تمام دائرے ایک مخصوص مقام پر پہنچ کر ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں اور ایک نئے نقطے کو تشکیل دیتے ہیں۔ یہ نیا نقطہ ہی ان کی شاعری کا نقطہ عروج ہے جو ان کی پہچان کا سبب بنتا ہے۔

اقتدار جاوید اپنے خاص طرز عمل سے کائناتی وسعتوں کو دو نقطوں کے بیچ بند کر دیتے۔ یہ واضح رہے کہ ان کی شاعری کا ابتدائی نقطہ ان کی اپنی ذات ہے جو تخلیقی دائروں کی صورت میں پھیلتا ہوا اجتماعیت کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔ جس سے ان کی شاعری کا کینوس وسیع ہو جاتا ہے اور وہ ایک بڑی تخلیقی واردات کا حصہ بن جاتی ہے۔

اقتدار جاوید کی شاعری میں زندگی کے بہت سے رنگ ملتے ہیں۔ ان کی شاعری قاری کا ہاتھ پکڑ کر اسے ابتدائی منزل سے انتہائی منزل تک زینہ بہ زینہ لے جاتی ہے اور اس پر زندگی کے اسرار و رموز منکشف کرتی ہے۔ قاری اس سیاحت کے دوران خود کو شعری واردات کا حصہ تصور کرنے لگتا ہے جس سے اسے ایک خاص قسم کی مسرت حاصل ہوتی ہے۔

اقتدار جاوید اپنے ارد گرد پائی جانے والی معمولی چیزوں کا تعلق اساطیر اور دیومالا سے جوڑتے ہیں جس ان کی شاعری میں معنوی وسعت پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن ان کی وضع کردہ اساطیری اور دیومالائی علامتیں ان کی شاعری میں کسی قسم کی پیچیدگی یا ابہام کو جنم نہیں دیتی ہیں بلکہ انسانی ذات کو منکشف کرنے کا سبب بنتی ہیں اور ان کی شاعری کو سیال مادے کی طرح متحرک بناتی ہیں۔ جس سے انسانی ذات کے اظہار کے نئے راستے دریافت ہوتے چلے جاتے ہیں۔

اقتدار جاوید شاعری میں انسانی ذات کی قلب و ماہیت کو اجاگر کرنے میں کافی حد تک کامیاب نظر آتے ہیں۔

ان کا کمال یہ ہے کہ وہ انسانی ذات اور کائناتی وسعتوں کے درمیان رابطہ قائم کرنے کے لیے مقامی علامتوں کو اساطیر اور دیو مالا سے اس انداز سے مربوط کرتے ہیں کہ وہ دیو مالا کا حصہ بن جاتی ہیں ان میں آفاقی خصائص پیدا ہو جاتے ہیں۔

اقتدار جاوید دیو مالائی علامتوں کے ذریعے حال کو ماضی سے منسلک کر کے انسانی ذات کی پہچان قائم کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک دیو مالا ایک ایسی کڑی ہے جو انسان کا رشتہ اس کے جد امجد سے قائم رکھتی ہے :

سمندر کا پانی زمانوں سے جاری ہے
ساحل کی دہلیز صدیوں سے قائم ہے
دائم ہے یہ گھاٹ ’یہ سانس یہ دیومالا
جو زینے سے زینہ ملاتی ہے
اس دیومالا نے مجھ کو ملایا میرے باپ سے

Facebook Comments HS