سیاست، جمہوریت اور نظریہ

مذہب اور سیاست دونوں کے لئے جذباتیت کی عمر گزر گئی۔ اب کچھ عرصے سے یہ پیش نظر رہتا ہے کہ اچھائی کی تعریف کرو برائی کو برا جانو۔ زمانہ ہوا نام نہاد راہنماؤں کو نجات دہندہ سمجھنا چھوڑ چکے۔ سمجھ آئی کہ نظریے پر خلوص کے ساتھ قائم رہنا ضروری ہے اور آپ کے مخالف نظریہ رکھنے والے لوگ بھی اگر دیانتداری کے ساتھ نظریے پر قائم ہیں تو قابل احترام ہیں۔
اس طرح کسی شخص سے بحث کا فائدہ بھی ہے اور یہ صحت مند رجحان بھی ہے۔ وطن عزیز کی سیاست انا اور کرسی کے گرد گھومتی ہے۔ سیاستدانوں کا مطمح نظر کرسی اور عوام کے پیش نظر برادری اور اپنے مخالف کی مخالفت رہتی ہے۔ بحث سے بھی الا ماشااللہ دلیل کی بجائے شور پہ زور ہوتا ہے تاکہ اگلے کو نیچا دکھایا جا سکے۔ ٹی وی ٹاک شو پہ بیٹھے سیاستدان جو عوام سے زیادہ اپنے اپنے لیڈر کی چوریوں اور خامیوں سے واقف ہوتے ہیں، بحث جیتنے کے لئے اپنے لیڈر کو ولی اور مخالف کو ابلیس ثابت کرنے کے لئے ہر بودی دلیل گھڑ رہے ہوتے ہیں۔ عوام کا تو خیر اللہ ہی حافظ ہے جو سوشل میڈیا کی فوٹو شاپڈ تصویروں اور غلط خبروں کے لئے سر پھٹول کو تیار ہو جاتے ہیں۔
عدم اعتماد کی اس سیاسی فضا میں کیا کیا نہیں ہوا۔ مذہب سے لے کر لوگوں کی ذاتی غلط صحیح سکینڈلز تک ہر چیز کا استعمال کیا گیا۔ اپنے مخالف کو یہودی، قادیانی ایجنٹ قرار دیا گیا، نام بگاڑے گئے، گھریلو عورتوں کو گھسیٹا گیا، غدار اور ملک دشمن کے نعرے تو اس ملک میں بہت پرانے ہوچکے اب تو سیکورٹی رسک بھی قدر کھو رہا ہے۔ غلیظ زبان، کراہت آمیز چہرے، جھوٹ کے پلندے۔ ہر چیز نظر آئی لیکن متانت، سنجیدگی، مسائل کا ادراک، عوام کا درد اور نظریہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ نظریہ ضرورت اور فکر کرسی و اقتدار بہرحال نظر آئی۔
مطمح نظر کرسی ہو تو ہر سمجھوتا کر کے اقتدار پر بیٹھنا ہر کوئی فرض سمجھتا ہے۔ کرسی چھوڑنے سے بچنا ہو تو ہر قسم کی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کے کرسی بچانے کی کوشش ضروری ہوتی ہے۔ پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکووں، شیخ رشید کو چپڑاسی نہ رکھنے والی باتیں سب کو یاد ہیں لیکن وہی شیخ رشید اب کپتان کو عالم اسلام کا عظیم لیڈر کہہ رہا ہوتا ہے۔ پی پی کا نعرہ مودی کا جو یار ہے، نون لیگ کا نعرہ پیٹ پھاڑ کر لوٹی دولت نکالنے کے دعوے۔ کیا کیا یاد کرے کوئی۔ پھر حیرت اس وقت ہوئی جب نظریاتی ہو چکے سیاستدانوں نے گیٹ نمبر چار بلکہ ہر چاردیواری کے مالکوں سے ملاقاتوں کا اعتراف کیا۔ حکومت کی تو کوئی کل سیدھی نہیں اپوزیشن بھی نہ کسی نظریے پہ کھڑی ہے نہ کرسی سے آگے سوچ پا رہی ہے۔
جمہوریت کے پنپنے کے لئے اگر حکومت کو ایک سال برداشت کر لیا جاتا تو غیر جمہوری طاقتوں کی حوصلہ شکنی بھی ہوتی اور لوگوں کا بھی اعتماد بندھتا۔ اگر ذات سے آگے حکومت اور اپوزیشن سوچ سکتی تو قوم کی اخلاقیات بہتر کی جا سکتی تھیں۔ اگر نظریے کی سیاست کرتے تو راجے ریاض اور عامر لیاقت جیسوں سے بلیک میل نہ ہو رہے ہوتے۔ اگر سچائی اور دیانتداری پہ قائم رہتے تو بیانیے نہ بدلنے پڑتے۔ اور اگر کچھ شرم کچھ حیا ہوتی تو ٹی وی چینلز کو پچھلی باتیں چلا چلا کے شرمندہ نہ کرنا پڑتا اور نہ تاویلیں گھڑنا پڑتیں۔
استاذی وجاہت مسعود سے عدم اعتماد پیش ہونے والے دن بات ہو رہی تھی۔ عرض کی ”لگتا ہے خان کی کہانی ختم ہو چکی“ ۔ فرمانے لگے ”بدقسمتی ہے کہ جن کی ہونی چاہیے ان کی کہانی میں نئے رنگ بھرے جا چکے ہیں۔“ سو جمہوریت کا دشمن کوئی اور نہیں یہی سیاستدان ہیں اور یہی سیاست ہے جو ملک میں دھرنا دیے بیٹھی ہے۔ غیر جمہوری رویوں اور طاقتوں کو مضبوط کوئی اور نہیں جمہوریت کے چیمپیئن ہی کرتے ہیں۔ تماشا کوئی اور مداری کرتا ہے لیکن بچہ جمورا یہی بنتے ہیں۔
دیکھتے جائیے، سنتے جائیے، سوچتے جائیے اور کڑھتے جائیے بلکہ آپس میں لڑتے جائیے میرا اور آپ کا کردار فی الحال بس اتنا ہی ہے۔
