عہد حاضر اور نوجوان نسل

عصر حاضر کی نسل کتب سے اتنی ہی دور ہے جتنی ٹیکنالوجی سے قریب تر۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ عصر حاضر کی نسل کیا جانے کہ بہن بھائیوں سے تعلیم و تربیت چھین کر پڑھنے یا والد کے ڈر سے رضائی میں چھپ کر ڈائجسٹ پڑھنے کا لطف کیا ہے۔ کسی کتاب کی تلاش میں گھنٹوں پرانی انارکلی کی خاک چھاننا اور مطلوبہ کتاب کے مل جانے کی خوشی کیا ہوتی ہے، کتاب کے مل جانے پر خوشی سے نعرہ لگانا اور اسی خوشی میں سہیلیوں کو فوڈ سٹریٹ سے گول گپے کھلانا کتنا حسین احساس بخشتا ہے۔
اک زمانہ ہوتا تھا جب پاک ٹی ہاوٴس کی رونقیں عروج پر ہوا کرتیں تھیں، ادبی محفلیں خوب جما کرتیں تھیں اور پرانی انارکلی کی سڑکوں پر سر دھننے کی جگہ نہ ہوتی تھی مگر اس سب کے باوجود بھی علم کی جستجو اور تڑپ اسی مقام پر کھینچ کر لا دیتی تھی۔ گھنٹوں ایک کتاب پر تبصرہ کرنا جیسے ہم سے بڑا کوئی ادیب یا نقاد نہ ہو اور مہدی حسن کی آواز میں فیض، ناصر کاظمی اور حسرت موہانی کی غزلیں سننا کتنا پرمسرت احساس بخشتا تھا مگر اب یہ سب پرانے وقتوں کی باتیں لگتی ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ جن کتابوں کو اچھے قاری نہیں ملتے ان پر جلد مردنی چھا جاتی ہے۔ ہمارا ذاتی اعتقاد ہے کہ آج یہ مردنی نہ صرف کتابوں پر بلکہ ادب پر بھی چھا گئی ہے۔ آپ خود سے سوال پوچھ کر بتائیں کہ آپ نے آخری بار کسی معیاری کتاب کا مطالعہ کب کیا تھا؟ آخری بار کتاب کا تحفہ اپنے کسی عزیز کو کب دیا تھا؟ نئی کتب کا لمس اور مہک کب سونگھی تھی؟ کتابوں میں پھول رکھے کتنا عرصہ بیت گیا؟ پرانی کتب کی گرد صاف کیے کتنی مدت گزر گئی؟
اگر آپ کتاب دوست ہیں تو یقیناً یہ سوالات مشکل نہیں مگر اگر صرف نام تک کتابوں سے دوستی ہے تو یہ نہ صرف کتب کی بلکہ ادب کی تضحیک ہے۔ کتاب کا مطالعہ آپ کو ایک لمحے کے لیے دنیا کے تمام دکھ درد بھلا دیتا ہے۔ ابھی اٹھیے ایک گرم گرم چائے کا مگ بنائیں اور کسی اچھی کتاب کی سیر کو چلے جائیں۔ یقین کیجیے تھوڑی دیر کے لیے آپ دنیا کے تمام دکھ درد بھول جائیں گے۔ کتب بینی کے فروغ کے لیے بہت سارے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
پبلک لائبریریز کا قیام اس معاملہ میں مددگار ثابت ہو سکتا ، اور نہیں تو چار کرسی میز لگا کر چائے خانوں کو ہی لائبریری میں بدل دیجیے، مقالہ نویسی کے پروگرام منعقد کیجیے ادب کے فروغ کے لیے نام نہاد بڑی بڑی ورکشاپس کی بجائے دس بارہ جوانوں کی ہی تربیت کا بیڑہ اٹھا لیجیے۔ باخدا آپ کی یہ زحمات نہ صرف اردو کی ترویج میں اپنا کردار ادا کریں گی بلکہ رہتی دنیا تک علم و جستجو کی دنیا میں آپ کا نام ہو گا۔ یاد رکھیے جو علم کی جستجو میں اپنا کردار ادا کرتے وہ کبھی بھی تاریخ کی گرد کا سبب نہیں بنتے بلکہ دنیا انہیں سنہری حروف سے یاد رکھتی ہے۔
حالیہ دنوں میں شاعری کا عالمی دن منایا گیا مگر یہ دن اس خاموشی سے گزر گیا کہ ادب سے شغف رکھنے والے احباب کو بھی علم نہ ہوا۔ پاک ٹی ہاوٴس اور ایسی دیگر ادبی مقامات کی رونقیں کیسے بحال ہو سکتیں ہیں؟ موجودہ ادب کے زوال کا ذمہ دار کون ہے؟ عرصہ بیت گیا برصغیر میں ایک بڑا نقاد پیدا کیوں نہ ہوسکا؟ ان سب سوالات کے جواب کس کے پاس؟ کیا ادب سے ہماری موجودہ بے اعتنائی پر ہماری آئندہ نسل ہمیں معاف کر سکے گی؟ شعرا کے نام پر تہذیب حافی اور علی زریون جیسے شعرا کی موجودگی کیا ادب کی بے ادبی نہیں؟
ایسے اشعار اگر غالب سنتے تو شاید ادب کی فاتحہ پڑھ چکے ہوتے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ادب کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا جائے، معیاری کتب کو فروغ دیا جائے۔ مطالعہ کی ثقافت کو پروان چڑھایا جائے، معیاری کتب جس قدر ممکن ہو سکے کم قیمت پر فروخت کی جائیں تاکہ سب کے قوت خرید میں ہو۔ ہفتہ وار بک اسٹال کا اہتمام کیا جائے، ادبی مقامات کی رونق بحال کی جائے جگہ جگہ چائے خانے بنانے کی بجائے انہی چائے خانوں کو پبلک لائبریری میں تبدیل کیا جائے اور کچھ نہیں تو اپنے علاقے میں ایک چھوٹی میز، چند کرسیاں اور کتب رکھ کر موجودہ نسل کو مطالعہ کی طرف متوجہ کیا جائے ورنہ ادب سے اس بے ادبی پر آئندہ نسل ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی خدا نہ کرے کہ ہمیں کہنا پڑے یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی!

