پاکستانی سماج کا سیاسی المیہ!


یونان کے عظیم فلسفی ارسطو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے استاد افلاطون کے متفرق مکالمات اور نظریات کو جمع کر کے ایک ”سیاسی ضابطہ اخلاق“ ترتیب دیا تھا جبکہ مغرب کے سیاسی ضابطہ اخلاق کی بنیاد بھی یہی اصول ہیں جو بعد میں جمہوری طرز حکومت کی تشکیل میں رہنما اصول ثابت ہوئے ہیں۔ ارسطو کے سیاسی ضابطہ اخلاق میں سیاست اور اخلاقیات کو لازم ملزوم قرار دیا گیا ہے۔ جس زمانے میں ارسطو یونان میں سیاسی نظریات اور سیاسی ضابطہ اخلاق کی آبیاری کر رہے تھے اس وقت بر صغیر پاک و ہند (متحدہ ہندوستان ) کے عظیم فلسفی اور سیاسی مفکر کوتلیہ چانکیہ نے سیاسی نظریات اور طرز حکومت کے حوالے سے نہ صرف نئے خیالات پیش کیے بلکہ اس پر عملی کام بھی شروع کیا۔

اس ضمن میں کوتلیہ چانکیہ کی شہرہ آفاق تصنیف ”ارتھ شاستر“ ایک تاریخی جامع دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستانی شہر ٹیکسلا کی عظیم درسگاہ (ماضی میں ہوا کرتی تھی لیکن اس کے نشانات محفوظ ہیں، جسے عالمی ورثہ بھی قرار دیا جا چکا ہے ) سے تعلیم حاصل کرنے والے عظیم فلسفی کوتلیہ چانکیہ کی تصنیف ارتھ شاستر کو بعد میں آنے والے فلسفیوں اور تاریخ دانوں نے بر صغیر کے پہلے ”سیاسی آئین“ کے طور پر لیا ہے۔ کوتلیہ چانکیہ کے حوالے سے یہ عام تاثر ہے کہ اس نے اخلاقیات کے بر عکس چالاکی، عیاری اور دھوکہ دہی کے حامل پینتروں کی بنیاد پر اپنے سیاسی نظریات کی تشکیل کی جبکہ ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ کوتلیہ چانکیہ اور یونانی فلسفی ارسطو کے سیاسی نظریات میں نہ صرف مماثلت پائی جاتی ہے جبکہ کوتلیہ چانکیہ نے بھی اپنے سیاسی نظریات میں مہذب سماج کی تشکیل کے لیے ”اخلاقی اصول اپنانے پر زور دیا ہے۔

اس طرح یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کوتلیہ چانکیہ نے اپنی تصنیف ارتھ شاستر میں جو سیاسی نظریات اور خیالات پیش کیے ہیں وہ اخلاقی اعتبار سے دنیا کے ابتدائی“ سیاسی ضابطوں ”میں سے کوئی ایک نمایاں ضابطہ ہے۔ جہاں تک اطالوی فلسفی اور تاریخ دان نکولو میکیا ولی کی بات ہے تو یہ کوتلیہ چانکیہ کے 1800 سال بعد کے دور سے تعلق رکھتا ہے جس نے ارسطو ہی نہیں بلکہ کوتلیہ چانکیہ کے سیاسی نظریوں کے بر عکس جو سیاسی ضابطہ یا نظریہ پیش کیا ہے اس میں بے ضمیری، بے ایمانی او بد عنوانی کو جائز قرار دیا گیا ہے، یعنی یہ ایک ایسا سیاسی ضابطہ ہے جس میں اخلاق سے ماورائے اقدامات کو نہ صرف ناگزیر تصور کیا گیا ہے بلکہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے قتل جیسے اقدامات کو بھی جائز قرار دیا گیا ہے۔

میکیاولی کے نزدیک اقتدار کے راستے میں اخلاقی اقدار یا اصول ایک بڑی رکاوٹ ہوتے ہیں۔ اس کے سیاسی نظریہ کا ماخذ یہی ہے کہ“ اگر تم (ناپسندیدہ ) نظام کو شکست نہیں دے سکتے تو خود بھی اس کا حصہ بن جاؤ ”۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عہد حاضر میں پاک و ہند کا سماج سیاسی اعتبار سے“ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہے۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت پاکستانی سماج میں نکولو میکیا ولی کے سیاسی نظریات اور خیالات کے عین مطابق سیاسی چلن عام ہے۔

پاکستانی سماجی تاریخ کا یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں آج تک ایسا ”سیاسی ضابطہ اخلاق“ تشکیل نہیں دیا جا سکا ہے جو ہر طرح کے مکتب فکر اور نظریات کی حامل سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول ہو۔ اس المیہ کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ پاکستانی سماج میں اہل دانش سیاست سے دور رہے ہیں جبکہ سیاست پیروں، جاگیر داروں، وڈیروں، زمینداروں اور سرمایہ داروں کی شکنجے میں چلی آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی سیاست کا ”مزاج“ اب تک جمہوری اقدار اور روایات کو اپنا نے کی اہلیت حاصل نہیں کر سکا ہے جبکہ اہل سیاست جمہوریت کے حسن، جمہوری روایات اور اقدار کی جگالی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

جب اہل سیاست سیاسی ضابطہ اخلاق کی تشکیل ہی نہیں کر پائیں ہیں تو پھر کس طرح سے ایسا ”سیاسی نظام“ وضع ہو سکتا ہے جو ”عوام کی حکمرانی“ کو یقینی بناتا ہے۔ بہر کیف پاکستانی معاشرے میں ”جمہوریت اور پارلیمانی نظام“ اس وقت بھی اپنے ارتقائی مراحل سے گزر رہے ہیں، یا پھر یوں ہے کہ یہاں جمہوریت اور پارلیمانی نظام کو اب تک آزمائشی بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پاکستانی سیاست میں پارلیمانی نظام کے بر عکس ”صدارتی نظام“ کے نفاذ کے حوالے سے مکالمہ کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی سیاست میں جمہوریت کو تسلسل کے ساتھ چلنے نہیں دیا گیا جبکہ ملک کی 71 سالہ سیاسی تاریخ میں چار مرتبہ ”غیر سیاسی“ حکومتیں قائم کی گئی ہیں جو جمہوری انداز کی بجائے آمرانہ طرز پر قائم کی گئیں۔ پہلے پہل ان غیر سیاسی حکومتوں کو ”مار شل لاء ایڈمنسٹریٹر“ کے طور پر چلایا گیا لیکن بعد ازاں اسے جمہوریت کا لبادہ پہنانے کے لیے ”کنٹرولڈ پارلیمانی حکومت“ قائم کی گئیں۔ ایسے حکمرانوں میں جنرل (ر) محمد ایوب خان ( 1958۔

1969 ) ، جنرل (ر) یحییٰ ٰ خان ( 1969۔ 1971 ) ، جنرل ضیاء الحق ( 1978۔ 1988 ) اور جنرل (ر) پرویز مشرف خان ( 1999۔ 2008 ) شامل ہیں۔ ان فوجی حکمرانوں کی جانب سے ملکی تاریخ کی نصف مدت تک حکومت کی گئی جبکہ باقی ماندہ نصف مدت میں سیاسی حکومتیں آتی جاتی رہیں لیکن ان حکومتوں میں سوائے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو ( 1973۔ 1977 ) کے علاوہ کسی بھی سیاسی شخصیت نے اپنی آئینی مدت پوری نہیں کی۔ 1988 میں پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم منتخب ہوئیں لیکن یہ حکومت 1990 میں صدارتی حکم نامہ کے تحت تحلیل کردی گئی۔

اس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف وزیر اعظم منتخب ہوئے لیکن یہ حکومت بھی اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکی اور 1993 میں ان کی حکومت بھی صدارتی فرمان کے تحت توڑ دی گئی۔ اس کے بعد ایک بار 1993 میں پھر محترمہ بے نظیر بھٹو وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئیں لیکن بد قسمتی سے یہ حکومت بھی اپنی آئینی مدت مکمل کرنے سے پہلے 1996 میں رخصت ہو گئی جبکہ اس بار انھیں ایسا صدارتی حکم لے اڑا جو ان کی ہی جماعت سے تعلق رکھنے والے فارق لغاری (سابق صدر) کی طرف سے جاری ہوا۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمہ کے بعد 1996 کے انتخابات کے نتیجے میں میاں نواز شریف وزیراعظم کی کرسی پر برا جمان ہوئے لیکن قسمت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ 1999 میں اس حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور جنرل (ر) پرویز مشرف اقتدار پر قابض ہو گئے۔ پاکستانی سیاست میں 1988 سے لے کر 1999 تک کا دور حکومتی اعتبار سے غیر مستحکم رہا ہے جسے سیاسی اصطلاح میں ”طوائف الملوکی“ کے دور سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جبکہ اس سے پہلے شہید ملت لیاقت علی خان ( 1951 ) کے بعد کا دور بھی پاکستانی سیاست کا غیر مستحکم دور رہا ہے بلکہ اسے غیر سیاسی بحرانوں کا دور رہا کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔

اس کے نتیجے میں ہی پاکستانی سیاست میں ہر طرح کی ”نوکر شاہی“ کے اندر حکومت کرنے کی خواہش پیدا ہوئی جس کی ابتداء ملک غلام محمد (سابق گورنر جنرل، 1951۔ 1955 ) سے ہوئی جو کہ ایک مطلق العنان حکمران ہی ثابت نہیں ہوئے بلکہ اسی دور میں ہی تحریک پاکستان کے عظیم رہنماؤں اور منجھے ہوئے سیاست دانوں کو نظر انداز کیے جانے کی روایت بھی پڑی جسے بعد میں اسکندر مرزا (سابق صدر، 1956۔ 1958 ) نے تقویت فراہم کی۔ اس کے بعد جنرل (ر) محمد ایوب خان ( 1958۔ 1969 ) نے اس غیر جمہوری اور غیرسیاسی روایت کو نہ صرف منظم کیا بلکہ اس ”سوچ“ کو ایک ”مخصوص وجود“ بھی فراہم کیا۔ جسے آج پاکستانی سیاست میں ”اسٹیبلشمنٹ“ کے نام سے سمجھا اور پکارا جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ پاکستانی سیاست میں ”سیاسی ضابطہ اخلاق“ کی تشکیل میں مذکورہ ”سوچ“ ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے لیکن اس کے باوجود اہل سیاست کی جانب سے 14 مئی 2006 میں ایک سیاسی معاہدہ طے پایا جسے ”میثاق جمہوریت“ کا نام دیا گیا جس پر پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن سابق وزرائے اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو اور مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے دستخط کیے۔ پاکستانی سیاسی جماعتوں کے درمیان یہ میثاق جمہوریت لندن میں ہوا تھا اس وقت محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف سیاسی طور پر جلا وطن تھے لیکن اس میثاق جمہوریت میں ایم کیو ایم جیسی جماعتوں کو شامل نہیں کیا گیا جو کہ اس وقت پرویز مشرف کی خود ساختہ نیم جمہوریت کی حامل حکومت کا حصہ تھیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کو توڑ کر ہم خیال گروپ، مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کے بطن سے پیٹریاٹ جیسے گروپ پیدا کیے گئے۔

اور یہ وہ دور تھا جب ملک میں ”لوٹا“ کو سیاسی اصطلاح کے طور پر مقبولیت حاصل ہوئی۔ جنرل (ر) پرویز مشرف 1999 سے 2008 تک حکمرانی کرتے رہے اور 2008 کے انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی یہ ملکی سیاسی تاریخ کا دوسرا بڑا موقع تھا کہ کسی سیاسی حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی لیکن اس دوران یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنی مدت پوری نہیں کرسکے اور ان کی جگہ راجہ پرویز اشرف وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئے۔

2013 کے انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوئی اور میاں نواز شریف ملک کے تیسری بار وزیر اعظم بننے والی پہلی سیاسی شخصیت بنے لیکن حیران کن طور پر مسلم لیگ (ن) نے اپنی حکومت کے تو 5 برس پورے کیے لیکن میاں نواز شریف 5 سالہ مدت سے پہلے ہی عہدے سے ہٹا دیے گئے اور ان کی جگہ شاہد خاقان عباسی کو وزرات عظمیٰ کی کرسی پر بٹھایا گیا۔ یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی اور مسلم لیگ (ن) کے میاں نواز شریف کو عدالتی فیصلوں کے تناظر میں اپنی وزارت اعظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا۔ 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کی حکومت قائم ہوئی اور پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔ لیکن اس حکومت کو بھی اپنی آئینی مدت پوری کرنے سے پہلے (ساڑھے تین برس، 2022 ) ”تحریک عدم اعتماد“ کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔

Facebook Comments HS