ریفارمر اجنبی
مرشد کا علم بلند کرنے والے آزاد شاعری کے منکر تہذیب حافی اور علی زریون پر اکثر لوگ تنقید کرتے رہتے ہیں یا محبت کرتے ہیں۔ پتا نہیں کب تک مرشد خود کو منوائیں گے۔ خیر مرشد کو چھوڑیں اور منکر کو پکڑیں۔ اصل میں جتنے بھی صاحب ذوق جہاں کہیں بھی پائے جاتے ہیں سبھی مرشد کو یا ان کی شاعری کو مرحوم تصور کرتے ہیں اور شاید یہ سچ بھی ہے۔ اندازہ بیان بے وزن شعر کو بھی چار چاند لگا سکتا ہے۔ مرشد کو بیاں مرشد کو ہی تہہ زمیں لگا گیا ہے۔
کون ہیں یہ منکرین اردو، منکرین بحر، منکرین قافیہ و ردیف دراصل یہ صرف اپنے خاندان بڑا ہونے کے سبب زیادہ داد وصول کر گئے ہیں۔ جو ان کی قسمت پر ڈالیں گا کہ وہ بہت زیادہ خوش نصیب ہیں تو بھئی اگر کہیں کوئی شاعر میری بات پڑھ رہا ہے تو وہ زیادہ مشہور کیوں نہیں۔ اگر کوئی شاعر سمجھتا ہے کہ اس کی قسمت خراب ہے تو دراصل اس کی شاعری خراب ہے۔ خیر میں اتنا سنجیدہ نہیں ہونا چاہتا۔ محترم منکرین قافیہ و ردیف تہذیب حافی فرماتے ہیں :
تمام ناخدا ساحل سے دور ہو جائیں
سمندروں سے اکیلے میں بات کرنی ہے
اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ بحر پر کھڑے ہو کر اردو ادب کے حاشیے مٹانا چاہتے ہیں اور شاید بحر بھی ان سے مل گئے ہیں اور اردو کے انڈیا سے چلنے والے بہترین ادارے ریختہ نے ان دونوں کا نام اور کلام شائع کیا ہے۔ آگے چل کر مجھے علی زریون کے ایک شعر سے ان دونوں کی نفسیات سمجھ آ جاتی ہے وہ قلم کو چھپا کر لکھتا ہے :
عصر کے وقت میرے پاس نہ بیٹھ
مجھ پہ اک سانولی کا سایہ ہے
اس شعر کو تشریح کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیا ان کے چہرے سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان پر کالی کا سایہ ہے یا اردو پر کالی کا سایہ پڑ گیا ہے۔
میری ان تمام صاحب ذوق لوگوں سے درخواست کہ ان لوگوں پر تنقید نہ کی جائے ورنہ یہ سانولی کا رخ آپ کی طرف بھی موڑ سکتے ہیں۔ جون ایلیا کی شاعری اور ان دو صاحب ذوق کی شاعری میں قریباً انیس بیس کا فرق ہے۔ آپ سے التماس ہے ان کا نام اردو شاعری کے شہداء میں لکھا جائے اور بات کو واضح لکھا جائے کہ انہوں نے اردو شاعری کو شہید کیا۔


