وزیرِ اعلٰی پنجاب کا انتخاب 16 اپریل تک مؤخر، ‘فرنیچر کے بجائے آئین ٹوٹنے کی فکر کریں’
پنجاب میں وزیر اعلٰی کے انتخاب کے لیے چھ اپریل کو بلایا گیا اجلاس اسمبلی میں ہونے والی مبینہ توڑ پھوڑ کے باعث 16 اپریل تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے کے مطابق تین اپریل کو اجلاس کے دوران اسمبلی میں توڑ پھوڑ کی گئی جس کی وجہ سے یہ ممکن نہیں کہ چھ اپریل کو اجلاس ہو سکے۔
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور وزارت اعلٰی کے امیدوار حمزہ شہباز شریف نے اسمبلی اجلاس مؤخر کرنے کے فیصلے کا ذمے دار اسپیکر پنجاب اسمبلی اور وزارت اعلٰی کے امیدوار چوہدری پرویز الہٰی کو قرار دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی اسپیکر پنجاب اسمبلی سے ملاقات کے بعد مؤخر کیا گیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے سیاسی امور شہباز گل کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس مؤخر کرنے کی معقول وجہ وہاں ہونے والی توڑ پھوڑ ہے۔ اسمبلی کا نظم و نسق ٹھیک ہو جائے تو اجلاس بلا لیں گے۔
حزب اختلاف کا موقف
اسمبلی اجلاس مؤخر کرنے پر لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے حمزہ شہباز کہتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس کو 16 اپریل تک ملتوی کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پرویز الہی آئین، قانون اور اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرنے کے پرانے عادی ہیں۔ تین اپریل کو بھی ڈپٹی اسپیکر نے غیر قانونی کام کیا۔
حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ فرنیچر ٹوٹنے کی بجائے آئین ٹوٹنے کی فکر کریں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ چھ اپریل کو تمام اراکین اسمبلی ایوان میں پہنچیں اور اگر بدھ کو اسمبلی کے دروازے بند کیے گئے تو کل عوام تماشا دیکھے گی۔
حمزہ شہباز نے دعویٰ کیا کہ انہیں 200 اراکین کی حمایت حاصل ہے جب کہ چوہدری پرویز الہٰی کو اپنی شکست صاف نظر آ رہی ہے اسی لیے وہ تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ پنجاب میں وزیر اعلٰی منتخب ہونے کے لیے پنجاب اسمبلی میں 186 اراکین کی حمایت ضروری ہے جس کے لیے دونوں امیدوار جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پنجاب کی سیاسی صورت حال میں یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بدھ کو وزیر اعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر لاہور پہنچے تھے۔ عمران خان نے لاہور میں اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی، گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ اور وزیر اعلٰی عثمان بزدار سے ملاقاتیں کی تھیں۔
لاہور کے دو ہوٹل توجہ کا مرکز کیوں ہیں؟
لاہور کے علاقے گلبر گ تھری میں ان دنوں دو ہوٹل سیاسی طور پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ جہاں اطلاعات کے مطابق حزب اختلاف اور پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو ٹھہرایا گیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رکن پنجاب اسمبلی نعمان لنگڑیال نے ایک ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ ڈیڑھ سال سے سوتیلی ماں والا سلوک ہو رہا ہے۔ ان کے حلقوں کے کام نہیں ہو رہے تھے۔ جب یہ حکومت ڈگمگائی تو پھر کہا گیا کہ آئیں آپ کے حلقوں کے کام کرواتے ہیں۔
’اگر تحریک انصاف میں پھوٹ نہ پڑتی تو چوہدری پرویز الہٰی وزیر اعلٰی بن جاتے‘
سینئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی کہتے ہیں کہ پنجاب میں پی ٹٰی آئی کے اندر پھوٹ پڑ چکی ہے۔ اگر پی ٹی آئی متحد ہوتی تو پرویزالٰہی باآسانی وزیراعلٰی منتخب ہو جاتے۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب چونکہ پی ٹی آئی کے دھڑے کافی موثر ہیں اور وہ بغاوت کر چکے ہیں۔ اس لیے مشکل درپیش ہے اور اس وقت حزب اختلاف کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔
انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی اسمبلی ٹوٹ بھی نہیں سکتی۔ وزیراعلٰی استعفٰی دے چکے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ووٹنگ تو بہرحال یہاں ہو گی۔ جب ووٹنگ ہو گی تو نیا وزیراعلٰی بھی منتخب ہو گا۔ اس کے بعد پی ٹی آئی کے لوگ کیا کریں گے یہ بعد کی بات ہے۔
مجیب الرحمٰن شامی کا کہنا ہے کہ اگر 16 اپریل کو اسمبلی کا اجلاس ہوتا ہے اور الیکشن ہوتے ہیں جس کا اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے تو نظر یوں آ رہا ہے کہ اکثریت اس وقت حزب اختلاف کے ساتھ ہے۔
دوسری جانب وزیراعلٰی پنجاب کے انتخاب کے پیش نظر پاکستان تحریک انصاف نے اپنے ارکان کو پرویز الٰہی کو ووٹ دینے کے لیے پابند کیا ہے۔
اسد عمر کے دستخط سے پاکستان تحریک انصاف سینٹرل سیکریٹریٹ سے جاری ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلٰی پنجاب کے انتخاب کے لیے پارٹی امیدوار چوہدری پرویز الٰہی ہیں۔


