ڈاکٹر عظمیٰ سلیم۔ با کمال انسان۔ لاجواب استاد

ہم اساتذہ کے معاملے میں شروع سے ہی خوش نصیب رہے ہیں (1) ۔ پرائمری سکولنگ کی ابتدا سے ہی ہمیں بے حد چاہنے والے اور بہت خیال رکھنے والے اساتذہ نصیب ہوئے۔ یہ سلسلہ ہائی سکولنگ تک جاری رہا مگر اس کے بعد ہم باقاعدہ تعلیمی سلسلے کو بوجوہ جاری نہ رکھ سکے اور اس طرح ایف اے سے ایم اے تک اساتذہ کے دست شفقت سے محروم رہے۔ اس طویل محرومی کے بعد 2013 ء میں ایم فل کے دوران جامعہ سرگودھا میں ایک بار پھر ہمیں اساتذہ کی سرپرستی اور محبت نصیب ہوئی۔
اگرچہ اس موقع پر ہماری عمر بھی شبنم شکیل کے ایک مصرعے (2) کے جزوی حصے ”جب چاندی اتری بالوں میں“ کے مصداق ہمارے بالوں میں بھی چاندی لا چکی تھی تاہم ہمارے خیال میں استاد اور شاگرد کا رشتہ عمر کی پابندیوں اور عمر کے حساب کتاب سے بہت بلند اور ماورا ہوتا۔ شاگرد چاہے جس عمر کا بھی ہو اس کے مزاج میں شامل ہو جاتا کہ وہ لاڈ دکھائے اور استاد کے مزاج میں شامل ہوتا کہ وہ لاڈ اٹھائے۔ سو ہم بھی یونیورسٹی جاتے ہی لاڈلے بن گئے اور ہمارے لاڈ اٹھانے کے لیے وہاں ڈاکٹر سید عامر سہیل صاحب، جناب غلام عباس گوندل صاحب اور دیگر لوگوں کے علاوہ ایک عظیم شخصیت محترمہ ڈاکٹر عظمیٰ سلیم صاحبہ موجود تھیں۔
پہلی میقات میں ڈاکٹر صاحبہ نے ہمیں ’فن ترجمہ نگاری، روایت اور مسائل‘ کا اختیاری مضمون پڑھایا۔ یہ بھی ایک دلچسپ امر ہے کہ ہم نے رسائل و جرائد کی طرف میلان طبع رکھنے کے باوجود ترجمہ کی کلاس کو کیوں اختیار کیا تھا۔
ڈھلتی عمر میں جب ہم نے ایم فل کا قصد کیا تو ہمارے پیش نظر فقط ایم فل کی ڈگری کا حصول نہ تھا بلکہ پی ایچ ڈی کی ڈگری مطلوب تھی۔ اس لیے ہمیں اپنے مشیران نے یہ سبق پڑھایا تھا کہ جب تک 70 فیصد نمبر حاصل نہیں کرو گے تو پی ایچ ڈی کا داخلہ ممکن نہیں ہو گا۔ اس لیے ہمارے اوپر نہ صرف ایم فل کرنے کا دباؤ تھا بلکہ اپنی فیصدی کو بھی برقرار رکھنے کا بھی بھر پور دباؤ تھا۔
میانوالی سے بسوں پر دھکے کھا کر روزانہ سرگودھا جانے کے لیے نو گھنٹوں کا دو طرفہ سفر کرنا پڑتا۔ اس جاں گسل محنت میں کم از کم اختیاری مضمون میں تو ہمیں ایسے استاد کی خواہش تھی جو ہمیں نمبر دینے میں فیاض ہو۔ میم عظمیٰ صاحبہ کے ایم اے کے جو شاگرد ایم فل میں ہمارے ہم جماعت ٹھہرے تھے ’انھوں نے ہمیں بتایا کہ میم صاحبہ طلبا کو نمبر دینے میں کافی فیاض ہیں۔ اس بنا پر ہم نے رسائل و جرائد کے بجائے ترجمہ کی کلاس اختیار کی۔ بالآخر نمبروں کا مرحلہ آیا تو جہاں بہت سے طلبا کے ستر فیصد نمبر تھے وہاں ہمارے نمبر پینسٹھ تھے۔ ہمیں بہت دکھ ہوا۔ ہم نے دل ہی دل میں کہا:
”بھج بھج وی تھکوسے تے پیکے وی نہ اپڑوسے“ (تھکا دینے والی محنت بھی کی لیکن اس کے باوجود منزل مراد پر بھی نہ پہنچ سکے ) ۔ ہم نے جی کڑا کر کے میم صاحبہ سے گزارش کی کہ ہمارے تمام مضامین میں ستر فیصد نمبر ہیں لیکن آپ کے مضمون میں کم ہیں اس لیے آپ شفقت فرما دیں اور ہمارے نمبر بھی ستر کر دیں۔ محترمہ نے ارشاد فرمایا کہ مجیب آپ بھی ایک معلم ہو اس لیے میں آپ کا پرچہ آپ کے حوالے کر دیتی ہوں۔ آپ خود اس کے جتنے چاہیں نمبر لگا دیں۔ ہم نے جواباً صرف اتنا کہا کہ میم پینسٹھ ہی ٹھیک ہیں اس طرح تو شاید مزید کم ہو جائیں۔ یہ جواب سننے کے بعد ہم لفظ ’حسن انکار‘ کا زندگی میں پہلی بار براہ راست عملی اور بھرپور اظہار دیکھنے پر خود کو خوش نصیب بھی قرار دے رہے تھے۔
میم صاحبہ ایک بہترین معلمہ اور ماہر نفسیات ہیں۔ ایک کلاس کے دوران ہمارے ایک ہم جماعت مسلسل اپنے موبائل فون کو چھیڑتے رہے۔ میم صاحبہ نے ایک گھنٹے کی کلاس میں ایک لمحے کے لیے بھی کلاس کو محسوس نہ ہونے دیا کہ وہ اسے دیکھ رہی ہیں اور انھیں اس کا موبائل کو چھیڑنا برا لگ رہا۔ کلاس کے اختتام پر میم صاحبہ جب روسٹرم چھوڑنے لگیں تو ڈائری اٹھاتے ہوئے اسے کہا کہ آپ اپنے رویے پر ذرا غور کر لیجیے گا۔ جواباً اس نے آئیں بائیں شائیں (Lame excuses) سے کام لیا تو آپ نے محض اتنا کہا کہ میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا۔
اگر آپ اپنے طرز عمل پر مطمئن ہیں تو مجھے کوئی دکھ نہیں۔ یقین مانیں کہ انتہائی نرمی سے ادا کیے گئے اس جملے کی اتنی تاثیر تھی کہ ہمارا وہ کلاس فیلو اگلے دو گھنٹوں تک بے چین اور شرمندہ رہا۔ انتہائی نرمی اور شائستگی سے کسی کی عزت نفس مجروح کیے بغیر اور خود کو بڑا، با رعب اور اہم قرار دیے بغیر پر اثر بات کرنا کوئی میم عظمیٰ سے سیکھے۔
اپنے طلبا کی اصلاح کرنے کا یہ انداز بھی دیکھیے : ایک مرتبہ ڈاکٹر طارق کلیم (موجودہ صوبائی صدر پپلا۔ PPLA پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن) میم کے کمرے میں آئے۔ طارق کلیم برجستہ اور ادبی جملے کہنے میں کمال رکھتے ہیں۔ کرسی پر بیٹھنے لگے تو ان کی نظر قالین پر کانچ کی چوڑی کے ٹکڑے پر پڑی۔ انھوں نے چوڑی کا وہ ٹکڑا اٹھایا اور اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا کہ میم اگر یہی ٹکڑا کسی مرد استاد کے کمرے سے برآمد ہوتا تو بیچارے کے خلاف اس وقت تک نہ جانے کیا کیا سکینڈل بن چکے ہوتے۔
میم صاحبہ نے اس کی بات پر کوئی غیر معمولی تاثر دیے بغیر انتہائی دھیمے لہجے اور اپنے روایتی انداز میں کہا کہ جی میں نے بھی یہ ٹکڑا دیکھا ہے۔ اس دن فلاں (اپنی کسی شاگرد کا نام لیا) یہاں بیٹھ کر اپنی چوڑیوں کو چھیڑ رہی تھی۔ میں نے اسے منع بھی کیا لیکن وہ باز نہ آئی۔ اس کے جانے کے بعد میں نے یہ ٹکڑے دیکھے تھے۔ میں نے جان بوجھ کر صفائی نہیں کرائی کہ وہ آئے گی تو اسے کہوں گی یہ خود اٹھا لو۔ بظاہر یہ ایک معمولی سا عمل ہے لیکن اس عمل میں بھی اصلاح کا وافر پیغام پنہاں ہے۔
میم عظمیٰ اپنے طلبا پر اندھا اعتماد کرنے والی استاد ہیں۔ آپ کی شخصیت کا یہ وصف طلبا کو بھی مجبور کر دیتا ہے کہ وہ میم صاحبہ کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔ ہمارا مقالہ جمع ہونے کے قریب تھا لیکن ابھی اس کا کچھ کام باقی تھا۔ میم کو سکردو جانا تھا۔ ہمیں یہ خیال پریشان کیے جا رہا تھا کہ ابھی کچھ دنوں بعد میم کو مقالہ دکھا کر جمع کرانا ہو گا اور آپ سے سرٹیفیکیٹ لینا ہو گا تو اس کے لیے اب ہمیں سکردو کا سفر بھی کرنا پڑے گا جبکہ ہم پہلے ہی اپنے مقالے کے لیے بے پناہ سفر کر چکے تھے۔
اوپر سے وقت کی تلوار بھی لٹک رہی تھی۔ ہمیں اس وقت خوشگوار حیرت ہوئی جب میم نے مقالے سے متعلق ہمیں ہدایات دینے کے بعد ہمارے کہے بغیر ہمیں سرٹیفیکیٹ کے تین چار صفحوں پر دستخط کر دیے اور صرف اتنا کہا کہ یہ دستخط شدہ صاف کاغذ میں جس بندے کے حوالے کر رہی ہوں مجھے امید ہے وہ بندہ میری ہدایات پر عمل کرنے کے بعد ہی اپنا مقالہ جمع کرائے گا اور میرے دستخطوں کا ضرور بھرم رکھے گا۔ اس ایک جملے نے ہمارا سینہ چوڑا کر دیا تھا اور ہم نے پھر ان کی نا صرف ہدایات پر عمل کیا تھا بلکہ مقالہ جمع کرانے سے پہلے اضافی طور پر بھی بقیہ کام کو تین چار بار مزید دیکھا، پرکھا اور جانچا تھا تاکہ مقالے میں کوئی بڑا سقم نہ رہ جائے اور میم کا بھرم نہ ٹوٹ جائے۔ ہمارے خیال میں اساتذہ اور والدین کا اپنے شاگردوں اور بچوں پر اس طرح اعتماد کرنا انھیں معاشرے کا زیادہ مفید اور زیادہ ذمہ دار شہری بنا سکتا ہے۔
جس طرح ہر فرد کی تمنا ہوتی کہ وہ چاہا جائے، اسے سنا جائے، اس کو اہم جانا جائے، اس کا حال دل معلوم کیا جائے۔ اسی طرح ہماری بھی یہ خواہش تھی کہ ہمیں شعبہ اردو میں ایک طالب علم کے علاوہ ایک انسان بھی سمجھا جائے اور ایسا سمجھنے کے نتیجے میں ہماری پسند نا پسند، زندگی کے اتار چڑھاؤ اور غم اور خوشی کی بابت ہم سے سوال کیا جائے، ہمیں سنا جائے، ہم سے بات کی جائے۔ ہماری یہ تمام خواہشیں پوری کرنے کا جامعہ سرگودھا کے شعبہ اردو میں صرف دو ہی شخصیات سبب بنیں۔
سید عامر سہیل صاحب جزوی طور پر جبکہ محترمہ عظمیٰ سلیم صاحبہ کلی طور پر۔ سید عامر سہیل صاحب کی جزوی شرکت بھی ہم کافی سمجھتے تھے کہ وہ صدر شعبہ تھے اس لیے انتظامی امور کی الف ب جاننے والا کوئی بھی شخص ان کی مجبوریوں اور مصروفیات کو سمجھ سکتا تھا۔ ڈاکٹر عظمیٰ سلیم صاحبہ نے اپنے تمام طلبہ و طالبات کی مذکورہ بالا خواہشات کا بھرپور احترام و اہتمام کیا۔ شاگرد کے ساتھ ساتھ ان کا ہمیں انسان سمجھنا (ہم جس پیرائے میں بار بار لفظ ’انسان‘ کا استعمال کر رہے امید ہے عقل سلیم رکھنے والا ہر فرد اسے ویسے ہی سمجھے گا جیسا کہ ہم چاہ رہے ) ہمارے ایم فل کے دنوں اور یادوں کو بے حد حسین بنا گیا۔
اساتذہ کرام میں سے سید عامر سہیل صاحب اور میم صاحبہ کے کمرے میں ہم بلا تکلف چائے کا مطالبہ کر سکتے تھے۔ عامر صاحب کو تو شعبہ کا صدر ہونے کی وجہ سے ملازمین کی سہولت میسر تھی جبکہ میم صاحبہ نے اپنے کمرے میں چائے کے لیے ایک برقی کیتلی، خشک دودھ، چینی، پیالے اور چائے کی پتی کے ساشوں کا انتظام کر رکھا تھا۔ چائے کے مطالبے پر میم صاحبہ ایک روایتی دیہاتی معلم کا روپ اختیار کر لیتیں اور طلبا سے کہتیں کہ بھئی ہر چیز دستیاب ہے۔ خود ہی چائے بنا لیں اور مجھے بھی پلا دیں۔ میم انتہائی نفاست پسند خاتون ہیں۔ آپ طلبا کے ہاتھ کی چائے تو پیتیں لیکن اس کے لیے میری والدہ کی طرح اپنا الگ پیالہ استعمال کرتیں۔
ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ دوسری میقات کے حتمی امتحانات سے چند دن قبل ہماری ایک ہم جماعت شمع کاظمی کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ کچھ کلاس فیلوز نے شمع کاظمی کے گھر تعزیت کے لیے جانے کا پروگرام بنایا تو میم صاحبہ نے کہا کہ میں بھی آپ کے ساتھ آؤں گی۔ اسی دن ہم نے میم صاحبہ کو پہلی بار گاڑی چلاتے دیکھا تھا۔
خود پسندی، نرگسیت، خود ستائشی اور دکھاوے (ہر طرح کا۔ چاہے وہ علمی ہو یا کسی بھی دوسری طرح کا) جیسی بیماریوں کا میم عظمیٰ کے قریب سے بھی گزر نہیں ہوا۔ کتنے تعجب کی بات ہے کہ انھوں نے ہمیں کبھی اپنی تخلیقات یا اپنی شاعری سے متعلق نہ بتایا تھا حالانکہ دونوں میقاتوں میں انھوں نے ہمیں پڑھایا تھا۔ ہمیں ان کے شاعرہ ہونے کا اس وقت پتا چلا جب جامعہ کے ایم بی اے ہال میں ایک مشاعرہ منعقد ہوا جس کے مہمان خصوصی جناب سلیم طاہر صاحب (اسی کی دہائی میں پی ٹی وی کے پروگرام ’میں اور آپ‘ کے میزبان) تھے۔ اچانک وہاں دیکھا کہ دیگر شعرا کے علاوہ میم عظمیٰ صاحبہ کو بھی اپنا کلام سنانے کے لیے سٹیج پر بلا لیا گیا۔ ہمارے لیے یہ انتہائی خوشگوار حیرت کے لمحے تھے۔ اس مشاعرے کے بعد ہم نے ایک بار میم صاحبہ سے کلاس میں درخواست کی کہ اپنا کوئی کلام سنائیں۔ انھوں نے اس وقت ہمیں یہ غزل سنائی:
میرے معبود ملا، دوست پرانے گزرے
وہی آواز، وہی ساز، ترانے گزرے
دل کی خواہش ہے کبھی پھر سے اسی آنگن میں
کاش مل جائیں، وہی وقت پرانے گزرے
شمع امید بہر طور جلائے رکھی
تیرگی کم نہ ہوئی، گرچہ زمانے گزرے
رہ الفت میں مرے نام کا پتھر ہی نہیں
ورنہ اس رہ سے محبت کے خزانے گزرے
کیسی آوازیں مرے چار طرف گونجتی ہیں
کوئی اے کاش سنا دے وہ فسانے گزرے
دل کی آبادی کا ساماں ہیں پرانی یادیں
خوشبوئیں بن کے مہکتے ہیں زمانے گزرے
عشق اور شعر نے کس کس کو لہو رلوایا
میر صاحب ہی نہیں ایک دوانے گزرے
وقت کی سل مرے سینے پہ دھری رکھی ہے
شل بدن سوچتا ہے کب یہ نہ جانے گزرے
دل کبھی سوچ کے عظمیٰ یہ لرز جاتا ہے
ایک سے ایک کٹھن، کیا کیا زمانے گزرے
اس غزل کے دوسرے شعر میں ہمیں اپنے ابتدائی بچپن میں دیہات کی زندگی کی ایک ایسی روایت نظر آئی جو ہماری کمزوری تھی ’اس لیے یہ شعر ہمارے دل میں اتر گیا۔
دوسری میقات کے بعد مقالے کا مرحلہ آیا تو کلاس میں ہم دو ’اللہ والے‘ تھے ؛ امان اللہ خان اور مجیب اللہ خان۔ دونوں ہی اپنے اپنے مقالے کی نگرانی کے لیے میم عظمیٰ کے حصے میں آئے۔ مقالے کے دوران ہمیں ایک نئی اور مختلف میم عظمیٰ مل گئیں۔ پہلی میم عظمیٰ سے بہت مختلف اور ان میم عظمیٰ سے زیادہ اچھی، زیادہ مہربان اور زیادہ معاون۔ ہر وقت فون پر دستیاب ہونے والی میم عظمیٰ، فون نہ اٹھا پانے پر کال بیک کرنے والی میم عظمیٰ، شاگردوں کو مقالے میں سست پڑ جانے پر جھنجوڑنے اور جگانے والی میم عظمیٰ۔
ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ہماری مصروفیات کے بے ترتیب پھیلاؤ اور ہمہ جہت سماجی رابطوں، حالات کے جبر اور مقالے کی بے پناہ ضخامت کی بنا پر ان دنوں ہماری زندگی میں کچھ ایسے کمزور لمحے بھی آئے کہ جن میں ہم اپنی ڈگری کو ادھورا چھوڑنے کا ذہن بنا چکے تھے۔ ہم دعوے کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ میم عظمیٰ کے علاوہ اگر دوسرا کوئی بھی شخص ہمارا نگران مقالہ ہوتا تو ہم کبھی بھی مقالہ مکمل نہ کر سکتے۔
دوران مقالہ ہمیں کئی بار میم عظمیٰ کے گھر جانے کا موقع ملا۔ یہاں پر ایک تیسری میم عظمیٰ سے تعارف ہوا جو پہلی دونوں میم عظماؤں سے مختلف تھی۔ گھر پر وہ ایک استاد سے زیادہ ایسی ماں نظر آتیں جسے ہر وقت اپنے بچوں کے کھانے پکانے کی فکر ہوتی۔
ہمیں یاد ہے کہ جب ہماری والدہ زندہ تھیں اور ہم گھر پہنچتے تو اکثر ہمارے ساتھ کوئی نہ کوئی دوست ضرور ہوتا۔ ہماری والدہ مرحومہ و مغفورہ ان مواقع پر اکثر طنزاً کہتیں کہ ’شہ بالے‘ بھی ساتھ ہیں؟ ان کا بھی کھانا بنانا ہے؟ اب بھی ہمارا یہی طرز عمل ہے۔ ہم جب بھی سفر کرتے ہیں تو ہمارے جلو میں ہمارا ایک آدھ دوست ضرور ہوتا ہے۔ اور بعض اوقات ایک سے زیادہ بھی ہوتے۔ اور اگر کبھی غلطی سے نہ ہوں تو کم از کم ڈرائیور ضرور ساتھ ہوتا۔ میم صاحبہ کو مقالہ دکھانے ان کے گھر جاتے تو بھی ایسا ہی ہوتا۔ ہمارے ’شہ بالوں‘ کو دیکھ کر میم صاحبہ کے ماتھے پر کبھی کوئی شکن نہ آتی۔ وہ ہمارے لیے چائے بناتیں اور ہمیشہ چائے کے ساتھ دیگر لوازمات کے علاوہ اپنے ہاتھ کے بنے شامی کباب بھی پیش کرتیں۔
میم صاحبہ کے گھر ہم جب بھی گئے ہماری ان کے خاوند جناب ڈاکٹر سلیم صاحب سے بھی بھر پور نشست ہوتی۔ وہ انتہائی مہربان، محفل پسند، مہمان نواز اور زندہ دل آدمی ہیں۔ وہ اکثر ہمارے معاملے میں میم صاحبہ کو کہتے بلکہ چھیڑتے کہ اللہ کی بندی یہ اتنی دور سے آتا ہے بس اب اسے پاس کر دو۔ بیچارے کو کیوں تنگ کرتی ہو۔ دیکھو تو بیچارہ کتنا لکھ کے لے آیا ہے۔ میم صاحبہ کا کیا جواب ہوتا ہو گا؟ آپ لفظ ’حسن انکار‘ کا ایک بار پھر مزہ لے لیں۔
میم صاحبہ کے گھر کا ماحول مثالی اور قابل رشک ہوتا۔ میم صاحبہ کے خاوند ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں۔ اس گھرانے کو نہ جانے کس کی نظر لگی تھی کہ ڈاکٹر سلیم صاحب کینسر جیسے موذی مرض کا شکار ہو گئے۔ یہ زمانہ میم عظمیٰ اور ان کے پورے خاندان کے لیے انتہائی اذیت کا زمانہ تھا۔ اس تکلیف دہ دور میں اس عظیم معلمہ اور عظیم انسان نے خود کو ایک عظیم اور جرات مند بیوی ثابت کیا۔ اللہ کے فضل، ڈاکٹروں کی محنت کے بعد اس عظیم خاتون کی توجہ اور حوصلے سے ہی ڈاکٹر سلیم صاحب اس موذی مرض کے خلاف کامیابی سے جنگ جیتے تھے۔
خاوند کے کینسر سے جنگ کے زمانے میں بھی یہ معلمہ اپنے شاگردوں کے لیے حاضر ہوتیں۔ انھی دنوں میں ایک بار ہماری ملاقات ماڈل ٹاؤن پارک لاہور میں ہوئی تھی جہاں وہ ڈاکٹر سلیم صاحب کو واک کے لیے لے کے گئی ہوئی تھیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی انتہائی دلیری سے اپنی بیماری کا مقابلہ کیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اپنی بیماری کے دنوں میں بھی ویسے ہی زندہ دل تھے جیسے وہ صحت کے دنوں میں تھے۔ پریشانیوں کے اس دور میں اسی پر ہی موقوف نہ تھا بلکہ میم صاحبہ خود بھی ایک میجر سرجری سے گزریں۔
ہمیں اس وقت یہ معلوم ہوا کہ بظاہر یہ دھان پان سی نفیس ’لڑکی‘ اصل میں جرات کا کوہ ہمالیہ ہے۔ یہ بات ہے دو ہزار سولہ سترہ کی جبکہ دو ہزار اکیس کے وسط میں صبر کا یہ کوہ ہمالیہ ایک بار پھر انتہائی پیچیدہ اور خطرناک دماغ کی سرجری سے بھی گزرا۔ اور لمحۂ موجود میں میم کے خاوند ڈاکٹر سلیم صاحب دوبارہ خاموش قاتل یعنی کینسر سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ تکالیف کے اس تسلسل میں میم کی مذکورہ بالا غزل انھی پر صد فی صد صادق آتی ہے۔
میم عظمیٰ اگر ایک معلمہ نہ ہوتیں تو کوئی فلاحی تنظیم چلا رہی ہوتیں یا پھر ایک سیاستدان ہوتیں جن کا ڈیرہ ہمیشہ لوگوں کے لیے کھلا ہوتا۔ وہاں پر لنگر چل رہا ہوتا اور وہ اپنے ڈیرے پر لوگوں کے مسئلے سن رہی ہوتیں اور ان کے حل کے لیے کوشاں نظر آتیں۔ ہمیں با وثوق ذرائع سے معلوم ہوا تھا کہ ان کے کسی شاگرد کو اپنا مقالہ جمع کراتے وقت مقالے کی جانچ کی فیس کی عدم دستیابی کا سامنا تھا۔ میم صاحبہ نے اپنی جیب سے اس طالب علم کی فیس جمع کرا دی۔
ایک مرتبہ ہم اپنے دوست عامر شہزاد کے ساتھ سرگودھا گئے۔ میم صاحبہ سے بھی مقالہ کے حوالے سے ملنا تھا۔ جب رابطہ ہوا تو اس دن جامعہ نہ تھیں۔ ہمیں گھر بلا لیا۔ اسی دن ہماری ان کے خاوند جناب ڈاکٹر سلیم صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ میم نے مقالے کا کام دیکھا۔ چائے کباب کا دور چلا۔ ہمیں اپنے مقالے میں رہنمائی کے لیے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی کتاب ’جامعات میں تحقیقی مقالوں کے موضوعات‘ (ملتا جلتا نام) درکار تھی۔
وہ کتاب میم کے گھر نہ تھی بلکہ ان کے دفتر کی الماری میں موجود تھی۔ اپنی مصروفیات چھوڑ کر ہمارے ساتھ یونیورسٹی سے کتاب لینے چل دیں۔ چونکہ ہم جس گاڑی پر گئے تھے وہ رینٹڈ نہ تھی بلکہ ہمارے دوست کی تھی اس لیے ہمارے ساتھ ڈرائیور نہ تھا بلکہ دوست خود ہی گاڑی چلاتا تھا۔ میم صاحبہ اپنی گاڑی لینا چاہتی تھیں لیکن چونکہ ان کی گاڑی گیراج میں تھی اور ہماری گاڑی نے اس کا راستہ بھی روک رکھا تھا اس لیے ہم نے کہا کہ ہمارے دوست کی گاڑی پر چلتے ہیں۔
میم صاحبہ مان گئیں۔ ہمارا دوست ڈاکٹر سلیم صاحب کے ساتھ گپ شپ پر بیٹھ گیا اور گاڑی کی چابی ہمیں تھما دی۔ میم صاحبہ اور ہم یونیورسٹی کے لیے گھر سے نکلے۔ گاڑی تک پہنچے تو ہم نے میم صاحبہ کی طرف گاڑی کی چابی بڑھائی تو انھوں نے روایتی ’حسن انکار‘ سے کام لیتے ہوئے فرمایا کہ میں صرف اپنی گاڑی چلاتی ہوں۔ سرگودھا جیسا گنجان شہر، مجیب اللہ اور گاڑی کا چلانا۔ ہمارے دل پر کیا بیت رہی ہوگی اس کا اندازہ ہمارے ان تمام قریبی دوستوں کو ہو سکتا جو ڈرائیونگ میں ہماری ’مہارت‘ کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ میم صاحبہ کے ساتھ وہ مختصر سفر بھی ہماری زندگی کا ایک یادگار سفر ٹھہرا۔ تاہم امید ہے کہ میم صاحبہ بھی ہمارے اعتماد کو ضرور داد دیں گی کہ ہم نے کس کمال سے خود پر طاری اس دباؤ کو اپنے چہرے پر ظاہر نہ ہونے دیا تھا۔
میم عظمیٰ صاحبہ چونکہ ایک مثالی استاد ہیں اس لیے ہم تعلیمی حلقوں کے اپنے دوستوں اور اپنی بیگم سے اکثر ان کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ ہماری شدید خواہش تھی کہ میم صاحبہ سے ہماری بیگم کی ملاقات ہو۔ ایک دو مرتبہ ہماری بیگم سرگودھا اور لاہور کے اسفار کے دوران ہماری ہم سفر تھیں تو بد قسمتی سے میم عظمیٰ ملاقات کے لیے دستیاب نہ تھیں۔ میم عظمیٰ اور ڈاکٹر سلیم صاحب کو ہم نے میانوالی دورے کی دعوت دی تو پہلے ان کی مصروفیات اور بعد ازاں ڈاکٹر سلیم صاحب کی بیماری ان کے میانوالی دورے اور ہماری بیگم سے ملاقات میں رکاوٹ بنتی رہی۔
البتہ ہم نے ایک بار میم عظمیٰ کے گھر سے اپنے فون پر میم صاحبہ کی اپنی بیگم سے بات کرائی تھی۔ میم صاحبہ چائے کباب بھی بناتی رہی تھیں اور ہماری بیگم سے بات بھی کرتی رہی تھیں۔ کال کے اختتام پر ہمیں ایک مشورہ بھی دیا کہ مجیب کبھی اپنے استاد سے اپنی بیوی کی بات نہ کرائیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس مشورے میں کیا حکمت پوشیدہ تھی۔ شاید یہی کہ بیوی اپنے خاوند سے اور استاد اپنے شاگرد سے کبھی مطمئن نہیں ہوتا اس لیے ان دو کے درمیان بات ہونا بیچارے خاوند اور بیچارے شاگرد کے لیے دوہرے نقصان کا سبب بن سکتا۔ بہر حال میم عظمیٰ پر تحقیقی کام کرنے والے محققین کو ان کی اس رائے کے پیچھے کار فرما حکمت کا لازماً کھوج لگانا ہو گا۔
ایک مشہور مقولہ ہے کہ نیکی کر دریا میں ڈال۔ آج کل تقریباً ہم سب نے اس مقولے میں یہ تحریف کر رکھی کہ کچھ بھی کر فیس بک پر ڈال۔ ہم سے بھی یہ ’حرکت‘ سرزد ہوتی رہتی۔ اس طرح ہمارے مہربان بھی ہماری اکثر ’حرکتوں‘ (جنہیں ہم سرگرمیاں کہنے پر مصر) سے آگاہ ہوتے رہتے۔ اس کا کم از کم ہمیں ایک فائدہ یہ ہوا کہ ایک بار مئی 2015 ء میں (3) میم صاحبہ کے گھر لاہور میں ملاقات کے وقت ہمارے والد صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ میم صاحبہ چونکہ فیس بک کی وجہ سے ہماری سرگرمیوں سے خوب واقف تھیں اس لیے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے انھوں نے ہمارے والد صاحب سے ہمارے شکوے کرنے شروع کر دیے کہ مجیب بہت وقت ضائع کر رہا ہے۔
اس کا ایک ایک دن قیمتی ہے۔ یہ اپنے مقالے کو وقت دینے کے بجائے دیگر سرگرمیوں میں زیادہ مصروف رہتا وغیرہ وغیرہ۔ گویا جس طرح شعروں کے انتخاب نے غالب کو رسوا کیا تھا (4) اسی طرح فیس بک پر اپنی سرگرمیوں کو دکھاتے رہنا بھی اساتذہ کے سامنے شاگردوں کو رسوا کرنے کے لیے کافی ہے۔ خیر! جب ہماری اچھی خاصی کلاس لے لی گئی تو ہم نے عرض کیا کہ میم ہم اپنے پیشہ ورانہ معاملات میں بہت زیادہ مصروف رہتے۔ آپ بے شک بابا سے پوچھ لیں۔ بابا بھی ادھار کھائے بیٹھے تھے۔ انھوں نے بھی بہتی گنگا سے ہاتھ دھوتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بالکل بھی نہیں۔ یہ فضول سرگرمیوں میں اپنا وقت ضائع کرتا ہے۔ اس طرح یہ دن بھی اپنی دو طرفہ عزت افزائی کے حوالے سے کافی یادگار رہا تھا۔
ستمبر 2016 ء میں ہم نے بیرونی ممتحن کے ذریعے جانچ کے لیے جامعہ سرگودھا میں اپنا مقالہ جمع کرایا تھا جبکہ جنوری 2017 ء میں ہمارا زبانی امتحان ہوا تھا۔ ہمارے زبانی امتحان کے وقت بھی ہماری یہ عظیم استاد ہماری حوصلہ افزائی اور رہنمائی کے لیے ناصرف سرگودھا موجود تھیں بلکہ انھوں نے ہمارے کام کو مشکل قرار دیتے ہوئے ہمیں ممتحن صاحبہ سے اضافی نمبر بھی دلوائے تھے۔
دسمبر 2019 ء میں ہمارے معصوم لخت جگر محمد عمر نجیب اللہ خان نیازی کی وفات پر ہمیں دوسرے دن فون کیا۔ دوسرے دن فون کرنے کی حکمت سے اگرچہ ہم واقف تھے تاہم انھوں نے خود سے وضاحت پیش کر دی کہ میں کل سے خبر پڑھ چکی تھی لیکن مجھے شدت غم سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ مجھے لفظ نہیں مل رہے تھے اس لیے تمہیں کل فون نہیں کیا۔ دوسرے دن بھی آپ کی آواز اور لہجہ آپ کو لاحق صدمے کی گواہی دے رہا تھا۔ دوسرے دن بھی آپ کے پاس الفاظ کم تھے اور جذبات زیادہ۔ آپ کی یہ کال ہمارے صدمے میں کچھ لمحوں کے لیے ہی سہی ’تخفیف کا سبب بنی تھی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری یہ عظیم استاد صحت، ایمان، خوشیوں اور کامیابیوں والی لمبی عمر پائیں۔ آمین!
حواشی:
1۔ اس بات کی تصدیقی سند ہمیں پاکستان کی عظیم ادبی شخصیت ’پروفیسر منور علی ملک‘ جن کا بیک وقت اردو، انگریزی اور سرائیکی ادب میں اعلیٰ مقام ہے اور جو کئی کتابوں کے مصنف ہیں ؛ نے عطا کر رکھی ہے۔ انھوں نے ہماری تحریروں پر ایک تفصیلی تبصرے میں یہ بات کہی تھی۔
2۔
ایک بھی گہنا پاس نہیں تھا جب یہ چہرہ کندن تھا
سونا تن پر تب پہنا جب چاندی اتری بالوں میں
(شبنم شکیل)
3۔ یہ وہی دن تھا جب پاکستان میں طویل عرصہ بعد عالمی کرکٹ ہو رہی تھی اور اس دن قذافی سٹیڈیم لاہور میں پاکستان اور زمبابوے کے درمیان T۔ 20 میچ تھا۔ شاید 21 مئی کا دن تھا۔ میم کے گھر کے لیے چونکہ ہمیں قذافی سٹیڈیم کے قریب سے گزرنا تھا تو وہاں سکیورٹی کی غرض سے ٹریفک کو متبادل راستے دیے جا رہے تھے اس لیے یہ بات ذہن میں رہ گئی۔
4۔ کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
(غالب)


ضروری وضاحت: ڈاکٹر عظمیٰ سلیم صاحبہ کو ان کی ادبی خدمات پر صدارتی تمغہ ء حسن کارکردگی بھی عطا گیا گیا ہے۔ غلطی سے مضمون کے متین میں اس کا ذکر نہ ہو سکا۔جس پر میم عظمیٰ سے معذرت