آئین زندہ باد


جب 1973ء آئین کا منظور ہوا تو عام لوگوں کے ذہنوں میں شک پیدا کیا گیا کہ دین مقدم ہے یا آئین، آسمانی صحیفوں کی موجودگی میں کسی زمینی دستور کی ضرورت کیوں پڑی۔ سوال اٹھانے والوں نے اس بات پر زور دیا کہ مومن پر دین کی پاسداری لازم ہے آئین کی نہیں۔ چار سال بعد آئین بوٹوں تلے روندا گیا تو مذہب کے نام پر ایک شخص کو مطلق العنان بنانے کا راستہ ہموار ہوا۔ آئین کو پامال کرنے والوں نے ریاست(پاکستان) پہلے یا آئین روٹی نہیں دیتا جیسی باتوں سے بھی شہریوں اور ریاست کے مابین طے پانے والے معاہدے کے خلاف عامتہ الناس کے ذہنوں میں خناس بھرنے کی بھی کوشش کی۔

23 مارچ کا دن جو پہلی بار 1957ء میں یوم جمہوریہ یعنی ملک کے پہلے آئین کے نفاذ کے دن کے طور پر منایا گیا تھا۔ آئین کی معطلی کے بعد یوم پاکستان یا قرارداد پاکستان بن گیا اور اب بتدریج یوم دفاع بنتا جا رہا ہے۔ 23 مارچ کی تقاریب میں بھی آئین کا ذکر نہیں ہوتا۔ اب سب اس قرارداد کی بات کرتے ہیں جو متحدہ ہندوستان کی مسلم اکثریت والی شمال مغربی ریاستوں کو زیادہ خود مختاری دینے کے لئے 1940 میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں 21 مارچ کو پیش کی گئی تھی جس کی منظوری اجلاس کے اختتام پر 24 مارچ کو دی گئی تھی۔ گزرتے وقت کے ساتھ اس قرار داد کا اصل متن بھی یوم جمہوریہ کی طرح کتابوں سے غائب ہوتا جا رہا ہے۔ اب تو حال یہ ہے کہ لوگوں کو یاد بھی نہیں 23 مارچ کا دن اصل میں پاکستان کا یوم جمہوریہ ہے۔

مطالعہ پاکستان سکول اور کالجوں میں بطور لازمی مضمون پڑھایا جاتا ہے جس میں قائد اعظم کے چودہ نکات تو ہر امتحان میں پوچھے جاتے ہیں مگر آئین پاکستان یا اس کی کم از کم وہ شقیں جو بنیادی حقوق سے متعلق ہیں نہیں پڑھائی جاتیں۔ پارلیمان میں قانون سازی کی کارروائی، ضوابط اور طریقہ کار کے بارے میں نام نہاد تعلیم یافتہ لوگ بھی نہیں جانتے۔ حد تو یہ ہے امریکی صدارتی نظام کے بارے میں اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے باخبر ہوتے ہیں مگر وہ پاکستان کے نظام کے بارے میں لاعلم پائے جاتے ہیں کہ یہاں صدر کیسے منتخب ہوتا ہے اور اس کے کیا اختیارات ہوتے ہیں۔

جب سے دنیا میں قومی ریاستیں وجود میں آئی ہیں آئین کا اجرا ہوا ہے جو کسی بھی ریاست کی جغرافیائی اور قانونی حدود کا تعین کرتا ہے۔ جس ملک میں آئین کا وجود نہیں وہاں بے یقین اورعدم استحکام پایا جاتا ہے، بدقسمتی سے ایسے زیادہ تر مسلمان اکثریت کے ممالک ہیں۔ مغربی ریاستیں جہاں آئین اور قانون کا مکمل نفاذ ہے وہاں شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔ مشرق وسطیٰ جہاں مطلق العنان آمریت یا آئین اور قانون کا نفاذ نہیں وہاں لوگ امور ریاست میں شراکت دار نہیں اور نہ عام لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔ ایسی ریاستوں میں نہ کسی کی عزت محفوظ ہے اور ہی جان و مال کا تحفظ۔ مگر حکمران ہمیشہ مذہب کا نام پر لوگوں کو خوفزدہ رکھتے ہیں۔ آئین کے بغیر کسی ملک کا وجود طاقت کی بنیاد پر ہی قائم رہ سکتا ہے جس میں طاقتور ہمیشہ بالادست اور کمزور محکوم بن جاتا ہے۔ افغانستان، عرب اور افریقہ کے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں متفقہ آئین نہ ہونے کی وجہ سے کوئی شخص، خاندان، قبیلہ یا گروہ ریاست پر قابض ہے اور حکومت پر گرفت مضبوط کرنے کی اپنی چیرہ دستیوں کے لئے مذہب، ریاست یا قومی حمیت کو جواز بنایا جاتا ہے۔

 پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ یہاں پہلے تو آئین بن نہ سکا اور جب بن گیا تو کوئی بھی اس پر چلنے کے لئے تیار نہیں۔ اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ مذہب کے نام پر بنائے گئے اس ملک میں زیادہ تر مذہبی لوگ ہی آئین پر چلنے کو تیار نہیں۔ ملک میں فوج، پارلیمان، عدلیہ اور انتظامیہ کے عہدیدار آئین سے وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں اور اس کا پاس نہیں رکھتے۔ ہر دس سال بعد آئین پر نقب زنی ہوتی ہے اور جب بحال ہوتا ہے تو پھر شب خون مارا جاتا ہے۔ یوں اس ملک کا سفر ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے کی طرف ہی رہا ہے جس کے نتیجے میں سیاسی اور سماجی طور پر یہ ملک 1947 سے پیچھے ہی چلا گیا ہے۔

پاکستان میں ادارہ جاتی، طبقاتی اور مذہبی ضوابط آئین پر مقدم سمجھے جاتے رہے ہیں۔ تاجر جمہوریت کو نہیں مانتے اور کہتے رہے ہیں کہ وہ ان کو ٹیکس نہیں دیں گے جو منتخب ہو کر آتے ہیں۔ مذہبی لوگ آئین کو اپنے مذہبی عقائد سے متصادم سمجھتے ہیں جبکہ عسکری ادارے اپنے تنظیمی نظم و ضبط کو آئین سے بالاتر سمجھتے رہےہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ زیادہ تر سمندرپار جا بسے پاکستانی بھی یورپ اور امریکہ کی آئینی اور جمہوری ریاستوں میں رہنے کے باوجود اپنے ملک پاکستان میں جمہوریت اور آئین کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔

اس ملک کے بنانے والے محمد علی جناح نے خود گورنر جنرل بننا پسند کیا کیونکہ یہ رائج الوقت قانون کے تحت واحد عہدہ تھا مگر اس کے بعد بغیر کسی دستور اور قانون کے کوئی مارشل لا ایڈ منسٹریٹر اور کوئی چیف ایکزیکٹیو بن گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بطور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر عنان حکومت سنبھالا کیونکہ آئین کی پامالی کے بعد مارشل لاء کے ضابطے کے تحت سربراہ مملکت یا حکومت کا اس کے علاوہ کوئی عہدہ باقی ہی نہیں رہا تھا۔ قائد اعظم اور بھٹوخود قانون دان اور آئین پسند لوگ تھے جن کو معلوم تھا کہ نظام مملکت صرف ایک ضابطہ کے تحت ممکن ہے مگر آئین توڑنے والوں نے خود کو آئین سے ماورا سمجھا۔

آئین نہ کسی آسمانی صحیفے کا متبادل اور نہ ہی کسی انسانی ضابطے کا نعم البدل ہوتا ہے۔ یہ شہریوں اور ریاست کے مابین معاہدہ ہوتا ہے جو پرامن بقائے باہم کا ضامن ہوتا ہے۔ کسی بھی خطہ زمین پر رہنے والے آپس میں آئین کے نام پر ایک معاہدہ کرتے ہیں کہ وہ کیسے اکھٹے رہیں گے اور ان کے حقوق و فرایض کیا ہوں گے، فیصلے کیسے ہوں گے، حکرانی کیسے ہو گی اور انتقال اقتدار کیسے ہوگا۔ جن ممالک میں آئین اور جمہوریت کا فروغ ہوا ہے اقتدار کے لئے خونریزی ختم ہوئی ہے اور جہاں اس سے پہلو تہی کی گئی ہے شہریوں کے آپس میں اور ریاست کے ساتھ رشتہ اور تعلق کمزور رہاہے۔

جب سے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے خوف سے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نے تحریک مسترد کرنے کی خلاف آئین رولنگ دی ہے جس کے نتیجے میں اسمبلی کو برخواست کردیا گیا ہے۔ ملک میں بے یقینی کی فضا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں اس پر قانونی اور آئینی ماہرین کی طرف سے بحث جاری ہے۔ صرف سپیکر کے رولنگ ہی نہیں بلکہ آئین کی افادیت اور اہمیت کے حق اور مخالفت میں دلائل سامنے آئے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں دنیا کے ہر موضوع پر بات ہوتی ہے مگر اپنے ملک کے آئین پر بات نہیں کی جاتی وہاں یہ بحث انتہائی اہم ہے جس سے عامتہ الناس بالعموم اور طلبہ و نوجوانوں میں بالخصوص آگاہی ہوئی ہے۔

پاکستان ایک کثیرالقومیتی، کثیرالسانی اورمذہبی طور پر تکثیریت کا حامل ملک ہے جس کو 1973ء کے آئین نے جوڑ رکھا ہے۔ آس آئین کے تحت مذہبی عقائد میں آزادی، صوبائی خود مختاری اورہر ایک کی شخصی آزادی یقینی بنا دی گئی ہے۔ ملک کے نام سے لے کر حدود اربعہ اور اقتدار اعلیٰ کا تعین بھی اسی آئین میں کیا ہوا ہے۔

آئین کسی شخص ادارے یا طبقے کا نہیں ریاست کے تمام لوگوں کا ہوتا ہے جو ہر ایک کے حقوق کا محافظ ہوتا ہے۔ 3 اپریل 2022ء کو تاریخ میں پہلی بار کسی منتخب وزیر اعظم کی ایما پر پارلیمان میں ہونے والی آئین شکنی پر ملک کے تمام اداروں، ریاست کےستونوں اور خاص طور پرعام لوگوں نے جس رد عمل کا مظاہرہ کیا اس کو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ امید ہے کہ ادارے اور عام لوگ اپنے آئین کا ایسا ہی دفاع کرتے رہیں گے تو کسی طالع آزما کو جرات نہیں ہوگی کہ وہ ملک کے متفقہ آئین پامال کرنے کی جرات کر سکے۔ آئین زندہ باد۔

آئین پاکستان پر میری تحریر یہاں ختم ہوئی مگر ایک بات کہے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتی کہ پاکستان کے ساتھ جڑا گلگت بلتستان 75 سال سے بے آئین ہے۔ جہاں پاکستان کے ادارے اور لوگ آئین پاکستان کا دفاع کرنے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں وہاں پر خطہ بے آئین گلگت بلتستان کے عوام کے لئے بھی آئینی تحفظ کا بندوبست کیا جائے تاکہ وہ بھی اپنے بنیادی حقوق کی ضمانت کے ساتھ زندگی گزارنے کے اہل ہوں۔ یہ بات گزشتہ ایک ہفتے میں ہونے والی بحث اور مباحثے میں سب کو سمجھ آگئی ہے کہ شہریوں کے درمیان اور ریاست کے ساتھ واحد رشتہ آئین کا ہی ہوتا ہے نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 256 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan