ان سے امید نہ رکھ ہیں یہ سیاست والے


آج کل ہمارے چہار اطراف سیاست کا دور دورہ ہے، جدھر دیکھو سیاست، جس سے بات کرو سیاست۔ دفتر، گھر، بازار ہر جگہ سیاست۔ دوست، عزیز، رشتہ دار سب سیاستدانوں اور مبصرین کا روپ دھارے ہوئے ہیں۔ ذرا سی بات شروع ہوئی نہیں وہ ہاہاکار مچ جاتی ہے کہ خدا کی پناہ۔ آرام سے بیٹھے بٹھائے لوگوں کے بیچ کوئی شر پسند اگر ایک سیاسی چٹکلے کی دیا سلائی پھینک دے تو یک دم ایک آگ سی بھڑک اٹھتی ہے اور پھر اس آگ کو شعلوں میں تبدیل ہونے میں بھی زیادہ دیر نہیں لگتی۔

عجیب تماشا لگا ہوا ہے۔ کوئی آئین پاکستان کے آرٹیکل پڑھ پڑھ کر اور کوئی ان کی تشریح کر کر کے لوگوں کو سناتا پھر رہا ہے۔ گلی محلے، تھانہ کچہری اور نالی سولنگ کی سیاست کرنے والوں کا لیول اچانک اس قدر بلند ہو چکا ہے کہ وہ عالمی سیاسی معاملات مٹھی میں لیے پھر رہے ہیں اور روس و یوکرین کے مابین جنگ کے محرکات اور مابعد اثرات پر بلیغ تقریر کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ عظیم تجزیہ کار دنیا کے کسی حصے میں ہونے والی جنگ، جھڑپ یا بے چینی کا کسی نہ کسی طرح پاکستان کے ساتھ ناتا ضرور جوڑ لیتے ہیں۔ اسی طرح کے ایک واہیات قسم کے مبصر نے اگلے روز شمالی اور جنوبی کوریا کے باہمی تنازع کے حل میں پاکستان اور پاکستان وزیراعظم کے ممکنہ کردار پر سیر حاصل گفتگو کی۔ اس طرح کی ثقیل گفتگو سننا چنداں آسان نہیں ہے لیکن قدرت کو پتہ نہیں کیا منظور ہے وہ اس طرح کے کام آج کل ہم سے کثرت سے لے رہی ہے۔

فیس بک، انسٹا گرام، ٹویٹر اور یو ٹیوب جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سیاسی گفتگو اور پوسٹس سے بھرے پڑے ہیں۔ ایسے میں ان نیم حکیموں کا چورن بہت بک رہا ہے جو یہ کہہ کر مجمع لگانا جانتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی خاص معجون ہے، ایسا نسخہ جو نہ کبھی کسی نے دیکھا نہ سنا۔ یہ لوگ ایک جملے کی بات کو لسی بنا کر اتنا لمبا کر لیتے ہیں کہ پورے دس بارہ منٹ کی ویڈیو تیار کر کے اپلوڈ کر دیتے ہیں، سستا سیاسی نشہ کرنے والے فوراً سے بھاگ کر ویڈیو پر چڑھ دوڑتے ہیں اور اس امید پہ پوری ویڈیو دیکھ ڈالتے ہیں کہ شاید اب کوئی کام کی بات کرے گا۔ مگر دس بارہ منٹ گزرنے کے بعد سوائے ذہنی خلجان کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔

پچھلے دنوں ایک چھوٹے سے سفر کی غرض سے ایک ہائی ایس میں سوار ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ گاڑی میں جنگ و جدل کا سا سماں تھا۔ گاڑی، گاڑی نہ ہو گویا کوئی میدان جنگ ہو۔ آٹھ دس مسافر دو حصوں میں منقسم ہو کر اپنی اپنی پارٹی اور لیڈران کی تعریف و توصیف اور دفاع میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے تھے، جبکہ مخالف گروہ کے لوگ انھی لیڈران کو چور، ڈاکو اور غدار ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔ ایک سن رسیدہ بزرگ جن کے بیشتر دانت زمانے کی دست برد کے ہاتھوں داغ مفارقت دے گئے تھے وہ اس مباحثے کے سب سے متحرک رکن تھے۔

ان پر جب بھی کسی دلیل کی آمد ہوتی وہ بلا تردد اس کو بیان کرتے ہوئے اپنا پورا زور لگا کر بولتے تو کئیوں کو لعاب دہن کی پھوار سے فیض یاب کر ڈالتے۔ بابا جی کو سامنے بیٹھے ایک دو اشخاص نے اس عمر میں ایسی جارحانہ بلے بازی سے منع بھی کیا مگر ایک سیاسی پارٹی کے عشق میں ان کی سنی ان سنی کرتے ہوئے بلاتکان بولتے چلے جاتے۔ ان میں سے ایک دو کی منزل آئی تو ہماری جان میں جان آئی۔ خدا جانے سیاست کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھا ہو گا، میں تو اپنی منزل مقصود پہ اتر گیا لیکن طویل وقت تک اس دھواں دار بحث کے زناٹے دار جملے میری سماعت سے ٹکراتے رہے۔

ذہن میں خیال آتا ہے کہ اس طرح کے حالات میں کتنے ہی بہترین دوست فضول بحث مباحثے میں ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ سیاست دانوں کو سب سے پہلے اپنی کرسی عزیز ہوتی ہے۔ یہ اپنی کرسی بچانے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر ڈالتے ہیں۔ نادم ندیم نے کیا خوب کہا ہے

ان سے امید نہ رکھ ہیں یہ سیاست والے
یہ کسی سے بھی محبت نہیں کرنے والے

وقت اور حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے، سیاسی معاملات تبدیل ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ شدید سیاسی مخالفین ایک دوسرے کے سامنے ایک میز پر بیٹھ جاتے ہیں۔ حکومتوں کے بننے بگڑنے کے عمل میں کئی اتحاد جنم لیتے ہیں اور ٹوٹتے ہیں لیکن اس دوران کج بحثی میں ہاتھ سے گئے پر خلوص رشتوں اور دوستیوں میں ایسا بال آ جاتا ہے کہ یہ آئینے پھر بعد میں ویسے نہیں رہتے۔

ایسے میں مجھے محترم جناب قاسم علی شاہ صاحب کے وہ چند جملے یاد آتے ہیں جو انھوں نے چند روز قبل ایک تربیتی سیشن میں کہے تھے ”ٹھیک ہے سیاست ہماری ضرورت ہے لیکن اتنی نہیں جتنا ہم نے اس کو اپنے اعصاب پہ سوار کر لیا ہے۔ ہمارا مسئلہ صرف سیاست نہیں ہے، ہمارے اور بھی بہت سے مسائل ہیں، ان پر بھی توجہ دینی چاہیے، ان پر بھی گفتگو ہونا چاہیے۔ آخر میں اظہر عنایتی کا یہ شعر ملاحظہ ہو

وہ تازہ دم ہیں نئے شعبدے دکھاتے ہوئے
عوام تھکنے لگے تالیاں بجاتے ہوئے۔

Facebook Comments HS