عورت اور وحشیوں کا پنجرہ


وحشیوں کے پنجرے میں قید رہنا اور نا انصافیوں کے پہاڑ تلے خود کو دبوچنا آج کی عورت کا مقدر بن چکا ہے۔ یہ وہ عورت ہے کے جس کی مثال سات قرآن سے دی جاتی ہے مگر اس زمانے کی پڑھی لکھی جاہل انسانیت کے بت میں چھپے درندوں کو اس عظمت اور حیثیت سے کوئی تعلق نہیں لگتا جب وہ نام نہاد مردانگی کا ثبوت دینے عورت پر جھپٹ پڑتے ہیں۔

زندگی کے خوبصورت رنگوں سے رنگنے کے بجائے آج عورت کو خون کے لال رنگ سے لت پت کیا جاتا ہے جہاں پر اس کے سر پر تحفظ کا دائرہ کرنے کے بجائے اس کا سر دھڑ سے الگ کیا جاتا ہے اور جب سیاہ کالی رات میں کسی سڑک پر پھنس جائے اور اپنے بچوں کو آنچل میں چھپائے کسی مدد کی راہ دیکھے تو اسے جھاڑیوں سے بھیڑیے آ کر نوچ جاتے ہیں اور تا عمر اس کے بچے خون کے آنسوں روتے ہیں ماں جیسی عظیم ہستی کو لٹتے دیکھ کر اور جہاں پر اپنے ہی گھر کے رکھوالے باپ اور بھائی کی صورت میں اپنی ہی عورتوں کی سانسوں کی مالا کو غیرت کے نام پر ذرا ذرا کر دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ ان پاکستان کی مظلوم عورتوں کا ذکر ہے جسے لکھتے ہوئے ایک عورت ہونے کے ناتے میری روح کانپ اٹھتی ہے مگر یہ وہ سچ کا تخت ہے جس پر بیٹھ کر گواہی نا دی جائے تو سارے خون رائگاں کیے جائیں گے۔

8 مارچ ایک اور بار بڑی زور اور شور سے منایا گیا جس میں الیٹ کلاس کی عورتوں نے ہاتھوں میں بینرز تھامے ساری مظلوم عورتوں کے حق میں نعرے لگائے مگر انہیں بینرز میں سے ان ساری مظلوم عورتوں کی آوازیں چیخ چیخ کر گواہی دی رہی تھیں کہ ہمیں فقط نعرے لگانے کے بجائے کچھ نہیں ملا ہم آج بھی سفید کفن اوڑھے اپنے انصاف کے لیے منتظر ہیں جو کہ شاید عدالتوں کی معزز چار دیواروں میں کے یں نہیں ملنے والا۔ اب یہ عورتوں کا دن فقط عورتوں کا دن ہونے کے بجائے ہمارے عظیم ملک میں مظلوم عورتوں کے دن کے طور پر منایا جانا چاہیے اور اس دن ساری عورتیں سر پر کفن باندھے ان سارے اعلیٰ ایوانوں j کے دروازے کھٹکھٹاتی نظر آنی چاہیے جو انصاف اور قانون کے بنانے والے اور رکھوالے ہیں۔

گزشتہ سال اور گزرے چند مہینے عورتوں کے لیے خوفناک ثابت ہوئے ہیں مگر یہ شاید کوئی نئی بات نہیں یہ بھی اب ایک رسم کی طرح ہی ہے جو آئے دن پوری کی جاتی ہے۔ ملک کے ہر کونے میں دیہات سے لے کر دارالحکومت ہو یا قبیلوں یا سرداروں کے علاقے ہوں، چھوٹے گھرانے کی لڑکی ہو یا پاکستان کے سابق وزیر خارجہ کی بیٹی ہو یہ مردانہ غلبے والی سوسائٹی یہاں سب کو نگل جاتی ہے۔ پاکستان میں صنفی امتیازی سلوک کی تعداد بہت زیادہ ہے جس کے کئی سبب ہوسکتے ہیں اور ان میں سب سے نمایاں ہیں تعلیم کی کمی، شعور کی کمی، غربت اور زن بیزاری اور ان سب میں ریاست کا غیر ذمے دار ہونا اصل وجہ ہے جو ان سب برائیوں کو جڑ سے کاٹنے کے بجائے ان کو پالتی ہے۔

2021 میں domestic violence ( prevention and protection) بل اسمبلی میں لایا گیا جو ہر قانون بنانے والی کی میز پر فقط خواری دیکھتا رہا اور یہی وہ لوگ ہیں جو درندوں اور وحشیوں کو ہاتھ سے بڑھاوا دیتے ہیں ظلم کے پہاڑ توڑنے کے لیے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی نا انصافی کے خالی کاغذ لے کر دفنانے جاتا ہے تو وہیں ملزم اپنا زور چلا کر باعزت بری کر دیا جاتا ہے خاص طور پر جب کوئی مظلوم غریب طبقے کا ہو۔ اسمبلی میں بیٹھے معززین کو صدیاں لگ گئیں غیرت کے نام پر مارنے والوں کے لیے نجات کا راستہ بند کرنے کے لیے جو انہیں اپنی فیملی والے معاف کر کے دیتے تھے۔ یہ تبدیلی قندیل بلوچ کے بے جا قتل کے بعد آئی جب قندیل کو اپنے ہی بھائی نے گھر کی عزت پامال کرنے کی وجہ سے مار دیا۔

تھامس رائیٹرز فاؤنڈیشن پول کی 2018 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پوری دنیا میں چھٹے نمبر پر عورتوں کے لیے خطرناک ملک ہے وہیں پر عورت فاؤنڈیشن کے وسائل سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سال پورے پاکستان میں عورتوں پر تشدد کے 2,297 کیس درج ہوئے ہیں جن میں 57 ٪ سب سے زیادہ بڑے صوبے پنجاب میں رپورٹ ہوئے۔ ان تشدد کے کیس میں اغوا/اغوا برائے تاوان، قتل، جنسی زیادتی/اجتماعی جنسی زیادتی، غیرت کے نام پر مارنا اور گھریلو تشدد آ جاتے ہیں۔

ریسرچرز کے تے ہیں کہ یہ تعداد کافی کم ہے کیوں کہ زیادہ تر کیسز درج تک نہیں کیے جاتے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ آج کی عورت پہلے سے زیادہ باشعور ہے اور اپنے خلاف ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کر سکتی ہے جس کی بنیادی وجہ آج کل سوشل میڈیا کا استعمال ہو گیا ہے جو ہر قسم کی رپورٹ لمحوں میں وائرل کر کے آگاہی کا سبب بنتی ہے اور ہر حق کے لیے لڑنے والی عورت کی آواز کو بلند کرتی ہے۔

حبا اکبر، جو کہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں قانون پڑھاتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ، ”آج کل کوشش یہ ہے کہ ان تشدد کے کیسز کو ایک جرم مانا جائے اور سزائیں تو کافی بعد میں آتی ہیں۔“ پاکستان کی ریاست میں عورتوں کا تحفظ کرنے کے لیے کوئی خاص انسٹیٹیوٹ تو نہیں بنائے گئے جو چند آرگنائزیشن عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں ان کو بھی وومن کارڈ کھیلنے کے القابات سے نوازا جاتا ہے۔

جو ریاستیں اپنی ہی عورتوں کا تحفظ نہ کر سکیں اس ملک کی ہر عورت ہر آئے دن کے یں نا کے یں پر نوچی دبوچی اور ٹھکرائی جائے گی۔ ان حالات میں آنے والے وقت کا سوچ کر ہی جسم کانپ اٹھتا ہے۔

Facebook Comments HS