روایت اور جدت سے ہم آہنگ ” شبیر نازش”


دور جدید میں جہاں مادے اور تکنیک کے غلبے نے انسان کے مقتضیات کے اور ان کے تعینات تبدیل کیے وہیں روایات جدت سے تکرار کے باعث اجنبیت کی شکار معلوم دیتی ہیں۔ شاعری کے میدان میں جدید اور روایتی شاعری میں امتزاج کی کمی نظر آتی ہے مگر آج بھی ایسے شاعر موجود ہیں جو دونوں اسلوب کو ضروری اور اہم سمجھتے ہیں۔ آج کے دور میں اس بات کا فقدان ہے کہ روایات اور جدت کے رشتے کو شاعری میں استوار کیا جائے مع اقدار اور ترقی دونوں کو ملحوظ رکھا جائے۔

شبیر نازش آج کے دور جدید میں ایک ایسا شاعر ہے جس کا مصرعہ روایت کی پاسداری میں جدت کے تقاضے بھی پورے کرتا ہے۔ شبیر نازش نے اپنی شخصیت اور مزاج کی حفاظت میں جہاں روایتی شاعری کو اپنا موضوع خاص بنایا وہیں جدید اسلوب اور انداز بھی اکثر ان کی غزلوں میں موجود ہوتا ہے۔ ہمارے مضامین کا خاصا ایک شاعر کے حال احوال کے بجائے ان نکتوں کی طرف نشاندہی ہوتی ہے جو اس کی شخصیت کو تاریخی بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

آج 2022 میں ایک مسئلہ درپیش ہے کہ دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ شاعری اور روایتی شاعری کے حامی آپس میں ایک سرد جنگ لڑتے محسوس ہوتے ہیں۔ جہاں 2022 نے بہت سے روایتی شاعروں کو جدید شاعر بنایا وہیں شبیر نازش نے روایات کا پاس رکھتے ہوئے جدید شاعری کا حسن بھی بڑھایا ہے۔ شبیر نازش نے خوب صورت انداز میں ایک قسم کی شاعری کے بجائے دور جدید کو ملحوظ رکھتے ہوئے روایتی مسائل اور احساسات کو اپنے اشعار میں غیر معمولی انداز میں منظوم کیا۔

شبیر نازش کا تعلق میاں چنوں سے ہے اور ان کی شاعری میں پنجاب کی روایات اور اقدار کا احساس انسانی حسیات میں شائستگی کا عنصر اجاگر کرتا ہے۔ شبیر نازش 1980 میں پیدا ہوئے اور عنفوان شباب سے قبل ہی الفاظ کو اشعار میں منظوم کر شاعری کے میدان میں اپنے ہونے کے اثبات و اشغال میں مصروف نظر آئے۔ ان کی ذاتی شخصیت نہایت حساس اور کائناتی حسن و جمال پر مبنی ہے جس سے پھیلتے رنگ ان کی شاعری میں بہ آسانی نظر آ جاتے ہیں۔

آج دور جدید نے جہاں شاعری کے شعور کو ایک مختلف تعریف دی ایسے میں شاعری کے اکابر اور روایات کے پاس رکھنے والے بھی اپنی شاعری کے انداز اور تکنیک کو بدلنے پر مجبور ہو گئے۔ روایتی شاعری، زبان کی قدر اور اس کے اصولوں پر کاربند شاعر بھی آج جدت کی رو میں بہتے ہوئے روایات اور جدیدیت دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ایک جدید شاعر شعور اور قابلیت میں اضافہ کرنے میں ماہر نظر آتا ہے مگر روایتی شاعر جدید شاعری کرتے ہی اپنے پیغام اور اسلوب کو برقرار رکھنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔

شبیر نازش کا کمال اپنے اسلوب کی پاسداری کے ساتھ ساتھ عوام کی سمجھ کے مطابق شاعری کرنا ہے جس سے نسل نو ان کی شاعری میں اپنا عکس محسوس کرنے لگتی ہے۔ شبیر نازش نے شہر اور گاؤں کے مناظر مع اپنے تجربات کو شاعری میں موضوع بنایا۔ ان کے پرستار ان کی شاعری اور ان کی شخصیت کو اکثر اپنی باتوں میں جگہ دیتے ہیں۔ ادبی منظرنامے کے مؤقر اور عوامی سطح پر ایک عام شخص بھی ان کی شاعری میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہی شہرت ان کی کامیابی کی بنیادی وجہ بھی ہے۔ شبیر نازش کے اشعار میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں :

وصل کی شب، شب برات مجھے
پھر بھی ہیں کچھ تحفظات مجھے
عریاں کرتا ہے مجھ کو اجلا دن
ڈھانپتی ہے سیاہ رات مجھے
گرنے لگتا ہوں جب بھی منصب سے
تھام لیتا ہے کوئی ہاتھ مجھے

مندرجہ بالا غزل کے اشعار شبیر نازش کے مشہور کلاموں میں سے ایک ہے، جس کو ژرف نگاہ سے دیکھنے پر روایات اور جدیدیت کے مفاہیم سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ مندرجہ بالا اشعار میں شبیر نازش نے کیفیات اور قصد کا جس طرح سے نمونہ پیش کیا وہ قابل ستائش ہے۔

اسے بھی کار جہاں سے نہ مل سکی فرصت
مجھے بھی ہو گئی تاخیر عجلتوں سے ادھر

مندرجہ بالا شعر کا اسلوب اور بحر شبیر نازش کا خاصا ہے۔ جس طرح سے شبیر نازش الفاظ کے مستعار ہونے کے امکانات پر توجہ دیتے نظر آتے ہیں وہ قابل تحسین ہے۔ استعاروں سے روز و شب کھیلتا شبیر نازش حقیقی دنیا کے لیے ایسی مثال ہے جو تاریخ میں سفر کرتی ہے۔

شبیر نازش کی شاعری میں فرد کے احساسات کو موضوع بنایا گیا اور روایت کو سادگی اور جدت کو ضرورت تصور کیا۔ سادہ صفت شبیر نازش اپنی شاعری سے بے تحاشا مسائل اور احساسات کو رقم کرنے میں ماہر ہیں۔

یہ مسکرانا، ادائیں دکھانا، اٹھلانا
تری طرف سے سفارت نہیں تو پھر کیا ہے

شبیر نازش نے رومانوی شاعری کے روایتی تراکیب کو مدنظر رکھ کر جدیدیت کی نظر کیا۔ ان کی شاعری جہاں ادب برائے ادب میں ایک مقام رکھتی ہے وہیں ادب برائے زندگی پر بھی شبیر نازش کی تصریحات ان کے مداحوں کو ان کا دیوانہ بنا دیتی ہیں۔ شبیر نازش نے پاکستان میں کئی مشاعرے پڑھے اور تقریباً ہر شہر میں ان کو مدعو کر کے ادبی نشستوں کو زینت بخشی جاتی ہے۔

جتنا چاہے گریز کر مجھ سے
تیرے ماتھے پہ ہوں لکھا ہوا میں

شبیر نازش کے اشعار بلا تردید اکابرین کے نزدیک مقبول و معروف ہیں۔ شبیر نازش کی شاعری مداحوں کے لیے اس انداز میں ہوتی ہے جیسے وہ نسل نو کو اسباق فراہم کر کے ایک نصاب کی تدریس میں اشتعال کا مظاہرہ کر رہے ہوں۔ آج ادبی منظر نامے سے ہٹ کر اگر عمومی سطح پر بات کی جائے تو قاری اور سامع دور جدید میں ایسی شاعری کا طالب ہے جو اس کو بہ آسانی سمجھ آئے اور آج کے دور کا عکس بھی ہو۔ اس کے برعکس ایک طبقہ وہ ہے جو ادب کی روایات سے خود کو الگ نہیں کرتا اور شاعری میں روایتی انداز کو ملحوظ رکھنا ملزوم قرار دیتا ہے۔ شبیر نازش نے اس افتراق کو زیر بحث لاکر ایک نئی تکنیک پر کام کیا جس سے دونوں طرح کے شدید رویوں میں اعتدال قائم کیا جا سکے۔ اس اعتدال نے جہاں روایت کو برقرار رکھا وہیں دور جدید کے اسلوب کو بھی اپنی ترجیحات سمجھا۔ روایت اور جدت کا اس طرح سے ملاپ شبیر نازش کی شاعری کو منفرد بناتا ہے۔

شبیر نازش کی کتاب ”آنکھ میں ٹھہرے ہوئے لوگ“ کو ادبی منظر نامے پر خاص مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کتاب میں غزلوں کا انتخاب اور شبیر نازش کی ابجار پر گرفت کا اندازہ بہ آسانی کیا جاسکتا ہے۔ ان کی شاعری میں انا، محبت، خواہشات، ترمیمات زندگی، انفسی اور آفاقی موضوع زیر بحث نظر آتے ہیں۔ ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کا اس طرح کا مجموعہ ان کے مداحوں میں اضافے کا سبب بنا اور ان کو قومی سطح پر مقبولیت حاصل ہوئی۔

اگر شبیر نازش نے اسی طرح روایت اور جدید طرز کا خیال رکھتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھا تو وہ روایتی اور جدید منظر نامے پر اپنے گہرے اثرات چھوڑ جائیں گے۔ ان کی کاوشیں اور جہد ان کی مسافت کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور ان کے تاریخی شاعر ہونے کی دلیل ہیں۔

الغرض یہ کہنا بہت ضروری ہے کہ آج جدید دور کے تقاضے ہمیں جہاں جدید ہونے کا درس دیتے ہیں وہیں روایات ہم کو ہماری شناخت اور تاریخ سے جوڑے

رکھتی ہیں۔ ایک شاعر اگر صرف جدت کے قوانین پر منطبق شاعری کرتا ہے تو یہ کامل تصورات میں سے نہیں اور اگر کوئی شاعر روایتی انداز میں شاعری کو اپنا موضوع بناتا ہے تو یہ آج کے دور میں ناکافی ہے۔ شبیر نازش کے شعری مجموعے کو پڑھ کر خوشی ہوتی ہے کہ جہاں انہوں نے جدیدیت کو اپنی شاعری میں جگہ دی وہیں روایاتی انداز سے انکار نہیں کیا۔ ان کا خاص اسلوب ہے کہ روایتی غزل میں اچانک وارفتگی کے ساتھ یک دم جدید شعری تقاضے پر مبنی شعر بھی مل جاتا ہے۔ آخر یہ کہنا درست ہو گا کہ شبیر نازش نے روایتی شاعری اور جدید شاعری کے امتزاج اور ان کے درمیان ہم آہنگی کا ایسا رشتہ استوار کیا ہے جو آج کے دور کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کے شعراء میں شبیر نازش کو اسی وجہ سے پذیرائی کا غیر معمولی سامنا رہتا ہے اور وہ اپنے شاعری کے سفر کو بلا خوف طے کیے جا رہے ہیں۔

Facebook Comments HS