تبدیلی سرکار کی تبدیلی اور پاکستانی سیاست


حکومتوں کی تبدیلی کے وقت اکثر و بیشتر پاکستان کی سالمیت خطرے میں رہتی ہے اور ملک نازک دور سے گزر رہا ہوتا ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے عوام میں شعور کی سطح گھونگے کی رفتار (Snail ’s pace) سے قدرے بلند ہوتی جا رہی ہے۔ اگر ملکی سیاست کی بات کی جائے تو آج تک کوئی بھی وزیراعظم کبھی بھی اپنی مدت پوری نہیں کر پایا جس کی بنیادی وجہ اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کی خرابی ہے۔ پاکستان میں سیاسی حکومتوں کی تبدیلی ہمیشہ مخالف سیاستدانوں کی فوج کے سربراہ سے معاملات طے پانے کے بعد ہوتی رہی ہے۔

حالیہ برسوں میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ ہر جاتی حکومت آنے والی حکومت پر خفیہ دروازے سے اقتدار میں آنے کا الزام لگاتی رہی ہے۔ اپریل 2017 میں نواز شریف کو سپریم کورٹ سے نا اہل کروا کر ہٹایا گیا تو اپوزیشن اسے آئین و قانون اور جمہوریت کی فتح قرار دینے کے ساتھ ساتھ فوج کی غیر جانبداری کو بھی داد دیتی رہی اور آج ٹھیک چار سال کے بعد اسی طریقہ کار سے عمران خان کو بھی اقتدار سے نکال باہر پھینکا گیا اور مخالفین ایک مرتبہ پھر اسے آئین و جمہوریت کی فتح کے ساتھ ساتھ فوج کی غیر جانبداری کو بھی داد دے رہے ہیں۔

اقتدار کی منزل تک پہنچنے والی جماعت کو ہمیشہ فوج غیر جانبدار دکھائی دیتی رہی ہے مگر اقتدار سے فراغت کے بعد فوج کی جانبداری پر تنقید شروع کر دی جاتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاستدانوں اور سیاسی کارکن صرف اقتدار کے حصول ہی کو اپنی جدوجہد کی منزل سمجھتے ہیں جس کے لئے وہ کسی بھی طاقتور ادارے سے کسی بھی طرح کی حمایت حاصل کرنے کے لئے انتظار میں رہتے ہیں۔ شاید اسی لئے ایک سیاسی رہنما جب اقتدار میں آ کر اپنی مرضی کے فیصلے کرنے کی جسارت کرتا ہے تو اسے بے آبرو کر کے اقتدار سے چلتا کیا جاتا ہے۔

عمران خان کو بھی تقریباً اسی طرح اقتدار سے جانا پڑا۔ طاقتور حلقوں کی جانب سے اگر عمران خان کو مزید ڈیڑھ سال کا وقت دیا جاتا تو شاید عمران خان سیاسی اعتبار سے مردہ ہو جاتا مگر مہنگائی کے باعث عمران خان کی بدنام حکومت کے باوجود جس طرح لوگ عمران خان کی حمایت میں نکلے ہیں یہ قدرے حیران کن ہے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ رمضان میں عام طور پر نوجوان سحری تک جاگتے رہتے ہیں اور چونکہ حکومت کے خاتمے کا پہلا پہلا روز ہے لہذا لوگوں کا جوش و جذبہ فطری رد عمل ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ رد عمل دیر پا رہ سکے گا یا نہیں؟

میں سمجھتا ہوں کہ عدم اعتماد سے عمران خان ملکی سیاست میں دوبارہ زندہ ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا کے ہوتے ہوئے میڈیا پر کوریج نہ دینے سے عمران خان یا کسی بھی سیاسی جماعت کے لیڈر کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ جس طرح نواز شریف نے خلائی مخلوق کا بیانیہ دیا اور مقبول ہوا اسی طرح ملکی سالمیت کے محافظ اداروں سے متعلق جس طرح دائیں بازو کے لوگ ٹرینڈ چلا رہے ہیں یہ لمحہ فکریہ ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے بلاشبہ آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے حکومت کو تبدیل کیا ہے مگر کس کی حمایت سے کیا ہے یہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے کارکنان بھی جانتے ہیں کہ جہاں بلوچستان عوامی پارٹی کے لوگ بھی حکومت چھوڑ کر چلے گئے اور جام عبدالکریم جیسے لوگ مضبوط گارنٹی پر بلاخوف و خطر عدم اعتماد کا ووٹ ڈالنے پاکستان واپس آ گئے جس طرح پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کو پانچ سال پورے کرنے دیے گئے اسی طرح عمران خان کو بھی پانچ سال پورے کرنے دیے جانے چاہیے تھے۔

عمران خان کی سیاسی کامیابی یہ ہے کہ جاتے جاتے جو بہترین سیاسی کارڈ کھیل گیا ہے وہ یہ ہے کہ مہنگائی سے ساری توجہ ہٹا کر ایک Crowd Pulling Narrative (ریاستی خودمختاری اور قومی وقار کا بیانیہ) دے گیا ہے جس کی وجہ سے عوام کل رات سڑکوں پر نکلی ہے۔ اگر اسی عمران خان کو پانچ سال پورے کرنے دیے جاتے تو آئندہ بمشکل تیس سے چالیس سیٹیں نکال سکتا اور نہ عمران خان کے پاس عوام کو چارج کرنے کا کوئی پرکشش نعرہ موجود ہوتا۔

آئندہ دنوں میں پاکستانی سیاست نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گی۔ اس پورے عمل میں سب سے زیادہ فائدہ نون لیگ کو ہوا کہ وہ عدالتوں اور جیلوں کے چکر لگانے کے بجائے اب اقتدار کے مزے لوٹے گی اور مسلم لیگ نون کے قائد بھی واپس پاکستان لوٹ کر آئندہ انتخابات کے لئے انتخابی مہم چلائیں گے۔ اس پورے عمل کے نتیجے میں سامنے آنے والا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے رات کو عدالتیں لگا کر یہ تاثر دیا کہ یہ عدالتیں صرف ہائی پروفائل لوگوں کی ایماء پر ہائی پروفائل کیسوں کی سماعت کے لئے کھل سکتی ہیں جبکہ عام آدمی نچلی عدالتوں ہی سے سزا پا کر پھانسی لگ جاتا ہے مگر سالوں تک بڑی عدالتوں میں اس کی اپیل کی شنوائی نہیں ہو سکتی۔

اس طبقاتی تفریق نے مہر ثبت کی کہ پاکستان میں طاقتور و کمزور کے لئے علیحدہ علیحدہ قوانین ہیں جس پر کسی بھی سیاسی جماعت نے بات کرنے سے گریز کی۔ اگر سیاسی جماعتیں ستر سالوں میں عوام کو انصاف فراہم کرنے کے لئے عدالتوں کا وقت تعین کرنے کے لئے کوئی آئین سازی نہیں کر سکیں تو ایسی سیاسی جماعتیں صرف اقتدار کے حصول ہی کو عوام کے لئے بڑی کامیابی سمجھتی ہیں اور عوام بھی ماشاء اللہ اسی کو اپنی جیت سمجھتی ہیں ہمارے ہاں ایک سیاسی کارکن اپنے بنیادی حقوق سے نابلد ہے اور صرف سٹپنی کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ میر تقی میر کے نے کیا خوب فرمایا!

میرؔ کیا سادے ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

Facebook Comments HS