حسینہ کی سوتن
حسینہ اگر کچھ بہتر حالات میں پرورش پاتی تو شاید اپنے نام کی کچھ لاج رکھ لیتی مگر غربت اور افلاس نے شکل و صورت اور جسم کو وہ اٹھان نہ بھرنے دی جو اسے حسین کہلواتی۔ اس کے چہرے پر صرف آنکھیں ایسی تھیں کہ اگر ان پر غور کیا جاتا تو شاید کچھ تیراک پیدا ہو جاتے۔ جوانی کی منڈیر پھلانگتے ہی ماں باپ نے کھونٹے کی گئیا کھولی اور بشیرے کے تھان پر باندھ دی اب وہ جانے اور حسینہ بی بی۔
بشیر عرف بشیرا دیہاڑی دار مزدور تھا جس کے اپنے گھر میں اتنے رولے (مسائل) تھے کہ اسے حسینہ کے حسن کو کھوجنے کی نہ فرصت تھی نہ وقت۔ حیاتیاتی تعلق کے بدلے سال بھر میں ایک بیٹی سینے اور دھرتی کا بوجھ بڑھانے چلی آئی۔ اس سارے عرصے میں حسینہ آئینہ اور بشیرا حسینہ کو دیکھنے سے کتراتا رہا۔ زندگی کی کتربیونت کرتے جانے کیسے اسے احساس ہوا کہ بشیرا اور وہ ایک چھت تلے نہیں رہ سکتے۔ بشیرا دیہاڑی دار مزدور تھا۔ دیہاڑی لگی لگی نہ لگی نہ لگی حسینہ کی جوانی کب تک دیہاڑیوں کے انتظار میں رہتی بیٹی کو سینے سے لگائے ماں باپ کے گھر واپس آ گئی اور سمجھانے بجھانے کے باوجود واپس نہ گئی۔ بھائی اپنے اپنے گھروں کے جنجال میں پھنسے تھے اس کو کیسے برداشت کرتے۔ تیرے میرے گھروں میں کام کرتی بیٹی کو پالنے لگی۔ وقت کے ساتھ باپ پرلوک سدھارا تو بھائیوں نے آنکھیں باپ کے کفن میں سی کر ساتھ ہی دفن کر دیں۔ رہنے کو جو کچی کوٹھڑی میسر تھی اس سے بھی گئی۔
کچھ وقت گزرا تو بیٹی ہاتھ ہاتھ بڑھتی کندھے تک آ گئی۔ کسی طرح پچھلے شوہر کے بھائی سے رابطہ ہوا۔ اس نے بھائی کی اولاد کے سر پر ہاتھ رکھا اور اپنے بیٹے سے نکاح کر دیا۔ لڑکا مستری کا کام کرتا تھا حالات قدرے بہتر تھے مگر اس گھر میں حسینہ کی جگہ نہ تھی۔ کچی بستی میں ایک کمرے کا انتظام کیا جس میں کچا پکا غسل خانہ بھی تھا مگر پانی کا انتظام نہ تھا بجلی کے تار بھی ٹوٹے ہوئے تھے۔ اندھیرے گھر میں اکیلے رہنا مشکل تھا سو معذور ماں کو ساتھ لے آئی۔
حسینہ نے سامنے بھینسوں کے باڑے میں ملازم شفیق سے یہی دوچار کام کرانے میں مدد مانگی اس نے جی جان سے بجلی اور پانی کا انتظام کروا دیا۔ انہی کاموں میں دوچار بار اندر باہر آیا گیا تو ہمسایوں کے نہ صرف کان کھڑے ہوئے بلکہ ناک بھی زیادہ سونگھنے لگی۔ غریب کے گھر کیا چادر اور کیا چاردیواری۔ ہر گھر ساتھ والے کی سبزی دال روٹی اور مہمان کے ساتھ گالی بھی سنتا ہے۔ ذرا پتہ کھڑکا مرغیوں کے ڈربے یا دیوار سے لگی چارپائی پر پیر دھر سارا تماشا دیکھ لیا وہ بھی مفت ساتھ ساتھ مشورے بھی جاری رہے سو شفیق کی آمدورفت کیسے مخفی رہتی۔
چند ہی دنوں میں کوٹھوں چڑھی اور کہیں پہنچ گئی۔ حسینہ کی ماں نے منتیں ترلے کر کے نکاح پر راضی کر لیا۔ شادی کے دن شفیق نہا دھو نیا جوڑا پہن سہرا سجائے بارات لے آیا۔ دوچار دن ہنسی خوشی گزرے۔ چند دن بعد بھینسوں کے دودھ کے ساتھ بدبو اور گوبر بھی گھر آنے لگے۔ حسینہ کا جی متلایا تو ساس کے ساتھ شفیق بھی پھولے نہ سمایا مگر خوشی کی عمر چھوٹی تھی چند دن بعد امیدوں پر پانی پھر گیا۔ اب پھر جوتم پیزار۔
معذور ماں چارپائی پر پڑی حسینہ اور اپنے نصیبوں کو کوستی رہتی۔ شفیق خود مزدور بیمار کا خرچہ کہاں سے اٹھائے۔ ہمت کر کے حسینہ نے پھر تیرے میرے گھر صفائی اور کپڑے دھونے کا کام شروع کر دیا۔ کپڑوں کے داغ صاف ہو جاتے مگر تقدیر کے داغ صاف کرنے کے لئے ابھی کوئی واشنگ پاوڈر مارکیٹ میں نہیں آیا۔ چار پیسے جمع ہوتے شفیق بہلا پھسلا کر اسے گھر بٹھا لیتا گویا اس کے حسن کو داغ دار ہونے سے بچانا چاہتا ہو۔ مہینہ بمشکل گزرتا کھانے اور ماں کی دوائی کے لالے پڑنے لگتے روتے دھوتے حسینہ پھر کوٹھیوں کے چکر کاٹنے لگتی کام ملتا تو دوچار مہینے سکھ سے گزرتے پھر وہی حالات۔
انہی دنوں حسینہ کا بھائی کثرت اولاد اور دوسری بیوی کے نخروں سے گھبرا کر بیٹی حسینہ کے پاس چھوڑ گیا۔ وہ خوشی سے پھولے نہ سمائی کہ گھر سے باہر رہ کر ماں کی فکر اسے پریشان رکھتی۔ اب پوتی دادی کی خدمت کے لئے موجود تھی۔ کچھ ہی دن میں صائمہ رانی نے دادی کے ساتھ ساتھ پھوپا کا بھی دل و جان سے خیال رکھنا شروع کر دیا۔ گندم کی تازہ روٹی کی خوشبو میں صائمہ کی خوشبو بھی شامل ہوئی تو دن میں شفیق کے گھر کے چکر بڑھنے لگے۔
انہی چکروں میں ایک دن صائمہ کا سر چکرایا اور زمین پر گر کر بے ہوش ہو گئی۔ بوڑھی دادی ٹانگوں سے معذور تھی آنکھوں سے تو نہیں پوتی اور داماد کی چھپن چھپائی دیکھتی رہی تھی چارپائی پر پڑی چلاتی رہی۔ ہمسائی کے کان میں آواز پڑی تو بھاگ کر شفیق کو بلا لائی۔ دونوں کی کوششوں سے صائمہ کے حواس بحال ہوئے اور حسینہ کے حواسوں پر بجلی گر پڑی۔ بھتیجی کو سوت کی شکل میں دیکھنا مشکل کام تھا چپل اتار کر بڑھی تو راہ میں شفیق حائل ہو گیا۔ حیرت سے اس کے چہرے کو دیکھا تو ہر طرف صائمہ بیٹھی نظر آئی۔ اس انکشاف نے حسینہ کے گویا بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے اور وہ ادھڑے کپڑے کی طرح حصوں میں بٹی ایک کونے میں بکھر گئی۔
روتے دھوتے جب کبھی حسینہ کی زبان دراز ہوتی تو شفیق دو ہاتھ جڑ دیتا کہ بانجھ عورت تجھ سے تو چڑیا کا بچہ ملنے کی بھی امید نہیں تو کس برتے چلاتی ہے۔ یہ سنتے ہی حسینہ بی اپنے وجود کی کرچیاں سمیٹ کر کونے میں دبک جاتی۔ دن گزرنے کے ساتھ صائمہ کا جسم اپنی حدود پھلانگنے لگا اور پڑوسنوں نے انگلیاں دانتوں تلے دبانا شروع کیں تو ایک رات شفیق نے صائمہ کا ہاتھ تھاما اور شہر چھوڑ دیا۔ خدا کی دنیا بہت وسیع ہے کہیں بس جائیں گے۔
زندگی پہلے ہی نامراد تھی مزید اجیرن ہو گئی جب بھائی غصے میں پھنکارتا آیا دو شاخہ زبان حسینہ اور بڑھیا پر خوب لپلپائی مگر دل کا سکون آنکھوں میں کہیں کنڈلی مارے بیٹھا تھا چلو ایک ذمہ داری سے جان چھوٹی۔ اب بڑھیا ہے بے حسن حسینہ ہے تپتا دن اور اندھیری رات ہے۔ بڑھیا اپنے سہارے کے لئے حسینہ کی زندگی اور حسینہ اپنی آزادی کے لئے بڑھیا کی موت کی دعا کرتی ہے۔ دیکھیں کس کی دعا رنگ لاتی ہے۔


