کپتان کی نئی سیاسی حکمت عملی اور زمینی حقائق


نواز شریف جب سیاست میں لائے گئے تو نہ ان کی کوئی سیاسی جماعت تھی اور نہ ہی ان میں کوئی سیاسی سوجھ بوجھ نظر آ رہی تھی۔ غیر جماعتی بنیادوں پر ہوئے انتخابات کے بعد بنائی مسلم لیگ کے صدر محمد خان جونیجو کو ہٹا کر نواز شریف نام کے ایک صنعت کا رکے آگے آنے کو پاکستان کے جاگیردارانہ سماج میں ممتاز بھٹو نے کسی کاروباری شخص کا سیاست میں ناکام تجربہ قرار دیا تھا۔

بے نظیر بھٹو کا سحر پورے ملک کے طول و عرض پر طاری تھا لوگ بھٹو کی بیٹی کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے گھنٹوں انتظار کرتے تھے۔ اپنے ملکوتی حسن و جمال کے علاوہ ذہانت، بہادری اور شجاعت میں اسم با مسمیٰ بے نظیر کے سامنے بڑے بڑے ستارے گہنا جاتے تھے اور چاند بھی ماند پڑ جاتا تھا۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے سے تعلق رکھنے والے تابعدار اور کم گو نواز شریف کو جب ان کے مقابلے میں اتارا گیا تو غیر مرئی طاقتوں کی تمام تر غیبی امداد حاصل تھی۔

بی بی شہید کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اور پھر غلام اسحٰق خان کی طرف سے برطرفی ایسے اقدامات تھے جو دنیا نے دیکھے مگر مہران بنک سکینڈل جس میں کروڑوں روپے بغض بے نظیر میں تقسیم ہوئے وہ صرف ان کو معلوم ہے جنھوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے تھے۔ بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف منظم پروپگنڈہ مہم چلائی گئی جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی شہرت اور مقبولیت کو متوسط طبقے، شہری علاقوں اور وسطی پنجاب میں ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

کبھی ہار نہ ماننے والی بے نظیر بھٹو کو معلوم تھا کہ نواز شریف جو اپنے باپ کے لوہے کی بھٹی بھی نہیں چلا سکتا وہ ان کے خلاف سازش کی تاب نہیں رکھتا۔ درحقیقت ان کے پیچھے وہ طاقتیں ہیں جنھوں نے ان کے باپ کو پھانسی دلوائی تھی اور وہ ایسے عناصر کو وہ ’ضیاالحق کی باقیات‘ کہتی تھی۔ مگر دوسری بار بھی اقتدار میں آنے کے بعد ان کے اپنے فاروق بھائی میں بھی ضیاالحقی روح عود آئی تو وہ سمجھ گئی کہ جب تک آئین میں باؤن ٹو بی کا مرا ہوا کتا موجود ہے پانی زہر آلود رہے گا۔

جب نواز شریف دوسری بار بھاری مینڈیٹ لے کر آیا تو وہ بھی آئین کی آٹھویں آمرانہ ترمیم کا ڈسا ہوا تھا اس لئے اس نے صدر کے اسمبلی کو تحلیل کرنے کے اختیار والی شق کو ختم کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ آئین بحال ہوا مگر نواز شریف دوسری بار بھی نہیں بچ پایا اور اٹک جیل سے طویل جلاوطنی ان کا مقدر بنی۔ بے نظیر بھٹو پہلے سے جلاوطن تھی، انھوں نے ایک بار پھر نواز شریف کو سمجھایا اور میثاق جمہوریت کی دستاویز پر دستخط ہوئے جس کے بعد ایک نئے دور کا آغاز تو ہوا مگر وہ خود نہیں رہی۔

دو دفعہ ڈسے جانے کے بعد بھی نواز شریف خود کو سگا اور لاڈلا ہی سمجھتا رہا۔ جب ایبٹ آباد میں ہوئی ہزیمت کو چھپانے کے لئے میمو گیٹ کی کہانی گڑھی گئی تو کالا کوٹ پہن کر ”حاضر جناب“ کہتے ہوئے عدالتی کمیشن جا پہنچا مگر اقتدار میں آنے کے بعد ایک بار پھر محلاتی ریشہ دوانیوں کا شکار ہو کر تاحیات نا اہل ہوا۔

یہ بات سب ہی کو معلوم ہے کہ نوجوان نسل میں مقبول کرکٹ سٹار خوبرو عمران خان کو نواز شریف کے متبادل کے طور پر تراش کر لانچ کیا گیا تھا۔ عمران خان کا خیال تھا کہ مشرف ان کو پھلنے پھولنے کا موقع دے گا جس کی وجہ سے انھوں نے تن من دھن سے اکتوبر 1999 ء کے اقدامات کی بھرپور حمایت کی تھی۔ عمران خان نے مشرف کو پانچ سال کے لئے مطلق العنان حکمران بنانے کے لئے رچائے ریفرنڈم میں ان کے چیف سپورٹر کے طور پر خدمات انجام دیں مگر وزیر اعظم نہ بن پائے اس کی وجہ مشرف نے بتائی کہ ”ان کے ہیٹ میں داڑھی ہے“ ۔

عمران خان پر سنجیدگی سے کام پیپلز پارٹی کے دور میں ہی ہوا جب نواز شریف 2013 ء کے انتخابات میں ایک بار پھر بھاری مینڈیٹ لینے کی تیاری کر رہے تھے۔ عمران خان کو خیبر پختونخوا میں مولانا فضل الرحمان، عوامی نیشنل پارٹی، پنجاب میں نواز شریف اور کراچی میں ایم کیو ایم کے متبادل کے طور پر آزمایا گیا۔ 2013 ء کے انتخابات میں دھاندلی کا شور مچا کر عمران خان نے 2018 ء کے انتخابات کے لئے خود کو موزوں امیدوار کے طور پر سامنے لایا اور آشیرباد حاصل کی۔

عمران خان کے لئے 2018 ء کے انتخابات جیتنے کے اہل امیدواروں (ایلکٹیبلز) کا بندوبست کیا گیا۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ اور بلوچستان عوامی پارٹی کی تشکیل کے علاوہ کراچی میں الطاف حسین کی ایم کیو ایم پر پابندی لگا کر ہاتھ پاؤں باندھ لینے کے باوجود مطلوبہ تعداد پوری نہ ہو سکی تو آر ٹی ایس کو بٹھا کر نتائج تبدیل کر دیے گئے۔ جہانگیر ترین کا جہاز بھر بھر کر کامیاب آزاد امیدواروں کے گلے میں پی ٹی آئی کا مفلر ڈالنے کے بعد بھی مطلوبہ اکثریت نہ بن سکی تو کچھ اور جماعتوں اور آزاد ممبران کو زبردستی عمران کی حمایت پر مجبور کر کے حکومت بنوائی گئی۔ عمران جس کو اپنی مضبوط حکومت سمجھ رہا تھا وہ دراصل شاخ نازک پر ایک آشیانہ تھا جو ہوا کے ایک ہی جھونکے میں تنکا تنکا ہوا۔

عمران خان کے پاس اقتدار میں آنے کے بعد دو راستے تھے کہ وہ اس دور کو اپنے آئندہ کی سیاست کے لئے بطور ایک سنہری موقع استعمال کرتے ہوئے صف بندی کرے یا پھر اس موقع سے ابھی یا کبھی نہیں کے طور پر فائدہ اٹھائے۔ عمران خان نے اس موقع پر سیاسی تنظیم سازی اور مستقبل کی صف بندی کے بجائے اپنی شخصیت کو ایک مضبوط مرد آہن کے طور پر سامنے لانے کی کوشش کی۔ ہر بات ’میں‘ سے شروع کر کے مجھ اور میرے پر ختم کی، اپنی زندگی کے تجربات کو بیان کرتا رہا جو صرف کرکٹ کے میدان تک محدود تھے اور اپنے کارنامے بتاتا رہا جو ایک خیراتی ہسپتال بنانے کے سوا کچھ نہیں تھا۔

اپریل 2022 ء میں عمران خان کی اقتدار سے فراغت کے ساتھ ان کی سیاسی زندگی کے ایک اور دور کا آغاز بھی ہوا ہے جو یہاں سے آگے ان کی منزل کا تعین کرے گا۔ عمران خان نے اقتدار سے محرومی کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیتے ہوئے ایک سازش کا انکشاف کیا ہے۔

گو کہ ماضی پاکستان میں حزب اختلاف کی طرف سے ہر چھوٹی بڑی سازش کا الزام امریکہ پر لگتا رہا ہے مگر اب کی بار ایک وزیر اعظم نے سازش کے ثبوت کے طور پر ایک سفارتی مراسلے کا حوالہ دیا ہے۔ سفارتی مراسلہ کو خفیہ رکھا گیا ہے مگر اس کی تشریح ہر سطح پر ہوتی رہی جس نے عمران خان کے چاہنے والوں میں غیر متزلزل تیقن پیدا کیا کہ ان کی حکومت کو فارغ کرنے میں امریکہ کا کردار ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بڑے مختلف نوعیت کے رہے ہیں۔ پاکستان کی تخلیق سویت یونین کے اشتراکی نظام کو روکنے کے لئے مذہب کی فصیل کے طور پر ہوئی تھی۔ پاکستان میں امریکہ کی موجودگی کی بڑا بیر سے سلالہ، شمسی ائر بیس سے نیٹو سپلائی تک ایک تاریخ ہے۔ سویت یونین کے بکھر جانے کے بعد امریکی ترجیحات بدل چکی ہیں اور پاکستان بدلتے ہوئے منظر نامہ میں اپنی راہیں تلاش کر رہا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم کی طرف سے امریکہ پر حکومت گرانے کی سازش کا الزام انتہائی سنگین ہے جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے روابط میں انتہائی سرد مہری آ چکی ہے۔

عمران خان اگر امریکہ پر سازش کے الزام کے ساتھ اپنے سیاسی مستقبل کا تعین کرتا ہے تو ان کو اپنے پیشرو ذوالفقار علی بھٹو کے علاوہ دیگر عالمی راہنماؤں کی ایسی امریکہ مخالف سیاسی حکمت عملیوں کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔ وہ ایسا کیا نیا کریں گے کہ امریکہ کی بالادستی کے خلاف ایک محاذ بنانے میں کامیاب ہوں گے جو ان کو امریکہ مخالف بلاک کا راہنما بنا سکے۔

کیا روس کے علاوہ چین جو امریکہ کے خلاف محاذ کا سرخیل سمجھا جاتا ہے عمران کی حمایت کرے گا؟ مسلم ممالک خاص طور پر عرب، ایران اور ترکی کے بلاکوں میں تقسیم حکومتیں عمران خان کی حمایت میں یکسو ہو سکیں گی؟ کیا ملک کے اندر مقتدر قوتیں عمران کے امریکہ مخالف ایجنڈے میں اس کی کھلی یا درپردہ حمایت کر پائیں گی؟ کیا پاکستان کے عوام بھی عراق، لیبیا، مصر اور شام کے لوگوں کی طرح نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہیں؟ کیا وہ خود ڈاکٹر مصدق، بھٹو، انور سادات، صدام اور قذافی بننے کے لئے تیار ہے؟ یا پھر ایک اور یون ٹرن لے کر واپس آ جائے گا؟

Facebook Comments HS

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 289 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan