سینیئر شاعر و طبلہ نواز۔ غلام محمد عرف ’گلامو وفا‘ سے ملاقات


 

انٹرويُو: نصير مرزا | ترجمہ: ياسر قاضی

پچھلے دنوں 18 مارچ کو، رات گئے کراچی آرٹس کونسل میں ہونے والے ایک ادبی فیسٹیول میں کئی رنگارنگ زبانوں کا مشاعرہ منعقد ہوا، جس میں، میں قطعی طور پر مدعو نہیں تھا، لیکن یوں سر راہ سندھی کے نامور شاعر، نور چشم احمد سولنگی (جو اس مشاعرے میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کر رہے تھے ) نے اس مشاعرے میں شرکت کے لئے اصرار کیا۔ میں احمد کو انکار نہ کر سکا اور مجبوراً وہاں جا نکلا اور مشاعرے کے پنڈال میں ایک کونے میں جا بیٹھا۔

مشاعرے کی صدارت سندھی کے ایک اور نمائندہ شاعر، عزیزم اقبال رند کر رہے تھے۔ مجھے خلاف توقع اچانک سے اس رنگ منچ پر آنے کے لئے اعلان کر کے کہا گیا۔ چونکہ میں مشاعرے میں شرکت کے لئے آیا ہی نہیں تھا، لہذا میں نے سٹیج پر جانے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، لیکن فیسٹیول کے منتظمین کے بار بار کہنے پر اسٹیج پر جانا پڑا۔ سٹیج پر پہنچ کر اپنی نشست سنبھال کر اپنے آس پاس دیکھا تو اچانک کیا دیکھوں! کہ سراپا ”سروۡم دکھم دکھم۔

“ ایک بزرگ اولڈی گولڈی شاعر پر نظر پڑی، جس کے بال وقت کی دھوپ میں مسلسل سفر کے باعث مکمل سفید تھے۔ اور آنکھیں جیسے اجاڑ جھروکوں میں رکھے، بجھے ہوئے دو دیے۔ ان کے مسوڑھوں میں بیچ بیچ میں دانت اس طرح اٹکے تھے، جیسے کسی اداس مندر کے آنگن میں ٹوٹی ہوئی قندیلیں بکھری ہوئی ہوں۔ دوسری جانب ان کے زیب تن کیے ہوئے پیراہن سے کسی قدیم تہذیب جیسی مہک آ رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا، جیسے وہ کسی شوالے، آشرم یا خانقاہ میں لوبان کی دھونیاں جلاتے ہوئے اس مشاعرے میں آن پہنچے ہوں! چہرے کا رنگ پکا سانولا تھا۔ بالکل ایسا، جیسا مسلسل جلتے چراغوں کے دھویں کے باعث درگاہ کی دیواروں کا ہو جاتا ہے۔

یہ پر اسرار شاعر کون ہے؟

جن کے چہرے پر یہ اس قدر معصوم اور محبوب دائمی تبسم تھا۔ جن سے تعارفی نظریں چار ہوئیں، تو ان کی نگاہوں نے جیسے مجھ ادنیٰ کالم نگار کو سندیسے دینا شروع کر دیے :

”تمہیں اپنی داستانیں سناؤں، تو رقم کرو گے؟ اے خستہ قلم کار!“
تب میں نے واقعی ان سے پوچھنا شروع کیا۔

”اے عجوبۂ روزگار انسان! اے نابغۂ روزگار شاعر! آپ کون! ؟ اور آپ کی خاک کہاں کی! ؟ اور آپ کس زبان کے شاعر! ؟ اور ذریعۂ روزگار کے طور پر کیا مصروفیات! ؟“

تب وہ گویا ہوئے : ”نام میرا ’گلامو وفا‘ ہے۔ نسل در نسل ڈھاٹکی اور مارواڑی زبانوں کا شاعر ہوں۔ اور ذریعۂ معاش، غم روزگار کے طور پر طبلہ نواز ہوں۔“

پھر وہیں بیٹھے بیٹھے سرگوشی میں انہوں نے مجھے ڈھاٹکی اور مارواڑی (زبان) کے اپنے لکھے ہوئے کچھ گیتوں کے مکھڑے بھی سنا دیے۔ جنہیں سن کر دل سے آواز آئی: ”یہ شاعر، کویتا کار تو جیسے بھگت کبیر، اودھو، امارو، چاندی داس، سور داس اور بھر تری ہری کا تسلسل ہو۔“ ایسا لگا، جیسے ان کے تمام گیتوں کے مکھڑوں میں کجرارے نینوں کا فسوں سا ہو! ویسی ہی دلکشی اور تازگی ہو!

پھر بتانے لگے : ”میں جۂ پور کا مارواڑی ہوں۔ اور چونکہ خاندانی پیشہ ور طلبہ نواز ہوں، اس لئے اجمیر، جودھپور، بیکانیر، سورج ونشی اور راجستھان والا پورا دیار، عمر بھر زیر پا رہا ہے، جہاں کے راجباڑوں، درباروں، میلوں اور نوٹنکیوں وغیرہ میں مجرہ گائکاؤں کے ساتھ نسل در نسل ہم لوگ طبلے پر سنگت کرتے آ رہے ہیں۔“

”مگر یہ طبلہ بجاتے بجاتے شاعری اور شاعرانہ رنگ کہاں سے چڑھا آپ پر؟“ میں نے پوچھا

بولے : ”اچنبھے کی بات بتاؤں؟ جس طرح فارس ایران میں ہر ایرانی، شاعرانہ مزاج لے کر پیدا ہوتا ہے، ویسے ہی راجستھان بھی ہے۔ بھلے کوئی نائی ہو، مستری، بڑھئی، پخالی ہو یا باورچی۔ شاعر نہیں بھی ہو گا، تو شاعرانہ ذوق ضرور رکھتا ہو گا۔“

یہاں تک قصہ سنانے کے بعد اس مارواڑی شاعر نے راجستھان سے پاکستان تک اپنی ہجرت کی کہانی سنانا شروع کی۔ بتایا:

”اس وقت کراچی میں جس جگہ بابائے قوم کا مزار ہے، وہاں کھلے میدان میں ہم جھونپڑیاں بنا کر بیٹھ گئے۔ پھر ایک دن اچانک اعلان ہوا کہ ’یہاں سے بھاگو!‘ کیونکہ مزار کی انتظامیہ، مزار کے احاطے کو وسیع کر رہی تھی۔ تب مجبوراً وہاں سے اپنا بوریا بستر اٹھا کر، نئی تعمیر شدہ کورنگی کالونی میں جا بسے۔ خاندانی پیشہ ور طبلہ نواز تھے، سو کچھ نے نیپیئر روڈ پر ’بلبل ہزار داستان بلڈنگ‘ والے بالا خانوں کو جا کر آباد کیا اور مجرا گائیکاؤں اور رقاصاؤں کے ساتھ جا کر طبلے کے توڑے بجائے، لیکن میں نے اپنے ان ساتھیوں اور رشتہ داروں کے برعکس کراچی کی گراموفون کمپنیوں اور شہر سے دور ’ایسٹرن‘ اور ’ماڈرن‘ فلم اسٹوڈیوز کا رخ کیا اور ایک سے ایک فلمی موسیقاروں کے بینڈ میں طبلہ بجانا شروع کیا۔“

”ارے واہ۔“ میں نے پوچھا: ”وہ بھلا کون کون سے موسیقار؟“

”سہیل رعنا، غلام نبی۔ عبداللطیف، غلام علی، روبن گھوش اور چٹاگانگ سے آنے والے کنوارے برہمن بنگالی موسیقار، دیبو بھٹاچاریہ۔“ انہوں نے بتایا۔

”اور وہ کیا زبردست زمانہ تھا۔ فلم ’ہیرا پتھر‘ ، ’ارمان‘ ، ’شرارت‘ ، ’بیٹی‘ ، ’ہنی مون‘ ، ’بنجارن‘ ، ’اشارہ‘ ، ’میری آنکھیں‘ وغیرہ۔ اس زمانے میں ہر وقت ایسی فلمیں سیٹ پر شوٹ ہوتی رہتی تھیں۔ ایک طرف ان کی شوٹنگ جاری رہتی تھی، تو دوسری طرف ان کے گیتوں کی ریکارڈنگ جاری رہتی تھی۔ جن کے لئے ماہر ریکارڈسٹ ہوا کرتے تھے۔ مثلاً: اقبال شہزاد، رفعت قریشی (ہیروئن روزینہ کے شوہر) ، محمد ہاشم قریشی اور مشکور قادری وغیرہ۔

دوسری جانب نیپیئر روڈ پر ہر وقت ناچ گانے۔ اور اس کے نواح میں ’سوپر‘ ، ’راکی‘ ، ’نگار‘ اور ’کمار‘ جیسی مشہور ہاؤس فل سینمائیں۔ جن میں لگی فلموں میں میرے بجائے ہوئے کئی گانے شامل ہوا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر روبن گھوش کی فلم ’جہاں تم وہاں ہم‘ کے یہ دو مشہور گیت میں نے بجائے : ’اسے دیکھا، اسے چاہا، اسے بھول گئے۔ ‘ اور دوسرا احمد رشدی اور مالا کی آواز میں گایا ہوا یہ حسین اور مقبول گیت: ’مجھے تلاش تھی جس کی، وہ ہمسفر تم ہو!‘ یا پھر سید کمال اور حسنہ کی فلم ’ہنی مون‘ کے لئے میں نے موسیقار جاوید میر کے لئے یہ گیت بجایا: ’آیا کوئی موری اٹریا۔‘ جس کو آئرن پروین نے گایا۔ اس کے ساتھ دیبو بھٹاچاریہ، جو بنیادی طور پر تو ایک ’فلیوٹ پلیئر‘ (بانسری نواز) تھے، ان کی کئی فلموں کے مشہور مشہور گیتوں کے لئے طبلہ میں نے بجایا۔“

”ارے واہ!“ اس پر تو مجھے یاد آیا کہ سندھ سمیت ملک کے معروف موسیقار و گلوکار، استاد محمد جمن نے ہمیشہ مجھے بتایا کہ انہوں نے سندھی میں وہ جو دو گیت گائے ہیں : ”منہں جو ملک ملیر۔“ اور ”آہے بے وفا ہی سارو زمانو۔“ ان میں جو بانسری بجی ہوئی ہے، وہ موسیقار دیبو بھٹاچاریہ نے بجائی ہے۔

غلام محمد عرف ’گلامو (غلامو) وفا‘ ، نصف شب کے سناٹے میں مسلسل مجھے اپنے بارے میں آگاہ کرتے رہے، اور جیسے آس پاس کی دیگر سب آوازیں کانوں سے اوجھل ہوتی رہیں۔ انہوں نے مزید بتایا:

” ’بنجارن‘ فلم، جس کی ہیروئن نیلو تھیں۔ اس فلم کے جن گیتوں میں میں نے طبلہ بجایا، ان کے بول ہیں : ’نہ جانے کیسا سفر ہے میرا۔‘ (آواز: نورجہاں ) اور ’ماسٹر جی! مجھے سبق پڑھا دو!‘ (آواز: آئرن پروین) اور پھر میں نے فلم ’جھک گیا آسماں‘ کا رونا لیلیٰ کی آواز میں گایا ہوا ایک گیت بجایا: ’ہوا آنچل اڑاتی ہے، اڑانے دو۔‘ پھر میں نے فلم ’جلتے ارمان، بجھتے دیپ‘ کا مہدی حسن کی آواز میں گایا ہوا یہ مشہور گیت بجایا: ’تنہا تھی اور ہمیشہ سے تنہا ہے زندگی۔

‘ فلم ’آرزو‘ کے لئے میرا بجایا ہوا یہ گیت بھی بہت مقبول ہوا: ’آرزو کا رنگ بھر کر، دل کا افسانہ کہو۔‘ (آواز: مسعود رانا) اس کے ساتھ ساتھ فلم ’میرے بچے، میری آنکھیں‘ کا ٹائٹل سونگ بھی میں نے ہی بجایا تھا۔ یہ میرا بجایا ہوا پہلا گیت تھا، جس کی شوٹنگ لیاری کراچی میں لی مارکٹ کے سرکاری ہسپتال میں، میں نے خود اپنی آنکھوں سے جا کر دیکھی تھی۔ یہ گیت، کریکٹر ایکٹریس طلعت صدیقی پر فلمایا گیا تھا۔ جس کی شوٹنگ دیکھنے کے لئے اس ہسپتال کے ہر وارڈ کے مریض کھڑکیوں سے جھانک جھانک کر بصارت سے محروم ماں کا کردار ادا کرنے والی طلعت صدیقی کی اداکاری کے جوہر دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔ فلم ’سمندر‘ کے لئے تو میرے بجائے ہوئے یہ تمام گیت بے حد مشہور ہوئے۔ ’تیرا میرا ساتھ ہے لہراتا سمندر۔‘ اور ’یوں روٹھ نہ گوری مجھ سے، دل ٹوٹ گیا جو تجھ سے، جوڑا نہ جائے گا۔‘

اور اپنے دور کے یہ بے مثل فلمی طلبہ نواز اور اب کراچی کے ادبی حلقوں میں جانے پہچانے مارواڑی، ڈھاٹکی کے ساتھ ساتھ اردو کے شاعر، گلامو (غلامو) وفا تھے، جو اپنی رنگارنگ زندگی کے ریشمی تھان، لگاتار میرے سامنے کھولتے جا رہے تھے اور میں محظوظ و مسرور ہوتا جا رہا تھا۔ اور پھر جب آخرکار اختتام مشاعرہ پر مشاعرہ گاہ کے شعراء دھیرے دھیرے اسٹیج اور پنڈال سے جانے لگے، تو انہوں نے بھی مجھے الوداع کہا۔ تب میں نے دل ہی دل سوچا کہ خدا جانے!

میرا بائی اور کبیر داس کی دھرتی اور زبان سے متعلق اس حسین شاعر کے ساتھ زندگی میں اب اگلی ملاقات ہو نہ ہو! یا نصیب! سو میں نے ادب سے جھک کر ان کے چرن چھوئے اور اس کے بعد آدھی رات کے وقت آرٹس کونسل کے صدر دروازے کی جانب بڑھتے ہوئے، گلامو وفا کے نقوش قدم میں سے ہر ایک پر، آسماں کی جھولی سے ستاروں کے اوک بھر بھر کے نچھاور کرتا، اور ان پر واری واری جاتا اور جاتا ہی گیا۔

 

Facebook Comments HS