عربی ادب کا ’’ عہد جاہلیت‘‘ اور جون ایلیا


اردو زبان کے وجود میں آنے کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے کہ یہ کیسے وجود میں آئی اور اس زبان کی تخلیق میں کتنی ہی زبانوں کی آمیزش ہے ۔ جہاں تک عربی اور فارسی کی بات ہے تو ان زبانوں کے الفاظ اردو زبان میں بہت زیادہ پائے جاتے ہیں تاہم اس کے باوجود اردو زبان بولنے کا انداز ’’دیسی ‘‘ طرز میں رہا، یہ غالباً اس لیے ہوا کہ اردو زبان خود کو بر صغیر پاک و ہند کی ریاستی زبانوں کے رنگ میں رنگنے سے باز نہیں رکھ سکی اور ایسا ہونا ایک فطری تقاضا بھی تھا ۔

زبان و ادب کے طالب علم اس حقیقت سے بھی خوب واقفیت رکھتے ہیں کہ کسی بھی زبان کے رواج اور ترقی میں ’’شاعری‘‘ کی صنف کا کلیدی کردار ہوتا ہے اور تقریباً یہی حیثیت خطابات اور کہانیوں کو بھی حاصل ہے ۔بر صغیر میں جس وقت اردو زبان تخلیق کے مرحلہ میں تھی اس وقت یہاں کی سرکاری زبان فارسی تھی تاہم مدارس میں فارسی کے ساتھ ساتھ عربی زبان کو بھی غیر معمولی حیثیت حاصل تھی لیکن عربی زبان مسلم سماج تک محدود رہی جبکہ فارسی دیگر ریاستی زبانوں کی طرح کم از کم لکھنے پڑھنے کی حد تک عام تھی اور یہی مقام ایسٹ انڈیا کمپنی کے اقتدار کے بعد انگریزی زبان کو حاصل ہوا۔

اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پہلے فارسی اور پھر انگریزی کو متحدہ ہندوستان کی سرکاری زبان ہی نہیں بلکہ تحریر (یعنی عصری تعلیم و تدریس) کی زبان ہونے کی حیثیت بھی حاصل رہی ہے ۔ اس بحث کو طول دینے کی بجائے مختصراً یہ کہ اردو زبان پر جہاں دیگر زبانوں کا اثر پایا جاتا ہے وہاں فارسی اور عربی کا اثر غیر معمولی ہے یہی وجہ ہے کہ اردو شاعری میں ان ہی دونوں زبانوں کا اثر زیادہ پایا جاتا ہے ۔اس طرح یہ بھی طے ہوا کہ اردو شعرا نے اپنے انداز بیان میں فارسی اور عربی کے شعرا کو خاصی اہمیت دی ہے اس حوالے سے فارسی طرز کو زیادہ اپنایا گیا ہے جبکہ عربی شاعری کے انداز کو بہت کم شعرا نے اختیار کیا ہے ۔

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ یہ بحث ’’عروض ‘‘ سے ہٹ کر ہے ۔جہاں تک عربی شاعری کے خیالات اور احساسات کے طرز پر شاعری کرنے یا نثر نگاری کرنے کی بات ہے تو ایسے شاعر اور انشا پرداز اردو زبان میں بہت ہی کم ہیں لیکن جو ہیں ان میں فوضوی شاعر ’’جون ایلیا‘‘ ایک بہت بڑا نام ہے ۔ جون ایلیا جو نہ ہو کر بھی ہمارے ساتھ موجود ہیں اور ان کی شاعری ہی نہیں بلکہ نثر بھی غیر معمولی حیثیت کے ساتھ زندہ ہے۔ راقم الحروف نے جون ایلیا کی شاعری کو پہلی مرتبہ اپنے زمانہ طالب علمی پڑھا اور آج تک ان کی شاعری کے سحر سے نجات حاصل نہیں کر پایا ۔

جون ایلیا کا پہلا شعری مجموعہ ’’شاید‘‘ میں جو شاعری ہے وہ کمال درجہ کی ہے لیکن اس کتاب کا مقدمہ جسے جون ایلیا نے ’’نیاز مندانہ ‘‘کے نام سے رقم کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہی نہیں بلکہ اردو ادب میں ایک انفرادیت بھی ہے ۔ بہر کیف میری یہ علمی و ادبی حیثیت تو نہیں ہے اور نہ ہی میری جانب سے کبھی ایسا کوئی دعویٰ ہوا ہے تاہم عربی زبان و ادب کے طالب علم کی حیثیت سے اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ جون ایلیا کی شاعری ہی میں نہیں بلکہ نثر میں بھی عربی انداز کی تحریر کا رنگ پایا جاتا ہے اور ایسے میں عربی زبان و ادب کے وہ طالب علم جنھوں نے سبعہ معلقات کے شعرا امراء القیس اور عنترہ بن شداد کو پڑھا ہے وہ اس دلیل کے حق میں اپنی رائے دیں گے اسی طرح نثر میں جون ایلیا عربی نثر نگار ابن المقفع اور جا حظ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے ۔ جون ایلیا کا ’’بے وفائی ‘‘ کرنے کا انداز اور بے وفاؤں کو یاد کرنے کا طریقہ بھی عہد جاہلیت کے شعرا کے طرز کا ہے، یہاں مجھے عنترہ بن شداد کا ایک شعر یاد آ رہا ہے وہ یہ کہ

ھل غادرالشعرا من متر دم ۔۔ام ھل عرفت الدار بعد توھم

ترجمہ : کیا شاعروں نے یخیہ گری کے لیے کوئی جگہ بھی چھوڑی بھی ہے اور کیا تونے محبوبہ کا گھر بہت غور کے بعد پہچانا ہے ۔

اسی طرح جون ایلیا نے کہا ہے ۔۔۔ کیا ستم ہے کہ اب تیری صورت ۔۔ غور کرنے پر یاد آتی ہے ۔

جون صاحب کے شعری مجموعہ شاید کے نیاز مندانہ کے ابتدائی جملوں میں یہ جملے کہ’’ یہ کہنے میں کیا شرمانا کہ میں رائیگاں گیا۔ مجھے رائیگاں ہی جانا بھی چاہئے تھا ۔ جس بیٹے کو اس کے انتہائی مثالیہ پرست باپ نے عملی زندگی گزارنے کا کوئی طریقہ نہ سکھایا ہو بلکہ یہ تلقین کی ہو کہ علم سب سے بڑی فضیلت ہے اور کتابیں سب سے بڑی دولت تو وہ رائیگاں نہ جاتا تو اور کیا کرتا ‘‘۔ جب کبھی بھی میں نے یہ جملے پڑھے ہیں تو مجھے عربی شاعری کے جد امجد امراؤ القیس کے تین جملے ہمیشہ یاد آئے ہیں۔’

’ضیغنی ابی صغیراوحملنی دمہ کبیرا۔۔لا صحوالیوم ولا سکر غداً۔۔الیوم الخمرو غداًامرُ۔

ترجمہ : میں چھوٹا تھا تو میرے باپ نے مجھے ضائع کردیا اور اب بڑا ہوں تو مجھ پر اپنے خون کا بوجھ لاد کر چل دیا ہے ۔ آج تو میں ہوش میں آؤں گا نہیں اور کل نشہ کروں گا نہیں ۔ آج کا دن جام کے لیے ہے اور کل کا دن ایک بڑے کام کے لیے ہے ۔

یہاں امراؤ القیس کے جملوں میں باپ کی طرف سے لادے گئے ایک بوجھ کا ذکر ہے جیسا کہ جون صاحب پر ان کے والد نے اپنی کتابوں کی اشاعت کا بوجھ ڈالا تھا۔ اسی طرح امراؤلقیس کے یہ درج ذیل تین اشعار بھی ایسے ہیں جنہیں پڑھ کر مجھے جون صاحب کے کئی اشعار یاد آ جاتے ہیں ۔

قفانبک من ذکری حبیب و منزل ۔۔بسقط اللوی بین الدخول فحول
وقوفاًبھاصبحی علی مطیھم ۔۔یقولون لا تھلک اسی و تجمل
و ان شفائی عبرۃ مھر اقہ۔۔فھل عندر سم دارس من معول۔

ترجمہ : ٹھہرو دوستوں ہم ایک محبوبہ اور اس کے مسکن کی یاد میں آنسو بہا لیں، جو دخول اور حومل کے درمیان ٹوٹتی ریت پر واقع ہے ۔

میرے ساتھیوں نے میری خاطر اپنی سواریوں کو روک رکھا تھا اور مجھے نصیحت کر رہے تھے کی صبر کرو ، اپنے آپ کو اس غم میں ہلاک نہ کر ڈالو ۔

حالانکہ میرا علاجِ غم وہی بہتے ہوئے آنسو تھے اور میں سوچتا تھا کہ محبوب کے یہ بو سیدہ آثار مجھے تسکین دے سکیں گے ۔

یہاں امراؤلقیس کے رنگ میں جون ایلیا کے یہ شعر پیش کرتا ہوں ۔
تو میرا حوصلہ تو دیکھ ،داد تو دے کہ اب مجھے ۔۔ شوق کمال بھی نہیں ،خوف زوال بھی نہیں ۔
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس۔۔ خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں ۔
مرے حریف میری یکہ تازیوں پہ نثار ۔۔ تمام عمر حلیفوں سے جنگ کی میں نے ۔
خراشِ نغمہ سے سینہ چھلا ہوا ہے مرا۔۔ فغاں کہ ترک نہ کی نغمہ پروری میں نے ۔
علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیا جاؤں ۔۔  وگرنہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے ۔
رہا میں شاید تنہا نشینِ مسندِ غم ۔۔ اور اپنے کربِ انا سے غرض رکھی میں ۔

جہاں تک عربی زبان کا تعلق ہے تو جون ایلیا اس زبان سے خوب واقف تھے اور اس حوالے سے ان کا یہ اعتراف موجود ہے کہ انھوں نے عربی زبان کی باقاعدہ تعلیم دینی مدرسہ میں حاصل کی تھی جہاں آج بھی عربی شاعری میں سبعہ معلقات اور نثر نگاری میں ابن المقفع اور جاحظ کو پڑھا یا جاتا ہے ۔ یہاں واضح کرتا چلوں کہ سبعہ معلقات سے عرب کی وہ شاعری مراد ہے جو شرف مقبولیت کے باعث خانہ کعبہ میں لٹکائی گئیں تھیں یعنی وہ سات قصائد جو بیت ﷲ پر معلق کیے گئے تھے اور یہ سب کی سب زمانہ جاہلیت یعنی ظہور اسلام سے پہلے کی شاعری ہے ۔

جون ایلیا کے شعری مجموعہ شاید میں ایک نظم ’’اعلان جنگ ‘‘ ہے جو کہ ایک طویل نظم ہے جس کا انداز عربی شعرا کی طرح کا ہے جس طرح عرب شعرا کسی مدح یا ہجو کہتے تھے وہ چند اشعار پر مشتمل نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک طویل نظم ہوتی تھی جس میں پہلے عرب روایت کے مطابق عشقیہ اشعار ہوتے تھے پھر اس کے بعد موضوع پر آتے تھے جس میں تاریخی حقائق اور سماجی روایات کی روشنی میں مدح یا ہجو کے مقاصد کو پورا کیا جاتا تھا ،جون ایلیا نے اس نظم میں دنیا بھر کے مزدوروں کی مدح کہی ہے جس میں یکم مئی کی اہمیت اور مزدوروں کی عظیم قربانی (شکاگو) کی تاریخی حیثیت کو اپنے اشعار میں بند کیا ہے ۔ اس نظم کے یہ اشعار جو کہ سفید پرچم ، سفید پرچم کے الفاظ سے شروع ہوتی ہے اس نظم کے دو اشعار یہاں بیان کرنا چاہوں گا ۔

یکم مئی کی سحر نے جب اپنا نفسِ مضمون رقم کیا تھا
بلا نصیبوں کو زندگی کی امنگ نے ہم قدم کیا تھا
اور اک جریدہ نگارِ صبحِ شعورِ محنت نے آج کے دن
بنامِ محنت کشاں یہ پیغامِ حق سپردِ قلم کیا تھا۔

اسی طرح جون ایلیا کی ایک طویل نظم ’’بنامِ فارہہ‘‘ ہے ۔ اس نظم میں جون صاحب ایک عاشق کی محبوبہ کو نصیحت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور شاعری میں یہ انداز خالصتاً عربی شاعری سے مستعار لیا گیا ہے ۔ اس نظم کے جو کہ چھوٹی بحر میں اس کے چند اشعار پیش کرنا چاہوں گا ۔ لیکن یہاں بھی مجھے چھوٹی بحر میں اشعار کہنے والا عرب شاعر مسلم بن ولید یا آ گیا ۔

ساری باتیں بھول جانا فارہہ ۔۔ تھا وہ سب کچھ اک فسانہ فارہہ
ہاں محبت ایک دھوکا ہی تو تھی ۔۔ اب کبھی دھوکہ نہ کھانا فارہہ
چھیڑ دے گر کوئی میرا تذکرہ ۔۔ سن کے طنزاً مسکرانا فارہہ
کاش کچھ اقدار ہوتئیں جو نہیں ۔۔ پھر بھلا دل کو کیا جلانا فارہہ۔

جون ایلیا کے یہ دو اشعار بطور خاص پیش کروں گا جو بنو عباس کے دور کے شعرا کے انداز میں کہے گئے ہیں جن میں بشار بن برد ،ابو العتاہیہ اور ابو نواس نمایاں ہیں ۔

میں کیا بتاؤں کسی بے وفا کی مجبوری ۔۔  کبھی خیال جو آیا تو آنکھ بھر آئی
ستم نگاہ کا اپنی ہمیں نہ بھولے گا ۔۔ یہ کم ہے کہ ترے دل میں آگ بھڑکائی۔

جہاں تک جون صاحب کے اس شعر کا تعلق ہے ’’رہا میں شاید تنہا نشینِ مسندِ غم ۔۔اور اپنے کربِ انا سے غرض رکھی میں ‘‘اس شعر میں عرب کی عہد جاہلیت کے شعرا کا ہی رنگ نہیں پایا جاتا بلکہ یہ رنگ تسلسل کے ساتھ بنو امیہ ، بنو عباس اور اس کے بعد کے ادوار میں بھی ملتا ہے لیکن عہد جاہلیت اور اسلامی دور کے شاعر مالک بن نویرہ کی شاعری میں اس طرح کا رنگ پایا جاتا ہے ۔ یہ کہا جائے کہ اگر جون ایلیا عہد بنو عباس میں ہوتے اور عربی زبان میں شاعری کر رہے ہوتے تو وہ عربی شاعری کو یقینا ایک ’’نیالب و لہجہ ‘‘دیتے کیونکہ عہد بنو عباس میں ہی عربی شاعری پر ’’عجمیت‘‘ کا رنگ غالب آنے لگا تھا جو شاعری تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ عربی نثر بھی عجمیت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہے سکی۔

تاہم اس کے باوجود عربی شاعری عہد جاہلیت کے سحر سے باہر نہیں نکل پائی ۔خیالات، جذبات اور تاثرات جو پہلے سے ہی امکانات ، خدشات اور تحفظات کے گرد طبع آزمائی کرتے آئے ہیں لیکن تمام تر یقینات بھی مبالغہ آرائی سے اپنا دامن نہیں چھڑا سکیں اور یہی عربی شاعری کا’’ مزاج ‘‘ہے ۔ یہاں عربی شاعری پر عجمیت کے اثرات سے مراد محض ’’غیر عربی الفاظ ‘‘ کی آمیزش سے ہے لیکن جہاں تک عربی شاعری اور زبان کی فصاحت و بلاغت اور خیال کی بات ہے تو نہ وہ پہلے کبھی سکڑے تھے اور نہ ہی اب اس میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہے ۔

یعنی عربی شاعری میں عشقیہ اور فخریہ اشعار کا ڈھنگ آج بھی موجود ہے ،جو ہم جون ایلیا کی شاعری میں بھی دیکھتے ہیں۔یعنی عشقیہ غزل میں فخریہ اشعار شامل کرنے کی روایت کو اردو ادب میں بہت ہی کم شعرا ء نے اپنا یا ہوگا جن میں جون ایلیا نمایاں ہیں جبکہ عشقیہ غزل میں فخریہ اشعار کا ہونا عہد جاہلیت کی عربی شاعری کا ہی خاصا ہے ۔یہاں یہ واضح رہے کہ عربی زبان و ادب کی تاریخ میں ظہور اسلام سے پہلے کے دور کو ’’عہد جاہلیت‘‘سے تعبیر کیا گیا ہے جو خالصتاً ایک اصطلاحی حیثیت رکھتی ہے جبکہ لغوی اور معنوی اعتبار سے اس عہد کو قدیم عربی شاعری کا دور کہا جاتا ہے اور یہی وہ دور تھا جب عربی شاعری اپنے بام عروج پر تھی ۔

آخر میں اس مضمون کو سبعہ معلقات کے تیسرے بڑے شاعر زہیر بن ابی سُلمی کے اس شعر کے ساتھ ختم کرنا ہوں ۔

ماارانا نقول الامعاراً۔۔او معاداً من لفظنامکرورا

ترجمہ : ہم جو بھی کہتے ہیں وہ یا تو کسی سے مستعار لیا ہوا ہوتا ہے یا پھر اس میں ہماری ہی کسی بات کی تکرار ہوتی ہے ۔

Facebook Comments HS