آئینی اور سیاسی بحران میں پاک فوج کا مثالی کردار


سابق وزیراعظم عمران خان ایک سفارتی مراسلے کو بنیاد بنا کر ایسے حکومت کے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں، کپتان قوم کو اکسا رہے ہیں کہ امریکہ نے ان کے خلاف جو سازش تیار کی ہے اس میں ریاستی ادارے اور سیاستدان شامل ہیں۔ وہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ اور سیکورٹی اداروں کو بھی مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ کپتان کے بیانیہ کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا پر پاک فوج کے سربراہ اور عدلیہ کے معزز ججز کے خلاف منظم طریقے سے مہم چلائی جا رہی ہے۔ سابق فوجی جنرل کی جعلی ویڈوز کی مدد سے فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ پی ٹی آئی کے مظاہروں میں آرمی چیف اور سپریم کورٹ کے ججز کی تصاویر اٹھا کر ان کے خلاف شرمناک نعرے لگائے گئے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی سوشل میڈیا پر ادارے اور سوسائٹی کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی مہم اور ملک کے خلاف پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کا نوٹس لیا۔ آئی ایس پی آر کے علانیہ کے مطابق ”پاکستان کی قومی سلامتی سب سے بڑھ کر مقدم ہے پاک فوج کوئی سمجھوتہ کیے بغیر ریاستی اداروں کے ساتھ ہمیشہ کھڑی رہے گی۔ فارمیشن کمانڈرز نے آئین اور قانون کی سربلندی کے لئے عسکری قیادت کے فیصلوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا، آئین و قانون کی حکمرانی کے لئے عسکری قیادت کے بہترین فیصلوں پر ہر قیمت پر ساتھ ہیں۔“

سفارتی خط کو جلوسوں اور پریس کانفرنس میں بار بار لہرانا اور عوام کو یہ بتانا کہ امریکہ پاکستان کے خلاف سازش کر رہا ہے مگر ادارے خاموش ہیں۔ عمران خان اپنی برطرفی کا براہ راست الزام اداروں پر لگا کر ملک میں انتشار اور خانہ جنگی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس میں اہم انکشافات کرتے ہوئے قوم کو سفارتی خط کے کی حقیقت سے بھی آگاہ کیا ان کا کہنا تھا کہ ”نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اعلامیے میں سازش کا لفظ نہیں ہے۔

“ آئی ایس پی آر کی اس وضاحت کے بعد عمران خان کا یہ بیانیہ اپنی موت آپ مر گیا کہ انہیں غیر ملکی سازش کے نتیجہ میں ہٹا یا گیا۔ پاک فوج کی جانب سے سفارتی مراسلہ کے بارے میں وضاحت کے بعد عمران خان کو اپنا بیانیہ تبدیل کرلینا چاہیے تھا مگر وہ اپنے بیانیہ پر قائم ہے بلکہ اب وہ سپریم کورٹ پر بھی براہ راست تنقید کر رہے ہیں۔

عمران خان کو یہ بات سمجھنا چاہیے، ان کی انا پرستی، ضد اور غرور کی وجہ سے اتحادی اور ممبر قومی اسمبلی نے ان سے علیحدگی اختیار کی اگر وہ اتحادیوں سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرتے اور اپنے ممبر قومی اسمبلی کو عزت دیتے تو شاید عمران خان اپنی آئینی مدت پورے کرلیتے۔ پاکستان کی تاریخ میں آج تک کوئی وزیر اعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو دو بار اور نواز شریف کی حکومت کو تین بار گھر بھیجا گیا ہے مگر کسی نے بھی سرعام میڈیا اور پبلک کے سامنے فوج اور عدلیہ پر گھٹیا اور بے بنیاد الزامات نہیں لگائے جو پی ٹی آئی کے مظاہروں اور جلسوں میں نظر آرہے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی کے ساتھ ایک مثالی اور تاریخی تعاون کیا تاکہ حکومت اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکے، ملک ترقی کرسکے، غربت اور مہنگائی کا خاتمہ ہو سکے اور جمہوریت کا تسلسل جاری رہ سکے۔ ادارے ہر طرح سے حکومت کے ساتھ کھڑے تھے مگر وہ حکومت کو گرانے اور بچانے کے کھیل کا حصہ نہیں بنانا چاہتے تھے لہٰذا انہوں نے تحریک عدم اعتماد سے خود کو غیر جانب دار رکھا۔ یہی بات عمران خان کی پریشانی اور بعد میں غصہ اور ناراضگی کی باعث بنی۔

عمران خان پانچ سال پورے ہونے سے پہلے ہی 2028 تک وزیر اعظم رہنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اپنے مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے اداروں کے فیصلوں میں مداخلت شروع کی۔ اور کبھی سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف صدارتی ریفرنس بھیجے۔ مطلق العنانیت عمران حکومت کا سب سے افسوسناک پہلو تھا، وہ اختلاف رائے کو دشمنی سمجھتے تھے، لہٰذا آزاد میڈیا کا گلا گھونٹا، الیکشن کمیشن پر چڑھائی کی اور سیاسی مخالفین کا ناطقہ بند کیا۔

عمران خان کی سیاست کا تعلق دماغ سے نہیں بلکہ جذبات سے رہا ہے، یعنی ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر، نوے دن میں کرپشن ختم اور قوم کے لوٹے ہوئے اربوں روپے واپس لانے کے دعوے شامل تھے۔ انتقام کی آگ میں عمران خان نے اکثر سیاسی مخالفین کو جیلوں ڈالا، نیب سے مقدمات بنوائے، مگر تین سالوں میں ایک بھی کیس عدالت میں ثابت نہ کرسکے۔ اور نہ ہی لوٹی ہوئی دولت کا ایک روپیہ بازیاب ہو سکا، معیشت تباہ ہو گئی، افراط زر اور بے روزگاری نے عوام کو دبوچ لیا، ریکارڈ قرضہ لیا گیا، کرپشن ختم کرنے کا سیاسی نعرہ لگانے والوں کے دور میں پاکستان بین الاقوامی کرپشن انڈیکس میں سولہ درجے گر کے 140 ویں نمبر پر آ گیا۔

عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی تو انہوں نے چودہ دن کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے والی ایک واضح اور سادہ آئینی شق سے سرکشی کی، اور پھر اجلاس بلایا تو اسے آخری دن تک لٹکایا اور آخری دن عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ تحریک ایک بیرونی سازش کا شاخسانہ ہے۔ عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ کرانا آئین سے صریحاً انحراف تھا۔ لہذا سپریم کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو آئین شکنی قرار دیا۔ عدالت عظمیٰ کے اس واضح فیصلے کے باوجود کپتان آئین شکنی کے رستے پر ڈٹ کے کھڑے رہے۔

9 اپریل کو تقریباً 12 گھنٹے تک ووٹنگ نہیں شروع کی گئی بلکہ عمران خان وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھ کر مزید غیر آئینی اقدامات اٹھا کر ملک مزید انتشار اور بحران میں ڈالنا چاہتے تھے اس وقت ریاست کی طاقت حرکت میں آئی، عدالتوں کے دروازے کھل گئے، جیل کی وین پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ گئی، رینجرز نے پوزیشن سنبھال لی۔ تب کہیں جاکر عمران خان نے اقتدار سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ اقتدار سے محرومی کے بعد عمران خان نے اپنے ہی محسنوں کے خلاف پروپیگنڈا مہم شروع کی۔ پی ٹی آئی کے جلسوں اور مظاہروں میں ریاستی اداروں اور اہم شخصیات کے خلاف گھٹیا زبان استعمال کی گئی، سوشل میڈیا پر اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی

عمران خان نے جو آئینی اور سیاسی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی تھی اسے سپریم کورٹ نے دانشمندی اور مدبرانہ طریقے سے حل کیا۔ ترجمان پاک فوج جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے قوم کو پیغام دیا ہے کہ ’پاکستان کی بقا صرف اور صرف جمہوریت میں ہے اور اس کا دفاع کرنا سب کا فرض ہے، انفرادی بھی اور اجتماعی بھی اور اس کی طاقت پارلیمنٹ، سپریم اور مسلح افواج ہیں اور جمہوریت نے ہی پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے۔ ‘ یقیناً ایک حقیقی جمہوریت ہی پاکستان کی ترقی اور بقا کی ضامن ہوتی ہے۔ عمران خان کے پیدا کردہ آئینی اور سیاسی بحران میں پاک فوج کا جو مثالی کردار رہا جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

Facebook Comments HS