عزت نفس مجروح نہ کریں


ہمارے ہاں رمضان کا آغاز مساجد میں تراویح اور ملک میں مہنگائی سے ہوتا ہے۔ یہ برسوں پرانی روایت ہے لہذا اس سے انحراف ممکن نہیں۔ دوسری طرف عوامی تاثر یہ ہے کہ رمضان کا احترام ہم سے زیادہ کوئی نہیں کرتا۔ جبکہ اللہ جانتا ہے یہاں احترام سے رمضان کوئی نہیں کرتا۔ ادھر رمضان آتا ہے ادھر ہمارے لوگوں کے اندر کا مسلمان فوراً چھلانگیں مارتا باہر نکل آتا ہے۔ ہر کوئی شیطان مارنے کے چکر میں ایک دوسرے ہی کو مارنے لگتا ہے حالانکہ ان دنوں شیطان بیچارہ کہیں موجود ہی نہیں ہوتا۔

اگر شیطان کی بجائے لوگ اپنا اپنا نفس مار لیں تو یقین کریں شیطان کو مارنے کی نوبت کبھی نہ آئے۔ رمضان میں ہر خاص و عام کے اندر نیکی کرنے کی ہڑک جاگ اٹھتی ہے خدا کی راہ میں دینے والے جاگتے ہیں تو صدقہ خیرات حاصل کرنے والوں کی دوڑیں لگوا دیتے ہیں۔ اس بھاگتی دوڑتی نیکی میں حاجی صاحب راشن بانٹتے ہوئے ’فوٹو شوٹ‘ کروانا ضروری سمجھتے ہیں۔ کہ انھیں اس طرح کاروباری حلقے میں اپنی نیک نامی کی سند بھی تو لینی ہے۔

شیخ صاحب بھی پیچھے نہیں رہتے وہ بھی اس کار خیر میں اس طرح حصہ ڈالتے ہیں کہ امریکہ تک گونج سنائی دیتی ہے۔ کچھ عرصہ سے ٹی وی چینلز پہ رمضان نشریات ہر سال باقاعدگی سے منائی جاتی ہے۔ قریبا ہر چینل پر ایک سی نشریات مختلف نام اور چہروں سے چل رہی ہوتی ہے۔ رمضان نشریات پہ اعتراض بنتا نہیں اور نہ کرنا چاہیے کہ یہ خالص کاروباری معاملہ ہے۔ لیکن جو بات تکلیف کا باعث بنتی ہے وہ رمضان نشریات میں نیکی کا سیگمنٹ ہے۔

اس سیگمنٹ کے ذریعے نیکی کو دریا برد کرنے کا اہتمام ایسے بہترین طریقے سے ہوتا ہے کہ دل خون کے آنسو رونے لگتا بے۔ عزیز و اقارب، غربا و مساکین، بیماروں، ضرورت مندوں کے ساتھ بھلائی کرنی چاہیے۔ لیکن جب نیکی کے سیگمنٹ میں ان غریب ضرورت مندوں کو لاکر بٹھایا جاتا ہے اور پھر ان کے چہروں پہ کیمرے فوکس کیے جاتے ہیں تو یقین کریں ان کی کہانی سن کر دل تو پسیجتا ہی ہے لیکن ان کو اس طرح ٹی وی پہ مدد کے لیے منتظر دیکھ کر خود سے نظریں نہیں مل پاتیں۔

ٹی وی سکرین پہ نظر آنے والے یہ ضرورتمند ان خود کش بمبار کی طرح لگتے ہیں جو جنت کے لالچ میں اپنے ساتھ بم باندھ کر خود کو اڑا لیتے ہیں۔ کہ سفید پوش لوگوں کا اس طرح پوری دنیا کے سامنے آ کر مانگنا اپنے ساتھ بم باندھ کر خود کو اڑانے جیسا ہی ہے۔ ان کے چہروں پہ کسمپرسی کی جو داستانیں رقم ہوتی ہیں وہ کوئی نہ بھی بتائے تب بھی پڑھی جاتی ہیں۔ ضرورت مندوں کو اس طرح نشریات میں لانا موٹیویشنل تو ہو سکتا ہے لیکن ان کی انا پہ جو ضرب لگتی ہے وہ شاید ہی کسی نے کبھی محسوس کی ہو۔

وہ بیچارے تو اپنی تکلیف پریشانی سے مجبور ہو کر دنیا کے سامنے آتے ہیں۔ لیکن مدد کرنے والوں کی تو ایسی کوئی مجبوری نہیں ہوتی کہ وہ دنیا کو بتا کر ہی مدد کریں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ سب نیک نیتی سے کیا جاتا ہے۔ اس سے بلاشبہ لوگوں کی مدد ہوجاتی ہے لیکن کیا ضروری ہے کہ ان ضرورت مند چہروں کو دنیا کے سامنے لایا جائے۔ کیا یہ مقام تذلیل نہیں کہ کسی ضرورت مند کو اس طرح پوری دنیا کے سامنے ننگا کیا جائے۔

ایک تو وہ پہلے ہی مجبور ہے دوسرا ہم اس کو ٹی وی پہ بٹھا کر اس کی عزت نفس کو مجروح کرتے ہیں۔ کیا غضب ہے کہ ہم پہلے لاچار ڈھونڈتے ہیں پھر انھیں دنیا کے سامنے بٹھا کر ان کی غربت کا تماشا لگاتے ہیں۔ اور پھر ان کی مدد کرتے ہیں۔ ٹھیک ہے اس طرح مستحقین کی مدد ہوجاتی ہے۔ لیکن مدد کا ایک طریقہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ان مستحق لوگوں کو فون کال پہ لے لیا جائے، ان کے چہرے دنیا کے سامنے نہ لائے جائیں صرف ان کی کہانی سنا کر ان سے رابطے کا نمبر سکرین پہ چلا دیا جائے۔ کہ جس نے دینا ہے اس نے انسانی چہروں کو نہیں راہ خدا میں دینا ہے، تو پھر کسی کا پردہ رکھ کر کیوں نہ دیا جائے۔

سوال یہ ہے کہ کیا آپ دکھاوے کے لیے کسی کی مدد کرتے ہیں، اس لیے دیتے ہیں کہ لوگ آپ کی واہ واہ کریں؟ کیا ضروری ہے کہ اپنی انا کی تسکین اپنی مشہوری کے لیے دوسرے کے وقار کی دھجیاں اڑائیں؟ غریب ہونا جرم نہیں اور امیر ہونا کوئی کرشمہ نہیں۔ یہ خدا کی تقسیم ہے کچھ لوگوں کو خدا دیتا ہی اس لیے ہے کہ وہ دوسروں کی مدد کریں۔ یہ ان کے ذمہ ہوتا ہے انھیں ہر حال میں دینا ہی ہے، وہ اگر نہ چاہیں تب بھی۔ تو اگر آپ نے اپنے سخی ہونے کی تشہیر کرنی ہے سو بار کریں۔

سوشل میڈیا پر اپنے امدادی ٹرکوں کی تصاویر شیئر کریں، امدادی رقوم کی تفصیل بتائیں۔ لیکن بخدا جن کی مدد کرتے ہیں ان لوگوں کو چہروں کو سامنے مت لائیں۔ دوسروں کی کسمپرسی کا اشتہار مت لگائیں۔ خدا کو یہ فعل سخت ناپسند ہے۔ دینے کا حکم تو یہ ہے کہ دائیں ہاتھ سے دیں تو بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو۔ تشہیر کو فرض نہ سمجھ لیں۔ رمضان المبارک احترام کا مہینہ ہے۔ اس مہینے کی حرمت کو سمجھیں۔ ضرورت مندوں کے ساتھ نیکی کریں نیکی کا تکبر مت کریں۔ کسی کی مدد کرنا براہ راست خدا سے کاروبار کرنا ہے۔ تو جب خدا سے کاروبار کر رہے ہیں تو پھر کسی اسٹام پیپر کی ضرورت نہیں رہتی۔

Facebook Comments HS