ایک سفر رانیوں کے ساتھ
بیگ میں لیپ ٹاپ رکھنے کی وجہ سے کندھے اس قدر دکھ رہے تھے کے میں کسی بھی بس پر چڑھ جاتی مگر آفس سے لیٹ نکلنے کی وجہ سے نہ تو کوئی بس نظر آ رہی تھی نہ ہی رکشہ، ایک عام انسان کی طرح سب سے پہلے تو میں نے سسٹم کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے ہر اس شے کو برا بھلا کہا جسے ٹھیک کرنا میرے بس میں نہیں تھا۔ مگر جب ہاتھ اٹھا کے گھڑی دیکھی تو اندازہ ہوا کے میں کتنا لیٹ نکلی آفس سے اور جلدی نکلنا میرے بس میں تھا پر وہ میں نہیں کر سکی اور قصور وار پوری مملکت کے نظام کو قرار دے دیا یہ تو حالت ہے ہم عام شہریوں کی۔
مزید 20 منٹ کے انتظار کے بعد جو پہلی بس آئی میں دائیں بائیں دیکھے بغیر جھٹ سے چڑھ گئی اگر چہ وہ بس لوگوں سے اس قدر بھری تھی جیسے کوئی انگور کا گچھا عام طور پر تو مجھے پسند نہیں اس طرح کی بس میں سفر کرنا مگر حالات ایسے تھے کے اگر بس پر نہ چڑھتی تو لیپ ٹاپ کے بوجھ سے میرے کندھے ہمیشہ کے لئے ڈس بیلنس ہو جاتے۔ جوں ہی بس میں چڑھی کوئی بھی سیٹ خالی نہیں تھی پھیر ایک خاتون نے اپنی 8 سالہ بچی کو سیٹ سے اٹھا دیا اور اپنی گود میں بیٹھا لیا میں نے اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنا لیپ ٹاپ کا بیگ کندھے سے اتارا اور سکون کے سانس لی اگرچہ 10 سالہ بچی کو گود میں بٹھانے کے لحاظ سے کچھ زیادہ بڑی تھی مگر یہ یقیناً ان کا ظرف تھا۔
خواتین کے سیکشن میں ہر طرف ایک جیسی آوازیں گونجتی ہوئی معلوم ہوئی پہلے تو میں نے اس بات پار اتنا غور نہیں کیا بس آنکھیں بند کر کے گہری سانس لیتی رہی اور ماتھے سے پسینا پوچھا۔ کچھ دیر بعد غور کیا تو واقعی میرے آس پاس کی ساری خواتین ایک طرح کی معلوم ہوئی میں نے ان کے لہجے اور لباس سے اندازہ لگایا کے جیسے وہ مکرانی تھیں یا ان میں سے کچھ بلوچ۔ سب کی سب آپس میں باتوں میں مشغول کہیں ہنسی کی آواز تو کہیں دکھ بھری داستانوں کا سسپینس معلوم ہوا پھر میں نے ان کی باتوں پر غور کرنا شروع کیا تو مجھے معلوم ہوا کے یہ کسی سوسائٹی کی نوکرانیوں کا گروہ تھا جو ایک ہی سوسائٹی کے مختلف بلڈنگز میں کام کرتی ہیں کچھ کے کپڑوں میں نقش و نگار سے واضح تھا کے وہ بلوچ کمیونٹی سے ہیں اور ان کے زبان بھی الگ تھی ان کی باتیں تو مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھیں مگر ان کا انداز بہت ہی زبردست تھا ایسا لگ رہا تھا کے جیسے کوئی خوشی کی بات ہو اور آپس میں اس خوشی کو بانٹا جا رہا ہو اور ہر بات کے آخر میں یا تو وہ آپس میں تالی مارتی یا پھر ایک دوسرے کو کہتی ٹکر!
اس وقت تو مجھے اس لفظ کا مطلب نہیں معلوم تھا مگر ان کے انداز سے معلوم چل رہا تھا کے وہ اپس میں مذاق مستی میں ہیں جیسے کسی بات کا کوئی غم نہ ہو اور زندگی کو بھر پور جیا جا رہا ہو حالانکہ نہ تو وہ امیر زادیاں تھی نہ ہی حسین ترین عام سی شکل و صورت اور عام سے گھرانے سے تعلق رکھنے والی ضرورت مند عورتیں جو گھر گھر کام کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہیں ان کے ہمراہ کچھ بچے بھی تھے جن کے پیروں میں ٹوٹی ہوئی چپلیں تھیں اور ہاتھ میں ناریل کا ٹکڑا جو شاید بس میں خرید کر ہی ان کی ماؤں نے ان کے ہاتھوں میں دیے ہوں گے عارضی بھوک مٹانے کے لئے ظاہری ہے ان کے گھر جانے سے ہی گھر کا چولہا جلے گا۔
مگر وہ بچے بس کی کھڑکیوں سے باہر کا نظارہ کرنے مین اس قدر خوش تھے کے جیسے وہ ڈزنی لیڈ کا سفر کر رہے ہوں یا یوں بھی معلوم ہو رہا تھا کے ان کو اپنے گھر پہنچنے کی کس قدر جلدی اور خوشی تھی، دوسری طرف کچھ مکرانیاں اپنے منفرد انداز میں اردو کا استعمال کرتے ہوئے مجھے اٹریکٹ کر رہی تھیں اور اپنی آپ بیتی سنا رہی تھیں پہلی نے اپنی کام والی باجی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کے یہ جوڑا جو مین نے پہن رکھا ہے یہ باجی نے مجھے دیا تھا پچھلے سال مگر صرف قمیض اور دوپٹہ۔ میں نے پیر بازار سے اس کے پاجامے کا کپڑا لیا اور 7 نمبر گلی والی انجم خالہ کی لڑکی سے سلوایا ہائے! سب اتنی تعریف کر رہے تھے محلے میں جب میں نے پچھلی عید میں یہ پہنا تو، میرے بنگلے والی باجی کہ رہی تھیں کے یہ برانڈ کا ہے ہائے کیا نام تھا کچھ غادی یا کھاڑی ہماری تو زباں پر بھی نہ چڑھے۔ باجی نے تو صرف ایک بار ہی پہنا تھا پر میں نے تو پورا سال نکال لیا، میری باجی بہت اچھی ہیں، مجھے اس کی معصومیت دیکھ کر پہلے تو افسوس ہوا پھر اس کے چہرے کے طرف دیکھا تو مجھے اس کی خوشی اور شکر گزاری دیکھ کر خود پر افسوس ہوا کیوں ہم جیسوں کے پاس تو بہت کچھ ہوتا ہے مگر نہ تو ہم اتنا خوش ہوتے ہیں اور نہ ہی دینے والے کے شکر گزار۔
دوسری خاتون نے چادر میں منہ کو ڈھانپ رکھا تھا اور عاجزی سے فریاد کرتے ہوئے کہتی ہے کے ہم تو منتظر ہیں پچھلی بار کی طرح۔ نہ تو بیگم صاحبہ نے پچھلے رمضان کچھ دیا نہ اس عید پر کوئی امید ہے بس روح افزا کی ایک بوتل اور کھجور کا دبا پکڑا کے چلتا کر دیا البتہ بڑے صاحب سے کچھ امید ہے ان کا دل کچھ نرم معلوم ہوتا ہے پچھلے مہینے میرا بیٹا پرویز ساتھ گیا تھا تو بڑے صاحب نے مجھ سے اس کی تعلیم کا تذکرہ کرتے ہوئے 2 ہزار روپے دیے اور کہا کے اس کا داخلہ کرواؤ کسی اسکول میں اب میں کیا کہتی کے اس کا باپ تو اس کو اپنی طرح سبزی والا ہی بنانا چاہتا ہے۔ اللہ بھلا کر بڑے صاحب کا مگر بیگم صاحب نے مجھے صاف کہہ دیا کے کل سے بچے کو نہ لا نا۔ میں سوچ رہی تھی عورت کو تو خدا نے ماں کا دل دیا ہوتا ہے تو وہ کس طرح کسی بھی بچے کے ساتھ بد سلوکی کر سکتی ہے۔
ڈرائیور کے پیچھے کی سیٹ میں ایک عمر رسیدہ خاتون بھی تھی اس کے برقعے سے پتہ چل رہا تھا کے جیسے پٹھان ہو اس کے ہاتھ میں چند تھیلیاں تھی جس میں بچی ہوئی روٹیوں کے ٹکڑے اور سالن نظر آ رہا تھا وہ اس قدر نیند میں تھی کے اسے اس پاس کی کسی شور غل کی پرواہ نہ تھی اب بنارس آتے ہی ایک عورت نے پکارا رشیدہ خالہ اٹھ جاؤ آپ کا اسٹاپ آہی گیا، یک دم اس نے انکھیں کھولیں اور اپنے تھیلوں کو زور سے پکڑا کے جیسے اسے ڈر ہو کے کہیں کچھ گر نہ گیا ہو اس وقت روٹی کی اہمیت میرے آنکھوں کے سامنے تھی۔ لگتا ہے آج کام زیادہ تھا ایک عورت نے کہا رشیدہ خالہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھے تکلیف سے اٹھتے گھٹنوں پر ہاتھ رکھے تکلیف سے رشیدہ کراہتے ہوئے بولی اف مالک! رحم کر! اب کیا بتاؤں۔ جس دن کہتی ہوں میڈم سے کہ جلدی جانا ہے اسی دن کپڑے کا ڈھیر لگا دیتی ہیں خیر شبانہ ذرا پہلے آواز دیتی تم تو میں سجاد کو فون کر لیتی تو وہ آ کر مجھے اسٹاپ سے لے جاتا موٹر سائیکل پر۔ اب کہاں آئے گا وہ نواب زادہ اتنی جلدی خیر اللہ مالک ہے یہ کہ کر وہ اتر گئی اس کے ہر ایک قدم سے اس کے جسم کی تکلیف واضح تھی نہ تو اس کی عمر تھی محنت مشقت کی نہ ہی گھر کا بوجھ اٹھانے والی حالت تھی۔
میں اس سفر میں جس بات کو سمجھ پائی اس بات کو آپ سب تک پہنچانا چاہتی ہوں اس تحریر کے ذریعے، آپ میڈم! باجی! بیگم صاحبہ! جو بھی اس درجے پر موجود ہیں اور رانیوں سی زندگی گزار رہی ہیں۔ نوکرانیوں کے اس طبقے کا احترام کریں ان کا احساس کریں ان کی خدمات کو سراہیں ان کی بچوں پر شفقت کا ہاتھ رکھیں ان کی محنت کے مطابق ان کو معاوضہ دیں کیوں ان نوکرانیوں کے دم سے ہی آپ رانیاں ہیں اپنے گھروں کی۔

