خاندانوں کی حکمرانی اور مڈل کلاس کا رد عمل!


//5

عمران خان کی شخصیت اور ان کے طرز حکمرانی میں ہزار خامیاں ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔ ہم کل بھی مانتے تھے۔ آج بھی مانتے ہیں۔ وقت مقررہ پر معمول کے مطابق انتخابات ہوتے تو محض ایک شخص کہ پورا پنجاب جس کے حوالے کر دیا گیا تھا، تنہا عمران حکومت کے زوال کے لئے کافی تھا۔ مہنگائی کے باعث حکومتی ارکان اسمبلی کے لئے اپنے ووٹروں کو عالمی حالات اور وبا کے اثرات سمجھانا دن بدن مشکل ہو رہا تھا۔ اندازہ یہی تھا کہ حکومت عوام میں مقبولیت کھو چکی ہے۔

ادھر امریکی اثر و رسوخ کا یہ عالم ہے کہ طاقتور یورپی ریاستیں بھی امریکیوں کے ساتھ براہ راست الجھنے سے کتراتی ہیں۔ عمران خان صرف امریکہ ہی نہیں پورے یورپ کو للکارنے لگے تھے۔ دونوں بڑے سیاسی خاندان مگر مغربی دارالحکومتوں سے رابطے میں رہے۔ صدر بائیڈن نے اقتدار سنبھالا تو گٹھ جوڑ زور پکڑنے لگا۔ عمران خان کو ہٹائے جانے کی صورت میں ہم جیسے مگر لکھتے رہے کہ وہی مخصوص سیاسی خاندان ملک پر ایک بار پھر مسلط ہو جائیں گے۔ ہم جیسوں کو کبھیcult تو کبھی ’عمران لورز‘ کا نام دیا۔

عمران خان کی حکومت اب گر چکی ہے۔ کس طرح گری؟ اس کے اخلاقی تو کیا قانونی پہلوؤں سے بھی کسی کو سرو کار نہیں۔ لوٹا کریسی، سازش، عمران حکومت کے اتحادیوں سے سر عام بھاؤ تاؤ، کسی کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ چنانچہ جب جمہوریت کو بہترین انتقام کہا جاتا ہے تو اسی جمہوریت سے گھن آنے لگتی ہے۔ کسی اور سے نہیں ہمیں فقط جمہوریت پسند لبرلز سے گلہ ہے۔ اعلیٰ جمہوری و اخلاقی اقدار، انسانی حقوق اور تحریر و تقریر کی آزادی کے جو راگ الاپتے نہیں تھکتے تھے۔

باپ بیٹی کو جو جمہوری نجات دہندہ بنا کر پیش کر رہے تھے۔ کہتے تھے ماضی سے انہوں نے بہت کچھ سیکھ لیا۔ کرپشن کے مقدمات جن کے غیر معمولی التوا کا شکار تھے۔ جمہوریت پسند لبرلز اور ان کے حامی میڈیا کے سامنے مگر صرف ایک ہی مقصد تھا، ’ہائبرڈ نظام‘ کو گرانا، عمران خان کی حکومت کو گرانا۔ سو ہو چکا۔ درجن بھر سیاسی خاندان اقتدار میں واپس لوٹ چکے۔ سوچا گیا تھا کہ راوی سب چین لکھے گا۔ سب ہنسی خوشی بسر کریں گے۔

اندازے کی غلطی مگر بہت سنگین نکلی۔ عوامی ردعمل کا کسی کو بھی اندازہ نہ ہو سکا۔ پاکستانی مڈل کلاس بالخصوص کروڑوں نوجوان، سمندر پار پاکستانی اور لاکھوں ریٹائرڈ فوجی اور ان کے خاندان سخت برہم ہیں۔ دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں پاکستانی جس طرح سڑکوں پر نکلے کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ یہ تو معلوم تھا کہ سابقہ فوجی افسروں (Veterans) کی اکثریت عمران خان کی حمایت کرتی ہے، مگراس قدر شدت کے ساتھ؟ اب جز بز پھرتے ہیں۔ ریٹائرڈ افسروں کی تنظیموں کو ادھیڑ کر رکھ دینے کا ارادہ ہے۔

کچھ عناصر ہیں جو اب بھی سمجھتے ہیں کہ غصے کی لہر عارضی ہے، جلد گزر جائے گی۔ کچھ کا خیال ہے کہ مڈل کلاس والے ہیں، سڑکوں پر پولیس کا لاٹھی چارج سہنے کی سکت نہیں رکھتے۔ یہ مگر نہیں جانتے کہ کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں کو بدلنا اب کسی کے بس کی بات نہیں۔ خاندانی حکمرانی کی شکل میں ملک پر الیٹ گروہوں کے قبضے کو جو اب تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ معاشرے کے ہر طبقے، ہر شعبے میں موجود ان طاقتور گروہوں سے جڑے نیٹ ورک سے جو اب پوری طرح واقف ہیں۔ پوری طرح بیزار ہیں۔

’یک طرفہ اسمبلیوں‘ میں حکومتی ارکان کھڑے ہوتے ہیں اور سابقہ حکومت کی ناکامیاں گنواتے ہیں۔ ناکامیاں گنوانے کے نہیں، اب کام کرنے کے دن ہیں۔ کوئی اور جانتا ہو یا نہ جانتا ہو، شہباز شریف جانتے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کا ہنگامہ تمام ہوا۔ کابینہ کی تشکیل کا پہاڑ سر ہوا۔ اب سیاسی اور معاشی مشکلات سے نمپٹنے کا وقت ہے۔ عمران خان نے سیاسی دباؤ قائم کر رکھا ہے۔ تمام تر دھمکیوں، توشہ خانہ جیسی کردار کشی اور ناموافق میڈیا کے باوجود اپنے سخت موقف سے پیچھے ہٹنے کو جو تیار نہیں۔

معیشت سامنے پڑی اکھڑتے سانس بھرتی ہے۔ یوکرین پر روسی حملے نے یورپی ممالک تک کو پٹرول کی راشنگ پر سوچنے کے لئے مجبور کر دیا ہے۔ ہم کب تک یوں اندھا دھند لئے گئے بیرونی قرضوں کے بل پر مہنگے داموں تیل عالمی منڈی سے خرید کر سستے داموں بیچ سکتے ہیں۔ ہمارے نئے وزیر خزانہ امریکہ پہنچ چکے ہیں۔ اگرچہ اس بار بوجوہ عالمی مالیاتی اداروں سے جارحانہ رویے کی بجائے ’مشفقانہ‘ سلوک کی امید ہے، تاہم کچھ شرائط تو بہرحال ماننی ہوں گی۔ مختلف مدوں میں دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ یقیناً سرفہرست ہو گا۔ پٹرول کی قیمت آج نہیں تو کل بڑھانا ہو گی۔

مین سٹریم میڈیا اس وقت نئی حکومت کے ساتھ کھڑا ہے، مگر سوشل میڈیا کے تیور کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔ کب تک مغرب زدہ لبرلز کا ترجمان انگریزی اخبار اور ایک دوسرا بڑا میڈیا ہاؤس خاندانوں کی حمایت میں کھڑے رہیں گے؟ خاندانی حکومت کا ہی خاصہ ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے سری لنکا کی معیشت دنوں کے اندر دھوپ میں رکھی موم کی طرح پگھل گئی ہے۔ خشک سادہ روٹی کے حصول کے لئے سری لنکن عوام قطاروں میں کھڑے نظر آرہے ہیں۔ پچاس سال پہلے خطے میں سری لنکا آزاد معاشی منڈی کی بنیاد رکھنے والا پہلا ملک تھا۔

آزاد معاشی ادارے مگر قائم نہ کر سکا۔ مقتدر گروہ سری لنکن عوام کی تقدیر کے مالک بنے رہے۔ رہی سہی کسر 26 سالہ خانہ جنگی نے پوری کر دی۔ سال 2009 ء میں معیشت میں ابھار آیا بھی تو مستحکم معاشی انفراسڑکچر کی عدم موجودگی میں عارضی ثابت ہوا۔ حکومت ایک خاندان کے ہاتھوں میں رہی۔ چار عدد راجہ پکسا بھائی بیک وقت صدر، وزیر اعظم، وزیر دفاع اور وزیر خزانہ تھے۔ سیاسی عدم استحکام پر قابو پانے کے لئے راجہ پکسا بھائیوں نے صدر کے عہدے کو طاقتور بنا کر اختیارات کے ارتکاز میں حل ڈھونڈا۔ سیاسی عدم استحکام کے اندر بحران سے نمپٹنے کے لئے سخت اور دوررس فیصلوں کی گنجائش مگر باقی نہ رہی۔ کرونا کی وبا پھیلی تو سیاحت کی صورت آنے والے زر مبادلہ کے سوتے سوکھ گئے۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگی تو دور کی بات، اب سری لنکا کے پاس لازمی درآمدات کے لئے بھی زر مبادلہ دستیاب نہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اور سری لنکا کی سیاسی اور معاشی صورت حال میں کس قدر مشابہت پائی جاتی ہے۔ قوموں کے عروج و زوال کی کم از کم پانچ سو سالہ تاریخ تو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کبھی ایک بار بھی الیٹ گروہوں سے نجات اور خود مختار سیاسی اور معاشی اداروں کے قیام کے بغیر کوئی ایک ملک بھی دیر پا ترقی کی منزل نہیں پا سکا۔ عمران خان کی شخصیت اور طرز حکمرانی میں ہزار خامیاں ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔ ہم کل بھی مانتے تھے۔ اب بھی مانتے ہیں۔ خاندانوں کی حکمرانی اور الیٹ طبقات کے گٹھ جوڑ کے سامنے مگر آج وہی عمران خان مزاحمت کا استعارہ بن گیا ہے۔ زیر زمین لال انگارہ بھاپ اڑاتا سیل رواں ہے، آج نہیں تو کل ضرور پھٹ پڑے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments