نور جہاں! تیرے پتر ہٹاں تے وک گئے نی


حکومت گھر بھیجی جا چکی مگر سوشل میڈیا پہ روزانہ موصول ہونے والی بے شمار پوسٹس میں سے دو میرے ذہن سے کھرچی نہیں جا رہیں۔

پہلی اوپر درج کردہ فقرہ ”نی نور جہاں تیرے پتر ہٹاں تے وک گئے نی“ اور دوسرا غیر ملکی میڈیا میں شائع شدہ ایک کارٹون جو جرمنی سے دوست نے بھیجا۔

اس میں دکھایا گیا کہ میز پر لگے امریکہ اور پاکستان کے جھنڈوں میں سے امریکہ والی طرف امریکہ کے روایتی نشان انکل سام اپنے بٹن بند کر رہے ہیں اور پاکستان کی طرف عصمت کھو چکی ایک بے لباس خاتون ( علامتی پاکستان ) سر جھکائے بکھرے بال لئے بیٹھی ہے اور اس کے چاروں طرف ڈالر بکھرے ہوئے ہیں۔ میرے سامنے پچھتر سال قبل کا چھ سالہ لئیق احمد آ کھڑا ہوتا ہے جو واہگہ بارڈر کراس کر کے پاکستان میں داخل ہوتے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے خوشی کے آنسو بہا رہا تھا اور آج وہی اکیاسی سال کا ہو چکا لئیق احمد اسی محبوب وطن کو مجبوراً الوداع کہنے کے بعد کینیڈا میں بیٹھا پھر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا رہا ہے مگر اب آنکھیں غم سے نم ہیں کہ اب وہ مولانا فضل الرحمان یہاں صدر مملکت ہو گا جس کے والد محترم مولانا مفتی محمود نے پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ ہونے پہ شکر ادا کیا تھا اور باقی بزرگ پاکستان کو ”پاکی استھان“ پلیدستان ”اور“ مسلمانوں کی کافرانہ حکومت ”قرار دیتے اس کی“ پ ”بھی نہ بننے دینے کا عزم لئے اس کے خلاف نعرے لگاتے تھے۔ میر جعفر اور میر صادق کو چھوتے مجھے صدیوں پہلے کا جلال الدین خوارزم شاہ اور دہائیوں قبل کے صدام حسین یاد آ جاتے ہیں

جلال الدین خوارزم شاہ اپنی بچی کھچی طاقت مجتمع کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر چنگیز خاں کے مقابل آ کھڑا ہوا تھا۔ اس کی شجاعت، جنگی مہارت، خطابت اور اعلی منصوبہ بندی سے کی گئی سفارت کاری تمام علاقائی سرداروں اور ہمسایہ ریاستوں کی افواج کو اس کے جھنڈے تلے لا چنگیز خاں کے ٹڈی دل افواج کے سامنے مورچہ بند ہو چکی تھیں۔ اور جوش فتح کے یقین میں بدلتا طبل جنگ کا منتظر تھا۔ اسلامی لشکر کے ایک سردار کو دوسرے کم حیثیت سردار کا گھوڑا پسند آ گیا اور اس سے مانگ لیا۔ گھوڑے کے مالک نے انکار کیا۔ بات بڑھی تو تلواریں نکل آئیں۔ بیچ بچاؤ کرا بظاہر صلح کرا دی گئی مگر دلوں کی صلح کیسے ہوتی۔

صبح پتہ چلا کہ ملول سردار اپنے ماتحت اور حواری سرداروں کی فوجوں کے ہمراہ راتوں رات ساتھ چھوڑ جا چکا تھا۔ ایک گھوڑے کی ملکیت کی خواہش مملکت کی سالمیت بیچ چکی تھی۔ بے حوصلہ ہو چکی فوجیں شکست کھاتی دریائے سندھ کے کنارے پہنچ چکی تھیں اور چنگیز خاں پہاڑی کی چوٹی پہ کھڑا جلال الدین خوارزم شاہ کو چوٹی سے گھوڑے سمیت چھلانگ لگ دریائے سندھ کی طوفانی موجوں کو چیرتے ہندوستان کے التمش کی مملکت میں جاتے دیکھ رہا تھا۔ اور اور اس کے اہل و عیال سمیت ہزارہا فوجیوں کی جانیں ایک گھوڑے کی ملکیت کی ضد کی نذر ہو چکی تھیں

امریکہ شہ اور سرپرستی میں عراق میں بر سر اقتدار آیا صدام حسین اسی کے ایجنڈا اور دی امداد کے بل پر دس برس کی عراق ایران جنگ میں دونوں کو نیم جان کرتے پھر اس کے داؤ میں آ کویت پر چڑھائی کر بیٹھا کہ امریکہ اسے منہ زور ہوتے دیکھ لگام دینا چاہتا تھا۔ اور نتیجہ میں کویت کی تباہی کے ساتھ عراق کی تباہی ( ایک تیر سے دو شکار) اور بائیکاٹ کا تحفہ دینے کے باوجود ابھی غصہ قائم تھا اور صدام حسین زخم کھا کر بپھرا ہوا سامنے کھڑا ہو چکا تھا اور اس کے چنگل سے نکلنے کی تگ و دو میں لگا تھا۔ صدام حسین کا داماد ایک اعلی ریسنگ کار  لے آیا۔ صدام کے بڑے بیٹے عودے کو کار پسند آ گئی۔ اپنے ہاتھ بیچنے کو کہا جھگڑا بڑھا اور انکار کا نتیجہ عودے پر قاتلانہ حملہ کی صورت نکلا اور دونوں داماد بھائی بیویوں کو لے اردن بھاگے بڑا حسین کمال بڑے فوجی عہدہ پر اور خفیہ مہلک تباہ کن ممنوعہ ہتھیاروں کا انچارج تمام راز امریکہ کے حوالے کر چکا تھا۔ دونوں داماد صلح کے بہانے بلا کر قتل کر دیے گئے یہ راز امریکہ کو عراق کو ملیا میٹ کرنے کا بہانہ بن گئے۔ دونوں دامادوں کی قبروں کا تو پتہ نہیں مگر صدام کے دونوں بیٹوں کو ملت فروشوں کی مخبری پر پکڑ کر قتل کر دیا گیا اور چند ماہ بعد صدام حسین کو خفیہ غار سے نکال کر پھانسی دے بیٹوں کی قبروں کے ساتھ ہی قبر کی جگہ مل گئی

مجھے نسیم حجازی کے ناول یوسف بن تاشفین کا ہیرو سعد یاد آ گیا کہ جسے ایک مرتے آدمی نے حکومت کے خلاف غیر ملکی سازش میں ملوث افراد کی فہرست دے کر حکام تک پہنچانے کا کہا اور کوتوال نے خط پڑھتے سب سے پہلے اسی کو انجام تک پہنچانے کے حکم دیے کہ خط وہیں پہنچا تھا جو اس سازش کے مرکزی کردار تھے۔

لگتا ہے عمران خان سے بھی خط پہنچانے میں غلطی ہو گئی اور اسی کوتوال کو دے آیا۔ جو۔۔۔

عمران بنی گالہ جا بیٹھا مگر یہ خط آگے کہاں پہنچاتا ہے دیکھیں گے مگر کارٹون میں ڈالروں میں گھری عصمت کھو چکی ( علامتی پاکستان) لڑکی اور منہ موڑے بٹن بند کرتا انکل سام دونوں ملکوں کے جھنڈوں کے رخ تلے ایبسولوٹلی ناٹ اور بھکاری کی کیا مجال کے فقرے سامنے لے آیا۔

مجھ اکیاسی سالہ لئیق احمد کے منہ سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ پھر نکلا۔ مگر ساتھ آنسو غم درد اور دکھ کے ہیں

 

Facebook Comments HS