سندھ کے پہاڑ اور ان کی خصوصیات


سرزمین سندھ کے پہاڑ معدنی دولت سے مالا مال ہیں۔ ماہرین ارضیات کے مطابق، سندھ کے پہاڑ تیل، گیس، گرینائیٹ، جپسم، کیلشئیم، چونا، گندھک، نباتات اور نادر قسم کے چرند پرند سے آباد ہیں۔ سندھ کے سب سے طویل پہاڑی سلسلے کو کھیرتھر رینج کہتے ہیں۔ لغوی اعتبار سے ’کھیر‘ ایک عربی نام ہے جس کا مطلب فضیلت، اعزاز اور سخاوت ہے۔ کھیرتھر رینج بھی سندھ کے لئے اعزاز کی بات ہے، جس کے طویل سلسلے میں کئی اور پہاڑ جڑے ہوئے ہیں۔ اس پہاڑی سلسلے کی، ان مختلف چوٹیوں کے جو الگ الگ مقامات پر ملتی ہیں، اپنے اپنے نام ہیں مگر یہ تمام چوٹیاں، چٹانیں اور پہاڑیاں کھیر تھر رینج کا حصہ ہیں۔ اس سلسلہ کوہ کی پہاڑیوں، چوٹیوں اور ان کے نشیبی علاقوں کی خصوصیات کا جائزہ لیتے ہیں۔

گورکھ ہل

کھیر تھر رینج کا سب سے مشہور پہاڑ گورکھ ہے۔ ضلع دادو کے واہی باندھی شہر سے ایک گھنٹے کی مسافت پر گورکھ ہل اسٹیشن ہے۔ اس کی بلندی 5688 فٹ ہے۔ گورکھ کے پہاڑ سے لائم اسٹون نکلتا ہے جو عمارت سازی اور راستوں کی مرمت کے لئے بہترین ہے۔ گورکھ کے پہاڑ میں جپسم کے ذخائر بھی موجود ہیں۔ جپسم سیم و تھو ر والی زمین کی بحالی کے لئے نہایت کارگر ہے۔ گورکھ پہاڑ کی چوٹی جسے زیرو پوائنٹ کہتے ہیں، حکومت سندھ نے وہاں ایک ریسٹ ہاؤس اور ریسٹورنٹ قائم کیا ہے جو سیاحوں کی سہولت کے لئے موجود ہے۔

گورکھ ہل اسٹیشن پر اکثر و بیشتر موسم ٹھنڈا رہتا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مئی تا ستمبر تک، جب پورے سندھ میں درجہ حرارت 48 تک آ پہنچتا ہے اور شام ڈھلے تک تندور جیسی گرم ہوا چلتی رہتی ہے۔ ایسے دنوں میں گورکھ کی چوٹی پر 18 سے 20 تک ٹھنڈا موسم ہوتا ہے۔ موسم سرما میں یہاں برف باری ہوتی ہے۔ اگر کبھی بادل برستے ہیں تو اور زیادہ ٹھنڈک ہو جاتی ہے۔ بارش کے بعد گورکھ کی پہاڑی پر مختلف اقسام کی جڑی بوٹیاں پیدا ہوتی ہیں۔

یہاں پر قدرتی تالاب بھی ہیں جہاں بارش کا پانی جمع ہوتا ہے۔ یہ پانی پینے اور کھیتی باڑی میں بھی کام آتا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں کی طرح گورکھ کے مقام پر بھی، ویسے ہی میوہ دار درخت پیدا ہوتے ہیں جن میں بادام، انجیر، جامن، شاہ بلوط اور انگور شامل ہیں مگر مذکورہ پھل کی پیداوار بھی کم ہوتی ہے اور پھلوں میں مٹھاس بھی کم ہوتی ہے کیونکہ یہ درخت بارش کے پانی سے زندہ رہتے ہیں، اس لئے ان کے ذائقے میں بھی فرق ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ گورکھ پر بیر، ببول، کھجی، کہو، نیم، لوھیڑو، آک، لؤ، کنڈو اور پیش کے درخت بہت نظر آتے ہیں۔

کھیرتھر نیشنل پارک

کھیرتھر نیشنل پارک ایک قدرتی پارک ہے جس میں فطرت کا حسن نظر آتا ہے۔ اس مقام پر موجود بڑے پہاڑوں میں گیس اور تیل کے ذخائر کے آثار ملے ہیں مگر وائلڈ لائف کا کہنا ہے کہ کھدائی کے کام سے جنگلی حیات کو خطرہ ہے۔ کراچی اور حیدرآباد کے درمیان کھیرتھر نیشنل پارک کے دو سینٹر ہیں ایک کرچاٹ سینٹر اور دوسرا کراچی کے قریب کاٹھوڑ میں ہے۔ کرچاٹ سینٹر تھانہ بولا خان کے پاس ہے جہاں جنگلی حیات کو تحفظ دینے کے لئے سرکاری ادارے اور عالمی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔

مذکورہ علاقے کو 1973 ع میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اقوام متحدہ سے نیشنل پارک کی فہرست میں شامل کروایا تھا۔ کھیرتھر نیشنل پارک میں پہاڑی چوٹیاں، غار، تالاب، چشمے اور برساتی ندیاں اپنے قدرتی انداز میں صدیوں سے اسی حالت میں موجود ہیں۔ اس پارک میں جنگلی بکرے، سرہ (بارہ سنگھے کی قسم) خنزیر، ہرن، مگر مچھ، گیدڑ، لومڑی، باز اور کبھی کبھار چیتے اور بھیڑیے بھی نظر آتے ہیں۔ میدانوں میں پٹ تیتر جنگلوں میں بگڑو اور سیاہ تیتر عام اور بہت نظر آتے ہیں۔ ان چوٹیوں پر جنگلی جانوروں کے تحفظ کے لئے شکار پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ شکار پر پابندی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے جاندار سخت خطرے میں ہیں۔ تلور اور بارہ سنگھے کی نسل تو تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ اسی طرح ستر کی دہائی میں گدھ نظر آتے تھے مگر اب وہ بھی ختم ہو چکے ہیں۔

کارونجھر

دنیا کے 17 واں عظیم صحرا تھر پار کر میں واقع کارونجھر پہاڑ موجود ہے۔ ماہرین ارضیات کے مطابق یہ پہاڑ ڈھائی سے چار ارب سال قدیم ہے جو کہ 109 پہاڑیوں پر مشتمل ہے۔ کارونجھر میں سب سے اہم چیز گرینائٹ ماربل کی موجودگی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہاں 26 بلین ٹن کا گرینائٹ موجود ہے جو مختلف رنگوں میں ہے۔ اس حوالے سے حکومت سندھ نے فیصلہ کیا ہے کہ گرینائٹ کو مارکیٹ میں لایا جائے تاکہ بیرونی ممالک سے اس کی خریداری نہ کرنی پڑے۔

کارونجھر پہاڑیوں میں موجود گرینائیٹ عالمی معیار کے پیمانے میں آٹھویں نمبر پر آتا ہے۔ کارونجھر پہاڑی سلسلہ 26 کلو میٹر طویل اور سطح سمندر سے ایک ہزار فٹ بلند ہے۔ اس کے پتھر کی ساخت عام پہاڑ سے زیادہ مضبوط ہے کیونکہ یہ آتش فشاں بھی ہے۔ کارونجھر کا پتھر عمارت سازی، راستوں کی مرمت اور کریش کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں سے ملنے والی چائنا کلی کے نام سے پہاڑی مٹی سرامکس انڈسٹری میں استعمال ہوتی ہے۔

لکی

جامشورو سے سیہون جاتے ہوئے بزرگ لکی شاہ صدر کا مزار آتا ہے۔ مزار سے کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر بلند ترین پہاڑوں کے درمیان گندھک والے پانی کا چشمہ ملتا ہے۔ یہاں جلدی امراض میں مبتلا لوگ نہانے کے لئے آتے ہیں۔ لکی کے گرم قدرتی چشمے میں گندھک کی وجہ سے پانی کی رنگت بھی ہرے اور نیلے پن والی ہو گئی ہے۔ لکی کے پہاڑوں سے سرخ مٹی بھی ملتی ہے جو شیشہ سازی میں استعمال ہوتی ہے۔

لکی پہاڑ کا پتھر سیمنٹ کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے جبکہ راستوں کی مرمت اور عمارت سازی میں استعمال ہونے والے پتھر حاصل کرنے کے لیے کرشنگ پلانٹس لگے ہوتے ہیں۔ لکی سے نکلنے والی ندی سیہون ڈیم کی طرف جا کے ملتی ہے۔ یہاں پہاڑوں سے ملنے والی جڑی بوٹیاں طب علاج اور دواؤں میں استعمال ہوتی ہیں۔

بڈو جبل

سیہون شریف سے 60 کلو میٹر کے فاصلے پر بڈو نامی بلند و بالا پہاڑ موجود ہے۔ یہ پہاڑ 3000 فٹ بلند ہے۔ اس پہاڑ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں تیل اور گیس کے متعدد ذخائر ریافت ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے اب بھی کئی مقامات پر مزید تلاش جاری ہے۔ بڈو جبل سے ماربل کا ذخیرہ بھی ملا ہے جو 46 میل تک پھیلا ہوا ہے۔ اس پہاڑ کا پتھر ریتیلا کہا جاتا ہے جو تعمیرات کے لئے نہایت موزوں ہے۔ یہاں پر قدرتی چشمے بھی ہیں۔

ڈاڑھیارو

سندھی زبان میں ڈاڑھیارو کے معنی داڑھی والا بنتی ہے۔ اس بلند و بالا پہاڑ کا دور سے نظارہ ایسا ہی لگتا ہے جیسا کہ داڑھی والا چہرہ ہو۔ کھیر تھر رینج کی سب سے بلند ترین چوٹی اس پہاڑ کی ہے جس کو ”کتے کی قبر“ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس چوٹی پر ایک کتے کی قبر ہے جو اپنے مالک سے وفاداری نبھاتے ہوئے پہاڑ کی بلندی پر پہنچ کر مر گیا تھا۔ کتے کی قبر کا سنا سنایا قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک شخص سو روپے کا مقروض تھا اس نے اپنا کتا گروی رکھوایا جب اس کے پاس سو روپے ہو گئے تو وہ ادائیگی کے لیے روانہ ہوا لیکن راستے میں اس نے دیکھا کہ اس کا کتا آ رہا ہے وہ اس پر سخت ناراض ہوا۔

کتا لعن طعن سن کر وہیں مر گیا۔ کتے کا مالک قرض کی ادائیگی کے لیے جب پہنچا تو اسے بتایا گیا کہ کچھ چوروں نے اس کے گھر کو لوٹ لیا تھا اس کتے کی مدد سے وہ سامان برآمد ہوا اور یہ ملکیت سو روپے سے کہیں زیادہ تھی اس لیے انہوں نے کتے کو رہا کر دیا۔ مالک کو یہ سن کر دکھ پہنچا اور اس نے واپسی اسی جگہ پر کتے کی قبر تعمیر کرائی۔

یہ پہاڑ لاڑکانہ کے شہر قمبر علی خان میں ہے۔ پہاڑ سندھ کی سرحد بھی کہا جاتا ہے کیونکہ پہاڑ کی دوسری طرف بلوچستان ہے۔ کئی بار یہ پہاڑ گھومنے والے آگے نکل جاتے ہیں تو بلوچستان کے قبائلی لوگ ان سے ٹکرا جاتے ہیں۔ اس پہاڑ کی بلندی سات ہزار فٹ سے زیادہ ہے۔ اس کا پتھر عمارت سازی سے لے کر راستوں کی تعمیرات تک میں استعمال ہوتا ہے۔

رنی کوٹ

ضلع دادو میں سندھ کے قدیم ترین پہاڑوں میں رنی کوٹ کے پہاڑ شمار ہوتے ہیں۔ ان پہاڑوں کی قدامت اربوں سال بتائی جاتی ہے۔ رنی کوٹ کا پتھر لائم اسٹون ہے۔ یہاں پہاڑوں کی چوٹی پر ہزاروں برس قدیم دیوار قائم ہے جو کہ ایک عجوبہ بھی ہے۔ یہ طویل دیوار 29 کلو میٹر تک بنی ہوئی ہے۔ اس قلعہ کے گرد مشہور کھیرتھر پہاڑی سلسلے میں پتھروں کو تراش کر اس کے نشیب و فراز کے ساتھ ایک مضبوط فصیل تعمیر کی گئی، جسے دیوار سندھ بھی کہا جاتا ہے۔

پہاڑوں کے کی چوٹی پر بنا ہوا مضبوط یہ قلعہ بالکل دیوار چین کی مانند نظر آتا ہے۔ یہ دیواروں لائیم اسٹون (چونے کے پتھر) سے تعمیر کروائی گئی ہیں جو ہزاروں سال قدیم ہونے کے باوجود آج بھی مضبوط ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ پہاڑ کی چوٹی پر طویل چلتی ہوئی دیواروں کے درمیان چلنے کا راستہ بھی ہموار بنایا گیا ہے۔ قلعہ رنی کوٹ کے پہاڑوں کے درمیان قدرتی چشمے بھی ہیں جبکہ قیمتی نایاب جڑی بوٹیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ رنی کوٹ کا شمار دنیا کے قدیم ترین مقامات یا تہذیبوں میں ہوتا ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ موہن جو دڑو کی تہذیب سے اس کا مقابلہ تھا۔ یہاں سے ڈائناسورز کے فوسلز بھی ملے ہیں جبکہ مختلف تحقیقی نتائج سے کئی کہانیاں ملتی ہیں۔

گنجو ٹکر

حیدرآباد شہر کا تاریخی پہاڑ گنجو ٹکر، شہر کے جنوب میں، لطیف آباد کے قریب ہے۔ اس وقت حیدرآباد کے سائیٹ ایریا میں یہ پہاڑی آتی جس کے ارد گرد انڈسٹری زون بن گیا ہے۔ تاریخ کی کتب میں گنجو ٹکر کے حوالے سے لکھا ہوا ہے کہ اس کی چوٹی سے آس پاس کے تمام شہروں کا نظارہ کیا جاتا تھا۔ یہ پہاڑ چونے کے پتھر کا ہے، جو کیمیائی کام میں استعمال کیا جاتا ہے۔ گنجو ٹکر پہاڑ، کھیرتھر رینج کے حصے میں شمار ہوتا ہے۔ سندھ کے، 17 ویں صدی کے تالپور حکمرانوں کا تاریخی قبرستان بھی اسی پر فضا مقام پر موجود ہے۔

گنجو ٹکر کی ایک چوٹی کو ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں تفریحی مقام بنایا گیا تھا، جہاں خوبصورت باغات، پھول پودے اور مختلف اقسام کی بیلیں سجائی گئی تھیں اور ہل پارک کے نام سے مشہور ہو گیا۔ گرمی کے موسم میں بھی یہاں ہر وقت تیز بھرپور ہوا چلتی رہتی ہے جس سے گرمی کا احساس نہیں ہوتا۔ لوگ ہر روز یہاں اپنے خاندانوں سے بھرے رہتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہل پارک اپنی خوبصورتی کھوتا گیا اور اب اجڑی ہوئی حالت میں ہے۔

کارو جبل

ضلع ٹھٹہ کا سب سے طویل ترین پہاڑی سلسلہ کارو جبل یعنی کالا پہاڑ ہے۔ یہ پہاڑی سلسلہ جنگشاہی سے شمال کی جانب چالیس کلومیٹر کے بعد شروع ہوتا ہے جو ایک طرف گڈاپ اور کاٹھوڑ جاتا ہے تو دوسری طرف جامشورو تک جاتا ہے۔ یہ کوہستان کے لوگوں کا پسندیدہ پہاڑ ہے جس کی اونچائی پر جانے کے شوق میں لمبے لمبے سفر مکمل کرتے ہیں۔ کارو جبل میں پردیسی پرندے جو روس سے سفر کرتے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ ان کے سواء بھی کئی اقسام کے پرندے ملتے ہیں مگر افسوس ہے کہ یہاں پردوں کا شکار کرنے والوں کو شکار سے نہیں روکا جاتا۔ کارو جبل میں خنزیر، لومڑی، گیدڑ اور بجو (ہنی بیجر) بھی نظر آتے ہیں۔ اس پہاڑ سے بڑی تعداد میں ڈولومیٹ اور لائیم اسٹون کے پتھر ملتا ہے جو زیادہ تر تعمیراتی کام میں استعمال ہوتا ہے۔

سونڈا

ٹھٹہ کے قریب سندھ کا قدیم شہر سونڈا ہے۔ سونڈا کے پہاڑوں میں چونے کا پتھر ملتا ہے جبکہ تعمیراتی کام کے لئے پتھر بھی یہاں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ کراچی اور نیشنل ہائی وے پر اکثر مرمتی کام کے لئے سونڈا کے پہاڑوں کا پتھر استعمال کیا جاتا ہے۔ بالکل ہلدی کی طرح پیلا، چمکدار پتھر فقط یہاں نظر آتا ہے۔ جب برسات ہوتی ہے یہ پتھر دھل کر اور بھی نکھر جاتا ہے۔ سونڈا میں پہاڑیوں سے مزدور، سخت مشقت کر کے، پتھر توڑ کر، اسے فروخت کرتے ہیں۔ زمانہ قدیم سے لے کر آج تک سونڈا میں قبریں اسی پتھر کی بنائی جاتی ہیں۔ یہاں ایک تاریخی قبرستان بھی ہے جو 15 صدی عیسوی کے زمانے کی لگتی ہیں۔ ان قبور پر مدفون ہونے والوں کی وجہ شہرت کے مطابق نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔

جھمپیر

ٹھٹہ کے قریب تاریخی شہر جھمپیر واقع ہے۔ جھمپیر کے پہاڑوں میں لائیم اسٹون کی قسم کا پتھر بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کوئلے کی کان بھی ہے۔ جھمپیر کے پہاڑیوں سے قدرتی چشمے بھی نکلتے ہیں۔ ٹھٹہ کے باقی علاقوں سے جھمپیر بلند اور پر فضا مقام ہے، یہی وجہ ہے کہ اس شہر کو پاکستان کے پہلے ونڈ پاور پروجیکٹ کے لئے چنا گیا، جہاں 680 ایکڑ یعنی تقریباً 275 ہیکٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ونڈ فارم سے 50 میگاوٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے، جو آغاز ہے۔ یہ ہوا پہ بجلی پیدا کرنے کا سستا ترین پروجیکٹ ہے جو مستقبل میں ملک کے لئے بہت فائدے مند ثابت ہو گا۔

میٹنگ

جھمپیر کے قریب میٹنگ کے پہاڑوں میں چائنا کلی جو کہ چینی کے برتن اور سرامکس (سینیٹری) کے لئے استعمال ہوتی ہے بڑے پیمانے پر ملتی ہے۔ یہاں میلوں رقبے پر چونے کے پتھر کے بڑے ذخائر موجود ہیں جو کیمیائی انڈسٹری کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

کھار اور مول

کراچی کے علاقے گڈاپ سے اندر کی جانب سفر کریں تو کھار اور مول کے پہاڑ ہیں۔ لائم اسٹون اور چونے کے پتھر کا بڑا ذخیرہ ان پہاڑوں میں ملتا ہے۔ یہ پہاڑ سطح سمندر سے 1500 فٹ بلند ہیں۔ ان پہاڑوں کے درمیان ایک قدیم ندی بھی ہے جو کہ بارانی ہے۔ مول اور کھار کے پہاڑوں کا سلسلہ ایک طرف تھانہ بولا خان اور دوسری طرف حب بلوچستان تک ملتا ہے۔ اس علاقے میں مارخور، پہاڑی بکرے، چنکارا ہرن، ہنی بیجر، گیدڑ اور لومڑ ملتے ہیں جبکہ مور، تیتر، ببل، کوئل، فاختہ جیسے پرندے پرواز کرتے نظر آتے ہیں ہیں۔ کھار اور مول پہاڑ میں پیدا ہونے والی جڑی بوٹیوں میں اسد نامی نایاب جڑی بوٹی ملتی ہے جو کہ پیٹ میں پتھری توڑنے میں کارآمد ہوتی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments