وہ ایک عبوری صوبہ
وہ ایک عبوری صوبہ ۔۔۔ جو کب سے خواب میں ھے
2009 کے صدارتی پیکج کے تحت گلگت بلتستان کو دیا گیا سیلف گورننس امپاورمنٹ آرڈر اب ایک دہائی سے زائد کی عمر گزار چکا ہے۔ گو کہ اس آڈر کے ذریعے ملنے والے اختیارات ہر لحاظ سے دیگر چاروں صوبوں کے اختیارات سے مختلف ہیں اور اس کی بڑی وجہ یہ بتائی گئی کہ گلگت بلتستان چونکہ آئینی طور پر پاکستان میں شامل نہیں ہے لھذا عبوری انتظام کیا گیا ہے۔
2014 میں جب مسلم لیگ نون کی وفاق میں حکومت بنی تو یہ غلغلہ پھر اٹھا کہ 2009 کے صدارتی آڈر میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں گی، زیادہ اختیارات ملیں گے نیز ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت اس نظام کو آئینی چھتری بھی فراہم کی جائے گی۔ اس صورت حال میں مختلف فورمز پر طرح طرح کی تجاویز سامنے آئی علاؤہ ازیں گلگت بلتستان کی اس وقت کی اسمبلی جو کہ مسلم لیگ نون کی تھی کی طرف سے بھی تجاویز وفاق کو دی گئیں۔ 2009 کے آڈر میں بہتری اور زیادہ سے زیادہ اختیارات کی منتقلی کے لئے ٹھوس شکل دینے کے لئے وفاق کی سطح پر ایک کمیٹی بنائی گئی جس کی سربراہی سرتاج عزیز کو سونپی گئی۔
اس کمیٹی نے مختلف پہلوؤں پر غور کیا ، کئی مشاورتی اجلاس بلائے نیز وزارت خارجہ سے بھی فیڈ بیک لیا گیا تاکہ مسلئہ کشمیر میں پاکستان کی پوزیشن کو بھی برقرار رکھا جاسکے۔ گو کہ اس کمیٹی کی رپورٹ سرکاری سطح پر منظر عام پر نہیں لائی گئی لیکن اس کے مندرجات مختلف حوالوں سے سامنے آتے رہتے۔ ان مندرجات سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کئی انتظامی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ مملکت پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 1 میں کچھ اضافہ کیا جارہا ہے۔ یاد رہے آرٹیکل 1 پاکستان کے حدودِ کا تعین کرتا ہے جس کے الفاظ کچھ یوں ہیں
"پاکستان کے علاقے مندرجہ ذیل پر مشتمل ہوں گے
ا. صوبہ جات ( بلوچستان، خیبرپختونخوا، پنجاب ، سندھ)
ب۔ اسلام آباد
ج۔ وفاقی زیر انتظام قبائلی علاقے
د۔ ایسی ریاستیں اور علاقے جو الحاق کے ذریعے یا کیسی اور طریقے سے پاکستان میں شامل ہوجائے۔
یہ بات بھی سامنے آگئی کہ مجوزہ پیکج کے تحت آئین پاکستان کے اس آرٹیکل 1 میں ضروری ترمیم کر کے پاکستان کی حدود مزید وسعت دے کر گلگت بلتستان کو بھی شامل کیا جارہا ہے تاہم یہ شمولیت مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط ہوگی۔
یہی تجاویز کئی سال پہلے آزاد کشمیر کے سابق چیف جسٹس سید منظور گیلانی اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے سابق انسپکٹر جنرل افضل شگری نے مشترکہ طور پر دئیں تھیں ۔ ان کی دی گئی مرتب ہو کر کتابی شکل میں منظر عام پر آگئی ہیں۔
غرض سرتاج عزیز کمیٹی کا کوئی عملی نتیجہ تو سامنے نہیں آیا تاہم ایک آڈر 2018 کی شکل میں سامنے لایا گیا جسے سول سوسائٹی، وکلاء اور سیاسی رہنماؤں نے سرے سے مسترد کیا۔ اکثریت کا خیال تھا کہ اس پیکج کے ذریعے گلگت بلتستان کو پھر سے وزارت امور کشمیر کی عمل داری میں رکھا جارہا ہے جو ایک الگ محتاجی کا نام ہے۔
یوں آڈر 2018 کی رد و کد میں کئی دلائل سامنے آئے اس کی خامیوں اور خوبیوں پر نقد تبصرے کے گئے یہاں تک کہ اس کا شق وار موازنہ 2009 کے آڈر کے ساتھ کیا گیا اور اس کی اہمیت بڑھانے کے لیے اخبارات میں مسابقاتی جدول بھی شائع کئے گئے ۔ مزید برآں گلگت بلتستان کی سپریم اپیلٹ کورٹ نے 2018 کے آڈر کو معطل کردیا اس پر یہ مدعا سپریم کورٹ آف پاکستان میں اٹھایا گیا کہ گلگت بلتستان کے کورٹس کو وفاقی فیصلے معطل کرنے کا اختیار نہیں اور یوں سپریم کورٹ پاکستان نے 2018 آڈر پھر بحال کردیا۔لیکن عمل درآمد نہ ہوسکا کیونکہ نون کی حکومت چلی گئی۔
2018 کے الیکشن کے نتیجے میں وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت برسر اقتدار آئی تو عبوری صوبے کا قضیہ پھر سر اٹھانے لگا۔اور پھر جب 2020 کے صوبائی انتخابات میں گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی حکومت بنی تو ایک سرے سے پھر امیدیں باندھ لیں گئی کہ اب کے بار کچھ عملی کام ھوگا۔
ویسے بھی دیگر جماعتوں کے سربراہان کی نسبت عمران خان کی گلگت بلتستان سے واقفیت کچھ زیادہ تھی۔ وہ جب کرکٹ کے کھلاڑی تھے تب بھی متعدد بار گلگت بلتستان آتے رہے ہیں۔ وزیراعظم بنے کے بعد بھی انھوں نے یہاں کی ٹوارزم بڑھانے اور علاقے کو پروموٹ کرنےکے لئے سوشل میڈیا میں کافی کام کیا۔ایسے میں گلگت بلتستان کی عوام اور تحریک انصاف کے مقامی اکابرین کا خیال تھا کہ اب کے بار گلگت بلتستان کو آئینی حیثیت ملنے والی ہے۔ صوبائی اسمبلی کی الیکشن مہم میں بھی اسی وعدہ کو تواتر سے دہرایا گیا اور عددی اکثریت حاصل کرنے میں اس بیانہ کا بڑا کردار تھا۔
حسب دستور صوبائی اسمبلی کی کمیٹی بنی اور وفاق میں اس وقت کے وزیر امور کشمیر اور وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی سربراہی میں کمیٹیاں قائم ہوئیں ۔ سفارشات مرتب ہوتی گئی اور اس طرح کے اشارے ملے کہ آرٹیکل 1 میں ترمیم کی جارہی ہے۔ ادھر گلگت بلتستان کی تحریک انصاف سیاسی کے کرتا دھرتا عوامی میٹنگوں اور بیانات میں وثوق سے یہ بات کہتے رہے کہ گلگت بلتستان کو وہ کچھ ملنے والا ہے جو گزشتہ ستر سال سے نہیں ملا ہے۔ یہاں تک کہ عمران خان کے بطور وزیر اعظم دورہ سکردو میں جہاں انہوں نے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا یہ تیقن کے ساتھ کہا جارہا تھا کی اس متذکرہ پیکج کا اعلان ہوگا۔ مگر شومئی قسمت دیکھئے جلسے میں اس پیکج کا ذکر تک نہیں ہوا۔ بیرسٹر فروغ نسیم کے تیار کردہ سفارشات جو وقفے وقفے سے میڈیا پر آتی رہی ان کے مطابق نہ صرف آرٹیکل 1 میں ضروری تبدیلی کی جارہی بلکہ آرٹیکل 258A وغیرہ میں بھی اضافہ و تبدل مقصود ہے۔
لیکن پھر وفاقی سطح پر وہی روایتی سست روی کا دور دورہ رہا ، کمیٹیوں کے وہی بے نتیجہ اجلاس اور پھر اگلی میٹنگ میں کچھ کرنے کا تذکرہ ، یہاں تک کہ آخر کار 2022 کا وہ دن بھی آیا جب عدم اعتماد کے نتیجے میں اس حکومت کا خاتمہ ہوا اور عبوری صوبہ والی کہانی پھر ادھوری رہ گئی۔
اب جب وفاق میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی مخلوط حکومت وجود میں آئی ہے تو کیا سرد خانے سے گلگت بلتستان کے عبوری صوبے کی فائل جھاڑ پھونک کر نکالی جائے گی؟ یہ سوال گردش میں ہے۔
ویسے بھی اس مخلوط حکومت کو کسی اپوزیشن کا سامنا بھی نہیں اور ترامیم کے لئے کوئی مخالفت بھی نظر نہیں آتی ھے۔ ادھر ایوان بالا میں بھی اسی مخلوط حکومت کا پلڑا بھاری ہے تو ایسے میں کیا یہ حکومت گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا کریڈٹ لے گی؟
پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے اس موجودہ سیاسی انتظام کی بانی ہے اوپر سے مسلم لیگ نون کی ہمدردیاں بھی اس علاقے کے لئے ہیں اور اس نے ماضی میں یہاں قابل ذکر ڈویلپمنٹ بھی کیا ہے


