نوم چومسکی بھی غدار اور امریکی سازش کا حصہ نکلے


خدا کسی کو ایسی خدائی نہ دے / کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے، محترم شاعر سے معذرت کے ساتھ آج کے پس منظر میں کچھ یوں کہنے کو جی چاہ رہا ہے کہ "خدا کسی کو ایسی رسوائی نہ دے / کہ اپنی پاکیزگی کے آگے سب چور اچکے دکھائی دیں”۔اپنی ذات کی حد تک مریضانہ خوش فہمی کہ میرے علاوہ سب چور ہیں، ہم ٹھہرے فرشتے باقی سب شیطان، اس حد تک خبط ذات کا شکار بندہ ذہنی طور پر نارمل ہو سکتا ہے؟ جی ہاں توشہ خانے سے مال دنیا اکٹھا کر کے مستقل صادق و امین کا درجہ حاصل کرنے والے فین کلب کے شہزادے کے خلاف ایک ایک کرکے سب یک زبان ہونے لگے اور اب تو حد ہی ہوگئی، نوم چومسکی بھی بڑھاپے کی آخری عمر میں سٹھیا گیا اور چٹےننگے لفظوں میں کہہ ڈالا کہ عزت مآب خان صاحب کے خلاف کسی قسم کی فارن کانسپریسی نہیں ہوئی اور اس بات کا کوئی بامعنی ثبوت بھی نہیں ہے۔ بندہ اتنی سی بات کرکے خاموش ہو جائے لیکن نہیں، چومسکی نے یہ تک کہہ ڈالا "دی یو ایس از پاور فل بٹ ناٹ آل پاور فل”۔
 اس کے علاوہ انھوں نے یہ تاثر بھی زائل کرنے کی کوشش کی کہ دنیا میں کچھ بھی ہو جائے سب امریکہ کروا رہا ہے یہ سب فضول باتیں ہیں۔ ایک تھریٹ لیٹر کے ذریعے رجیم چینج کی باتیں بے معنی ہیں اور یہ کوئی وقیع ثبوت نہیں ہے۔ نوم چومسکی جی یہ عقل کی باتیں ہیں اور منطقی گفتگو سے ہمارے بھولے بھالے عوام کو بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا ورنہ تو تحریک عدم اعتماد کا باعزت طریقے سے سامنا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں تھا۔ یہ رائی کا پہاڑ یا چائے کی پیالی میں طوفان تو اسی لئے برپا کیا گیا ہے کہ آئندہ الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہوکر غیر معمولی نتائج حاصل کرکے امیرالمومنین کے مرتبے پر فائز ہو کر مسلم امہ کا لیڈر بنا جا سکے۔
اگر عقل سے کوئی دور دور تک واسطہ ہوتا تو ہمارا صادق و امین کبھی بھی بھرے مجمع میں ایک کاغذ کے ٹکڑے کو امریکی سازش کے ثبوت کے طور پر لہرا کر پوری دنیا میں جگ ہنسائی کا سبب نہ بنتا۔ اب ایسا تو ہونا ہی تھا۔ ہمارے 1992 کے ورلڈکپ ہیرو کی ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں فون کال نہ کر کے جو بائیڈن نے جو غلطی کی ہے اس کا خمیازہ تو امریکہ بہادر کو بھگتنا پڑے گا اور لعن طعن کا یہ سلسلہ آنے والے الیکشن تک تو برداشت کرنا پڑے گا، بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔ موجودہ پس منظر میں جو ہاتھ لگا ہے اسی کو کیش کروانے کا وقت ہے۔ فی الحال تو مزاحمتی جلسوں کی صورت میں اور سوشل میڈیا کمپین کے ذریعے سے اپنے چھبیس سالہ بلند وبانگ دعووں کی جگ ہنسائی سے بچنے کے لئے سب کچھ امریکہ پر ڈال کر عوام کی نظر بندی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایک ایسا ماحول بنانے کی سر توڑ کوشش کی جا رہی ہے کہ موجودہ ملکی صورتحال میں واحد عمران خان بچا ہے جو اس معیشت کی ڈوبتی کشتی کو پار لگا سکتا ہے۔ اور تمام کوتاہیوں اور خامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے خان صاحب کو نجات دہندہ اور باقیوں کو ملک دشمن عناصر کی صفوں میں دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سازشی تھیوریاں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کا ذریعہ ہوتی ہیں، غور کرنے اور اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنے میں مشقت اور  بےعزتی سی ہوتی ہے جبکہ سازش سازش کہنے اور دوسروں پر الزام دھرنے کے لئے صرف زبان کو تھوڑا سا موڑنا پڑتا ہے۔
خان صاحب جب کرکٹ کے میدان میں تھے تو بال چمکا کے محفوظ راستہ لے لیتے تھے اب یہی چکر سیاست میں چلانے کی کوشش کی مگر نیوٹرل امپائر نے میدان سے ہی آؤٹ کر دیا۔ موجودہ پھڑپھڑاہٹ نیوٹرل ایمپائر کوانڈر پریشر کرنے کے علاوہ تمام ریاستی اسٹیک ہولڈرز کو زبردستی یہ سمجھانا ہے کہ یا تو مجھے اقتدار میں آنے کا راستہ دے دو ورنہ سڑکوں پر میں بہت خطرناک ثابت ہوں گا۔ ویسے عجیب صادق و امین ہے جس لب و لہجہ اور رعونت کے ساتھ دوسروں سے احتساب اور منی ٹریل کے مطالبے کرتا رہا جب خود کی باری آئی تو سازش سازش کے منترے شروع کر دیے۔
Facebook Comments HS