روداد سفر حصہ 18


بیٹی کی رجسٹریشن کےلیے تھانے گئے ۔ پہلے تو انہیں سمجھ ہی نہ آئی کہ اس کو کرنا کیسے ہے ۔ پھر فون کیے صوبے کے دارالخلافہ (Lanzhou) کہ ہمارے پاس ایک عجیب کیس آ گیا کہ مقامی لڑکی نے پاکستانی سے شادی کی ہے اور ان کی بچی کی رجسٹریشن کیسے کرنی ہے ۔ وہاں سے انہوں نے معلومات لیں اور ہماری طرف متوجہ ہو کر کچھ ڈاکومنٹس مانگ لیے کہ جا کر ایمبیسی سے لیٹر لے کر آئیں کہ اس کی بچی کی آپ نے پاکستانی رجسٹریشن نہیں کروائی ۔ چائنا دوہری ( dual) نیشنیلٹی کی اجازت نہیں دیتا اس لیے یہ ڈاکومنٹس مانگ رہے تھے ۔ اب وہاں سے چار گھنٹے کا سفر بس میں کر کے ( Lanzhou ) شہر اور پھر وہاں سے چوبیس سے چھبیس گھنٹے کا سفر کرکے بیجنگ کون جائے اور پھر ایمبیسی یہ لیٹر کیسے دیے جبکہ میری شادی کی رجسٹریشن ہی چائنا کی تھی ۔ یہ تو مسئلہ کشمیر بن جاتا ۔ پہلے سسرال والوں نے کہا کہ ان کا ایک جاننے والا وہیں گورنمنٹ ہسپتال میں ڈاکٹر ہے اس سے کہتے ہیں ۔ میں سسر کے ساتھ اس کے پاس گیا اور ایک بڑا پیکٹ سگریٹ کا پیش کیا جو اس نے ایسے قبول نہیں کیا لیکن سسر اسے دوسرے طریقے سے دے کر آئے ۔ اس کے رویے سے میں نے اندازہ لگایا کہ یہ کام نہیں کرے گا اس لیے ہسپتال سے باہر نکل کر میں نے سسر صاحب سے کہا کہ یہ کام ایسے نہیں ہوگا ۔ اس نے میری بات سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ دو دن انتظار کر لو ۔ میں بھی دو دن کےلیے خاموش ہو گیا ۔ ان دو دنوں میں میں سسر کے ساتھ کھیتوں میں نکل جاتا اور اردگرد ان کے رشتے داروں کے گھر گھومتا رہتا ۔ دو دونوں میں سارے ہی مجھے جان گئے تھے ۔ اور سارے ہی مسکرا کر استقبال کرتے تھے ۔ اس پہاڑی کے دوسری طرف بھی میں بیوی کے ساتھ گیا کہ وہاں اس گاؤں میں بھی میری بیوی کے داد کے بھائی کا گھر تھا ان سے ملنا بھی ضروری تھا ۔ وہاں میرے بیوی کے ایک چچا تھے جن کی عمر اس وقت کوئی چالیس پنتالیس سال تھی لیکن شادی نہیں کی تھی اور وجہ یہ بتائی کہ شادی کےلیے لڑکی نہیں ملی اور گاؤں سے باہر وہ دوسرے شہر گئے نہیں کہ بوڑھی والدہ جو اس وقت کوئی نوے سال کی تھیں اس کی دیکھ بھال وہی کرتے تھے ۔ چائنا میں ون چائیلڈ پالیسی کے بعد آبادی کا تناسب اس حد تک بگڑا کہ 108 لڑکوں کے مقابلے میں 100 لڑکیاں ہیں ۔ اسی لیے بہت سے لوگوں کو شاید شادی کےلیے بہت مشکلات پیش آتی ہیں ۔ اور شادی کےلیے لڑکی کے گھر والوں کو جو پیسے دے جاتے ہیں وہ رقم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ بھی کوئی کوئی ہی افورڈ کر سکتا ہے ۔
 ان ہی دونوں میں سسرال کے گھر ایک شخص آیا جو حکومت کی طرف سے آیا تھا اور کچھ چیزیں پوچھ کر لکھ رہا تھا ۔ اس کے ذمہ شاید اس علاقے میں موجود بھیڑوں کی تعداد کا اندازہ لگانے کا ذمہ تھا اور ساتھ اس نے یہ بھی تنبیہ کہ انہیں باہر نہیں لے کر آنا ورنہ ضبط ہو جائیں گی ۔ بہت ہنس مکھ سا تھا ۔ میری بیوی نے مجھے بتایا کہ یہ گاؤں کا نمبردار ہے ۔ میں نے اسے زبردستی اپنے پاس بٹھایا اور چائے اور سگریٹ پیش کیے جو اس نے شکریے کے ساتھ قبول کر لیے ۔ میں نے بیوی سے کہا اس کا نمبر لے لو اور اس سے پوچھا کہ کب نیچے تھانے کی طرف جاؤ گے اس نے دو دن بعد کا بتایا کہ وہ کسی کام کے سلسلے میں تھانے والے علاقے کی طرف جائے گا ۔ دو دن بعد میں بیوی کو لے کر اس تھانے والے قصبے میں جہاں بچی کی رجسٹریشن ہونی تھی گیا ۔ پہلے میں اور میری بیوی اس بازار میں گھومتے رہے ۔ اس علاقے میں ایک دن بازار لگتا اور ایک دن چھٹی یا خاموشی ہوتی تھی ۔ بازار میں زیادہ تر عام استعمال کی چیزیں ، زراعت کے متعلق اشیاء اور سبزی فروٹ وغیرہ کے اسٹال تھے ۔ اس کے ساتھ ایک مقامی مسلمان نے بھیڑ کے گوشت کا اسٹال بھی لگایا تھا ۔ اس کے ساتھ بھی علیک سلیک ہوئی ۔ اور پوچھا تو اس نے پچھلی پہاڑی کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ اس کا گاؤں اس طرف ہے ۔ اس کے مسلمان ہونے کی دور سے نشانی اس کے سر پر سفید ٹوپی تھی اور قریب ہو کر السلام علیکم کے الفاظ تھے ۔
تھوڑی دیر گھومنے کے بعد وہ نمبردار صاحب سبزی فروٹ موٹر سائکل کے ساتھ لٹکائے نظر آ گئے ۔ میں انہیں پکڑ کر ریسٹورنٹ میں لے گیا ۔ وہاں وہ کھانے سے نہ نہ کرتے رہے ، میں نے کہا کہ کھانا تو ضرور کھانا ہے ۔ اور بتایا کہ بچی کی رجسٹریشن کروانی ہے ۔ کھانا نہ کھلایا تو رجسٹریشن کیسے ہوگی ۔ وہ بھی سمجھدار تھا سمجھ گیا کہ کیا کرنا ہے ۔ معاملے کو سدھانے کے لحاظ سے اس نے کھانے کی بہت سی ڈشوں کا آرڈر دیا اور ہمیں کہا کہ انتظار کرو میں آتا ہوں ۔ دس منٹ بعد وہ کوئی پانچ چھ لوگوں کو لے کر آ گیا ۔ جن میں وہ تمام لوگ شامل تھے جن کے ہاتھ میں رجسٹریشن کا پراسس تھا ۔ پھر کھانا ختم ہونے کے بعد وہ ہمیں ساتھ لے کر گئے اور اسی وقت بغیر کسی ایمبیسی کے سرٹیفیکیٹ کے رجسٹریشن ہو گئی ۔ یعنی ہمارا پاکستانی فارمولا وہاں بھی چلتا ہے ۔ بلکہ شاید یہ فارمولا دنیا میں ہر جگہ کام کرتا ہے ۔
دو دن بعد میں نے واپسی کا ارادہ کیا تو بیوی نے کہا کہ اس کا دل کر رہا ہے کچھ دن مزید والدین کے پاس رکے ۔ میں نے جواب دیا بسم اللہ آپ آ جائیے گا ، میں واپس جا کر حصول رزق کےلیے دوڑ دھوپ کرتا ہوں ۔ میرا دل کر رہا تھا کہ کوئی دوسرا جانے کا راستہ ڈھونڈا جائے کہ بس کا سفر لمبا اور تھکا دینے والا تھا ۔ کیونکہ اب سسسرال اتنے دور بنا لیا ہے تو آنا جانا تو لگا رہے گا ۔ پتہ کرنے پر یہ بات علم میں آئی کہ گاؤں کے پاس سے ایک بس لان زو ( Lanzhou ) شہر جاتی ہے جو کہ اس صوبہ گانسو ( Gansu ) کا مرکزی شہر ہے اور وہاں سے ٹرین شنگھائی ( Shanghai ) شہر ۔ بس سیلانی طبیعت کہ اس طرف والے سفر کی ٹھان لی ۔ ساس صاحبہ نے زاد راہ کے طور پر مکئی اور انڈے ابال کر ساتھ دے دیے جو گھر میں موجود دیسی مرغیوں کے تھے ۔ اور میں سسر کے ساتھ سڑک پر بس کے انتظار میں کھڑا ہو گیا ۔ گاؤں والے کھیتوں سے آ جا رہے تھے اور مجھے سے علیک سلیک بھی کرتے جاتے ۔ میں بھی ان کی مقامی زبان ان سے حال پوچھتا ۔ وہ ایک ہی فقرہ تھا جو مجھے آتا تھا اور اس سے وہ ہنسنے لگتے ۔
خدا خدا کرکے بس آئی اور میں بیٹھ کر روازنہ ہو گیا ۔ ساڑھے تین گھنٹے کے سفر میں میری بیوی نے کوئی پانچ مرتبہ کال کی اور پوچھا کہ کہاں پہنچے ہوں ۔ اب یہ کوئی ٹیکسلا سے راولپنڈی کا سفر تو تھا نہیں کہ میں بتاتا کہ سنگجانی ٹول پلازے سے گزر رہا ہوں یا ترنول پھاٹک پر پہنچا ہوں ۔ بس یہی کہتا کہ راستے میں ہوں ۔ یہ بس بہت سے گاؤں سے گزر کر ( Lanzhou ) لان زو شہر پہنچی ۔ میں یہ دوسری بار لان زو ( Lanzhou ) شہر آیا تھا ۔ بس سے اتر کر میری بھی حالت وہ تھی کہ آنھے نو ماں مستے سٹ آئی ( اندھے کو اس کی ماں مسجد پھینک آئی ) کسی سے پوچھا کہ ریلوے سٹیشن کہاں ہے ۔ اس نے بس کا نمبر بتایا اور اشارہ کیا کہ اس طرف والی بس پر بیٹھ جاؤ ۔ ریلوے سٹیشن سے ٹکٹ لیا تو معلوم ہوا کہ ابھی پانچ گھنٹے بعد ٹرین جائے گی ۔ اب میں ٹرین کا ٹکٹ لے کر سٹیشن سے باہر نکلا اور کھڑے ہو کر اردگرد کا جائزہ لیا ۔ تین متوازی سڑکیں سٹیشن کی طرف آ رہیں تھیں ۔ درمیان والی سڑک کا انتخاب کیا اور سیدھا چل پڑا ۔ کچھ دور چلنے کے بعد ایک مسلمانوں کا ریسٹورنٹ نظر آیا ۔ جس کی نشانی یہ تھی اس کا بورڈ ، جس پر عربی میں الطعام المسلمین لکھا ہوتا اور بورڈ سبز رنگ کا ہوتا ہے ۔ اندر داخل ہوا اور احتیاط کاؤنٹر پر بیٹھے بزرگ کو السلام علیکم کہا جس کا جواب وعلیکم السلام سے ملا اور میں اطمینان سے بیٹھ گیا ۔ دیکھا تو سارے اسی کاؤنٹر پر پیسے جمع کرا کر کوئی کاغذی ٹوکن لے کر سامنے والی کھڑکی پر جاتے اور اپنے کھانے کا پیالہ لے کر میز پر بیٹھ جاتے ۔ میں کچھ دیر بیٹھا رہا پھر میں بھی اٹھا کاؤنٹر پر گیا نوڈلز کے پیسے جمع کروائے اور ٹوکن لیا ۔ کھانے والی کھڑکی پر گیا تو وہاں پر موجود لڑکوں نے مجھے السلام علیکم کہا پھر پوچھا کہاں سے ہو اور مسکرا کر پیالہ میرے حوالے کر دیا ۔ میں میز پر بیٹھا کہ وہ کھانے والا لڑکا میرے پاس آ کر بیٹھ گیا اور مجھ سے پوچھنے لگا کہ کہاں سے آئے ہو اور کہاں جا رہے ہو ۔ بہت اشتیاق ، محبت اور اپنائیت تھی اس کے لب و لہجہ میں کہ جیسے میں اسی کے گھر کا فرد ہوں ۔ پھر اٹھ کر میرے لیے اچار لے کر آ گیا اور خود ہی پیالے میں اور نوڈلز بھی ۔ میں کچھ دیر وہاں بیٹھا پھر ان سے مسجد کا پوچھا جو قریب ہی تھی اور نماز کےلیے چلا گیا ۔

یہ مسجد بھی کوئی سو سال سے زیادہ پرانی تھی ۔ اور بہت اعلی طرز تعمیر کی ہوادار بنی ہوئی تھی ۔ ایک صاحب سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ مسجد کی جگہ کافی بڑی تھی پھر حکومت نے یہ تھوڑی چھوڑ کر باقی اس نے اپنے قبضے میں لے لی ۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اس شہر میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد ہے جو صدیوں سے یہاں رہ رہے ہیں ۔ یعنی یہ کانسو ( Gansu ) صوبہ ان علاقوں میں شمار ہوتا تھا جو کسی دور میں ( Quranic belt ) کہلاتے تھے ۔ ظہر کی نماز پڑھی اور وہیں بیٹھا رہا ۔ عصر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی ۔ وہی دس بارہ بوڑھے تھے اور بس ، جبکہ اردگرد بھی مجھے علاقے میں کافی مسلمان نظر آئے ۔ یا شاید اور بھی مساجد ہوں ۔ ابھی ٹرین کا وقت تھا مغرب اور عشاء اکٹھی ادا کیں اور ریلوے سٹیشن کی طرف چل پڑا ۔ وقت پر ٹرین آئی ۔ ٹکٹ دیکھا کر پلیٹ فارم پر گیا مطلوبہ ٹرین کے ڈبے کے دروازے پر ٹرین ہوسٹس کھڑی تھی مجھ سے ٹکٹ دیکھ کر اشارہ کیا کہ ڈبے میں سوار ہو جاؤ ۔ میں اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا اوپر ہی میری برتھ تھی ۔

Latest posts by شاکر ظہیر (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments