خواجہ سرا، رکشے والا اور سرگوشیاں کرتی کہانیاں
حضرات، یہ امر کتنا دل چسپ ہے کہ قاری مطالعے کے آغاز سے بہت پہلے ہی کتاب سے جڑ جاتا ہے۔ اور یہ جڑت توقعات کا نتیجہ ہوتی ہے۔
ہم چند مصنفین، چند کتابوں سے بہت زیادہ توقعات باندھ لیتے ہیں۔ اور اکثر یہ توقعات پوری نہیں ہوتیں۔ جب راجا شہزاد کی کتاب ”لوگ سرگوشیوں میں گویا ہیں“ مجھ تک پہنچی، تب تک میں انھیں نہیں جانتا تھا۔ سو میرے دل میں کسی توقع نے انگڑائی نہیں لی۔ شعیب گنڈا پور کا ابتدائیہ اور مصنف کے مضمون نے ماحول ضرور گرمایا، مگر میں نے اب بھی توقعات باندھنے سے گریزاں تھا۔
صاحب، میں ماضی میں کئی تلخ تجربات سے گزر چکا تھا۔
مگر جب میں ان کا اولین افسانہ ”اقلیت“ پڑھتا ہوں، تو یک دم توقعات مجھے گھیر لیتی ہیں۔ میں بدل جاتا ہوں۔ یہ ایک خواجہ سرا کی کہانی ہے، جو سماج کی اقلیت ہے۔ اور جوں جوں ہم کتاب میں آگے بڑھتے ہیں، ہمارا سامنا ان اقلیتی طبقات اور گروہوں سے ہوتا ہے، جو شکست خوردہ ہیں، کم زور ہیں، دوڑ میں کہیں پیچھے رہ گئے ہیں۔
مرشدی اسد محمد خاں کی طرح راجا شہزاد بھی کچلے ہوئے طبقے کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ اور یاد رہے کہ یہ سہل نہیں۔
دریا میں اترے بغیر آپ اس کی گہرائی نہیں ناپ سکتے، اس احساس تک رسائی نہیں پا سکتے، جو کہانی میں روح پھونکتا ہے۔ تو چاہے یہ تیسری جنس ہو، ہم جنس پرست ہوں، تشدد کا شکار بننے والی بیوی ہو، یا بیٹی کھو دینے والا باپ۔ راجا شہزاد نے ان کرداروں کی کہانیوں میں جس شے کو منظر کیا، پینٹ کیا، وہ ہے احساس۔
اور بہ قول احسن سلیم، کسی ایک زبان تک محدود ادب ان احساسات کے ذریعے ہی بین الاقوامی دھارے سے جڑتا ہے، جو دنیا کے دیگر معاشروں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ جیسے خوشی اور غم کا احساس، درد اور سکون کا احساس، ظلم اور رحم کا احساس۔
تو کتاب میں موجود پہلے افسانے کی سمت پلٹتے ہیں، اقلیت کی سمت۔
یہ افسانہ گزرے ہوئے زمانے کی منظر کشی کرتا ہے۔ ہمیں تھوڑا ماضی میں لے جاتا ہے، کلاسیکی علامتیں سامنے لاتا ہے۔ اور یوں یہ ہمیں بھلا لگتا ہے۔ یہ کتاب کے لیے ایک اچھا آغاز ہے۔ صاحب، افسانے کے ابتدائیہ کے مانند کتاب کا ابتدائیہ بھی تو اہم ہوتا ہے، اور یہ اس لحاظ سے ایک نپا تلا آغاز ہے۔ ابھی فارحہ ارشد کا مجموعہ ”مونتاژ“ آیا، تو اس میں بھی یہی پہلو دکھائی دیا۔
اقلیت کی بات کریں، تو یہ روایتی binary opposition سے ایک قدم آگے بڑھتا ہے۔ binary opposition؛ جیسے دن اور رات، نیکی اور بدی، چاند اور سورج اور مرد اور عورت۔
De Saussurکے اسٹرکچر ازم میں مرد اور عورت binary opposites ہیں۔ اور ان میں ایک privileged اور دوسرا underprivilegedہے، مگر ان کا ادب، بالخصوص یہ افسانہ Jacques Derrida کے پوسٹ اسٹرکچر ازم سے زیادہ وابستہ ہے۔ اب دیکھیں کہ مرد اور عورت، جو binary opposites ہیں، یہاں، اس افسانے میں ایک خانے میں آن کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ privileged یا تسلیم شدہ جنس ٹھہرتے ہیں۔ اور زنخا یا خواجہ سرا، معتوب جنس۔ یہاں علامت کی تشکیل کرنے والے signifier اور signified دنوں کے معنی التوا کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اچھا، راجا اخلاقیات، اقدار، عقائد جیسے transcendental signified پر بھی سوال اٹھتے ہیں، مگر اس پر پیچ موضوع کو فی الحال یہیں چھوڑ دیتے ہیں۔
تین چیزیں ہیں، جن کی میں نشان دہی کرنا چاہا ہوں، جن میں اہم ترین ہے، قاری پر اعتبار کرنا۔ جس زمانے میں راقم الحروف اخبارات کے لیے مختصر کہانیاں، بہ عنوان ”ون منٹ اسٹوری“ لکھا کرتا تھا، تو سینئر فکشن نگار اور شاعر، عباس رضوی نے ایک روز، بڑی اپنائیت سے شکوہ کیا کہ میں کہانی کے اختتامیہ کو بہت واضح کیے دیتا ہوں، مجھے اس سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے قاری پر اعتبار کرنا چاہیے۔
ان کا کہا درست، مگر تب میرے لیے یہ ممکن نہیں تھا۔ وہ ”تکون کی چوتھی جہت“ تو نہیں تھیں، بس اخبارات کے لیے یومیہ لکھی جانے والی کہانیاں تھیں۔
مگر یہ فکشن کے لیے ایک اہم کلیہ ہے، اور راجا شہزاد نے اس پر عمل کیا۔ ان کے افسانے مختصر ہیں، تین صفحات، دو صفحات، یہاں تک کہ ایک صفحہ۔ گویا ان کے ہاں بہت کچھ آغاز سے پہلے اور اختتام کے بعد ۔ کہیں پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔ یہ اس کی تفصیلات بیان نہیں کرتے۔ اور کچھ چیزیں بہ قول Saussur زبان کا اسٹرکچر ہی طے کر دیتا ہے۔ تو ان کا فکشن اپنے قاری پر اعتبار کرتا ہے۔ اور یہ اہم ہے۔
دوسرا اہم نکتہ متوازن اور موثر زبان کا استعمال ہے۔ اچھے فکشن کے پہلے مرحلے میں۔ یعنی زندہ کرداروں، گتھے ہوئے پلاٹ، اور موثر تکنیک سے کہیں بہت پہلے، بہت پیچھے۔ جو شے ہمیں متوجہ اور متاثر کرتی ہے، وہ زبان ہے۔
زبان کا سطحی برتاؤ اچھے پلاٹ کو بھی سبوتاژ کر دیتا ہے۔ تو جو زبان انھوں نے برتی، وہ نپی تلی ہے۔ ان کی کہانی کے لیے موزوں ہے۔ جملے مختصر ہیں، جو خوش آیند ہے۔ (اب جملے میں طوالت اور اختصار میں بھی دو فرقے بن چکے ہیں، اور کہے دیتا ہوں صاحب کہ میں فرقہ مختصر یہ کے ساتھ ہوں۔ )
تیسری شے، جیسا میں نے پہلے کہا، اور یہ اہم ترین ہے، یہ احساس تک رسائی ہے۔
یوں تو اور بھی کئی کہانیاں ہیں، مگر یہاں ”شوکت کا سوال“ نامی کہانی کا ذکر کروں گا۔ مزار پر بھیک مانگنے والا ایک خواجہ سرا، ایک اور زنخا، ایک اور ہم جنس پرست، جو اپنے جسم کے خریداروں کی جنسی خواہشات سے اکتا چکا ہے، جو خواہش مند ہے کہ کوئی اس سے محبت کرے۔ اور تب ایک رکشے والا اس میں دل چسپی ظاہر کرتا ہے، وہ اس کے ہاتھ پر تین سو روپے رکھ دیتا ہے، اور تب وہ کہتا ہے کہ۔ (جو وہ کہتا ہے، وہ میں یہاں لفظ بہ لفظ بیان کرنے سے اجتناب کروں گا) خیر، وہ کہتا ہے وہ جنسی تعلق تو قائم نہیں کرے گا، ”ہاں پیار کرنا ہے، تو کر لے، پیسے بھی نہیں لوں گا۔“
رکشے والا اسے غور سے دیکھتا رہتا ہے، اور پھر سنجیدگی سے پوچھتا ہے : ”پیار کیسے کرتے ہیں؟“
(کس قدر اہم سوال ہے، برسوں تک ایک ہی بستر پر راتیں بسر کرنے والے میاں بیوی بھی ایک دوسرے سے یہی سوال کرتے ہوں گے )
تو کچھ دیر خاموشی کے بعد شوکت کے پیٹ سے قہقہہ برآمد ہوتا ہے۔ اور رکشے والا بھی ہنسے لگتا ہے۔
اور تب قاری کہتا، راجا بہت خوب!
تو مجموعی طور پر راجا کے ہاں کرداروں کی کہانیاں ہیں، مگر اختصار کی وجہ سے شاید چند قارئین شکوہ کریں کہ کچھ کردار پوری طرح تشکیل نہیں پا سکے۔ ان کے ہاں المیے ہیں، مگر کہانیوں کی بہتات کی وجہ سے کہیں کہیں لگتا ہے، المیہ دہرائے جا رہے ہیں۔ البتہ انھیں پڑھ کر ہم محظوظ ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے ذوق سلیم کی تسکین کرتے ہیں۔
ایک روایتی اختتامیہ کی طرح پہلے پہل میں یہ لکھنا چاہتا تھا کہ ہم مصنف سے مستقبل میں مزید موثر کہانیوں کی امید رکھتے ہیں، مگراس روایت رنگ سے اوب کر، یا شاید کتاب سے جنم لینے والے اثرات کے زیر اثر یہ کہوں گا کہ آج لوگ سرگوشیوں میں گویا ہیں۔
آئیں، یہ سرگوشیاں ہمہ تن گوش ہو کر سنتے ہیں۔


