مزدور کا استحصال


یکم مئی پوری دنیا میں مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ دنیا کو مزدوروں کی فلاح و بہبود اور ان کی جسمانی مشقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے کام کے دورانیے کو تہہ کرنے کے لئے سال میں ایک دن برائے یکجہتی مزدور کا خیال پہلی دفعہ اٹھارہ سو بیاسی میں آیا۔ سب سے پہلے یہ خیال کس کے ذہن میں آیا اس بارے میں مختلف آراء ہیں۔ ایک رائے ہے یہ خیال امریکی فیڈریشن آف لیبر کے نائب صدر پیٹر جے میک گایئر نے 1882 میں پیش کیا کہ مزدوروں کی جسمانی مشقت کے پیش نظر ان سے آٹھ گھنٹے کام لیا جائے اور سال میں ایک دن مزدوروں کے دن کے طور پر منایا جائے۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ 5 ستمبر 1882 کو نیویارک کی سینٹرل لیبر یونین (CLU) کے سیکرٹری میتھیو میگوئیر نے دنیا کو یہ خیال دیا تھا کہ مزدوروں کے لیے سال میں ایک دن برائے یوم مزدور رکھا جائے اور وہ ستمبر کا پہلا پیر ہو۔ انیس سو چھیاسی تک عموماً ہر ستمبر کے پہلا پیر (بعض ممالک میں ابھی تک ) مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا رہا۔ لیکن 1885 میں امریکن فیڈریشن آف آرگنائزڈ ٹریڈز اینڈ لیبر یونینز نے اپنے سالانہ کنونشن کے موقع پر حکومت سے دن میں آٹھ گھنٹے کام کا مطالبہ کیا اور اس بارے قرار پاس کر لی کہ اگلے سال یکم مئی سے مزدور دن میں 8 گھنٹے کام کریں گے۔

جب فیکٹری، کارخانوں کے مالکان نے مزدوروں کے مطالبے پر عمل نہ کیا تو مزدوروں نے یکم مئی 1886 کو ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ مزدوروں کے اس احتجاج اور ہڑتال کو کچلنے کے لیے مرکز نے شکاگو پولیس روانہ کی 4 مئی کو شکاگو کے Haymarket کے مقام پر پولیس اور مزدوروں کے درمیان خوفناک تصادم ہوا جس کے نتیجے میں سات پولیس اہلکار مارے گئے 60 سے 70 زخمی ہوئے۔ 4 مزدور قتل ہوئے اور 30 سے 40 زخمی ہوئے۔ 4 مئی کو ہونے والے اس ہنگامہ کی وجہ سے یکم مئی بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا۔

چونکہ ان مزدوروں کی یونینز میں زیادہ تارکین وطن تھے جن میں جرمن کے سوشلسٹ اور کمیونسٹ زیادہ تھے جس کے نتیجے میں حکومت نے ان کے خلاف آپریشن کیا اور جون 1886 کو پانچ مزدوروں کو سزائے موت سنائی گئی۔ بعد از جولائی 1889 کو یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن قرار دے دیا گیا اور دن میں آٹھ گھنٹے کام کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا۔ 1894 میں اس کو قانون کا درجہ دے دیا گیا۔ اب دنیا کے 80 سے زائد ممالک میں یکم مئی کو یوم مزدور قرار دے کر عام تعطیل کی جاتی ہے۔

مزدور کی تعریف عام طور پر جسمانی محنت اور مشقت کرنے والے انسان کے طور پر کی جاتی ہے۔ لیکن جدید دنیا میں اب جسمانی محنت کے ساتھ ساتھ ذہنی محنت کو بھی بعض حلقوں میں مزدوری شمار کیا جاتا ہے جیسے کہ صحافت کو قلم مزدوری، دفتروں میں کام کرنے والے چھوٹے ملازمین بھی مزدور کہلاتے ہیں۔ مزدور کا استحصال اگرچہ پوری دنیا میں ہوتا ہے لیکن بدقسمتی پاکستان میں اس کی شرح بہت زیادہ ہے۔ موجودہ وزیراعظم نے حلف اٹھانے کے ساتھ ہی مزدور کی ماہانہ اجرت کم از کم پچیس ہزار کردی ہے۔

لیکن اس پر عمل کون کروائے گا۔ پاکستان میں مزدوروں کی سب سے توانا آواز، سب سے کمسن لیڈر اقبال مسیح کو صرف 12 سال کی عمر میں گولیوں سے بھون دیا گیا۔ اس کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی تھی۔ بقول اقبال مسیح کے اس کا مالک اسے صرف ایک وقت کا کھانا دیتا تھا اور چودہ گھنٹے کام کرواتا تھا۔ اقبال مسیح کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ہر فیکٹری میں مقرر کردہ وقت سے زیادہ کام کروایا جاتا اور مقرر کردہ اجرت سے کم تنخواہ دی جاتی ہے۔ یہ وہ استحصال تھا جس کے خلاف اقبال مسیح کی توانا آواز کو کچل دیا گیا۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی، مزدوروں کا جسمانی، جنسی، معاشی استحصال ایک عام سی بات تصور کی جاتی ہے۔ پاکستان میں تقریباً تمام قائم بھٹوں پر چائلڈ لیبر لا کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ چودہ سال سے کم عمر کو بچہ تصور کیا جاتا ہے۔ آپ کو یہ بچے بھٹوں، ہوٹلوں اور دکانوں پر کام کرتے یا بازاروں میں بھیک مانگتے عام نظر آئیں گے۔ چھوٹے یہ ٹیبل صاف کردو چھوٹے پانی کا گلاس لے آؤ اور یہ وہ چھوٹے ہیں جو اپنے گھروں کے بڑے ہوتے۔

سارا دن گاہکوں کی جھڑکیاں سننے کے بعد انتہائی قلیل مزدوری کے ساتھ شام کو اپنے گھر کی دہلیز پار کرتے ہیں تو اس دکھ اور کرب کا اندازہ انتظار کرتی ہوئی ماں لگا سکتی ہے۔ آپ کے اور میرے بس کی بات نہیں۔ حکومت کے اس بارے اقدامات صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔ بچوں کے ریپ اور گھروں میں کام کرنے والی عورت مزدوروں کے جنسی استحصال کی شرح پاکستان میں بہت زیادہ ہے پاکستان میں ریپ کے کیسز سال 2018 میں 4326، 2019 میں 4377، سال 2020 میں 3887 اور سال 2021 میں 1866 درج ہونے زیادہ تعداد دفتروں اور گھروں میں کام کرنے والی مزدور عورتوں کی ہے۔ جبکہ نہ درج ہونے والے مقدمات کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں مزدور یونینز ختم کر دی گئی ہیں۔ یہاں مزدوروں کے ساتھ ساتھ طلباء تنظیموں کا وجود بھی تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔ لوکل باڈی کا تصور ہر گزرتے دن کے ساتھ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ مقامی سطح پر مزدوروں اور عوام کے چھوٹے چھوٹے مسائل حل کرنے کے لیے مقامی نمائندے موجود نہیں ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ملک میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ہر شعبے میں لیڈرشپ کا فقدان پیدا ہوتا جا رہا ہے۔ جب آپ کی مزدور، ملازمین، طلباء تنظیمیں نہیں ہوں گی تو مقامی سطح پر لوگ اپنے مسائل اور فرسٹریشن کیسے نکالیں گے۔ اس طرح کی تمام تنظیمیں حکومت اور افراد کے درمیان پل کا کام کرتی ہیں۔ یہیں سے لیڈرز قومی دھارے میں لائے جاتے ہیں۔ لیکن آپ پاکستان کی پچھلے بیس سال کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو ان تنظیموں کا وجود ناپید ہوتے ہوئے نظر آئے گا۔

عالمی قوانین کے تحت آٹھ گھنٹے کام آٹھ گھنٹے تفریح اور آٹھ گھنٹے آرام کے لئے مختص کیے گئے ہیں۔ کیا ہم ان قوانین پر عمل کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں؟ کیا پاکستان میں آج میں مزدور کو 25 ہزار اجرت دی جا رہی ہے؟ مزدور سے صرف آٹھ گھنٹے کام لیا جا رہا ہے؟ کیا مزدور کا جنسی، جسمانی، معاشی استحصال نہیں کیا جا رہا؟ ہمارے پاس جوابات موجود ہیں اور وہ جوابات نہیں میں ہیں۔

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں،
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات!

مزدور کسی بھی ملک کی پیداواری صلاحیت کا اہم جزو تصور کیا جاتا ہے۔ صنعتی انقلاب مزدوروں کے مرہون منت ہوتا ہے۔

صنعتی پیداوار ملک کی ترقی کا اہم ترین حصہ شمار ہوتا ہے۔ صنعتی ترقی سے امپورٹ کی شرح کم اور ایکسپورٹ کی شرح بڑھتی ہے۔ جس کی وجہ سے زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ تب ہی ممکن ہے جب آپ عام مزدور کو مناسب اجرت دے کر مزدوری کے لئے اچھا ماحول فراہم کریں گے۔ حکومت مزدوروں کے مسائل سننے کو تیار نہیں۔ پالیسی بنانے والے گروپ میں مزدوروں کا کوئی نمائندہ موجود نہیں ہوتا اس وجہ سے بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ اور اسمبلیاں مسائل کا صحیح ادراک نہ کرتے ہوئے اچھے اقدامات نہیں کر سکتی۔

پاکستان میں مزدور طبقہ دن بدن پس رہا ہے اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ مہنگائی اور لاقانونیت کی وجہ سے مزدور طبقہ دن بدن مشکلات کا شکار ہو رہا ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 11 سے 12 فیصد ہے جبکہ مزدور کی ایک دن کی اجرت سات سے آٹھ سو روپے ہے۔ پاکستان میں مزدور پر زندگی تنگ کی جا رہی ہے اسی وجہ سے انٹرنیشنل سطح پر پاکستان کا امیج بھی خراب ہو رہا ہے۔ مزدور کو ریلیف دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں سیاست سیاست کھیل رہی ہیں۔ اپنے مقاصد کے لیے لوگوں کو سڑکوں پر لے آتی ہیں۔ لیکن جس دن پاکستان کا مزدور طبقہ اپنے مقاصد کے لیے سڑکوں پر آ گیا ان پارٹیوں کے لئے حکومت چلانا مشکل ہو جائے گی۔

Facebook Comments HS