ڈاکٹر عزیز الحق: لاہور کا سقراط


مصنفین: ڈاکٹر خالد سہیل، عظمی عزیز

کتاب ہمیشہ مستطیل ہوتی ہے۔ اور زیر تبصرہ کتاب ”لاہور کا سقراط“ بھی اپنی طبعی حالت میں شکلا مستطیل ہی ہے۔ لیکن در حقیقت یہ ایک تکونی کتاب ہے کہ اس کے مصنف تین ہیں اور کچھ یوں بھی تکون بناتی کتاب ہے کہ دو کردار ایک تیسرے کردار کی شخصیت کی کھوج میں دامن تھامنے اور اسے پکڑنے کی جستجو میں سر گرداں ہو کر تکون بناتے ہیں اور ایک منفرد اور عجیب تخلیق سامنے لاتے ہیں۔ ڈاکٹر خالد سہیل کی معیت میں کسی منفرد اور انوکھے پن کا وجود میں آنا کوئی عجیب بات نہیں۔ دوسرا انوکھا پن یہ ہے کہ یہ کتاب بھی دوسری تخلیقات کی طرح ادبی محبت ناموں پر مشتمل ہے جو کہ گئے وقتوں کی قلمی دوستی کی یاد دلاتی ہے۔

اس کتاب کا فارمیٹ کچھ یوں ہے کہ عظمی عزیز نے جب ڈاکٹر خالد سہیل سے اپنے پچاس سال قبل بچھڑنے والے والد ڈاکٹر عزیز الحق کا ذکر کیا تو ڈاکٹر خالد سہیل انہیں ڈھونڈنے نکلے تو لاہور کے سقراط کے روپ میں ان کی بیٹی عظمیٰ کے سامنے انہیں لا کھڑا کر دیا۔ جس سے عظمیٰ عزیز نہ صرف حیران ہوتی ہیں بلکہ فخر مند بھی کیوں کہ ان کو معلوم ہوا کہ وہ جس باپ کی بیٹی ہیں وہ معمولی نہیں بلکہ ایک فکر و عمل رکھنے والا پاکستانی دانشور ہے جو اعلی تعلیم کے لئے کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں قیام کرتا ہے اور جب وطن لوٹتا ہے تو عظمیٰ جو اس وقت محض پانچ سال کی بچی تھیں کی آنکھوں کے سامنے ان کے والد قتل کر دیا جاتا ہے اور عظمیٰ اس سانحے کو دل اور دماغ میں کربناک واقعے کی طرح لئے پھرتی رہیں اور اپنا دکھ جو ایک ٹراما تھا کسی سے شیئر بھی نہ کر سکیں۔ لیکن ڈاکٹر سہیل مسیحا کی طرح آگے بڑھتے ہیں اور عظمیٰ کو ان کے والد سے نئے سرے سے متعارف کراتے ہیں جو نصف صدی قبل عظمیٰ سے بچھڑ چکے تھے اور شاید عظمیٰ کے

لا شعور میں کہیں چھپ کر رہ گئے تھے۔ عظمیٰ نے ڈاکٹر خالد سہیل کو ادبی خطوط کے ذریعہ بتایا کہ ان کے والد نے کچھ مقالات اپنی زندگی میں لکھے تھے۔ جب ڈاکٹر خالد سہیل نے عظمیٰ کے والد ڈاکٹر عزیز الحق کے مضامین اور مقالہ جات کا مطالعہ کیا تو انھیں عزیز الحق کی ذات میں چھپا سقراط نظر آیا جس نے اپنی سچائیوں کی خاطر زہر پی کر جان دے ڈالی۔

ڈاکٹر خالد سہیل نے ان مضامین کا اردو ترجمہ کر کے ایک کتاب اس طرح لکھی کہ جو اپنی نوعیت میں تکونی حیثیت رکھتی ہے اور جس کے تین لکھاری ہیں۔ ڈاکٹر عزیز الحق، عظمیٰ عزیز اور ڈاکٹر خالد سہیل۔ یا یوں کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یہ کتاب تین مرحلوں سے گزرتی ہے

پہلا مرحلہ عزیزالحق کے لکھے مضامین

دوسرا مرحلہ جس میں عظمیٰ ڈاکٹر خالد سہیل ان مضامین کا ذکر اپنے خطوط میں کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ مضامین اپنی نوعیت میں اس قدر مشکل ہیں کہ وہ ان کو اور انہیں تحریر کرنے والے باپ کو بھی نہیں سمجھ سکیں

تیسرا مرحلہ جس میں ڈاکٹر خالد سہیل ان مشکل مضامین کی وضاحت کر کے عظمیٰ کے لئے آسانی پیدا کرتے ہیں اور وہ اپنے والد پر فخر کرتی ہیں اور انہیں دوبارہ زندہ دیکھتی ہیں۔ اور یہی وہ مرحلہ ہے کہ ڈاکٹر خالد سہیل پاکستانی فلسفی کو متعارف کراتے ہوئے فلسفے، ادب اور نفسیات کے باہمی تعلق پر مبنی ایک کتاب کے خالق بنتے ہیں اور عزیز الحق کے گہرے، مشکل اور پیچیدہ مضامین کا اس طرح ترجمہ کرتے ہیں کہ یہ کتاب ہر خاص و عام کونہ صرف ڈاکٹر عزیز الحق کو لاہور کا سقراط ماننے اور تسلیم کرنے پر مجبور کرتی نظر آتی ہے وہیں ڈاکٹر خالد سہیل کی علمی کاوش کو سراہنے پر بھی قائل کرتی نظر آتی ہے۔

ڈاکٹر خالد سہیل ڈاکٹر عزیز الحق کی شخصیت، ان کے مرغوب فلسفہ ہائے زندگی اور ان پر اثر انداز ہونے والے فلسفیوں کا تعارف بھی پیش کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں،

”“ ترقی پسند نظریات کے حامی ہوتے ہوئے بھی وہ رابعہ بصری اور حسن بصری سے متاثر ہیں گویا کہ وہ صوفی بھی ہیں۔

ڈاکٹر عزیزالحق کے مضامین میں جن موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے ان میں پاکستان کا فرسودہ نظام تعلیم، پاکستانی معاشرے کے اجتماعی خواص، آزاد خیالی اور خیال سے آزادی کا فرق شامل ہیں۔ ژونگ سے متاثر ہو کر وہ خواب، شاعری اور ارکی ٹائپ یعنی اجتماعی لا شعور کی بات بھی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عزیز الحق بتاتے ہیں کہ زبان اور گفتگو میں ہماری زندگی کا راز مضمر ہے کہ اس کے ذریعہ ہی مکا لمہ تشکیل پاتا ہے اور مکالمے کے ذریعہ ہی انسان مہ کامل بنتا ہے۔

آرٹ کی مختلف تحریکوں کا جب تذکرہ ملتا ہے تو اس کتاب سے یہ نقطہ واضح ہوتا ہے کہ شخصیت، ذات اور ادب کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ ادب میں ماضی سے بے تعلقی شخصیت کو کھوکھلا کر دیتی ہے اور فکر فردا سے پہلو تہی ترقی کے راستے معدوم کر دیتی ہے۔

فلسفے سے متاثر ہونے کے باوجود ڈاکٹر عزیزالحق فلسفیوں کے دوغلے پن اور قول و فعل کے تضاد سے بھی نالاں ہیں۔ اور دانشوری کے فراڈ پر بھی نظر ہے۔

اہم نقطہ یہ ہے کہ عزیزالحق کی نظر میں اجتماعی لا شعور کو اگر احسن طریق سے آزاد رکھا جائے تو ایک صحتمند ذہنی معاشرہ اور تہذیب وجود میں اتی ہے

مختصر یہ کہ یہ تکون کتاب ادب، فلسفے، نفسیات اور اجتماعی لا شعور کو سمجھنے کے لئے ایک اسان خلاصۂ علمی ہے۔

اس تکونی کتاب کے تینوں کرداروں اور مصنفوں کو خراج تحسین۔

Facebook Comments HS