مبارکباد وصول کیجئے
ایک اور بیٹی گھر کی دہلیز پار کر گئی، برسوں کی محبت، محنت اور قربانی چند دن کے تعلق اور من بھاتے جملوں سے مات کھا گئی۔ ہاں! یہ کوئی نئی بات نہیں پہلے کم ہوتا تھا اب تواتر سے ہوتا ہے۔ پہلے باعث شرم تھا، اب ایک حلقہ اسے بہادری گردانتا ہے، کبھی ایسے تعلقات پنپ جاتے ہیں اور کبھی بڑھنے سے پہلے ہی دم توڑ جاتے ہیں لیکن اب بھی اپنے جگر گوشوں کی جدائی پر ماں باپ کے دل کی دنیا ایک ہی طرح پلٹتی ہے، ایک ہی طرح اجڑتی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
کہیں سوگ کا عالم ہے، ہزاروں وسوسے او ر واہمے ہیں اور کہیں وقت شادمانی ہے کہ اس ملک کو توڑنے، کمزور کرنے کا ایک حربہ یہ بھی ہے، تو! مبارکباد وصول کیجئے جو اپنی روایات، اقدار کی پاسداری، بڑوں کے احترام کو دقیانوسیت اور دوسروں کی غلط و صحیح پیروی کو ماڈرن ازم کہتے ہیں۔ سلام ہے اس معاشرے پر کہ جہاں اساتذہ کو شک کی بنیاد پر بھی ہتھکڑی لگا کر گرفتار کیا جاتا ہو، جہاں چند کالی بھیڑوں کو وجہ بنا کر تعلیمی اداروں میں طلباء پر حدود میں رہ کر مارنے اور سختی کرنے سے منع تو کر دیا جاتا ہو لیکن کسی مثبت سرزنش کا کوئی راستہ نہیں کھولا جاتا۔
خوش ہو جائیے جو کہتے ہیں بچوں پر روک ٹوک کرنا، ڈانٹا ان کے اعتماد کو مٹی میں ملا دیتا ہے۔ آپ بھی مبارکباد کے اہل ہیں جنہوں نے ظالم ساس، سخت گیر سسر، شکی شوہر، اور بدمزاج نندوں کو اپنے ڈراموں میں پوٹرے کر کے مشترکہ خاندانی نظام کو خوب نقصان پہنچایا۔ کورنش قبول کیجئے کہ ”میرا جسم میری مرضی“ کے مطلوبہ خطرناک نتائج آنا شروع ہو گئے ہی۔ سرخ سلام ہمارے میڈیا کے لئے جہاں بچوں او ر بڑوں کے پروگرامز بلا تخصیص نشر کیے جاتے ہیں، جہاں پرائم ٹائم میں یا تو آنکھوں میں دھول جھونکتے سیاستدان ہوتے ہیں یا اخلاقیات سے گرے اشتہارات، حدود سے باہر حقیقت کے رنگوں سے لبریز بیہودہ ڈراموں کے مناظر، ہمارے دین و ثقافت سے کوسوں دور بیہودہ لباس یا یوں کہیں کہ کم لباسی کے مقابلے میں بے ہنگم شور اور اچھل کود پر مبنی ایوارڈ شوز یا جرائم کی وارداتوں پر بننے والے ری ان ایکٹمنٹ جہاں پر چیخ چیخ کر کسی گناہ غلطی، جرم کا اعلان تو کیا جاتا ہے لیکن کسی مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا ڈھول کبھی نہیں پیٹا جاتا۔
تہنیتی پیغام وصول کیجئے کہ میڈیا ریاست کا خود ساختہ چوتھا ستون اب مقدس دنوں اور مہینوں میں ماں باپ، اساتذہ، اولاد، کے حقوق و فرائض، دین، اقدار و روایات سکھانے کے بجائے عامیانہ حرکات پر بخوشی گاڑی، موٹرسائیکل اور قیمتی تحائف تھما دیتا ہے، جہاں اب ذہنی آزمائشی سلسلے کے بجائے تحفے جھپٹنا سکھایا جاتا ہے، جہاں رمضان کے مقدس مہینے میں دین خدا سے قربت اور رو رو کر اپنے گناہوں سے معافی مانگنے کے نظریے کو یکسر نظر انداز کر کے 30 دن کے اسپیشل ڈرامے بنائے جاتے ہیں جس کا واحد مقصد صرف شادی کی جدوجہدد کھانا ہوتا ہے۔
سلام عظیم ہے اس نظام کو جو ٹک ٹاک جیسی بے مہار آزادی کی ایپ پر کبھی پابندی لگاتا ہے کبھی ہٹاتا ہے، جو انٹرنیٹ پر پھیلے ہر مواد اور ٹی وی پر چلتے ہر سین کے لئے سوشل رسپونسبلٹی اور سنسر شپ کی بتی بنا کر کان کے پیچھے اڑس کر سو گیا ہے، اور مبارکباد وصول کریں وہ ماں باپ جن کے نزدیک بچوں کا اعلی تعلیمی ادارے سے دنیاوی تعلیم حاصل کرنا، اچھے کپڑے پہننا، ٹی وی، موبائل، کمپیوٹر کے ساتھ وقت گزارنا اور مہارت سے استعمال کرنا، ہی باعث فخر ہے۔ ہماری قومی ذہنی بالیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک ویڈیو ’یہ میں ہوں یہ میرے دوست ہیں یہ ہماری پارٹی ہو رہی ہے ”جیسی بے مصرف، بے تکی ویڈیو کو بام عروج پر پہنچا دیتے ہیں جیسے اس چند سیکنڈ کی ویڈیو میں کوئی علمی دقیقہ بیان کیا گیا ہو۔
عورتوں کی آزادی پر خوشی خوشی اپنے بے بنیاد خیالات کا اظہار کرتی اور ان پر فخریہ تالیوں کی گونج میں ایوارڈ اور تعریفی کلمات وصول کرتی خواتین اب جواب دیں گی کہ کیا عورتوں کی یہ آزادی ہے جو ماں باپ کے دل پر پاؤں رکھ کر گھر کی دہلیز ہمیشہ کے لئے پار کر کے ہی مل سکتی ہے۔ کیا ترقی کا یہ راستہ تھا جس کی اس ملک کے لوگوں کو تلاش تھی، کیا اس سے ملک میں ترقی آ جائے گی یا ایک انتہائی بہترین نسل وجود میں آئے گی جو پاکستان کو ترقی کے نقطہ عروج پر پہنچا دے گی۔ دنیا بھر کا دد رکھنے والی خواتین میں سے کوئی کیا اب اس ماں سے ملے گی، جو ہاتھ جھاڑ کر بیٹھ گئی، غلطی کسی بھی ہو نقصان تو اس عورت کا بھی ہوا ہے جو اولاد کے لیے اپنی خواہشوں کو قربان کرنے کے باوجود آج مجرم بننی دنیا کی چبھتی ہوئی نظروں اور سوالات کا سامنا کر رہی اور اولاد کی جدائی میں تڑپ رہی ہے۔
اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزارنے کا درس دینے والے لوگ یہ سمجھ لیں کہ یہ اسلامی مملکت ہے۔ یہاں ایسی سوچ ہمارے دین و ثقافت سے ٹکراؤ ہے۔ ابھی ایک غفلت کا پردہ ہے جس دن یہ پردہ ہٹ گیا یا پھٹ گیا اس دن جیت تو اچھائی کی ہی ہونی ہے لیکن کس قیمت پر اس کا ادراک وقت سے پہلے کر لیں تو بہتر ہے۔ کیا کسی کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ کئی ممالک میں پب جی یا ایسے ہی گیمز پر پابندی کیوں لگائی گئی؟ کیا ہمیں یہ پابندی نہیں لگانی چاہیے تھی اور اگر لگائی تھی تو یہ گیم اب تک بچوں کی پہنچ میں کیونکر ہے؟ کیا انٹرنیٹ پر چلتے بیہودہ مواد کا خاتمہ نہیں ہونا چاہیے؟
نوجوان نسل کسی بھی ملک کی سالمیت اور ترقی کی ضمانت ہے۔ افسوس ہے کہ ہماری نوجوان نسل کا رشتہ دین شناسی، کتاب، اور ادب و آداب سے توڑ کر ماڈرن ازم کے نام پر کوکین، فیشن، من مانی، انٹرنیٹ سے جوڑ دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ آئی بی اے میں جو کچھ ہوا اس پر اعلیٰ حلقوں کی خاموشی ان کے دل کا حال کھول رہی ہے۔ غلط ہر دور میں غلط رہا ہے۔ غلط کام کرنے والوں میں بھی پہلا اصول آپس میں سچ بولنا اور دھوکہ نہ دینا ہی ہوتا ہے۔
آج ماڈرن ازم کا درس دینے والے، آزادی، نئی سوچ، بے راہ روی، من مانی کا پرچار کرنے والوں کی نہ مانیں اور یہ یقین رکھیں کہ کل وقت پڑنے پر یہ آپ کے ساتھ نہیں آپ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اپنے بچوں کی تربیت خود کریں جو کہ بطور مسلمان دین کے مطابق ہونی چاہیے۔ اپنے بچوں کو وقت دیں، ان سے دوستی کریں، انہیں دینی حدود قیود سمجھائیں، ان کے کاموں میں انوالو ہوں، وقت سے پہلے وہ کچھ ان کو نہ دیں جن کی انہیں نہ سمجھ ہے نہ ضرورت، انہیں کسی بھی نئی جگہ بھیجنے سے پہلے کوئی نئی چیز دینے سے پہلے انہیں اس کو برتنے قابل بنائیے۔
اپنے بچوں پر اپنا اعتبار قائم کیجئے اور پھر ان پر بھروسہ کیجئے لیکن ان سے غافل نہ ہوئیے۔ آپ کے بچے آپ کی ذمہ داری ہیں اس دنیا میں بھی آخرت میں بھی، تو اپنے بچوں کو غلط سوسائٹی، ٹی وی انٹر نیٹ کے ہاتھوں میں نہ سونپیں۔ بظاہر سطحی ترقی کے یہ واسطے آپ کے نہیں اپنے دوست ہیں اپنا مفاد دیکھتے ہیں۔ اب بھی وقت ہے سنبھل جائیں اور غور کر لیں کہ اولاد کے آرام و سکون، مقام بنانے اور خواہشوں کی تکمیل کے لئے خود کو گھڑی کی سوئیوں سے جوڑ دینے سے اور بچوں کو چھوڑ دینے سے کس کا نقصان زیادہ ہے۔

