پاکستان کو پنجابیوں سے خطرہ ہے


اسلام کے نام پر بنائے گئے پاکستان میں اسلام اور پاکستان دونوں خطرے میں بتائے جاتے ہیں۔ ایک طرف ہمیں ہنود و یہود تو دوسری طرف ہمسایوں سے خطرہ ہے۔ مولوی کے نزدیک اسلام کو پاکستانیوں سے خطرہ ہے، جس کے لئے ہر نوع کی توہین میں جیلیں ملزمان سے بھری پڑی ہیں اور اسلام کے مختلف جہتوں کی تحفظ کی خاطر بنی ہوئی مسلکی اور فرقہ وارانہ پارٹیاں اور تنظیمیں موجود ہیں۔ ملک کو ان خطرات سے بچانے کے لئے بڑی فوج ہے تو اسلام کو بچانے کے لئے ایک سیاسی امہ موجود ہے۔ پاکستانیوں کو کیا خطرات ہیں؟ ان کی سروائیول کے لئے کیا ضروری ہے؟ ملک چلانے والوں کو احساس ہے نہ پاکستانیوں کو یہ سوچنے کی اجازت ہے۔

بابائے قوم کے مطابق پاکستان اسلام کی لیبارٹری ہے، لیکن درحقیقت پاکستان اسلام کی لیبارٹری ہے، مقتدرہ اس لیبارٹری کی سائنسدان اور پاکستانی شہری اس لیبارٹری کے گنی پگز ہیں۔

یوں تو مقتدرہ ہمیں ازلی تصوراتی دشمنوں سے ڈراتی رہتی ہے لیکن ان کی نظر میں اس ملک کو اصل خطرہ ہم سے ہے۔ پنجابی چونکہ اس ملک کی غالب اکثریت ہیں اس لئے وہ سندھیوں بلوچوں اور پختونوں کے ساتھ ساتھ پنجابیوں کو بھی ملک کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ جس کی تدارک کے لئے پہلے آئین نہیں بننے دیا گیا اور بننے کے بعد اسے چلنے نہیں دیا گیا بلکہ بہتر منیجمنٹ کی خاطر آدھی آبادی خلیج بنگال میں پھینک دی گئی۔

آئین پنجابیوں سندھیوں بلوچوں اور پختونوں کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی زبانوں ثقافتوں اور حقوق کی ضمانت دیتا ہے، اس لئے غیر آئینی حکومتیں مسلط کر کے ان اقوام کی موجودگی کی نفی کرتے ہوئے ایسی قانون سازیاں کی گئیں، سوڈو سیاست دان اور دائمی عہدیدار تخلیق کیے گئے کہ جب وہ حکومتیں ختم بھی ہوں تو ان قوانین سیاستدانوں اور عہدیداروں کے ذریعے ان حکومتوں کے اثرات مٹائے نہ جا سکے۔ یہی قوتیں سیاست کو گالی اور سیاستدانوں کو چور ڈاکو مشہور کرا کر اپنے ملک کے دشمن مشہور کراتی ہیں جو قومی سیاسی رہنما نہ ابھرنے نہیں دیتیں تاکہ پنجابی سندھی بلوچ اور پختون کسی ایک سیاسی شخصیت کے پیچھے اکٹھے ہو کر ان کی متبادل طاقت نہ بن جائے لیکن دوسری طرف تعلیمی نصاب اور مسلکی مینیپولیٹرز کے ذریعے یہی قوتیں پنجابیوں سندھیوں بلوچوں اور پختونوں کو ایک نئی قوم بنانے میں لگی ہوئی ہیں۔ جو تب بن سکتی ہے اگر بلوچ پختون پنجابی اور سندھی اپنی زبانیں ثقافتیں روایات ہیروز اساطیری کردار اور صدیوں کا تسلسل یکسر مٹا دیں اور زومبی بن کر یہ جو کہتی ہیں، ویسا کریں، یہ جو کہتی ہیں ویسا رویہ اپنائیں۔

14 اگست 1947 سے پہلے بھی ہم پنجابی پختون سندھی بلوچ اور مسلمان تھے اور وہی آج بھی ہیں۔ 13 اگست تک ہم ہندوستان کی بادشاہتوں محلات یادگاروں مقبروں باغات اور قلعوں کے وارث تھے، انگریز سمیت کسی نے ہم پر شک و شبہ نہیں کیا۔ ہماری زبان ثقافت اور روایات سے ہندوستان یا اس کے حکمرانوں کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔ لیکن نیا ملک بننے کے بعد اچانک پنجابیت سندھیت بلوچیت اور پختون ولی سے اس ملک کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ہماری شناختیں مٹائی جا رہی ہے۔ تعلیمی نصاب میں پندرہ سال تک انگریز کے خلاف لڑنے والے عمرا خان جندولی کا ذکر نہیں لیکن میسور کے نواب کا ہے۔ انگریز کے خلاف بے بہا بہادری دکھا کر شہادت پانے والے رائے احمد خان کھرل کی کہانی نہیں لیکن بنگال کے سراج الدولہ کی ہے۔ آزاد سکول کے نام سے سینکڑوں تعلیمی ادارے بنانے اور اس کی خاطر جیل کاٹنے والے باچا خان کی تاریخ نہیں لیکن ہندوستان میں ایک کالج بنانے والے کی ہے۔ بلھے شاہ اور شاہ حسین کی شاعری کسی نصاب میں نہیں لیکن ولی دکنی کی ہے۔

گزشتہ حکومت ایک سنگل انتظام نہیں، ہمہ جہت انتظامات کا ایک مکمل پیکج تھا، جسے باجوہ ڈاکٹرائن کا نام دیا گیا تھا۔ باجوہ بذات خود مختصر مدت کے ایک سرکاری عہدیدار کا نام ہے جبکہ جمہوری ممالک میں ڈاکٹرائن اور پالیسیاں قوم کے منتخب نمائندے پارلیمنٹ میں بحث و مباحثہ کے بعد بناتے ہیں۔ نیشنل سنگل کریکولم اسی پیکج کا ایک حصہ تھا، جس کا کریڈٹ پہلے عمران خان نے لیا اور اب جماعت اسلامی کا تیار کردہ نظریاتی سپاہی احسن اقبال لے رہا ہے۔ جبکہ اسی نصابی کج روی کے تیار کردہ مجاہد کی گولی دوچار انچ ادھر ادھر ہوتی تو ممکن نہیں کہ آج احسن اقبال ٹویٹ کر کے لکھتا کہ ’سنگل نیشنل کریکولم کا فیصلہ ہو چکا ہے‘ ۔ پراجیکٹ عمران ختم نہیں ہوا بلکہ احسن اقبال کی شکل میں موجود ہے۔

تہتر سال پہلے بابائے قوم نے دو قومی نظریے کی طاقت سے ہندوستان کے دو ٹکڑے کر دیے تھے، لیکن احسن اقبال کو آج تک اس کا یقین نہیں۔ پاکستانی قوم ایک سیاسی اصطلاح ہے جس کو پنجابی بلوچ سندھی اور پختون اقوام نے مل کر تشکیل دیا ہے۔ طارق جمیل ہمیں مزید مسلمان بنانے کے پراجیکٹ پر کام کر رہا ہے تو احسن اقبال یا نام میں کیا رکھا ہے، زید بکر ہمیں مزید پاکستانی بنانے پر لگا ہوا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہر نصابی مضمون میں پاکستان سٹڈیز کو گھسیڑنے سے قوم بنتی ہے نہ مضبوط ہوتی ہے بلکہ قوم مساوی عزت حقوق شعور اور حق ملکیت کا احساس دلانے سے بنتی اور مضبوط ہوتی ہے۔

اٹھارہویں ترمیم کے بعد احسن اقبال کے پاس تعلیم کا اختیار نہیں رہا یہ اختیار اب صوبوں کے پاس ہے۔ مشرف آئین کو پامال کردے تو دفعہ چھ کے سامنے سر جھکایا ہوا مجرم لیکن احسن اقبال آئین کو نہ مانے تو کوئی بات نہیں۔ اور کتنی طاقت چاہیے پہلے صرف ڈکٹیٹر آئین کو نہیں مانتے تھے اب سولین بھی ایسا کر سکتے ہیں، عمران خان قاسم سوری عارف علوی گورنر چیمہ اور احسن اقبال آپ کے سامنے ہیں۔

پاک سٹڈیز، مخصوص نظریے اور مسلک کو سپورٹ کرنے والی اسلامیات اور سائنس مضامین کے علاوہ ہر مضمون میں اقبال کے اشعار کی بھرمار سے کوئی فائدہ ہوتا تو پھر مقتدر حلقے اپنے بچوں کو بیرون ملک کیمبرج اور آکسفورڈ میں پڑھنے نہ بھیجتے۔ کیونکہ وہاں ان کو یہ سب نہیں رٹایا جاتا۔ اگر وہ وہاں سے پڑھ کر محب وطن ہوتے ہیں اور غدار نہیں کہلائے جاتے تو پھر ہمیں تعلیم کے نام پر پروپیگنڈا پڑھانے کے انتظام پر ہمارے اخراجات اور وقت کیوں برباد کیا جاتا ہے؟

لوگ علم اور تعلیم کو ایک چیز سمجھتے ہیں لیکن علم الگ چیز ہے جبکہ تعلیم ہماری ریاست کی اس کوشش کا نام ہے جس میں وہ سب کو ایک خاص رنگ محدود سوچ اور مخصوص رویہ دیتی ہے۔ جس کے بعد جو سرکار کہتی ہے ”تعلیم یافتہ“ وہی کہتا سوچتا سمجھتا اور سچ جانتا ہے۔ کون رحمت اللہ علیہ ہو گا یہ تعلیم کے ذریعے طے ہوجاتا ہے کون ملک دشمن اور غدار ہے یہ انپڑھ سے زیادہ پڑھا لکھا مانتا ہے۔ جہاں سے نکلنے کے بعد سوال اٹھانا، جواب مانگنا، اختلاف کرنا، خود سے سوچنا، ٹھونک بجا کر دلیل سے قبول کرنا اور پرکھنے کے بعد دلیل سے رد کرنا ناقابل قبول جرم سمجھا جاتا ہے۔ اچھی اور خودکفیل زندگی بنانے کے لئے کون سے علوم کون سا رویہ کیسی شخصیت کتنی ذہنی آزادی اور زمانی شعور کی ضرورت ہوتی ہے، کہیں پڑھایا جاتا ہے نہ سکھایا جاتا ہے۔

اس لیے سنگل نیشنل کریکولم والے ہمیں علم دینے سے زیادہ ایک قوم بنانے کی فکر میں ہیں۔ جس کی قیمت ہماری مادری زبانیں قومی روایات قومی ہیروز شاعر ادیب گلوکار اور لکھاری چکا رہے ہیں۔ ایک پنجابی ادیب جب تک پنجابی میں پرندوں کاشتکاری کے اوزار پودوں فصلوں کیڑے مکوڑوں جڑی بوٹیوں موسموں تقویم رسم رواجوں رویوں قومی شاعروں اور ان کی شاعری لوک کہانیوں اور ان کہانیوں کے کرداروں کے بارے میں مادری زبان میں نہیں سوچے گا نہیں پڑھے گا وہ کبھی عالمی سطح کی ادب تخلیق نہیں کر سکتا۔ پابلو نرودا اور پاؤلو کوئلو بننے کے لئے مادری زبان میں سوچنا پڑھنا اور لکھنا پڑھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کوئی عالمی ادب پیدا کرسکے نہ ادیب، ڈرامہ تخلیق کرسکے نہ کوئی موسیقی ترتیب دے سکے، کیونکہ کریکولم اس کے چشمے خشک کر لیتی ہے۔

احسن اقبال صاحب قابل سیاستدان ہے۔ وہ چاہے تو آگے والوں کو سمجھا سکتا ہے کہ ہم چار پانچ اقوام پر مشتمل ایک ملک کے باشندے ہیں اور اس ملک کے علاوہ ہمارا کوئی اور ملک نہیں۔ ہم نے اس ملک کے لئے بہت بڑے رقبے والے ہندوستان کو رد کیا تھا۔ ہمارے پاس امریکہ برطانیہ اور یورپ کی نیشنلٹی ہیں نہ گرین کارڈز جہاں ہمارے اکثر مقتدر ریٹائرڈ ہو کر چلے جاتے ہیں، جہاں وہ اپنے بچے اس لیے پڑھاتے ہیں کہ ان کو ہمارے لیے بنائے ہوئے اپنے نصاب کے مثبت نتائج پر اعتماد نہیں ہوتا۔ جب ان کے بچے واپس آتے ہیں تو اس پڑھائی کی بنیاد پر ان کو اچھی نوکریاں ملتی ہیں، کیونکہ وہاں پاکستان سٹڈیز پڑھائی جاتی نہ اکنامکس سوکس سوشیالوجی ایجوکیشن اور پولیٹیکل سائنس کی کتابوں میں اقبال کے اشعار ہوتے ہیں۔ اگر ان بڑوں کے بچے پاکستان سٹڈیز نظریاتی چورن اور علی گڑھ کی کہانیاں نہ پڑھ کر غدار نہیں بنتے تو پھر ہم کیسے غدار بن سکتے ہیں کیونکہ ہمارا تو دوسرا کوئی آسرا بھی نہیں۔ اس لئے جو ان کے اپ کے بچے پڑھتے ہیں وہی ہمیں بھی پڑھائیں۔ ستر سال سے زیادہ ہو گیا ہے نظریاتی چورن سے کیا بنا؟

محترم خادم حسین صاحب کے کالم سے مختصر استفادہ کرتے ہوئے ’سنگل نیشنل کریکولم طبقاتی (تعلیمی) تفریق ختم کرنے کے لئے نہیں ہے ایسا ہوتا تو پھر تعلیم کے لئے بجٹ میں جی ڈی پی کا کم از کم چار فیصد رقم مختص ہوتی جس سے سرکاری سکولوں میں کم از کم بنیادی سہولیات کا بندوبست ہو سکتا۔ اور یوں سرکاری اور اشرافیہ کے لئے بنائے گئے سکولوں کے تعلیمی ماحول میں تفریق ختم ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے۔ واحد نصاب تعلیم آئین کے 20 سے لے کر آرٹیکل 24 تک کی خلاف ورزی ہے جہاں تمام مذاہب کے بچوں کو ان کے مذہب کی تعلیم دینا ان کا بنیادی حق مان لیا گیا ہے اور تمام مذاہب کے لوگوں کے لئے اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔ اصل میں اس کا مقصد ثقافتی، مذہبی، نسلی، لسانی اور تہذیبی تنوع اور شناختوں کو مٹانا ہے۔ عالمی ماہرین متفق ہیں کہ لسانی، ثقافتی اور تہذیبی تنوع اور رنگارنگی بڑی دولت ہے جس کو یکسانیت کے نام پر ختم کرنے کے تباہ کن نتائج نکل سکتے ہیں۔ اسی پالیسی کی وجہ سے انتہا پسندی اور فرقہ پرستی پروان چڑھی ہے۔ کل بنگالیوں کے متنوع لسانی شناخت کو تسلیم نہیں کیا گیا تھا جبکہ آج بلوچوں کی بیگانگی کی وجہ بھی یہی ہے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 85 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments