گستاخ منٹو کی پذیرائی


”معتوب منٹو، رجعت پسند منٹو، فحش نگار منٹو، غیر ترقی پسند منٹو، لاشوں کی جیبوں سے افسانے نکالنے والا منٹو، بے رحم اور سفاک منٹو، نرگسیت پسند منٹو، ذہنی عدم توازن کا شکار منٹو، سماج پر بوجھ منٹو، لطیفہ باز، یاوہ گو، سنکی، فحش نویس، دہشت پسند۔“ نہ جانے اس طرح کے کتنے من چاہے اور من پسند تمغے اپنی زخمی روح پر سجائے منٹو یہ کہتا ہوا اس جہان سے رخصت ہوا کہ اب یہ ذلت ختم ہونی چاہیے۔ آج اسی منٹو کو کیا ترقی پسند، کیا رجعت پسند، کیا سرکاری و نیم سرکاری ادارے، جامعات، اخبارات، ملکی اور بین الاقوامی نشریاتی ادارے، میں، آپ، ہم سب یاد کر رہے ہیں اور شاید اس یاد آوری میں کہیں نہ کہیں کوئی خاص طرح کا احساس جرم بھی شامل ہے۔ ہمارا حافظہ بھی کچھ بہت اچھا نہیں کہ اس نے کہا تھا کہ اگر آنے والے وقت میں میرے افسانوں کو وہی اہمیت دی گئی جو آج علامہ اقبال کے اشعار کو دی جا رہی ہے تو یقین کیجیے میری روح کو سخت کوفت ہو گی۔

سرکاری سطح پر 2012 ء کو منٹو کا سال قرار دیا گیا۔ اس برس کی مناسبت سے منٹو کے فکر و فن پر، اس کی ذات شریف پر کئی سیمینار، کانفرنسیں، خصوصی تقریبات، توسیعی خطبات، رسائل و جرائد کے خصوصی نمبر، لکشمی مینشن کو قومی ورثہ بنانے کی تجاویز، منٹو کے زیر استعمال رہنے والی اشیا ءکی حفاظت، افسانوی کلیات کی اشاعت میں رنگا رنگی، سٹیج ڈرامے اور فلم فیسٹیول وغیرہ کا انعقاد بڑے زوروں پر رہا۔ یہ سب دیکھ کر ایسا لگا کہ ہم سب مل کر اپنے کسی موروثی زخم پر خود ہی مرہم رکھ رہے ہیں کہ جس کا درد ہنوز باقی ہے۔ یہ اہم سماجی تبدیلی کا اشارہ ہے کہ ہم نے بالا خر معافی نامے تحریر کرنا شروع کر دیے ہیں، اپنے سے پہلی نسل کے تحریر کردہ اس متن کے حواشی میں اختلافی نوٹ بھی درج کرنا شروع کر دیے ہیں کہ جن کے باعث منٹو  نے اپنی عمر کے آخری حصے میں عصمت چغتائی کو ایک خط میں لکھا تھا کہ اس کے سوا اور کیا کہوں کہ پاکستان میں اب تک زندہ ہوں۔ بزرگوں کے مخطوطوں پر اس عہد کے یہ حواشی پاکستان کے سماجی رویوں میں ایک روشن تبدیلی کا عنوان ہیں۔ منٹو کی قبولیت کے بارے میں سماج کے رویے میں یہ تبدیلی خود منٹو کے فن کی فتح ہے۔

اگر میں غلطی پر نہیں تو منٹو کے سال کو منانے کی تقریبات کا لاہور میں آغاز انجمن ترقی پسند مصنفین کے ایک جلسے سے ہوا تھا کہ جس میں عابد حسن منٹو، ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر سعادت سعید، سعید ابراہیم، ڈاکٹر ضیا ءالحسن، ڈاکٹر قاضی عابد (جو رخصت ہو کر بھی ساتھ رہتا ہے) اور دیگر کئی صاحبان فکر و فن نے منٹو پر اپنے تنقیدی مقالات پیش کیے اور منٹو کو یاد کیا۔ میرے خیال میں انجمن ترقی پسند مصنفین، پاکستان کا منٹو کو یاد کرنا اور ایک بڑی تقریب کا اہتمام کرنا اپنی جگہ ایک اہم اشارہ تھا کہ جس کی تفصیل اس یک جائی کا لطف غارت کر دے گی۔ اس لیے کچھ نہیں کہتا بس اتنا کہنا کافی ہے کہ منٹو کو انجمن ترقی پسند مصنفین، پاکستان نے یاد کیا۔ اس تقریب میں پڑھے جانے والے سبھی مقالے اہم تھے لیکن سعید ابراہیم کا خاصا طویل مقالہ ہمارا اجتماعی کفارہ ثابت ہوا۔ انھوں نے ایک طور پر خود کلامی کے انداز میں کہا کہ ہم سے غلطی ہوئی جو منٹو پر ترقی پسند رسائل کے دروازے اس عہد میں بند کیے گئے، اسے رجعت پسند کہنا، جنس پرستی کا دھبا لگا کر اسے اپنی صفوں سے نکالنا، اس کے نام کھلے خط لکھنا یہ سب غلط تھا۔ بلا شبہ یہ عالی ظرفی اور ذہنی بلوغت کا ثبوت ہے کہ آج ہم کچھ اعترافات بھری محفل میں بھی کر رہے ہیں، بھلے یہ اعترافات باقاعدہ تنظیمی اعلامیہ نہ سہی۔ 2012 کا سال منٹو شناسی کا تاثر دینے میں اور اس زعم میں رہنے کا سال تھا کہ ہم نے اپنے تئیں تو پوری کوشش کر کے دیکھ لیں کہ کفارہ ادا ہو جائے لیکن دیکھیں کیا گزرے ہیں قطرے پہ گہر ہونے تک۔

اسی سال دوسری ایک بامعنی تقریب ایک چھوٹے سے خطے ننکانہ صاحب میں ہوئی۔ سکھوں کے اس مقدس مقام پر منٹو کو یاد کرنا اس لیے بھی خوشگوار تجربہ ثابت ہوا تھا کہ منٹو کے افسانوں میں اہم کردار سکھ ہیں۔ یہ تقریب سکھ برادری کی طرف سے نہیں تھی بلکہ وہاں کی بار ایسوسی ایشن کے مرکزی ہال میں یہ تقریب منعقد ہوئی اور اس تقریب کے کرتا دھرتا وہاں کے ایک نامور وکیل تھے۔ تقریب کے دوران میں مجھے منٹو کا ”زحمت مہر درخشاں“ بڑی شدت سے یاد آیا کہ جس میں منٹو نے اپنے افسانوں پر دائر مقدمات کی ایک طرح سے روداد لکھی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تب منٹو کو کوئی وکیل میسر نہ آیا تھا، عین وقت پر چار نوجوان وکلا پہنچے، منٹو نے مقدمہ لڑا، لڑا بھی کیا بس خاموش ہو کر سزا سننے کے انتظار میں کھڑے رہے۔ اس برس کی مناسبت سے بار ایسوسی ایشن کے ایک حلقے نے منٹو کو ایک دور افتادہ خطے میں یاد ضرور کیا تھا۔

فنون لطیفہ کے لیے مختص سرکاری اور نیم سرکاری ادارے کیوں پیچھے رہتے کہ سرکار کا حکم تھا۔ اسی برس الحمرا ءآرٹس کونسل، لاہور نے منٹو پر ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا، منٹو فلم اور ڈرامہ فیسٹیول منایا گیا۔ اکادمی ادبیات، پاکستان کی لاہور شاخ نے بھی منٹو کو یاد کیا۔ ان تقریبات اور اقدامات سے کچھ حد تک اندازہ ہوتا ہے کہ شاید برہمن کی پیشین گوئی درست ثابت ہو اور یہ سال منٹو شناسی کے لیے نہ سہی، ہمارے حوالے سے خود شناسی کا یہ سال اچھا رہا کہ ہم نے منٹو کے ساتھ کیا کیا۔ غیر اہم اور بہ ظاہر غیر متعلق باتیں نہایت اہم ہوا کرتی ہے کہ انہی سے ارتقا کا منظر سامنے آتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ادبی تقریبات کے دعوت ناموں پر مینا ر پاکستان کے ساتھ علامہ اقبال اور منٹو کی تصاویر کا ایک ساتھ شائع ہونا معمولی سی بات ہو لیکن میرے خیال میں پاکستان کے سماجی شعور میں تبدیلی کا احساس شاید اس دعوت نامے کے علاوہ کہیں اور اس طور نہ ملے۔ دعوت نامے پر مینار پاکستان کے ساتھ علامہ اقبال اور منٹو کی تصویر ایک ساتھ دیکھ کر مجھے تو بہت لطف آیا تھا، وہ حزن بھری مسکراہٹ اب بھی یاد کر کے چہرے پر پھیل جاتی ہے۔ ایسے ہی بہ ظاہر غیر متعلق بات کہ راقم کو جب منٹو کے افسانوی مجموعوں کی تلاش میں کتب خانوں سے رابطہ کرنا پڑا تو اس کا کوئی مجموعہ کتب خانوں میں دستیاب نہیں تھا، سبھی کے سبھی طلبہ و طالبات کے پاس تھے۔ اب کشور ناہید کی طرح کوئی طالب علم منٹو کو نصابی کتب کے درمیان رکھ کر شاید نہیں پڑھتا۔

اس طور دیکھا جائے تو پاکستان کے ترقی پسند مصنفین، سرکاری و نیم سرکاری ادارے، جامعات، اخبارات، رسائل و جرائد، اشاعتی منصوبے، میں آپ ہم سب مل کر جس طرح منٹو کے حوالے سے ماضی کے متون پر حواشی میں اختلافی نوٹ درج کر ہے ہیں انہی سے آنے والا کل ہمارے ہاں سماجی تبدیلی کی نشانیاں تلاش کرے گا۔ سماجی عمل کی اس کروٹ میں منٹو کے اخلاص کی فتح ہوئی ہے۔ منٹو اگر آج پورے قد کے ساتھ تمکنت سے کھڑا نظر آتا ہے تو کسی بیساکھی کے بغیر۔ اس کے پاس نہ تو نظریاتی تنظیم کی قوت تھی کہ جو گاہے بہ گاہے مصنوعی تنفس کے ساتھ اسے زندہ رکھنے کی کاوش کرتی اور نہ ہی اس کی اولاد میں سے کوئی اتنا ثروت مند، متحرک اور باعمل تھا کہ وہ منٹو کو کسی نہ کسی طور منظر نامے میں شامل رکھتا۔ وہ نہ رائٹ میں تھا اور نہ لفٹ میں۔ ممتاز شیریں کے بقول نہ وہ نوری تھا، نہ ناری۔ وہ ایک سچا اور خالص فنکار تھا جو اپنی وفات سے دو دن قبل اپنے ہی گھر کے فرش پر لہو اگلتے ہوئے گجرات کی اس خاتون پر افسانہ لکھتا رہا کہ جس کے ساتھ درندہ صفت لوگوں نے زیادتی کی تھی۔ علامہ اقبال نے تو تخلیقی دینا میں رہ کر کہا تھا کہ معجزہ ءفن کی خون جگر سے نمود ہوتی ہے۔ منٹو نے یہ حقیقت میں بدل کر دکھایا کہ کس طور خون جگر سے فن کی نمود ہوا کرتی ہے۔

اسی مدت کے اندر اندر منٹو کا انتقال ہوئے پچاس برس مکمل ہوئے تو ناشرین اس کے لیے پہلے سے ہی تیاری کر کے بیٹھے ہوئے تھے کہ کاپی رائٹ کا جھنجھٹ ختم ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے رنگا رنگ ایڈیشن شائع ہونے لگے۔ کسی نے اصل متن کی طرف رجوع کر کے اپنے تئیں مسند متن کا دعویٰ سینہ ٹھوک کر کیا، کسی نے روز مرہ اور محاورہ کو مد نظر رکھا، کسی نے زمانی ترتیب کو پیش نظر رکھ کر جلدوں کی جلدیں مرتب کر ڈالیں تو کسی نے اصل منٹو کی بازیافت کا نعرہ لگا کر بیسویں مجموعے شائع کر دیے، عوامی ناشرین نے پر کشش سرورق اور اپنے طور پر کشش عنوانات دے کر منٹو کو چھاپا۔ ایک بازار سا تھا جو سج گیا۔ منٹو کی خوب پذیرائی ہوئی۔ اب جبکہ جس کا جی چاہا، اس نے منٹو کی کہانیاں چھاپ دیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ ہم پڑھنے کی طرف بھی آ جائیں گے اور دیکھیں گے کہ وہ کیا کہہ گیا۔

کچھ کچھ زمانہ بدلا تو عقل مندوں کو یہ خیال آیا کہ فلم اور میڈیا کا دور دورہ ہے اور اسی طور ہی پیغام کی موثر ترسیل کی جا سکتی ہے۔ لگے ہاتھوں منٹو پر فلم بھی بن گئی اور ایک طور متمول طبقہ کہ جس کا فنون لطیفہ سے اٹوٹ رشتہ ہوتا ہے اور آرٹ کے بغیر ان کے لیے سانس لینا دشوار ہوتا ہے، اس فلم کو اپنے حصار میں لینے کی کوشش کی کہ ہم منٹو کے بغیر ادھورے ہیں۔ منٹو کی شخصیت کے بارے میں جو کچھ راقم نے پڑھ رکھا ہے، اس کی شخصیت میں چیخنا چلانا تو تھا ہی نہیں لیکن فلم میں جب اس کے کردار کو چیختا ہوا دیکھا تو دل کچھ بوجھل ضرور ہوا کہ یہ تو ہمارا منٹو نہیں۔ اتنا تو ہوا کہ منٹو بڑی سکرین پر آ گیا۔ قبولیت کے درجات مزید بلند ہوئے اور ہم سرخرو بھی ٹھہرے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔

اس نوع کی سرخروئی کا ایک سنہرا موقع ہماری حکومتوں نے گنوا دیا اور وہ تھا لکشمی منشن میں منٹو کی رہائش گاہ کو قومی تحویل میں لیے جانے کا۔ اگر ایسا ہو جاتا تو منٹو شناسی کی یہ لہر جو گزشتہ چند دہائیوں سے ابھر کر سامنے آئی ہے، اس کی روانی میں تیزی اور مزید طاقت پیدا ہو جاتی۔ لکشمی منشن سے ایک عہد جڑا ہے۔ منٹو کے بہت سارے افسانے کا پس منظر اسی منشن سے جڑا ہوا ہے۔ اس منشن میں بسنے والے اینگلو انڈین کردار، کچھ افغانی اور کچھ ادھر ادھر کے لوگ منٹو کے تخلیقی جہان میں دکھائی دیتے ہیں۔ سنا ہے کہ یہ جگہ گرائی جانے والی ہے اور اس کے بعد یہاں ایک پلازہ تعمیر کیا جائے۔ لاہور کے لیے ایسا ہونا بڑی بد قسمتی کی بات ہو گی۔ یہ موقع ہم نے گنوا دیا ورنہ تو ہم نے گزشتہ برسوں میں منٹو کو اس کا مقام بلند دینے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔

گزشتہ دو تین دہائیوں میں ہم نے منٹو کے ساتھ اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کرنا تھا، سو کر لیا۔ اپنے موروثی زخم پر مرہم رکھنا تھا، رکھ لیا۔ منٹو کو یاد کرنا تھا، کر لیا۔ خوب جشن منانے تھے، سو وہ بھی منا لیے۔ اب دل بڑا کر کے ذرا منٹو کو پڑھ بھی لیں، لیکن کس منٹو کو۔ اس منٹو کو نہیں کہ جو نصاب کی ضرورت کے تحت ہم نے وضع کر لیا کہ چلو ’نیا قانون‘ پڑھو اور نہ ہی اس منٹو کو جسے فلم یا ڈرامے میں ایک خاص ضرورت کے تحت ’کھول دو‘ اور ’کالی شلوار‘ تک محدود کر دیا گیا اور نہ ہی اس منٹو کو کہ جسے نظریاتی کشا کش کے تحت ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ بنا دیا گیا اور نہ ہی اس منٹو کو جس کے بارے میں معصوم اذہان فحش نگار کا گمان رکھتے ہیں۔ منٹو کے ہاں تخلیقی امکانات کی دنیا بہت وسیع ہے۔ فی زمانہ جن سماجی مسائل کا ہمیں اور دنیا کو سامنا ہے، منٹو نے اس پر کھل کر بات کی ہے۔ عجیب بات ہے کہ اردو میں دو تخلیقات ایسی ہیں کہ جن میں اس عہد کی صورت حال کو بنانے یا بگاڑنے میں جو تجاویز دی گئی تھیں، مدتوں بعد ویسا ہی منظر سامنے آیا۔ اب یہ مطابقت اتفاقی ہے یا شعوری، اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔ ایک تخلیق تو علامہ اقبال کی شہرہ آفاق نظم ’ابلیس کی مجلس شوری‘ ہے کہ جس میں مسلمان قوم کو ابلیسی نظام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ابلیس کچھ تجاویز دیتا ہے کہ اس قوم کو رسمی ذکر و فکر میں مشغول رکھو وغیرہ۔ دوسری تحریر منٹو کی ”چچا سام کے نام خط“ کے عنوان سے ہے۔ فی زمانہ چچا سام کے نام منٹو کے یہ نو خطوط از سر نو پڑھنے کی ضرورت ہے۔

” میرا ملک غریب ہے۔ جاہل ہے۔ کیوں؟ یہ تو آپ کو بخوبی معلوم ہے۔ آپ ضرور پوچھیں گے اور بڑی حیرت سے پوچھیں گے کہ تمھارا ملک غریب کیونکر ہے جبکہ میرے ملک سے اتنی پیکارڈیں، اتنی بیوکیں۔ میکس فیکٹر کا اتنا سامان جاتا ہے۔ میرے ملک کی وہ آبادی جو پیکارڈوں اور بیوکوں پر سوار ہوتی ہے، میرا ملک نہیں۔ میرا ملک وہ ہے جس میں مجھ ایسے اور مجھ سے بدتر مفلس بستے ہیں (چچا سام کے نام ایک خط، 61 دسمبر 1951ء)

” آپ کو اس دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت کے استحکام کی بہت زیادہ فکر ہے اور کیوں نہ ہو، اس لیے کہ یہاں کا ملا روس کے کمیونزم کا بہترین توڑ ہے۔ فوجی امداد کا سلسلہ شروع ہو گیا تو آپ سب سے پہلے ان ملاؤں کو مسلح کیجیے گا۔ ان کے لیے خالص امریکی ڈھیلے، خالص امریکی تسبیحیں اور خالص امریکی جائے نمازیں روانہ کیجیے گا۔ استروں اور قینچیوں کو سر فہرست رکھیے گا۔ خالص امریکی خضاب لاجواب کا نسخہ بھی اگر آپ نے ان کو مرحمت کر دیا تو سمجھئے پو بارہ ہیں۔

فوجی امداد کا مقصد جہاں تک میں سمجھتا ہوں ان ملاؤں کو مسلح کرنا ہے۔ میں آپ کا پاکستانی بھتیجا ہوں، مگر آپ کی سب رمزیں سمجھتا ہوں۔ لیکن عقل کی یہ ارزانی آپ ہی کی سیاسیات کی عطا کردہ ہے۔ (خدا اسے نظر بد سے بچائے ) ملاؤں کا یہ فرقہ امریکی سٹائل میں مسلح ہو گیا تو سوویت روس کو یہاں سے اپنا پاندان اٹھانا پڑے گا جس کی کلیوں تک میں کمیونزم اور سوشل ازم گھلے ہوتے ہیں۔

آپ کو سن کر خوشی ہوگی کہ میرا معدہ اب کسی حد تک آپ کی امریکی گندم کا عادی ہو گیا ہے۔ اب اسے ہمارے یہاں کی آب و ہوا راس آنی شروع ہو گئی ہے۔ کیونکہ اب اس کے آٹے نے پاکستانی سٹائل کی روٹیوں اور چپاتیوں کی شکل اختیار کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ میرا خیال ہے، خیر سگالی کے طور پر آپ یہاں کی گندم کا بیج اپنے ہاں منگوا لیں۔ آپ کی مٹی بہت زرخیز ہے۔ اس اختلاط سے جو امریکی پاکستانی گندم پیدا ہوگی بڑی خوبیوں کی حامل ہوگی۔ ہو سکتا ہے کوئی نیا آدم پیدا ہو جائے جس کی اولاد ہم اور آپ سے مختلف ہو ”( چچا سام کے نام چوتھا خط، 12 فروری 1954ء)

روس اور امریکہ کی سرد جنگ کا خاتمہ ہوا لیکن پچاس کی دہائی میں منٹو جو کہہ رہا تھا، آج اس کو تاریخ کے سانچے میں رکھ کر پرکھیے تو سہی۔ اس سرد جنگ کے اثرات ابھی تک موجود ہیں کہ جس کی تازہ مثال یوکرین پر روس کا حملہ ہے۔

مذہب او سیاست پر دیکھیے منٹو کیا کہہ رہا تھا کہ اب اس پر مزید غور کرنے کی ضرورت اس لیے ہے کہ دنیا کے بڑے ممالک میں مذہب کے نام پر بھی حکومتیں قائم ہوئیں او ر شدت پسندی کی فضا نے پوری دنیا کو تیزی سے اپنی لپیٹ میں لیا:

” یہ لوگ جنہیں عرف عام میں لیڈر کہا جاتا ہے۔ سیاست اور مذہب کو لنگڑا، لولا اور زخمی آدمی تصور کرتے ہیں۔ جس کی نمائش سے ہمارے یہاں کے گداگر عام طور پر بھیک مانگتے ہیں۔ سیاست اور مذہب کی لاش ہمارے یہ نامور لیڈر اپنے کاندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں اور سیدھے سادے لوگوں کو جو ہر بات مان لیتے جو اونچے سروں میں کہی جاتی ہے۔ یہ کہتے پھرتے ہیں کہ وہ اس لاش کو از سر نو زندگی بخش رہے ہیں۔

مذہب جیسا تھا ویسا ہی ہے اور ہمیشہ ایک جیسا ہی رہے گا۔ مذہب کی روح ایک ٹھوس حقیقت ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہو سکتی۔ مذہب ایک ایسی چٹان ہے جس پر سمندر کی خشم ناک لہریں بھی اثر نہیں کر سکتیں۔ یہ لیڈر جب آنسو بہا بہا کر لو گوں سے کہتے ہیں کہ مذہب خطرے میں ہے تو اس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ مذہب ایسی چیز ہی نہیں کہ خطرے میں پڑ سکے۔

۔ یاد رکھیے وطن کی خدمت شکم سیر لوگ کبھی نہیں کر سکیں گے۔ وزنی معدے کے ساتھ جو شخص وطن کی خدمت کے لئے آگے بڑھے، اسے لات مار کر نکال دیجیے۔ ( ہندوستان کو لیڈروں سے بچاؤ)

کشمیر کے محاذ کو سامنے رکھیں تو ”ٹیٹوال کا کتا“ اور ”آخری سیلوٹ“ ایسے افسانے ہیں کہ جو آج بھی سوچنے پر مجبور کر جاتے ہیں۔ افسانے میں زخمی رام سنگھ اور رب نواز کے مابین یہ مکالمہ بھی معنی خیز ہیں :

”یارا، سچو سچ بتا، کیا تم لوگوں کو واقعی کشمیر چاہیے“
رب نواز نے پورے خلوص کے ساتھ کہا ”ہاں رام سنگھا!“
رام سنگھ نے اپنا سر ہلایا ”نہیں۔ میں نہیں مان سکتا۔ تمھیں ورغلایا گیا ہے“
رب نواز نے اس کو یقین دلانے کے انداز میں کہا ”تمھیں ورغلایا گیا ہے۔ قسم پنجتن پاک کی“
رام سنگھ نے رب نواز کا ہاتھ پکڑ لیا : ”قسم نہ کھا یارا۔ ٹھیک ہو گا“ ( آخری سلیوٹ)

پاکستان اور بھارت کے مابین آبی تنازعات کا احساس منٹو کو پچاس کی دہائی ہی میں ہو گیا تھا جس کا ذکر ان کے باکمال افسانے ”یزید“ کی صورت ملتا ہے :

” وہ پانی بند کر کے تمھاری زمینیں بنجر بنانا چاہتے ہیں اور تم انھیں گالی دے کر یہ سمجھتے ہو کہ حساب بیباق ہوا۔ یہ کہاں کی عقل مندی ہے۔ گالی تو اس وقت دی جاتی ہے جب اور کوئی جواب پاس نہ ہو۔ لڑائی شروع ہو اور یہ رونا رویا جائے کہ دشمن بڑے بور کی رفلیں استعمال کر رہا ہے۔ ہم چھوٹے بم گراتے ہیں، وہ بڑے گراتا ہے۔ تو اپنے ایمان سے کہو یہ شکایت بھی کوئی شکایت ہے۔ (یزید)

برصغیر کی موجودہ سیاسی فضا کے تناظر میں منٹو کے باکمال افسانے ”سوراج کے لیے“ کی معنویت اور زیادہ گہری دکھائی دیتی ہے :

” غلام علی جوش میں آ گیا۔“ دنیا میں اتنے مصلح پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیم تو لوگ بھول گئے۔ لیکن صلیبیں، دھاگے، داڑھیاں، کڑے اور بغلوں کے بال رہ گئے ہیں۔ فطرت کی خلاف ورزی ہرگز ہرگز بہادری نہیں۔ یہ کوئی کارنامہ نہیں کہ تم فاقہ کشی کرتے کرتے مر جاؤ یا زندہ رہو۔ قبر کھود کر اس میں گڑ جانا اور کئی کئی دن اس کے اندر دم سادھے رکھنا، نوکیلی کیلوں کے بستر پر مہینوں لیٹے رہنا، ایک ہاتھ برسوں اٹھائے رکھنا، حتی کہ وہ سوکھ سوکھ کر لکڑی ہو جائے۔ ایسے مداری پنے سے خدا مل سکتا ہے نہ سوراج ” (سوراج کے لیے )

” اللہ کا بڑا فضل ہے“ ، ”دیکھ کبیرا رویا“ ، ”شہید ساز“ ، ”سیاہ حاشیے“ ، ”یوم استقلال“ ، ”دو گڑھے“ کس کس تحریر کا ذکر کیا جائے کہ اسے آج از سر نو پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جس طرح علامہ اقبال کی ہفت افلاک تک رسائی حاصل کرنے والی فکر کو ہم نے مل ملا کر ایک چوکھٹے میں بند کر رکھ دیا اور اس نور بصیرت کو جس کے عام ہونے کی خود اقبال نے دعا مانگی تھی، ہم نے ایک لالٹین کی چمنی میں مقید کر کے رکھ دیا، کہیں ایسا نہ ہو کہ منٹو کی فکر کے ساتھ بھی ہم کچھ ایسا سلوک کر بیٹھیں اور رسمیت کی بھینٹ چڑھا دیں یا جنس نگاری کا سانچہ بنا کراس نابغے کو اس میں مقید کر دیں۔ منٹو کو پڑھیں اور دیکھیں کہ وہ درد مند ہم سے کہہ کیا رہا ہے۔

منٹو نے مجید امجد کے بقول سماج اور ضمیر کے جن دھندلکوں اور روحوں کے عفریت کدوں میں لا کر ہمیں کھڑا کیا ہے، اب ہم انھیں غور سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اب ”گستاخ منٹو“ پر ”تاخ تڑاخ“ نہیں ہو رہی۔ یہ ایک مثبت اشارہ ہے کہ ہم اب منٹو پر بات کر رہے ہیں۔ سہیل احمد خان کے بقول ”گستاخ منٹو“ کی جو اب پذیرائی ہو رہی ہے۔ تو منٹو پوچھ رہا ہے کیا وہ ”نمرود کی خدائی“ تھی؟

Facebook Comments HS