شہر ادب کا انٹرنیشنل بک فیسٹیول اور چیئرمین پیمرا


ہم ماڈل ٹاؤن پارک میں تھے۔ لاہور شہر کا ماڈل ٹاؤن پارک جہاں مستنصر حسین تارڑ ہوتے ہیں۔ تارڑ صاحب ویسے تو گجرات سے ہیں لیکن بہت پکے لاہوریے ہیں۔ ان کی کتابوں اور باتوں سے ذکر لاہور ایک عقیدت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ ہم ماڈل ٹاؤن پارک میں بیٹھے تھے۔ لاہور کا ذکر چل نکلا۔ اور جب لاہور کا ذکر تارڑ صاحب کرتے ہیں تو لاہور سے محبت ہواؤں میں تیرتی نظر آتی ہے۔ تارڑ صاحب نے وہاں موجود ایک خاتون سے مانگ کر ایک سگریٹ سلگائی اور گہرا کش لگا کر کہا۔

”لاہور میں کچھ خاص ہے۔ لاہور میں کوئی بات ہے۔ کوئی بھی ادیب ہے، شاعر ہے، مصور ہے یا گلوکار۔ جب تک لاہور کا پانی نہیں پئے گا اس کی تخلیق کو پہچان نہیں ملے گی۔ لاہور کا ٹھپا بہت ضروری ہے۔ لاہور لفظ میں کوئی جادو ہے۔ یہ جو گا نا ہے۔ لگدی لاہور دی اے۔ یہ گانا ایویں ہی نہیں لکھ دیا کسی نے۔ یہ ایک فلسفہ ہے۔ اس کے پیچھے تاریخ ہے۔ خوشونت سنگھ مرتے دم تک لاہور پر ایسے ہی نہیں مرتا رہا۔ خوشونت سنگھ جس کے بقول لاہور میں ایک بھی لڑکی ایسی نہیں جس کی شکل اچھی نہ ہو۔ لاہور جدا ہے سب سے۔ لاہور والے جدا ہیں۔ منفرد ہیں“ ۔

سنہ 2019 میں یونیسکو نے لاہور کو ’شہر ادب‘ قرار دیا۔ یہ اعزاز اس شہر لاہور کو ڈبلن، بارسلونا، میلبورن اور سیئٹل جیسے شہروں کے ساتھ ایک بین الاقوامی تخلیقی شہروں کے نیٹ ورک کا حصہ بناتا ہے۔ بلاشبہ یہ نہ صرف لاہور بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک فخریہ لمحہ تھا۔ یونیسکو جب کسی شہر کو یہ درجہ دیتا ہے تو اس کے کچھ اشاریے مرتب کیے جاتے ہیں جن میں اس شہر میں اشاعت کا معیار، مقدار اور تنوع؛ ادب، ڈرامہ اور شاعری کی اہمیت و پذیرائی؟

ادبی تقریبات اور تہواروں کا انعقاد، کتب خانوں کی تعداد و غیر ملکی زبانوں میں کام کا ترجمہ کرنے کی صلاحیت؛ قومی اور بین الاقوامی ثقافت کی ترویج اور ادبی سرگرمیوں میں میڈیا کا کردار وغیرہ شامل ہیں۔ گویا لاہور کو شہر ادب قرار دیا جانا اس بات کا بین الاقوامی ادارے کی طرف سے اعتراف ہے کہ لاہور دنیا کے ادب کے حوالے سے بہترین شہروں میں سے ایک ہے۔

لاہور شہر کی بین الاقوامی سطح پر یہ پذیرائی اور لٹریچر کے حوالے سے پہچان اس شہر سے جڑے شاعروں، مصوروں، مصنفین اور ادب کے تمام اصناف سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے باہمی کوششوں اور تخلیقی کاوشوں کا نتیجہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان قارئین اور سامعین کا بھی جو ادب کو زندگی میں اہم گردانتے ہیں اور لاہور میں ہونے والی ادبی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یونیسکو جیسے ادارے لاہور کی ادبی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں۔

اب قارئین حیران ہو رہے ہوں گے کہ تحریر کے عنوان میں چیئرمین پیمرا کا ذکر ہے جبکہ تحریر کتابوں اور ادب کے بارے میں ہے جس کا پیمرا سے کوئی تعلق نہ ہے۔ اصل میں میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ میں کچھ زیادہ حیران ہوا تھا بلکہ پریشان اور پشیمان ہوا تھا جب یہ سنا کہ دو سال کے وقفے کے بعد اس سال سالانہ بین الاقوامی کتب میلہ لاہور ایکسپو سنٹر میں سجایا جا رہا ہے اور اس کا افتتاح بدست جناب چیئرمین پیمرا کروایا جا رہا ہے۔

میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے کہ جناب چیئرمین صاحب کوئی بہت بڑے ادیب، شاعر یا مصور ہوں اور مجھے اپنی کم علمی کی وجہ سے جناب کی علمی و ادبی خدمات سے متعلق آگاہی نہ ہو تو میں نے کافی تلاش کی کہ جناب کی زندگی کا کوئی ایسا کارنامہ تلاش کر سکوں جس کو مدنظر رکھتے ہوئے لاہور انٹرنیشنل بک فیسٹیول کی انتظامیہ نے جناب سے درخواست کی کہ وہ کتب کے اس بین الاقوامی میلہ کو رونق بخشیں۔ وزارت اطلاعات و نشریات کی ویب سائٹ کے مطابق چیئرمین صاحب کتابوں کے بہت شوقین ہیں اور ان کے لائیبریری میں کتب کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے۔

یہاں تک بھی چلیں ٹھیک تھا لیکن جناب چیئرمین صاحب نے اس بین الاقوامی کتب میلے کے افتتاح کے موقع پر جو ارشادات فرمائے وہ بھی سونے کی سیاہی سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ جناب کتب کے میلے کی افتتاحی تقریب میں فرما رہے تھے کہ کسی بھی چینل کو پیمرا قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے۔ اس موقع جناب چیئرمین پیمرا کے ساتھ پیمرا کے کافی افسران بھی موجود تھے۔ یعنی کسی ادبی شخصیت کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

لاہور انٹرنیشنل بک فیسٹیول، کتابوں کے حوالے سے معتبر ترین سرگرمی ہے۔ اور چونکہ یہ سرزمین ادب پر ایسے لوگوں کے درمیان ہوتی ہے جہاں کتابیں پڑھنے والوں کے ساتھ ساتھ کتابیں لکھنے والے بھی موجود ہیں۔ یہاں کمیلہ شمسی اور محسن حامد ہیں، یہاں مستنصر حسین تارڑ ہے جو لاہور میں بستے ہیں اور لاہور ان میں بستا ہے۔ ، انور مسعود، عارفہ سید، افتخار عارف، امجد اسلام امجد جیسے ادبا بھی موجود ہیں۔ اس فیسٹیول میں جناب محمد امجد ثاقب صاحب اور عرفان صدیقی صاحب خود موجود تھے۔

ان کے علاوہ مصنفین کی ایک کثیر تعداد بھی اس نمائش کا حصہ ہوتی ہے۔ جناب انور مسعود، بابا یحیی، کیپٹن لیاقت علی ملک، حسنین جمال جیسے مصنفین سے ہر سال یہاں ہی ملاقات ہوتی ہے۔ ان مصنفین اور ادبی شخصیات کی موجودگی میں لاہور میں کتب کے سب سے بڑے میلے میں اگر افتتاحی تقریب کے لئے انتظامیہ کو چیئرمین پیمرا پر انحصار کرنا پڑا ہے تو پھر اس عظیم الشان کتاب میلے کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ساتھ اس نمائش سے جڑے تمام لوگوں کو فکرمند ہونے کی ضرورت ہے۔ میرے لئے شہر ادب کی اس بڑی بے ادبی نہیں ہو سکتی تھی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments