عمران خان کا نظریہ کیا ہے؟

عمران خان نوے کی دہائی کے آخری حصے میں سیاسی میدان میں داخل ہوئے اور اپنی ایک سیاسی جماعت تحریک انصاف کے نام سے بنائی۔
سابق وزیراعظم جناب عمران خان پاکستان کے سیاسی افق پر باقاعدہ طور پر جنرل پرویز مشرف کے دور میں ابھر کر سامنے آئے اور انہوں نے پرویز مشرف کے غیر آئینی اقدامات کا ناصرف خیرمقدم کیا بلکہ ان کے اقدامات کو سراہا۔ بقول ذرائع انہیں حکومت میں شمولیت کی دعوت بھی دی گئی۔ وہ اپنی ایک سیٹ جیت کر پارلیمنٹ کا حصہ بھی بنے۔ امریکہ میں جارج بش کے خلاف ڈیموکریٹک پارٹی کے لئے جب اس وقت کے متوقع صدارتی امیدوار براک اوباما نے اپنی انتخابی مہم چلائی تو اس کا تھیم ”چینج“ یعنی تبدیلی تھا۔
عمران نے اسی تھیم کو اپنایا اور اپنی انتخابی مہم کا حصہ نہیں بلکہ نعرہ بنا لیا۔ ”تبدیلی آ رہی ہے“ 2018ء کے انتخابات میں انہیں کامیابی ہوئی یا دلائی دی گئی۔ اور میڈیا نے عمران خان کو 8 برس تک مسلسل سکرین پر جمائے رکھا اور اس مہم کی بھر پور انداز میں حمایت کی۔ عمران دھرنا سیاست اور میڈیا پروموشن کے ساتھ ساتھ فوج کی ادارتی پذیرائی سے 2018ء میں وزیراعظم بن گے۔ جو باتیں وہ اپنی انتخابی مہم میں کہا کرتے تھے عوام کا خیال تھا کہ انہوں نے خوب تیاری کر رکھی ہے اور ان کے بقول ان کے پاس 100 کے لگ بھگ ایسے مستند ماہرین موجود ہیں جو پاکستان اور عوام کی خدمت کے جذبے سے لبریز بھی ہیں اور انہیں کسی قسم کا کوئی حکومتی عہدوں کا لالچ نہیں۔ وہ آئیں گے اور ملک کی سمت اور اقتصادیات کو درست کر دیں گے۔ مگر جب عمران خان حکومت میں آئے تو پتہ چلا ان کا سٹار ماہر اقتصادیات تو اسد عمر ہے جو اپنی نوکری سے محض اس وجہ سے نکلا کہ اس نے اینگرو جیسی بڑی فیکٹری کا ستیاناس کر دیا تھا۔ اب وہ ملکی اقتصادیات کا کیا کرتا۔ کوئی راکٹ سائنس نہیں لہذا اسد عمر نے پاکستان کی معاشیات سے بھی وہی کچھ کیا جو اس نے اینگرو کے ساتھ کیا تھا۔ عمران حکومت میں آنے کے بعد مخالفین کے خلاف جیل میں کیسا ماحول و سہولیات دی جانی ہیں کے معاملے کو ہی ملک کا سب سے اہم مسئلہ ٔ بنا کر اسی پر کام کرتے رہے۔
کبھی وہ ہٹلر کا نازی ماڈل پاکستان میں لاگو کرنے کا سوچتے تو کبھی وہ سعودی عرب کے ماڈل کو پسند کرتے کبھی چین کے کرپشن کے خلاف اقدامات اپنانے کو خیال کرتے اور کبھی کسی اور جابر سلطان کی مثال کو اپنا شعار بنانے کی باتیں کرتے اور بدقسمتی سے ان سب پسندیدہ ماڈلز کو وہ ریاست مدینہ کے نعرے میں چالاکی سے سمو بھی لیتے اور عوام کو گمان رہتا کہ یہ تو اسلام کا مجاہد ہے جو ریاست مدینہ قائم کرنے آیا ہے۔ اب پاکستان میں تو مذہبی جذبات خوب بکتے ہیں لہذا ریاست مدینہ کا نعرہ بھی عمران کا نعرہ مستانہ بنا یہ الگ بات کہ ان کے دور حکومت میں اقربا پروری، کرپشن، دھونس اور لاقانونیت سب کا بول بالا رہا۔
میڈیا نے بھی ان سب باتوں سے صرف نظر کیا اور ایک عجیب منطق گھڑ کر بیانہ اپنایا کہ ”عمران تو کرپٹ نہیں مگر اس کے حواری کرپٹ ہیں اور اسے حقائق سے دور رکھ رہے ہیں“ جس ریاست کے سربراہ کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس کی ناک تلے کیا گل کھل رہے ہیں ایسے حکمران کو پھر اس کرپشن کا ساجھے دار ہی سمجھا جاتا ہے بہرحال عمران جو خود اس وقت عدالتوں میں مطلوب تھے جب وہ اقتدار میں آئے مگر اس بات کو چھپایا گیا اور مخالفین کے انکوائری کیسز میں انہیں جیلوں میں ڈال دیا گیا اور اوپر سے چور چور کی رٹ بھی لگائی گئی۔
اب یہ بات ہضم ہونے کی نہیں کہ وہ وزیراعظم جو مخالفین کے جیلوں میں کھانے پینے کپڑے لتے تک کی خبر تو رکھتا رہا مگر ان اربوں کی کرپشن کے کیسز میں کوئی پیش رفت نہ کر سکا جس کی بنیاد پر وہ وزیراعظم بنا تھا۔ یا تو عمران کا کرپشن بیانیہ محض ایک سیاسی نعرہ تھا یا پھر ان کیسز میں کوئی حقیقت ہی نہ تھی اور یہ صرف مخالفین کو دبانے اور عوام میں ان کا امیج تباہ کرنے کی ایک جھوٹی سازش تھی۔
سازش سے یاد آیا عمران خان جو اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو اللہ کا احسان مانتے تھے اور شکر ادا کرتے تھے کہ وہی عدم اعتماد کی تحریک جب کامیاب ہونے کو تھی تو انہوں نے اپنے آپ کو بھٹو بنانے کا سوچا اور ایک خط لہرا کر عوام کو یہ بتایا کہ یہ عدم اعتماد تو ان کے خلاف امریکہ نے سازش کی ہے اور حزب مخالف امریکہ کی سازش میں شامل ہے۔ اب ان میں سے ایک چیز واضح ہوتی ہے کہ جناب عمران خان جھوٹ بولتے ہیں یا ان کا عدم اعتماد تحریک پر اللہ کا شکر جھوٹ تھا یا امریکی سازش!
عمران کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہوئی مگر آئینی عدم اعتماد تحریک کو جب غیر آئینی طریقہ سے مسترد کیا گیا تو ظاہر ہے معاملہ عدالت عظمی میں پہنچ گیا بلکہ عدالت نے خود اس کا نوٹس لے لیا اور آئین کی بالادستی کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کیا۔ عمران خان جن کی ہارٹی کا نام ہی تحریک انصاف ہے نے پارلیمنٹ کے اندر سپریم کورٹ کا حکم نہ ماننے کا فیصلہ کر لیا جو عمران خان ان کی کابینہ قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی جانب سے نہ صرف توہین عدالت تھا بلکہ آئین شکنی بھی تھی مگر ان سب کے باوجود خان صاحب کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور وہ حکومت سے الگ ہو گئے۔
اب عمران خان جلسے جلوس کی پرانی ڈگر پر واپس آچکے ہیں۔ اور اس مرتبہ انہوں نے نواز شریف کا بیانیہ بھی اپنایا ”میرا جرم کیا تھا جو مجھے نکالا۔
مگر جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ مذہب اسلام ہی وہ شے ہے جس کی بنیاد پر عوام کے خون کو گرمایا جاسکتا ہے لہذا انہوں نے پرویز مشرف دور میں جب القاعدہ اور طالبان کا بہت زور تھا اور پاکستان میں آئے روز دھماکے ہو رہے تھے اسی دوران لال مسجد اسلام آباد سے بھی غازی برادران کا ملک میں اسلامی نظام کا نعرہ بلند ہوا تھا جسے باقاعدہ القاعدہ اور طالبان کی مکمل اعانت حاصل تھی اور ان کے مسجد اور مدرسے کے نوجوان طلبا و طالبات نے ایک تحریکی احتجاج شروع کر رکھا تھا جس کا نعرہ تھا۔ ”امر با المعروف و نہی عن المنکر“ اسے حسن اتفاق کہیے یا کہ۔ آج کل عمران خان کا نعرہ بھی یہی ہے
وہ ملک کے آئین کو نہیں مانتے، انہیں ملکی اداروں سے گلہ ہے کہ وہ ان کا غیر آئینی طور پر ساتھ کیوں نہیں دیتے۔ وہ جانتے ہیں کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ان کا معاملہ بہت کمزور ہے لہذا وہ الیکشن کمیشن کو بھی نہیں مانتے۔ وہ موجودہ حکومت کو امپورٹڈ کہتے ہیں اور نہیں مانتے مگر انہیں سے جلد انتخابات کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ وہ نہ ریاست مدینہ کے ماڈل کو نافذ کر سکے نہ اپنے پارٹی منشور کو۔ ایک کام انہوں نے خوب کیا کہ ہر اس منفی مشورے اور پراپیگنڈے کو اپنایا جو انہیں ان کے قریبی مگر غیر دانشمند مشیروں نے انہیں دیا۔
عمران خان جن مخلص لوگوں کے ساتھ پارٹی بنا کر چلے تھے ان سب سے خان صاحب نے یار ماری کی۔ حامد خان، اکبر بابر، جسٹس وجیہ الدین، یہاں تک کہ جہانگیر ترین اور علیم خان۔ ان سب کو چھوڑ کر خان صاحب فرح بی بی کی حمایت میں بیان دینے کو بھی نکل پڑے اگر اس معاملے پر وہ خاموش ہی رہتے تو شاید لوگ اسے محض مخالفین کی کوئی مخالفت سمجھتے مگر خان صاحب نے باہر نکل کر فرح بی بی کا دفاع کر کے اپنے نام کو ان سے جوڑ دیا یا شک ضرور پیدا کر دیا ہے۔
آج تو انہوں نے ایک بہت ہی سنجیدہ مگر انتہائی قابل توجہ اور خطرناک بات کی ہے ”کہ انہیں خدا ناخواستہ قتل کرنے کے منصوبے بن چکے ہیں“ اور اس بابت انہوں نے ایک وڈیو بھی ریکارڈ کرانے کا ذکر بھی کیا ہے۔ یہ بہت ہی سنگین معاملہ ہے عمران خان اس ملک کی ایک بڑی سیاسی پارٹی کے سربراہ ہیں اور ان کی پارٹی حکومت میں بھی رہ چکی ہے وہ خود اس ملک کے سابق وزیراعظم ہیں۔ اور وہ خود اگر ایسی بات کر رہے ہیں تو یہ نہایت تشویش کی بات ہے۔
جناب عمران خان صاحب کو اپنے اس قتل کی سازش جس کا خدشہ انہوں نے ظاہر کیا ہے اور بقول ان کے انہوں نے اس بابت اپنا وڈیو بیان بھی ریکارڈ کرایا دیا ہے اگر معاملات اس حد تک سنگین ہیں تو اس صورت حال میں انہیں اس امر کی فوری ایف آئی آر درج کرانی چاہیے اور اگر وہ خود ایسا نہیں کرتے تو ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ازخود ان کے اس تشویشناک بیان کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے خود اس کی انکوائری کرے یا عدلیہ عمران خان کے اس خدشے کے پیش نظر ان کے اس بیان کا ازخود نوٹس لے کر حقائق معلوم کرے۔
یہ کوئی مذاق نہیں کہ ایک قومی لیڈر اس خدشے سے دوچار ہے کہ کہیں اس کو ہلاک ہی نہ کر دیا جائے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں لہذا عمران خان خود اس کی ایف آئی آر درج کرائیں یا پھر حکومت یا عدلیہ جناب عمران خان سابق وزیراعظم پاکستان کے بیان کی بنیاد پر از خود انکوائری شروع کرے۔ اور حقائق معلوم کر کے اس معاملے کو آئین اور قانون کے مطابق انجام تک پہنچائے۔ اس معاملے کو آگے بڑھ کر فوری طور پر کوئی وقت ضائع کیے بغیر خدشات ابھرنے سے پہلے ہی حل کرنا ہو گا۔

