شفیع فقیر اور سندھ کی حقیقی گائیکی


شفیع فقیر سے مجھے اتنی شکایات تھیں کہ ہم ایک بہتی ہوئی ندی کے دو کناروں کی مانند ہو گئے تھے لیکن اپنی محبت عاجزی اور انکساری سے اس نے ان شکایات کا ازالہ کیا اور وہ پھر سے میرے دل میں اسی جگہ آ کے بیٹھ گیا، جہاں صرف وہ لوگ بیٹھے ہیں جنھوں نے اپنی تخلیقی قوت، ہنر مندی اور ریاضت سے اپنا مقام بنایا ہے۔ اس کے ساتھ تعلق بہت پرانا ہے، اس لیے مجھے اس کی راگ داری کا علم حاصل کرنے کے لیے نہ ختم ہونے والی جستجو اور سفر کا علم ہے۔

اس نے نہ صرف ریاض کے ذریعے اپنی آواز کی تراش کی ہے بلکہ اس مقام پر پہنچنے کے لیے اساتذہ کے در پر حاضریاں دی ہیں۔ میرے دل میں اس کے احترام کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس نے بیشتر گلوکاروں کی طرح بازاری شاعری گا کر سستی شہرت حاصل نہیں کی بلکہ وہ سر کے ساتھ ساتھ عمدہ کلام کی بھی تلاش میں رہا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس طرح کا چالو کلام گا کر مقبولیت حاصل کرنے والے فنکاروں کا انت وہی ہوا جو جلد باز فنکار کا ہوتا آیا ہے۔

سچی بات ہے کہ موسیقی پر ان گلوکاروں کا احسان ہے جنہوں نے پاپولیرٹی کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اس کلا کی اصل روح کو جگایا اور عارضی مقبولیت کی جگہ دائمی محبت اور مسلسل جستجو میں ایمان رکھا۔ دوسروں کی مقبول دھنوں میں گانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے ہاں محنت اور ریاض کا رواج ختم ہو گیا ہے۔ ملاوٹ شدہ اور ادھر ادھر سے لی گئی موسیقی پر کتھک ڈانس کے مہا گرو برجو مہاراج کی فلمی ڈانس کے حوالے سے رائے صادق آتی ہے کہ فلمی ڈانس ایسے ہے کہ خالص دودھ کے گلاس سے ایک گھونٹ دودھ پی کر اس میں ایک گھونٹ پانی ملا دیا جائے، اس طرح ایک ایک گھونٹ پانی ملانے سے ایک دن دودھ دودھ نہیں رہے گا۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سندھ میں پرائی اور مقبول فلمی دھنوں پر گانے کا رواج حد سے بڑھ گیا ہے۔ یہ وبا عام ہے اور بہت سے مشہور گلوکار بھی اس بات کی پروا نہیں کرتے۔ یہ نقالی سندھ کی عظیم روایت کے خلاف ہے۔ سندھ کے اکثر گانے والے لوک اور کلاسیکی موسیقی کو بنیاد بنا کر جدید گائیکی پیش کرنے کی بجائے ایک طرح کے تخلیقی بانجھ پن کا ثبوت دے رہے ہیں جو شاید ان کے لیے تو نقصان دہ نہ ہو مگر سندھ دھرتی کے تخلیقی مزاج کے خلاف ہے۔

ہماری وہ موسیقی جو صدیوں سے ہمارا ورثہ رہی ہے اگر وہ گم ہو گئی تو ہم گونگے ہو کر رہ جائیں گے۔ ہزاروں سالوں کے دکھوں دردوں اور در بدریوں میں ہمیں کسی ہتھیار یا نعرے نے سلامت نہیں رکھا بلکہ بھیروی کے الاپوں بانسری کی دھنوں اور کلواڑے کی وجت نے ہمیں آگے بڑھایا ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے گائیک شفیع فقیر نے اپنے حصے کا کام کیا ہے۔ اس کا کشٹ لائق تحسین ہے۔ اس نے گم ہوتی ہوئی راہ پر ایک مرتبہ پھر گل بوٹے لگائے ہیں۔

اس نے امرکوٹ میں میوزک اکیڈمی کھول کر راگ کی تربیت دی اور اپنے پاس جو علم تھا اس پر سانپ بن کر بیٹھنے کی بجائے علم سائلوں میں بانٹا۔ شفیع فقیر کا یہی تعارف کیا کم ہے کہ اس نے اپنی حوصلہ مندی سے موسیقی کی اصل قدروں کو محفوظ رکھا ہے۔ شفیع فقیر نے اس خطے کو بے سرا ہونے کے دکھ سے بچا لیا ہے۔ معاشرتی ٹوٹ پھوٹ اور انتہا پسندی کے سامنے اس کی میوزک اکیڈمی کے الاپ بڑی دیر تک ڈھال بنے کھڑے رہیں گے۔ شفیع فقیر کی توجہ اور ذاتی کوشش کے سبب اس خطے میں وجت کے سازوں یعنی طبلہ باجہ اور بئنجہ بجانے والوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

اس کی شفقت اور سنگت کے باعث یہاں وجت کا فن پروان چڑھا ہے۔ ہندستان میں جب بھگت کبیر کو مختلف خطوں کے فنکار گا رہے تھے تو سندھ دھرتی کی نمائندگی شفیع فقیر نے کی۔ بھگت گائیکی میں اس کا اپنا حصہ رہا جو اس نے بخوبی نبھایا ہے۔ اس وجہ سے اسے ہندوستان میں بھی پذیرائی ملی۔ ہندوستان موسیقی کا ملک ہے اور وہاں پذیرائی ملنا یقیناً اہم اور قابل عزت بات ہے۔ ہندستان کے دورے میں ایک ٹیلی وژن چینل پر اس نے میری نظم ”گھڑے پر دھن سارنگ کی“ گائی تو میزبان خاتون نے اس کی گائیکی کے سبب وہ نظم چار مرتبہ سنی۔ میں نے اسے چھیڑنے کے لیے کہا کہ اس نے میرے کلام کی وجہ سے تمہیں بار بار سنا، وہ ہنسا اور بولا کہ بالکل! وہ عورت سندھی زبان جانتی تھی۔ شفیع فقیر بہت ظرف اور برداشت والا شخص ہے۔ دوست اس کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے رہتے ہیں اور وہ بڑے دل کے ساتھ انہیں سنتا اور ہنستا رہتا ہے۔

ٻیون ڇڄیو رون، آؤن روئان ڀاڪرین
(دوسری عورتیں جدائی میں روتی ہیں میں بھاکلوں میں آ کر روتی ہوں )

درگاہ جھوک عنایت کی عقیدت مندی کے سبب اس نے صوفی صادق فقیر کو بھی کمال گایا ہے۔ اس صوفی کو دوسرے گلوکار بھی درگاہ کے سماع میں گاتے رہے ہیں لیکن شفیع فقیر جب بھی اس کی وائی:

راتڙی مہ وھام
گھونگھث یار جو آ ڪنگھوہ ڪڪوریو

گاتا ہے تو محفل پر سحر طاری کر دیتا ہے۔ اس نے اس وائی کے سوا بھی صوفی صادق فقیر کی بہت سی شاعری گائی ہے۔ صوفی صادق فقیر کی شاعری کو گانے کا اس کا عمل ہمارے آج کے اس موقف کو اور مضبوط کرتا ہے کہ ہماری کلاسیکی شاعری کو اس کی روح کے مطابق گانے سے سطحی شاعری کا شور کم ہو گا اور دھرتی کی روایات کلام اور موسیقی میں آگے بڑھیں گی۔ پوری دنیا میں موسیقی لوگوں کے لیے وہ کندھا بنی رہی ہے جس پر سر رکھ کر لوگوں نے اپنے دکھ سنائے اور قومیں تنہائی کے عذاب سے باہر نکلی ہیں۔

جب کوئی اینگلو انڈین امریکا کی گلیوں میں بانسری بجاتا ہے تو وہ اصل میں یہ اعلان کرتا ہے کہ ہم آج بھی اپنے اصل کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور ہم نے ہار نہیں مانی۔ اسی طرح جب تھر کی کوئی عورت اپنی بیٹی کی رخصتی کے وقت ”ڈورو“ گیت گاتی ہے تو اصل میں وہ ساری دنیا کو بتاتی ہے کہ بہت زیادہ ترقی اور تیز رفتاری کے باوجود ہم زمیں زاد ماں بیٹی کے درمیان دوری کو نہیں مانتے۔ اس کے گیت کا ہر بول اور آنکھ کا ہر آنسو ماں بیٹی کے رشتے کی رکھوالی کرتا ہے۔

شفیع فقیر نے اس خطے کے شاہو کار مارواڑی گیتوں کی اسی حسن سے گایا ہے جیسے وہ صدیوں سے گائے جا رہے تھے۔ اس نے وہ شاوری بھی گائی ہے جس میں مارو ہیں اور ان کا وطن بھی ہے۔ ایسی شاعری شہرت کے لیے تو بہت سوں نے گائی ہے لیکن شفیع فقیر نے یہ شاعری روایت کو برقرار رکھ کر یوں گائی ہے کہ ہماری نئی تہذیبی پہچان بن گئی ہے۔ شفیع فقیر کا تعلق اس کلاکار قبیلے سے ہے جس کو لطیف نے انسانیت کے اعلی مقام پر فائز کیا اور اس میں موجود سر اور گر والی خوبی کو انتہائی احترام اور محبت سے بیان کیا ہے :

چارڻ ٻڌا چنگ کی جھوڙا ۽ جھائین

شاہ لطیف نے اپنی شاعری میں اس قبیلے کو چارن، جاجک اور مگنہار لکھا ہے۔ اس قبیلے نے اپنے اس ورثے کو گلے لگایا ہوا ہے لیکن یہ مہک ان کے اندر تک محدود ہو گئی ہے۔ ان کا دکھ انہیں اندر ہی اندر سے کھائے جا رہا ہے کہ جو کچھ وہ گاتے بجاتے ہیں اس کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہے۔ کسی بھی فنکار کے لیے اس سے بڑھ کر کیا دکھ ہو گا کہ اس کی کلا کو جھوٹی داد مل رہی ہو۔ یہی کارن ہے کہ اس قبیلے کے اکثر لوگ سستی شہرت کے پیچھے چل پڑتے ہیں لیکن شفیع فقیر مضبوط فنکار ہے، اس نے اپنے قبیلے کے دکھ کو سمجھا، برتا اور اسے موسیقی کی نئی ثقافت سے جوڑ دیا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments